تیرے خالص نیک بندوں کے بارے میں مدد کی اور اے خدا! وہ قدرت نہیں رکھتے تھے لیکن تیری مدد سے انہوں نے اسلام کا دفاع کیا اور تیرے دشمنوں کے ساتھ مختلف شہروں میں جاکر جنگ کی۔
٨……اسلام کی سربلندی
''وَ ھَجَمَ عَلَیْھِمْ فِیْ بُحْبُوْحَةِ قَرَارَھِمْ حَتّٰی ظَھَرَ اَمْرُکَ وَ عَلَتْ کَلِمَتُکَ وَ لَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکِیْنَ''
تیرے دشمن بڑے قدرت مند تھے اور ان کے گھروں پر حملہ کیا تاکہ تیرا حکم عام اور دعوت اسلام دی ، اگرچہ مشرکین اس سے ناخوش تھے یہ سب کچھ تیرے دین کی سربلندی کے لئے کیا۔
فضیلت صلوات
١۔ امام محمد باقرـ نے فرمایا:
''مَا فِی الْمِیْزَانِ شَیْئ اَثْقَلُ مِنَ الصَّلَاةِ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ''
اعمال کے ترازو میں صلوات محمد وآل محمد٪ سے زیادہ کوئی سنگین چیز نہیں ہے۔(٩)
٢۔ امام رضاـ فرماتے ہیں:
''وَ الصَّلَاةُ عَلَی النَّبِِیِِّ وَاجِبَة فِیْ کُلِِّ مَؤْطِنٍ وَ عِنْدَ الْعِطَاسِِ وَ الذَّبَائِحِ وَ غَیْرِِ ذٰلِکَ''
رسول خداۖپر ہر جگہ صلوات بھیجنا چاہیے، چھینک لیتے وقت ، حیوان کے ذبح کرنے کے وقت اور دوسرے مواقع پر صلوات بھیجنا مستحب ہے۔(٢)وسائل الشیعة۔ ج٤،ص١٢١٩، بحار الانوار،ج٩٤،ص٥٠
٣۔رسوال خدا ۖنے فرمایا:
''اُسْرِیَ بِیْ لَیْلَةِ الْمِعْرَاجِ اِلَی السَّمَآئِ فَرَأَیْتُ مَلَکًا لَہ اَلْفُ یَدٍ، لِکُلِِّ یَدٍ اَلْفُ اِصْبَعٍ ھُوَ یُحَاسِبُ وَ یَعُدُّ بِتَلْکَ الْاَصَابِعِ، فَقُلْتُ لِجِبْرَئِیْلَ مِنْ ھٰذَا الْمَلَکِ؟ وَ مَا الَّذِیْ یُحَاسِبُہ؟
قَالَ: ھٰذَا الْمَلَکُ مُوَکِّل عَلٰی قَطَرِِ الْمَطَرِ، یَحْفَظُہَا کَمْ قَطَرَةٍ تُنَزَّلَ مِنَ السَّمَآئِ اِلَی الْاَرْضِ فَقُلْتُ لِلْمَلَکِ: اَنْتَ تَعْلَمُ مُذْ خَلَقَ اللّٰہُ الدُّنْیَا ، کَمْ قَطَرَةٍ نَزَلَتْ مِنَ السَّمَائِ اِلَی الْاَرْضِ؟
فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ: فَوَا اللّٰہِ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ اِلٰی خَلْقِہ غَیْرُ اِنِّیْ اَعْلَمُ کَمْ قَطَرَةٍ نَزَلَتْ مِنَ السَّمَآئِ اِلَی الْاَرْضِِ، اَعْلَمُ تَفْصِیْلًا کَمْ قَطَرَةٍ نَزَلَتْ فِی الْبَحْرِِ وَ کَمْ قَطَرَةٍ نَزَلَتْ فِی الْبَرِِّ وَ کَمْ قَطَرَةٍ نَزَلَتْ فِی الْعُمْرَانِ، وَ کَمْ قَطْرَةٍ نَزَلَتْ فِی الْبُسْتَانِ، وَ کَمْ قَطَرَةٍ نَزَلَتْ فِی السَّبْخَةِ، وَ کَمْ قَطَرَةٍ نَزَلَتْ فِی الْقُبُوْرِ۔
فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِۖ فَتَعَجَبْتُ مِنْ حِفْظِہ وَ تَذَکُّرِہ حِسَابِہ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ حِسَاب لَا اَقْدَرُ عَلَیْہِ بِمَا عِنْدِیْ مِنَ الْحِفْظِ وَ التَّذَکُّرِِ وَ الْاِصَابِعِ، فَقَالَ: اَیُّ حِسَابٍ ھُوَ؟ فَقَالَ: قَوْم مِنْ اُمَّتِکَ یَحْضُرُوْنَ مُجْمِعًا فَیُذْکَرُ اِسْمُکَ عِنْدَھُمْ فَیُصَلُّوْنَ عَلَیْکَ فَاَنَا لَا اَقْدَرُ عَلٰی حَصَرَِ ثَوَابَِھُِمْ''
جب مجھے معراج پر لے جایا گیا تو وہاں میں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ تھا جس کے ہزار ہاتھ اور ہر ہاتھ کی ہزار انگلیاں تھیں جن سے وہ حساب کررہا تھا ،میں نے جبرائیلـ سے پوچھا: یہ کون فرشتہ ہے اور کس چیز کا حساب کررہا ہے ؟ جبرائیلـ نے کہا: یہ ایک فرشتہ ہے جو بارش کے قطرے گننے پر مامور ہے اور آسمان سے گرنے والے قطروں کو گن رہا ہے۔
رسول خداۖ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا: کیا تم زمین کے خلق ہونے سے لے کر آج تک بارش کے برسنے والے قطروں کو جانتے ہو ؟
فرشتے نے کہا:! اے اﷲ کے رسول !مجھے قسم ہے اس خدا کی جس نے آپ کو رسول مبعوث کیا میں زمین پر گرنے والے تمام قطرات کی تعداد بتا سکتا ہوں بلکہ کہاں کتنے قطرے گرے ہیں وہ بھی بتا سکتا ہوں۔ پھر فرشتے نے کہا: بارش کے وہ قطرات جو دریاؤں، شہروں ، بنجر زمین اور اسی طرح قبرستان میں بھی گرتے ہیں میں ان کی تعداد بتا سکتاہوں۔
رسوال خدا ۖنے پوچھا: مجھے اس فرشتے کے حافظے پر بڑا تعجب ہوا!
پھر فرشتے نے کہا: اے اﷲ کے رسولۖ! اتنی قدرت اوردست وپا کے باوجود میں ایک کام کے ثواب کا حساب نہیں کرسکتاہوں۔ جناب رسالت مآبۖ نے پوچھا: وہ کونسا کام ہے ؟
فرشتے نے کہا : جب آپ کی امت جمع ہوتی ہے اور آپ پر صلوات پڑھتی ہے اس وقت میں ثواب نہیں گن سکتاہوں۔(١٠)
زیادہ ثواب کی علت
سوال: شاید بعض لوگوں کے ذہن میں یہ بات آجائے کہ صلوات کا اتنا ثواب کیوں ہے ؟
جواب: رسول خداۖ اور ان کے اہل بیت اللہ کے وہ خالص بندے ہیں کہ جن کی تطہیر کا قرآن مجید میں اعلان فرمایا۔ وہ رسولۖ جن کو دین خدا کی راہ میں کئی مشکلات برداشت کرنا پڑیں ، آپۖ کو لوگوں نے لہولہان کردیا، اس کے باوجود آپ نے ہمت نہ ہاری اور ثابت قدم رہے، آپۖ پر تہمتیں لگائیں ، آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا، آپۖ سے بائیکاٹ کردیا گیا اور طرح طرح کی تکلیفیں دیں۔
رسول خداۖ کی وفات کے بعد اسلام کی بقاء اہل بیت٪ کے ہاتھ میں تھی اور انہوں نے اسلام کے لئے جان، مال اور آبرو تک قربان کردی لہٰذا ان تمام مشکلات کے مقابلے میں خدا نے ان پر صلوات بھیجنے کا حکم دیا۔
یہی وجہ ہے کہ اس خاندان کا اتنا بلند مقام ہے کہ فرشتے بھی افتخار کرتے ہیں۔
صلوات کا فلسفہ
خداوند عالم نے محمد وآل محمد٪ پر صلوات بھیجنے کا حکم دیا جس کا ہدف یہ ہے تاکہ لوگ اہل بیت کی سیرت پر عمل کریں ،جب لوگ صلوات بھیجتے ہیں تو محمد و آل محمد٪ کی صفات اپناتے ہیں۔
امام صادقـ نے فرمایا:
''مَنْ حَسُنَ بِرُّہ بِاَھْلِہ زَادَ اللّٰہِ فِیْ عُمْرِِہ''
جو اپنے اہل وعیال کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتا ہے خداوند اس کی عمر لمبی کرتا ہے۔(١١)
رسول خداۖنے فرمایا:
''مَنْ اَصْبَحَ وَ لَایَھْتَمَّ بِاَمْرِِ الْمُسْلِمِیْنَ فَلَیْسَ مِنَ الْاِسْلَامِ فِیْ شَیْئٍ وَ مَنْ شَھِدَ رَجُلًا یُنَادِیْ یَا لِلْمُسْلِمِیْنَ فَلَمْ یَجِبْہُ فَلَیْسَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ''
جوشخص صبح کرتا ہے اور امور مسلمین کیلئے کوشش نہیں کرتا تو اس میں مسلمان والی کوئی شئے نہیں اور اگر ایک مسلمان سے مظلوم مدد کی درخواست کرے اور اسے قبول نہ کرے تو حقیقی مسلمان نہیں ہے۔(١٢)
حضرت محمد مصطفیۖ فرماتے ہیں :
''کَیْفَ بِِکُمْ اِذَا فَسَدَتْ نِسَآئُکُم وَ فَسَقَ شَبَابُکُمْ وَ لَمْ تَاْمُرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ لَمْ تَنْھَوْا عَنِِ الْمُنْکَرِِ''
تم پر کیسی گذرے گی جب تمہاری عورتیں فاسد اور جوان فاجر ہونگے ، یہ اس وقت ہوگا کہ جب لوگ امربالمعروف اور نہی ازمنکر کرنا چھوڑ دیں گے۔(١٣) شہادت کے بارے میں رسول خداۖ فرماتے ہیں :
''اَشْرَفُ الْمَوْتِ قَتْلُ الشَّھَادَةِ''
بہترین موت راہِ خدا میں شہادت ہے۔
جب لوگ حقیقی صلوات بھیجتے ہیں تو ان میں ایسے اوصاف آجاتے ہیں جن سے ان کی اخلاقی ، سیاسی اور اجتماعی زندگی میں انقلاب آجاتا ہے اور کئی مشکلات حل ہوجاتی ہیں۔(١٤)
صلوات کی شرط
یہ جتنے صلوات کے آثاروبرکات ہیں صرف زبانی صلوات پڑھنے کے فوائد نہیں بلکہ انسان تہہ دل سے اور پوری توجہ سے پڑھے۔
ہمیں اہل بیت٪ سے بہت محبت ہے ،ہم ان کے ماننے والے ہیں انہوں نے ہمیں پورا دین بتایا صلوات کی شرائط بتائیں ، ہماری پہچان ان سے ہوتی ہے لہٰذا ان کی سیرت پر عمل کریں۔
صلوات امام صادقـ کے کلام میں
امامـ فرماتے ہیں :
''مَنْ صَلّٰی عَلَی النَّبِیِّ فَمَعْنَاہُ اَنِّی اَنَا عَلَی الْمِیْثَاقِِ وَ الْوَفَائِ الَّذِیْ قَبِِلْتُ حِیْنَ قَوْلِہ: ''اَلَسْتُ بِرَبِِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی''
رسول خداۖ پر صلوات بھیجنے کا معنی یہ ہے کہ میں نے جوعالم فطرت میں اللہ سے عہد وپیمان کیا تھا ،اس کا پابند ہوں ، جس عالم میں خدا نے یہ فرمایا تھا کہ کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ سب نے کہا تھا کیوں نہیں یقینا تو ہمارا رب ہے۔(١٥)
صلوات کا معنی در حقیقت خدا کی توحید کا اقرار کرنا ہے اور اسی طرح صلوات بھیجنے سے انسان اعلان کرتا ہے کہ وہ ہر قسم کی بت پرستی اور شرک سے پاک ہے اور صراط مستقیم پر ہے۔
صلوات کیسے پڑھنی چاہیے؟
رسول خداۖ نے فرمایا:
''مَنْ قَالَ صلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہ، قَالَ اللّٰہُ جَلَّ جَلَالَہ: صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْکَ فَلْیُکَثِّرْ مِنْ ذٰلِکَ، وَ مَنْ قَالَ صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ لَمْ یُصَلِّ عَلٰی اٰلِہ لَمْ یَجِدْ رِیْحَ الْجَنَّةِ''
جو شخص محمد وال محمد٪ پر صلوات بھیجتا ہے، خداوند اس کے مقابلے میں اس پر صلوات بھیجتا ہے اور فرماتا ہے : زیادہ صلوات پڑھو اور جو صرف محمدۖ پر صلوات بھیجتا ہے اور اہل بیت پر نہیں بھیجتا، وہ جنت کی خوشبو تک نہیں سونگھ سکے گا۔(١٦)
آل پر صلوات نہ بھیجنے کا انجام
رسول اکرمۖ نے فرمایا :
''اِذَا صُلِّیَ عَلَیَّ وَ لَم یُتَّبَع بِالصَّلَاةِ عَلٰی اَھْلِ بَیْتِی کَانَ بَیْنَھَا وَ بَیْنَ السَّمَآئِ سَبْعُوْنَ حِجَابًا وَّ یَقُوْلُ جَلَّ جَلَالُہ: لَا لَبَّیْکَ وَ لَا سَعْدَیْکَ، یَا مَلَا ئِکَتِیْ لَا تَصْعُدُوْا دُعَآئَہ اِلاَّ اَنْ یَلْحَقَ بِنَبِیِّیْ عِتْرَتَہ''
جب مجھ پر صلوات بھیجی جاتی ہے لیکن میرے اہل بیت پر صلوات نہ بھیجیں تو ایسی صلوات اور آسمان کے درمیان ستر پردے حائل ہوجاتے ہیں اور صلوات اوپر نہیں جاتی۔
خداوند عالم فرماتا ہے :میں ایسے شخص کا جواب نہیں دونگا ،اے فرشتو! اس شخص کی دعا اوپر نہ لے جانا جب تک رسول اکرمۖ کے نام کے بعد اس کے اہل بیت پر بھی صلوات نہ پڑھ لے۔(١٧)
''لَا تُفَرِِّقُوْا بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اٰلِیْ بِعَلٰی''
میرے اور میری آل کے درمیان ''عَلٰی'' کا فاصلہ نہ دیں یعنی یہ پڑھے: ''اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ'' نہ اس طرح ''اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ'''۔
اہل بیت٪ پر ظلم
امام صادقـ نے فرمایا :
میں نے اپنے باپ سے سنا ہے کہ ایک مردکعبہ سے لپٹا ہوا یہ کہہ رہا تھا: اللھم صل علی محمدۖ
میرے باپ نے اس سے منع فرمایا:
''وَلَا تَبْتُرْھَا لَا تُظْلِمْنَا حَقَّنَا، قُلْ: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ''
صلوات کو ناقص نہ پڑھو اور ہمارے حق میں ظلم نہ کرو اور آل پر بھی صلوات بھیجو یعنی اس طرح پڑھو: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ
جس محفل میں صلوات نہ پڑھی جائے
رسول گرامیۖ نے فرمایا:
''مَا مِنْ قَوْمِ اِجْتَمِعُوْا فِی مَجْلِسٍ وَ لَمْ یَذْکُرُوا للّٰہَ عَزَّ وَ جَلَّ وَ لَم یُصَلُّوْا عَلَیَّ اِلاَّ کَانَ ذٰلِکَ الْمَجلِسُ حَسْرَةً عَلَیْھِِمْ''
جو قوم کسی جگہ جمع ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرے اور مجھ پر صلوات نہ پڑھے تو ایسی محفل ان لوگوں کیلئے پشیمانی کا باعث بنے گی۔(١٩)
نام محمد مصطفیۖ سننے پر صلوات نہ پڑھنے کا انجام
١۔خواری و ذلت
رسول اکرمۖ نے فرمایا :
''رُغِمَ اَنْفُ رَجُلٍ ذُکِرْتُ عِنْدَہ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ''
جس شخص کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ صلوات نہ پڑھے تو وہ شخص ذلیل و خوار ہوگا۔
٢۔ بدبختی
رسول اکرمۖ فرماتے ہیں :
''مَنْ ذَکَرَنِیْ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ فَقَدْ شَقٰی''
جوشخص میرا نام لے اور مجھ پر صلوات نہ پڑھے تو اس نے گویا خود کو بدبخت کیا۔
٣۔ بخیل
رسول خداۖ نے فرمایا :
''اِنَّ البَخِیْلَ کُلَّ البَخِیْلِ الَّذِیْ اِذَا ذُکِرْتُ عِنَدَہ لَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ''
وہ انسان بخیل ہے جو میرے نام سننے پر مجھ پر صلوات نہ بھیجے ۔(٢٠)
٤۔ خدا کی رحمت سے دوری
رسول خداۖ نے فرمایا :
''مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ فَدَخَلَ النَّارَ فَاَبْعَدَہُ اللّٰہُ عزَّ وَ جَلَّ''
جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ مجھ پر صلوات نہ بھیجے تو وہ دوزخ میں داخل ہوگا اور خداوند اسے اپنی رحمت سے دور کرے گا۔
لہٰذا ہم سب پر ضروری ہے کہ جب بھی رسول خداۖکا نام محمدۖ یا لقب احمد، محمود اور مصطفی وغیرہ پکارا جائے تو ضروری ہے کہ صلوات بھیجیں۔(٢١)
٥۔ صلوات کے بغیر نماز
امام صادقـ نے فرمایا :
''اِذَا صَلّٰی اَحَدُکُمْ وَ لَمْ یَذْکُرِ النَّبِیَّ یَسْلُکُ بِصَلَا تِہ غَیْرَسَبِیْلِِ الْجَنَّةِ''
جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے اور اس میں صلوات نہ پڑھے، ایسا شخص جنت کے علاوہ کسی اور راستے پر ہے۔(٢٢)
٦۔ ظالم ترین لوگ
رسول خداۖ فرماتے ہیں :
''اَجْفَی النَّاسِِ رَجُل ذُکِرْتُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ''
جفا ترین وہ شخص ہے جس کے پاس میرا نام لیا جائے اور وہ مجھ پر صلوات نہ بھیجے۔(٢٣)
صلوات کا ثواب
اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلَائِکَتَہ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِی............اس آیت کی تفسیر کے بارے میں امام صادقـ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اس طرح پڑھو :
''صَلَوَاتُ اللّٰہِ وَ مَلَائِکَتَہ وَ اَنْبِیَآئِہ وَ رُسُلِہ وَ جَمِیْعِ خَلْقِہ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَ السَّلَامُ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہ''
پھر آپ سے پوچھا گیا: اس صلوات کا کتنا ثواب ہے ؟
امام صادقـ نے فرمایا:
''اَلخُرُوْجُ مِنَ الذَنْبِِ وَ اللّٰہِ کَھَیْئَةِ یَوْمَ وَلَدِتْہُ اُمُّہ''
یہ صلوات پڑھنے والا انسان تمام گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے، اس طرح جیسے ماں کے پیٹ سے آج ہی پیدا ہوا ہو۔(٢٤)
امام رضاـ نے فرمایا:
''اَلصَّلَاةُ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہ تَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّ وَ جَلَّ التَّسْبِیْحَ وَ التَّھْلِیْلَ وَ التَّکْبِیْرَ''
محمد وآل محمد٪ پر صلوات بھیجنے کا ثواب اتنا ہے جتنا کوئی یہ ذکر پڑھے سُبْحَانَ اللّٰہِ، لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔(٢٥)
صلوات پڑھنے سے رسول خداۖکی خواب میں زیارت
جو شخص چاہتا ہے کہ اسے رات کو خواب میں رسول خداۖکی زیارت ہو تو وہ پاک و پاکیزہ ہو کر با خلوص صلوات بھیجے، انشاء اللہ ہر کام میں کامیاب ہوگا۔ اول یہ کام انجام دے:
١۔ نماز عشاء پڑھنے کے بعد غسل کرے،
٢۔ چار رکعت نماز پڑھے جس میں سورۂ توحید کی بجائے آیت الکرسی پڑھے ،
٣۔ ہزار مرتبہ صلوات پڑھے ،
٤۔ پاک وصاف لباس پہن کر سوئے،
٥۔ہمبستری نہ کرے ،
٦۔ اپنا دایاں ہاتھ رخسار کے نیچے رکھے،
٧۔ سومرتبہ یہ پڑھے: ''سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ الْحَمْدُلِلّٰہِ وَ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَ اللّٰہُ اَکْبَرُ وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلاَّ بِاللّٰہِ''
٨۔ سو مرتبہ یہ پڑھے : مَا شَآئَ اللّٰہُ
اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو اسے خواب میں رسول خداۖکی زیارت نصیب ہوگی۔
آئمہ اطہار٪ سے نقل ہوا ہے کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ خاندان کے مرنے والوں کو خواب میں دیکھے تو اسے رات کو دائیں طرف سونا چاہئے اور یہ پڑھے۔
''اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الْحَدُّ الَّذِیْ لَا یُوْصَفَ، وَ الْاِیْمَانِ یُعْرَفُ مِنْہُ، مِنْکَ بَدَتِ الْاَشْیَآئُ وَ اِلَیْکَ تَعُوْدُ، فَمَا اُقْبِلَ مِنْھَا کُنْتَ مَلْجَأَہُ وَ مَنْجَاہُ، وَ مَا اَدْبَرَ مِنْھَا لَمْ یَکُنْ لَہ مَلْجَائ وَ لَا مَنْجَائ اِلاَّ اِلَیْکَ۔
فَاَسْاَلُکَ بِلَا اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ وَ اَسْئَلُکَ بِسْمِِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِِ، وَ بِحَقِِّ مُحمَّدٍ سیِّدِ النَّبِیِیْنَ، وَ بِحَقِِّ عَلِیٍّ خَیْرُ الْوَصِیِّیْنَ، وَ بِحَقِِّ سَیِّدَةِ نِسَآئِ الْعَالَمِیْنَ، وَ بِِحَقِِّ سَیِّدَیْ شَبَابِ اَھْلِِ الْجَنَّةِ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْنَ، اَلسَّلَامُ اَنْ تُصَلِّی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اَھْلِِ بَیْتِہ وَ اَنْ تَرِیَنِیْ مَیِّتِیْ فِی الْحَالِِ الَّتِیْ ھُوَ فِیْھَا''۔(٢٦)
جب یہ دعا پڑھی جائے تو بہت ہی خضوع و خشوع کے ساتھ ہواور یہ جانتا ہو کیا کہہ رہا ہے اور کس سے کہہ رہا ہے۔
دنیا میں صلوات کے آثار و برکات
ہم پہلے صلوات کی اہمیت کے بارے میں بیان کرچکے ہیں اور اب اس کے آثار و برکات بیان کریں گے ، صلوات پڑھنے سے انسان کی معنوی و روحانی زندگی میں ضرور تبدیلی آتی ہے۔
١۔ نزول رحمت کا باعث
حضرت علیـ نے فرمایا:
''وَ بِالصَّلَاةِ تَنَالُوْنَ الرَّحْمَةَ''
صلوات پڑھنے سے رحمت خدا شامل حال ہوتی ہے ۔(٢٧)
٢۔ دعا قبول ہوتی ہے
رسول اکرمۖ نے فرمایا:
''صَلَا تُکُمْ عَلَیَّ اِجَابَةً لِدُعَائِکُمْ''
حقیقی صلوات پڑھنے سے تمہاری دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ (٢٨)
حضرت علیـ فرماتے ہیں:
''صَلُّوْا عَلٰی مُحمَّدٍ وَّ اٰلِِ مُحَمَّدٍ فَاِنَّ عَزَّ وَ جَلَّ یَقْبِِلُ دُعَائَ کُمْ عِنْدَ ذِکْرِ مُحَمَّدٍ وَّ دُعَآئِکُمْ لَہ''
محمد و آل محمد٪ پر صلوات بھیجو کیونکہ جب ان کا مقدس نام زبان پر لیتے ہو اور ان کے لئے طلب رحمت ہوتو خداوند عالم تمہاری دعا کو قبول کرتا ہے۔(٢٩)
٣۔ دعا کا اوپر جانا
حضرت علیـ نے فرمایا :
''کُلُّ دُعَائٍ مَحْجُوْب عَنِ السَّمَآئِ حَتّٰی یُصَلِّیْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہ''
کوئی دعا آسمان پر نہیں جاتی جب تک محمد وآل محمد٪ پر صلوات نہ بھیجو۔(٣٠)
رسول اکرمۖ نے فرمایا :
''مَا مِنْ دُعَائٍ اِلاَّ بَیْنَہ وَ بَیْنَ السَّمَآئِ حِجَاب حَتّٰی یُصَلِّی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ، وَ اِذَا فَعَلَ ذٰلِکَ اِنْخَرَقَ الْحِجَابُ فَدَخَلَ الدُّعَآئُ وَ اِذَا لَمْ یَفْعَلْ لَمْ یَرْفَعِ الدُّعَائُ''
آسمان پر جانے والی دعا کیلئے ایک پردہ ہوتا ہے اور محمد وآل محمد٪ پر صلوات بھیجنے سے وہ پردہ دور ہوجاتا ہے اور دعا اوپر جاتی ہے(یعنی قبول ہوتی ہے) لیکن اگر یہ صلوات نہ پڑھیں تو دعا اوپر نہیں جاتی۔(٣١)
٤۔ گناہوں کی مغفرت
امام رضاـ نے فرمایا:
''مَنْ لَمْ یَقْدِرْ عَلٰی مَا یُکَفِّرْ بِِہ ذُنُوْبَہ فَلْیُکَثِّرْ مِنَ الصَّلَاةِ عَلٰی مُحمَّدٍ وَّ اٰلِہ فَاِنَّھَا تَھْدِمُ الذُّنُوْبَ ھَدْمًا''
جو شخص گناہوں سے بچنے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو اسے صلوات پڑھنی چاہئے کیونکہ حقیقی صلوات گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔(٣٢)
رسول اکرمۖ نے فرمایا :
''مَنْ صَلَّی عَلَیَّ مَرَّةً لَمْ یَبْقِِ مِنْ ذُنُوْبِہ ذَرَّة''
جو شخص مجھ پر ایک دفعہ صلوات بھیجتا ہے اس کے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔(٣٣)
رسول خداۖنے فرمایا :
''مَنْ صَلَّی عَلَیَّ صَلَاةً……مَحْیٰ عَنْہُ عَشَرَ سَیِّئَاتٍ''
جو شخص مجھ پر ایک دفعہ صلوات بھیجتا ہے خدا اس کے دس گناہ معاف کردیتا ہے۔(٣٤)
٥۔ صلوات بھیجنے والے پر خدا کا درود
جو انسان رسول اکرمۖ اور اہل بیت٪ پر صلوات بھیجتا ہے اس کے گناہ معاف ہونے کے علاوہ اسے اور بھی فیض نصیب ہوتا ہے اور وہ یہ کہ صلوات بھیجنے والے پر خدا ، رسولۖ اور فرشتے درود بھیجتے ہیں۔
امام صادقـ نے فرمایا :
''مَنْ صَلَّی عَلَی النَّبِیِِّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ اَلْفَ صَلَاةً صَفٍّ مِنَ الْمَلائِکَةِ وَ لَم یَبْقِِ شَیْئ مِمَّا خَلَقَ اللّٰہُ الاَّ صَلَّ عَلٰی ذٰلِکَ الْعَبْدِ لِصَلَاةِ اللّٰہِ وَ صَلَاةِ مَلَائِکَتِہ''۔
جو انسان صحیح معنوں میں محمد وآل محمد٪ پر صلوات پڑھتا ہے تو اس کے بدلے اس پر خدا کی طرف سے ہزار صف کے فرشتے ہزار صلوات بھیجتے ہیں۔ خدا کی تمام مخلوق ایسے انسان پر صلوات بھیجتی ہے۔(٣٥)
٦۔ سلامتی کا باعث
رسول خداۖ فرماتے ہیں :
مَنْ صَلَّی عَلَیَّ مَرَّةً فَتَحَ اللّٰہُ بَابًا مِنَ الْعَافِیَةِ
جو شخص مجھ پر ایک دفعہ صلوات بھیجتا ہے خدا وندایسے انسان پر سلامتی کے دروازے کھول دیتا ہے ۔(٣٦)
٧۔ خدا کی خوشنودی
رسول اکرمۖ نے فرمایا :
''صَلَا تُکُمْ عَلَیَّ... مَرَضَات لِرَبِّکُمْ''
تمہاری مجھ پر حقیقی صلوات بھیجنا رضایت الٰہی کا باعث ہے یعنی خدا خوش ہوتا ہے۔
٨۔ بہتر شہید کا ثواب
حضرت محمد مصطفیۖ فرماتے ہیں :
''مَنْ قَالَ اللّٰھُمَّ صَلِِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِِ مُحَمَّدٍ اَعْطَاہُ اللّٰہُ اَجْرَ اِثْنَیْنَ وَ سَبْعِیْنَ شَھِیْدًا وَ خَرَجَ مِنْ ذُنُوْبِہ کَیَوْمٍ وَلَدَتْہُ اُمُّہ''
جو شخص اللّٰھُمَّ صَلِِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِِ مُحَمَّدٍ پڑھتا ہے خداوند عالم اسے بہتر شہداء کا ثواب عطا کرتا ہے اور گناہوں سے ایسے پاک ہوجاتا ہے جیسے بچہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے۔
٩۔ صلوات پڑھنے والے پر فرشتوں کا سلام
رسول خداۖ فرماتے ہیں :
''جَائَنِیْ جِبْرَئِیْلُ قَالَ: اِنَّہ لَا یُصَلّٰی عَلَیْکَ اَحَد اِلَّا یُصَلّٰی عَلَیْہِ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ وَ مَنْ صَلّٰی سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ کَانَ مِنْ اَھْلِِ الْجَنَّةِ''
جبرائیل میرے پاس آئے اور کہنے لگے: جو شخص آپ پر صحیح صلوات بھیجتا ہے تو اس کے بدلے ستر ہزار فرشتے اس شخص پر صلوات بھیجتے ہیں اور جن پر ستر ہزار فرشتے صلوات بھیجیں وہ اہل جنت میں سے ہوگا ۔
١٠۔ فرشتوں کا صلوات بھیجنا
امام صادقـ فرماتے ہیں :
''مَنْ صَلّٰی عَلَی النَّبِیِِّ وَ اٰلِہ مِائَةَ مَرَّةً فِیْ کُلِِّ یَوْمٍ اَسْدَاھَا سَبْعُوْنَ مَلَکاً یُبَلِّغُھَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ قِبَلَ صَاحِبِِہ''۔
جو شخص ہر روز سومرتبہ صلوات محمد وآل محمد٪ پڑھتا ہے تو ستر ہزار فرشتے کسی کمی بیشی کے بغیر وہ صلوات بھیجنے والے کی طرف سے رسول خداۖ کی خدمت میں بھیجتے ہیں۔
١١۔ تین دن تک گناہ نہیں لکھے جاتے
رسول اکرمۖ نے فرمایا :
''مَا مِنْ اَحَدٍ صَلّٰی عَلَیَّ مَرَّةً وَ اسْمَعَ حَافِظَیْہِ اِلَّا اَنْ لَا یَکْتُبَا ذَنْبِہ ثَلَاثَةَ اَیَّامٍ''
جو انسان مجھ پر ایک مرتبہ صلوت بھیجتا ہے تو دو محافظ فرشتے اس شخص کا گناہ تین دن تک نہیں لکھتے۔
١٢۔ شیطان سے دوری
جب انسان خدا کے ذکر میں مشغول رہتا ہے تو اس میں نورانیت پیدا ہوتی ہے، جس سے انسان شیطانی وسوسہ سے محفوظ رہتا ہے۔
اسی لئے رسول خداۖ نے فرمایا:
''اِنَّ الشَّیْطَانَ اِثْنَانِ، شَیْطَانُ الْجِنِّ وَ یَبْعُدُ بِلَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمِ وَ شَیْطَانُ الْاِنْسِ وَ یَبْعُدُ بِالصَّلَاةِ عَلَی النَّبِیِّ وَ اٰلِہ''
شیطان دو قسم کا ہے ایک جناتی شیطان جو کہ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمِ کہنے سے دور ہوجاتا ہے۔دوسرا شیطان، منحرف انسان ہے اور یہ رسول و آل رسول٪ پر صلوات پڑھنے سے دور ہوتا ہے۔
١٣۔ سخت وقت میں سکون
خداوند عالم فرماتا ہے:
''وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَائِ وَ الضَّرَّائِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ''
نیکی اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان غربت، بیماری اور دشمن کے مقابلے میں صبر کرتا ہو۔
امام حسن عسکریـ نے فرمایا :
''یَذْکُرُ اللّٰہَ وَ یُصَلِّیْ عَلٰی مُحَمَّدُ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَ عَلٰی عَلِیٍّ وَلِیِّ اللّٰہِ وَ یُوَالِیْ بِقَلْبِہ وَ لِسَانِہ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ وَ یُعَادِیْ کَذٰلِکَ اَعْدَائَ اللّٰہِ''
انسان جب کسی مشکل میں ہو تو اسے ذکر خدا کرنا چاہئے اور اسے حضرت محمد مصطفیۖ و حضرت علیـ پر صلوات پڑھنی چاہئے اور دل سے اہل بیت٪ سے دوستی رکھے اور ان کے دشمنوں سے دشمنی کرے۔
١٤۔ بہترین دعا
ابن نعیم کہتا ہے میں نے امام صادقـ کی خدمت میں عرض کیا: اِنِّیْ دَخَلْتُ الْبَیْتَ فَلَمْ یَحْضُرْنِیْ شَیْئ بَیْنَ الدُّعَائِ اِلَّا الصَّلَاة عَلَی النَّبِیِّ۔
میں خانہ کعبہ میں داخل ہوا تو مجھے صلوات کے علاوہ کوئی دعا یا دنہ تھی۔
امامـ نے فرمایا:
''فَقَالَ: لَمْ یَخْرُجْ اَحَد اِلَّا بِاَفْضَلِ لِمَا خَرَجْتَ''
یاد رکھو! جتنا تجھے ثواب ملا کسی اور کو نہیں۔
١٥۔ آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں
رسول خداۖنے فرمایا :
''اَخْبِرْنِیْ جِبْرَئِیْلُ اَنَّ الرَّجُلَ مِنْ اُمَّتِیْ اِذَا صَلّٰی عَلَیَّ وَ اتْبَعَ بِالصَّلَاةِ عَلٰی اَھْلِ بَیْتِیْ فُتِحَتْ لَہ اَبْوَابَ السَّمَائِ وَ صَلَّتْ عَلَیْہِ الْمَلَائِکَةُ سَبْعِیْنَ صَلَاةً وَ اِنَّہ لِمُذْنِبٍ خَطَّا، ثُمَّ تَحَاتُّ عَنْہُ الذُّنُوْبِ کَمَا یَتَحَاتُّ الْوَرَقِ مِنَ الشَّجَرِِ''
مجھے جبرائیل نے بتایا: جب میری امت میں ایک شخص مجھ پر اور میرے اہل بیت پر صلوات بھیجتا ہے تو آسمان سے رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اس کے علاوہ خدا کے فرشتے ستر مرتبہ صلوات بھیجتے ہیں اور اس شخص کے گناہ ایسے ہی گر جاتے ہیں جیسے درخت کے پتے گرتے ہیں۔
١٦۔ صلوات بھیجنے والے پر تمام موجود ات کی صلوات
جب خدا کسی شخص پر صلوات بھیجتا ہے تو تمام مخلوق بھی اس شخص پر صلوت بھیجتی ہے کیونکہ مخلوق خدا جانتی ہے کہ خدا صلوات بھیجتا ضرور ہے لہٰذا وہ بھی صلوات بھیجتے ہیں۔
''مَنْ صَلّٰی عَلَی النَّبِیِّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلّٰی عَلَیْہِ اَلْفَ صَلَاةٍ فِیْ اَلْفَ صَفٍّ مِنَ الْمَلَائِکَةِ وَ لَمْ یَبْقِ شَیْئ مِمَّا خَلَقَ اللّٰہُ اِلَّا صَلَّ عَلٰی ذٰلِکَ الْعَبْدِ لِصَلَاةِ اللّٰہِ وَ صَلَاةِ مَلَائِکَتِہ''۔
جو شخص رسول خداۖ پر ایک مرتبہ صلوات بھیجتا ہے تو خداوندعالم اسکے بدلے میں ہزار ہزار فرشتوں کی ہزار صفوں کو صلوات پڑھنے پر متعین کرتا ہے۔ اسلئے خدا اور فرشتے اس شخص پر صلوات بھیجتے ہیں بلکہ خدا کی تمام مخلوق ایسے شخص پر صلوات بھیجتی ہے۔(٣٨)
١٧۔ ستر ہزار فرشتوں کی صلوات
رسول اکرمۖ نے فرمایا :
''جَائَنِیْ جِبْرَئِیْلُ وَ قَالَ: اِنَّہ لَا یُصَلِّیْ عَلَیْکَ اَحَد اِلَّا یُصَلِّیْ عَلَیْہِ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ''۔
جبرائیل میرے پاس آئے اور کہا : جو شخص تم پر صلوات بھیجتا ہے تو اس کے بدلے میں اس پر ستر ہزار فرشتے صلوات بھیجتے ہیں۔
١٨۔ صلوات کا ثواب : امام رضاـ کے کلام میں
امام رضاـ فرماتے ہیں:
جو شخص رسول خداۖ اور اہل بیت٪ پر صلوات بھیجتا ہے اور انہیں مسرور کرتا ہے اور یہ کہتا ہے:
''اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ فِی الْاَوَّلِیْنَ، وَ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ فِی الْاٰخَرِیْنَ، وَ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ فِی الْمَلَأِ الْاَعْلٰی، وَ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ فِی الْمُرْسَلِیْنَ، اَللّٰھُمَّ اَعْطِ مُحَمَّدًا اَلْوَسِیْلَةَ وَ الشَّرْفَ وَ الْفَضِیْلَةَ وَ الدَّرَجَةَ الْکَبِیْرَةَ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَمَنْتُ بِمُحَمَّدٍ وَ لَمْ اَرَہُ، فَلَاتَحْرِمْنِیْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ رَوْیَتَہ، وَ ارْزُقْنِیْ صُحْبَتَہ، وَ تَوَفَّنِیْ عَلٰی مِلَّتِہ ، وَ اسْقِنِیْ مِنْ حَوْضِہ مَشْرَبًا رَوِیًّا سَائِغًا ھَنِیْئًا لَا ظَمَأَ بَعْدَہ اَبَدًا اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدْیْر، اَللّٰھُمَّ اٰمَنْتُ بِمُحَمَّدٍ وَّ لَمْ اَرَہُ فَعَرِّفْنِیْ فِی الْجَنَانِ وَجْھُہ اَللّٰھُمَّ بَلِّغْ رُوْحَ مُحَمَّدٍ عَنِّیْ تَحِیَّةَ کَثِیْرَةً وَ سَلَامًا''۔(٣٩)
خدایا! اولین واخرین کی صلوات محمد وآل محمد پر ہو ، درود محمد وآل محمد کہ جن کا بلند ترین مقام ہے۔ صلوات محمد وآل محمد پر تمام کے مقابلے میں۔
خدایا! اپنے رسول کو تمام امور میں وسیلہ قرار دے ، شرافت، فضیلت درجہ اور بلند مقام عطا فرما۔
خدایا! اپنے پیغمبر کہ جس کو میں نے نہیں دیکھا اور ایمان لے آیا ہوں مجھے قیامت کے دن ان کی زیارت سے محروم نہ فرما ،مجھے ان کا جوار نصیب فرما ،مجھے ان کے دین اور حقیقی مسلمان مارنا، مجھے حوض کوثر کا خوشگوار و مسرت بخش جام پلانا اس طرح کہ پھر میں کبھی پیاسا نہ ہوں کیونکہ تو ہر کام پر قادر ہے۔
خدایا! میں تیرے رسول محمدۖ پر ایمان لایا ہوں حالانکہ آنحضرتۖ کو نہیں دیکھا پس مجھے ان کے نورانی چہرے کی زیارت کا شرف عطا فرما۔
خدایا! میری طرف بے شمار سلام بر محمد وآل محمد٪ہو۔
گناہوں سے پاک ہونا
''فَاِنَّ مَنْ صَلّٰی عَلَی النَّبِِیِّ بِھٰذَا الصَّلَوَاتِ ھُدِمَتْ ذُنُوْبَہ''
جو شخص اس طرح رسول خداۖ پر صلوات بھیجتا ہے وہ گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے۔
خطائیں معاف ہوتی ہیں
''وَ مُحِیَتْ خَطَایَاہُ''
اسکی خطائیں معاف ہوتی ہیں
نشاط دائمی
''دَامَ سُرُوْرُہ''
اس کیلئے دائمی خوشحالی پیدا ہوتی ہے
اجابت دعا
''وَ اسْتُجِیْبَ دَعَائُہ''
اسکی دعا قبول ہوتی ہے
امیدیں پوری ہوتی ہیں
''وَ اُعْطِیْ اَمَلُہ''
ایسے شخص کی آرزو پوری ہوتی ہے
زیادہ روزی
''وَ بُسِطَ لَہ رِزْقُہ''
اس کا رزق زیادہ ہوتا ہے
دشمن پر غلبہ
''وَ اُعْیِنَ عَلٰی عَدُوِّہ''
ایسا شخص دشمن پر غالب آئے گا
زیادہ خیرو برکت
''وَ ھِیَ لَہ سَبَبُ اَنْوَاعِ الْخَیْرِ''
اس صلوات کے پڑھنے سے خیرو برکت زیادہ ہوتی ہے
جنت میں رسول خداۖ کا دوست
''وَ یَجْعَلُ مِنْ رُفَقَائِ نَبِیِّہ فِیْ الْجَنَانِ الْاَعْلٰی''۔
اس صلوات کو پڑھنے والا شخص قیامت میں رسول خداۖ کا دوست ہوگا۔
ایک اہم نکتہ:
صلوات کی فضیلت اور اس کے آثار و برکات اس وقت محقق ہوتے ہیں کہ انسان زبانی صلوات نہ بھیجے بلکہ حقیقی صلوات بھیجے اور حقیقی صلوات کی شرائط ہیں۔ با تقویٰ ہونا، خلوص نیت سے اور پوری توجہ سے صلوت پڑھنا چاہئے اس صلوات سے انسان کا اللہ اور اس کے رسولۖ کے درمیان رابطہ محکم ہوتا ہے انسان کے اعضاء وجوارح اس کے اختیار میں ہوں نہ شیطان کے۔
آنکھ ، کان اور زبان سے رنگ الٰہی کا جلوہ ہوتو یہ حقیقی صلوات ہے اور صرف حقیقی صلوات کے آثاروبرکات ہوتے ہیں۔
١٩۔اعمال کی زکوٰة
اسلام میں ہر چیز پر زکوٰة ہوتی ہے یعنی اگر خداوندعالم کسی کو معمول سے زیادہ کوئی چیز عنایت فرمائے تو اس شے کی رشد ونمو اور بقاء کیلئے اسکی زکوٰة دینی چاہیے۔
اقسام زکوٰة
حضرت علیـ نے فرمایا:
''لِکُلِّ شَیْئٍ زَکَاة وَ زَکَاةُ الْعَقْلِ اِحْتِمَالُ الْجُھَّالِ''
ہر چیز کی زکوٰة ہوتی ہے اور عقل کی زکوٰة جاہل انسان کے مقابلے میں صبرو تحمل اور بردباری ہے۔
پھر مولا امیرـ فرماتے ہیں :
علم کی زکوٰة اسکی ترویج ہے ، قدرت کی زکوٰة انصاف ، خوبصورتی کی زکوٰة پاکدامنی ،کامیابی کی زکوٰة احسان ،بدن کی زکوٰة جہاد اور روزہ، سلامتی کی زکوٰة اطاعت لہٰذا کوشش کرنا چاہئے۔ حکومت کی زکوٰة عدالت، عبادت کی زکوٰة خشوع اور شجاعت کی زکوٰة راہ خدا میں جہاد کرنا ہے۔
لیکن ہمارے اعمال کی زکوٰة صلوات ہے کیونکہ انسان کے کاموں میں نقص اور عیب ہوتا ہے اور صلوات بھیجنے سے عمل زیادہ ہوتا ہے اور زیادہ ثواب ملتا ہے اسی لئے رسول خداۖ نے فرمایا:
''صَلَاتُکُمْ عَلَیَّ زَکَاة لِاَعْمَالِکُمْ''
مجھ پر تمہاری صلوات ،تمہارے اعمال اور کاموں کی زکوٰة ہے۔
٢٠۔اقسام حجاب
حجاب کی دو قسمیں ہیں:
١۔ مادی حجاب: جیسے پردہ یا دو چیزوں کے درمیان دیوار کا فاصلہ ہونا یا چادر کی مانند جو عورتوں کے سر پر ہوتی ہے تا کہ کوئی نامحرم نہ دیکھے۔
٢۔ حجاب معنوی : یہ حجاب آنکھوں سے نہیں ہوتا بلکہ یہ کچھ صفات ہیں جو قرب الٰہی سے مانع ہوتی ہیں جیسے غرور، تکبر، حسد ، بخل اور کینہ جس شخص میں یہ بری صفات ہوں وہ قرب الٰہی حاصل نہیں کرسکتا۔
صلوات کا ایک فائدہ یہ ہے کہ انسان میں خودشناسی کے علاوہ خدا شناسی پیدا ہوتی ہے اسی لئے آنحضرتۖ نے فرمایا:
''مَا مِن دُعَائٍ اِلَّا بَیْنَہ وَ بَیْنَ السَّمَائِ حِجَاب حَتّٰی یُصَلِّیْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَ اِذَا فَعَلَ ذٰلِکَ اِنْخَرَقَ الْحِجَابُ''
ہر دعا اور آسمان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے اگر دعا صلوات کے ساتھ ہوتو وہ پردے ختم ہوجاتے ہیں۔
٢١۔ حافظہ کا سبب
جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ بعض حجاب معنوی ہیں جیسے نسیان کہ انسان عام طور پر زیادہ چیزوں کو بھول جاتا ہے، اگر کوئی شخص چاہتا ہے کہ اس کا نسیان ختم ہوجائے تو اسے صلوات پڑھنی چاہئے، صلوات در حقیقت انسان ، خدا اور رسول اکرمۖ کے درمیان رابطے کا نام ہے۔
اسی لئے امام حسن مجتبیٰـ نے فرمایا :
''اِنَّ قَلْبَ الرَّجُلَ فِیْ حَقٍّ وَ عَلَی الْحَقِّ طَبَق فَاِنَّ صَلَّی الرَّجُلَ عِنْدَ ذٰلِکَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ صَلَاةً تَامَّةَ اِنْکَشَفَ ذٰلِکَ الطَّبِقُ عَنْ ذٰلِکَ الْحَقُّ فَاَضَائَ الْقَلْبُ وَ ذَکَرَ الرَّجُلُ مَا کَانَ نَسِیَ۔
وَ اِنْ لَمْ یُصَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ أَوْ نَقَصَ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَیْھِمْ اِنْطَبَقَ ذٰلِکَ الطَّبَقُ عَلٰی ذٰلِکَ الْحَقِّ فَاَظْلَمَ الْقَلْبُ وَ نَسِیَ مَا کَانَ ذَکَرَہ''۔ (٤٠)
ہر انسان کو چاہے اچھا ہو یا برا، اس کے دل پر پردہ ہوتا ہے، البتہ یہ پردہ ایمان کے درجے کے مطابق ہوتا ہے اور یہ پردہ انسان کو حقائق درک کرنے سے مانع ہوتا ہے، لیکن جب انسان صلوات محمد وآل محمد٪ پڑھتا ہے تو یہ پردہ ختم ہوجاتا ہے اور بھولی ہوئی چیز انسان کو یاد آجاتی ہے، اگر صلوات نہ بھیجے یا ناقص بھیجے تو انسان کا دل تاریک رہتا ہے اور یاد آنے والی ہر چیز کو بھول جاتا ہے۔
٢٢۔ ایک صلوات کے بدلے میں خدا کی ہزار صلوات
امام صادقـ نے فرمایا :
''اِذَا ذُکِرَ النَّبِیُّ فَاکْثِرُوا الصَّلَاةَ عَلَیْہِ فَاِنَّہ مَنْ صَلّٰی عَلَی النَّبِیِّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ اَلْفَ صَلَاة''۔
جب رسول خداۖ کا نام لیا جائے اور زیادہ صلوات بھیجی جائے تو ایک صلوات کے بدلے خداوند اس پر ہزار صلواة بھیجتا ہے۔
٢٣۔ سو حاجتوں کا پورا ہونا
رسول خداۖ نے فرمایا :
''مَنْ صَلّٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ مِائَةَ مَرَّةً قَضَی اﷲُ لَہ مِائَةَ حَاجَةٍ''
جو شخص محمد وآل محمد٪ پر سو صلوات بھیجتا ہے تو خداوند عالم اس کے بدلے اسکی سو حاجت پوری کرتا ہے۔
امام جعفر صادقـ نے فرمایا:
''مَنْ صَلّٰی عَلَی النَّبِیِّ وَ اٰلِہ مَرَّةً وَاحِدَةً بِنِیَّةِ الْاِخْلَاصِ مِنْ قَلْبِہ قَضَی اللّٰہُ لَہ مِائَةَ حَاجَةٍ مِنْھَا ثَلَاثُوْنَ لِلدُّنْیَا، وَ سَبْعُوْنَ لِلْاٰخِرَةِ''۔
جو شخص خلوص سے ایک مرتبہ محمد وآل محمد٪ پر صلوات بھیجتا ہے تو خداوند عالم اس کے بدلے اس شخص کی سو حاجات پوری کرے گا جن میں سے تیس دنیا کی ہونگی اور ستر حاجات آخرت کی پوری کرے گا۔
حضرت علیـ نے فرمایا:
''مَنْ قَالَ ثَلَاثُ مَرَّاتٍ: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ قَضَی اللّٰہُ حَاجَتَہ''
جو شخص تین مرتبہ محمد وآل محمد٪ پر صلوات بھیجتا ہے اللہ اسکی حاجت کو پورا کرتا ہے۔
٢٤۔ دعا کے اول ، وسط اور آخر میں صلوات
رسول اکرمۖ نے فرمایا :
''مَا مِنْ دَعَائٍ اِلَّا بَیْنَہ وَ بَیْنَ السَّمَائِ حِجَاب، فَاِذَا دَعَا الْعَبْدُ وَ لَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ فِیْ اَوَّلِہ، عَسٰی اَن یَّرْفَعَ اِلَی الْحِجَابِ ثُمَّ یُرَدُّ۔
وَ اِذَا صَلّٰی عَلَیَّ فِیْ اَوَّلِہ تَصْعُدُ الصَّلَاةُ فَتَفْتِقُ الْحِجَابَ وَ تَصْعُدُ اِلَی السَّمَائِ وَ یَتْبَعُھَا الدُّعَائُ اِلٰی دُوْنِ الْعَرْشِ فَھُنَاکَ تَرْجِیَ الْاَجَابَةُ''۔
ہر دعا اور آسمان کے درمیان ایک پردہ ہوتا ہے جب انسان دعا کے اول میں صلوات نہ پڑھے تو اسکی دعا واپس آجاتی ہے لیکن جب اول میں صلوات پڑھے تو وہ پردہ ختم ہوجاتا ہے اور دعا و صلوات دونوں اوپر جاتے ہیں اور عرش الٰہی تک دعا پہنچ جاتی ہے لہٰذا دعا قبول ہوجاتی ہے۔
رسول خداۖ نے فرمایا :
''لَا تَجْعَلُوْنِیْ کَقَدْحِ الرَّاکِبِ فَاِنَّ الرَّاکِبَ یَمْلَؤُ قَدَحَہ فَیَشْرِبُہ اِذَا شَآئَ، اِجْعَلُوْنِیْ فِیْ اَوَّلِ الدُّعَا وَ فِیْ وَسَطِہ وَ فِیْ اٰخِرِہ''۔
اپنی دعاؤں کو گھڑ سوار کے برتن میں پانی کی مانندنہ بناؤ کہ جب پیاسا ہو پیتا ہے بلکہ دعا کی قبولیت کیلئے شروع، درمیان اور آخر میں صلوات بھیجیں یعنی اسی طرح دعا نہ مانگنا کہ کبھی صلوات پڑھنا اور کبھی نہ پڑھنا بلکہ اپنی دعاؤں میں ہمیشہ صلوات پڑھیں تا کہ قبول ہوں۔
امام صادقـ نے فرمایا:
''مَنْ کَانَتْ لَہُ اِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَ جَلَّ حَاجَةُ فَلْیَبْدِئُ بِالصَّلَاةِ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ ثُمَّ یَسْئَلُ حَاجَتَہ، ثُمَّ یَخْتِمْ بِالصَّلَاةِ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ فَاِنَّ عَزَّ وَ جَلَّ اَکْرَمُ مَنْ اَنْ یَقْبَلُ الطَّرَفَیْنِ وَ یَدَعِ الْوَسَطَ، اِذَا کَانَتِ الصَّلَاةُ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ لَا تَحْجُبُ عَنْہُ ''۔(٤١)
جو شخص خدا سے حاجت چاہتا ہو اسے دعا سے پہلے صلوات پرھنی چاہیے اور پھر اپنی حاجت مانگے ،دوبارہ صلوات پڑھے کیونکہ جس دعا میں اول وآخر صلوات ہو وہ دعا قبول ہوتی ہے۔ جب صلوات بھیجی جائے تو (اس کے بدلے میں) خداوند عالم اسکی حاجت کو بھی قبول کرے گا۔
٢٥۔ حضرت فاطمہ زہرا پر صلوات بھیجنے کا ثواب
رسول اکرمۖ نے فرمایا:
''یَا فَاطِمَةُ مَنْ صَلّٰی عَلَیْکَ غَفَرَ اللّٰہُ لَہ وَ اَلْحَقَہ بِیْ حَیْثُ کُنْتُ مِنَ الْجَنَّةِ''۔
اے فاطمہ! جو انسان تم پر صلوات بھیجتا ہے تو اس کے بدلے خداوند دو اجرعطا کرتاہے۔
(١) خدا اس شخص کے تمام گناہ بخش دیتا ہے ،
(٢) جنت میں وہ میرے ساتھ ملحق ہوگا ۔
٢٦۔ صلوات پڑھنے والے کو رسول اکرمۖ کا جواب
ہمارا عقیدہ ہے کہ چودہ معصومین٪ حاضر وناظر ہیں شہادت کے وقت ان کی روح بدن سے جدا ہوتی ہے اگر وہ چاہیں تو ہمارے اعمال کی نظارت کرسکتے ہیں ،ہمارے اچھے اعمال سے وہ خوش ہوتے ہیں اور بد اعمال سے ناراض ہوتے ہیں۔
ہمارے اعمال پر آئمہ کی نظارت
خداوند عالم فرماتا ہے :
''قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمْ وَ رَسُوْلُہ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ؟ وَسَتُرَدُّوْنَ ژ عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّھَادَةِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ''
اور اے پیغمبر! کہہ دیجیے کہ تم لوگ عمل کرتے ہو کہ تمہارے اعمال کو اللہ ، رسول اور صاحب ایمان سب دیکھ رہے ہیں اور عنقریب تم اس خدائے عالم الغیب والشھادة کی طرف پلٹا دیئے جاؤ گے اور وہ تمہیں تمہارے اعمال سے با خبر کرے گا۔
امام صادقـ اس آیت کی تفسیر کے بارے میں فرماتے ہیں:
''تُعْرَضُ الْاَعْمَالُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ اَعْمَالُ الْعِبَادِ کُلُّ صَبَاحٍ اَبْرَارُھَا وَ فُجَّارُھَا فَاحْذَرُوْھَا''۔
لوگوں کے تمام اعمال ہر روز صبح رسول خداۖ کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں نیک لوگوں کے اعمال اور بد افراد کے اعمال ،لہٰذا تم احتیاط کرنا۔
رسول اکرمۖ نے فرمایا :
''حَیَاتِیْ خَیْر لَّکُمْ تُحَدِّثُوْنَ وَ نُحَدِّثُ لَکُمْ وَ مَمَاتِیْ خَیْرلَّکُمْ تَعْرُضُ عَلَیَّ اَعْمَالُکُمْ، فَاِنْ رَأَیْتُ حَسُنًا جَمِیْلًا حَمَدْتُّ اللّٰہِ عَلٰی ذٰلِکَ وَ اِنْ رَأَیْتُ غُیْرُ ذٰلِکَ اِسْتَغْفَرْتُ اللّٰہَ لَکُمْ''۔(٤٢)
جب میں دنیا میں تھا تو میری زندگی تمہارے لئے خیرو برکت تھی تم مجھ سے بولتے اور میں تم سے بولتا تھا اور میری موت بھی تمہارے لئے خیرو برکت ہے کیونکہ تمہارے اعمال میرے پاس بھیجے جاتے ہیں۔ اگر تمہارے اعمال اچھے ہوں تو خدا وند سے تعریف کرتا ہوں اور اگر اعمال بد ہوں تو خدا سے تمہاری مغفرت کرتا ہوں۔
معصومین٪ کی زندگی وموت مساوی ہے یعنی جب دنیا میں تھے تو عالم برزخ اور قیامت کو دیکھتے تھے اور جب کہ عالم برزخ میں ہیں تو بھی ہمارے اعمال کا مشاہدہ کرتے ہیں۔جب ہم کسی معصوم کی زیارت کرتے ہیں تو وہ ہمارے نام تک جانتے ہیں اور ہماری حاجات کو بھی جانتے ہیں۔
جیسا کہ ہم حضرت علیـ کی زیارت میں پڑھتے ہیں:
''اِنَّکَ تَسْمَعُ کَلَامِیْ وَ تَرُدُّ سَلَامِیْ''
آپ میرا کلام سنتے ہیں اور سلام کا جواب دیتے ہیں۔
اس حدیث سے واضح ہوجاتا ہے کہ جب ہم معصومین٪ کی زیارت کرتے ہیں تو وہ سنتے ہیں اور جواب بھی دیتے ہیں۔
حضرت امیرـ نے فرمایا :
''…فَلَا یُصَلِّیْ عَلَیْہِ اَحَد بَعْدَ وَفَاتِہ اِلَّا ھُوَ یَعْلَمُ بِذٰلِکَ وَ یَرُدُّ عَلَی الْمُصَلِّیْ مِثْلَ ذٰلِکَ…''
جو شخص رحلت رسول اکرمۖ کے بعد ان پر صلوات بھیجے تو آنحضرتۖ صلوات بھیجنے والے کو جانتے ہیںاور وہ بھی صلوات بھیجتے ہیں۔
٢٧۔ زمین سے آسمان تک اشرف عمل
امام حسن عسکریـ فرماتے ہیں :
''اِنَّ اَشْرَفَ اَعْمَالِ الْمُوْمِنِیْنَ فِیْ مَرَاتِبِھِمُ الَّتِیْ قَدْ رَتَبُوْا فِیْھَا، مِنَ الثَّرٰی اِلَی الْعَرْشِ الصَّلَاةِ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہِ الطَّیِّبِیْنَ''۔
مومنین اپنے درجہ کے لحاظ سے ان کے شریف ترین اعمال زمین سے لے کر عرش الٰہی تک محمد وآل محمد٪ پر صلوات بھیجنا ہے۔
پاورقی:
(١)۔سورۂ احزاب…٥٦(٢)۔ تفسیر نمونہ جلد١٧، صفحہ ٤١٧ (٣)۔سورہ اعلیٰ … ١٥ (٤)۔بحارالنوار۔ج٩٤، ص ٥٨(٥)۔سورۂ احزاب…٤٣ (٦)۔ سورۂ بقرہ …٥٥ تا ٥٧(٧)۔سورۂ توبہ…١٠٣(٨)۔نہج البلاغہ خطبہ ٧١،٧٢ (٩)۔ وسائل الشیعة۔ ج٤،ص١٢١٠، بحار الانوار، ج٩٤،ص٤٩ (١٠)۔ مستدرک الوسائل۔ ج ٥، ص٣٥٥حدیث٨(١١)۔خصال شیخ الصدوق۔ ص٨٨، اصول کافی،ج٨،ص٢١٩(١٢)۔بحار الانوار۔ ج٧٥، ص١(١٣)۔وسائل الشیعة۔ ج١١، ص٣٩٦(١٤)۔بحار الانوار۔ ج١٠٠، ص٨ (١٥)۔بحار الانوار۔ ج٩٤،ص٥٤(١٦)۔بحار الانوار۔ ج٩٤، ص٤٨،٥٦(١٧)۔بحار الانوار۔ ج٩٤،ص٥٦، مستدرک الوسائل،ج٥،ص٣٥٥(١٨)۔ مستدرک الوسائل،ج٥،ص٣٥٦ (١٩) ۔ مستدرک الوسائل۔ ج٥،ص٣٥١(٢٠)۔مستدرک الوسائل۔ ج ٥، ص ٣٥٣، بحار الانوار۔ ج٩٤،ص٥٥،٦١(٢١)۔بحار الانوار۔ ج٩٤،ص٤٩ (٢٢) ۔ بحار الانوار۔ ج٩٤، ص٤٩(٢٣)۔بحار الانوار۔ ج٩٤،ص٨١ (٢٤)۔ بحار الانوار۔ ج٩٤،ص٥٥(٢٥)۔بحار۔ ج٩٤،ص٤٧، وسائل۔ ج٤،ص٢١٢، مستدرک۔ ج٥،ص٣٣٠' ٣٤١ (٢٦)۔بحار الانوار۔ ج٧،ص٢١٥ (٢٧)۔مستدرک الوسائل،ج٥،ص٣٤١، بحار الانوار۔ ج٩٤،ص٤٨ (٢٨)۔بحار الانوار۔ ج٩٤،ص٦٨،٥٤،٥٠، اسی طرح ص ٦٥، ٦٦(٢٩)۔بحار الانوار۔ ج٩٤،ص٥٠(٣٠)۔بحار الانوار۔ ج٩٤،ص٥٨،٦٥(٣١)۔مستدرک الوسائل، ج٥،ص٢٢٧، بحار الانوار۔ ج٩٤،ص٦٤، ٦٥، ٦٦ (٣٢)۔بحار الانوار۔ ج٩٤،ص٤٧،٦٣، وسائل الشیعة۔ ج٩٤،ص٢١٢ (٣٣)۔بحار الانوار۔ ج٩٤، ص٦٣، مستدرک الوسائل ۔ ج٥،ص٣٣٤ (٣٤)۔ مستدرک الوسائل۔ ج٥، ص٣٣٥،٣٣٧ (٣٥)۔بحار۔ ج٩٤،ص٦٥، وسائل،ج٤،ص١٢١١، مستدرک ج٥،ص٣٣٤ (٣٦)۔بحار۔ ج٩٤،ص٦٣، مستدرک۔ ج٥، ص٣٣٣ (٣٧)۔بحار الانوار۔ ج٩٤ ص٦٤، مستدرک الوسائل ۔ ج٥،ص٣٣٥۔٣٣٦ (٣٨)۔وسائل الشیعة۔ ج٥،ص٢٢٠، مستدرک الوسائل ۔ ج٥،ص٣٥٥ (٣٩)۔بحار الانوار۔ ج٩٤، ص ٦٥، وسائل۔ج٤،ص١١،١٢ )(٤٠)۔وسائل الشیعة، ج٤، ص١٢١٥(٤١)۔وسائل الشیعة، ج٤، ص١١٣٧ (٤٢)۔بصائر الدرجات، جز٩، باب١٢، حدیث٤ (٤٣)۔بحار الانوار، ج٩٤،ص٥٥ (٤٤)۔ بحار الانوار، ج٨٦،ص٢٦٨(٤٥)۔بحار الانوار، ج٩٤،ص٥٠(٤٦)۔کنز العمال، ج١، ص٥٠٦، شمارہ ٢٢٣٨(٤٧)۔کنز العمال ، ج١، ص٥٠٦، شمارہ ٢٢٣٧ (٤٨)۔ کنز العمال ، ج١، ص٩٩، شمارہ٢٢٠٤ (٤٩)۔ کنز لعمال، ج١، ص ٢١٤٣ (٥٠)۔مکارم الاخلاق، ص٤٦٤
اس فصل میں دو معصومین کی ماں کی عظمت کے بارے میں بیان کریں گے ۔ حضرت فاطمہ زہرا کے بے شمار فضائل ہیں۔ فاطمہ اپنے باپ کی مونس تھی ،یہاں تک کہ رسول خدا ۖ نے انہیں(( أم ابیھا)) کا لقب دیا ۔ہمارا قلم ان کی فضیلت لکھنے سے عاجز ہے۔
ان کی فضیلت کے بارے میں یہ کافی ہے کہ خداوند عالم نے انبیاء کی نسل، ان کی صلب میں رکھی۔ لیکن پیغمبر ۖ کی نسل کو حضرت علی کی صلب میں رکھا اور فاطمہ سے ہونے والی اولاد میں فاطمہ پاکدامن تھیں اور پاکدامن اولاد کی تربیت کی آپ کی زندگی بہت کم تھی۔ لیکن آپ کے آثار وبرکات بہت زیادہ ہیں۔ فاطمہ اپنے شوہر کے لئے بہترین بیوی اور اپنی اولاد کیلئے بہترین ماں تھیں ۔ ہماری عورتوں کو فاطمہ کی سیرت پر چلنا چاہیے ۔
ولادت :
فاطمہ زہراء مکہ کے ایک ایسے مبارک ونورانی گھر میں پیدا ہوئیں۔ جو محل نزول وحی تھا، جس گھر میں فاطمہ پیدا ہوئیں۔ وہ گھر مسلمانوں کے نزدیک پر برکت ہے۔ فاطمہ رسول خدا ۖاور خدیجہ کی سب سے چھوٹی اور اکلوتی بیٹی تھیں۔ (١)
جناب زہراء بیس (٢٠) جمادی الثانی کو پیدا ہوئیں، ولادت کے دن میں اتنا اختلاف نہیں ۔لیکن سال کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ کس سال میں پیدا ہوئیں ۔
کلینی ، ابن جریر،طبری،طبرسی،مجلسی،ابن شہر آشوب اور سید محسن امین(٢)
جیسے علماء نے فاطمہ کی ولادت کو بعثت کا پانچواں سال لکھا ہے ۔
(٢) کچھ اور شیعہ علماء جیسے شیخ مفید حدائق الریاض میں اور شیخ طوسی مصباح المجتہد میں فاطمہ کی ولادت کو بعثت کا دوسرا سال لکھا ہے ۔(٣)
(٣) کچھ شیعہ مورخین اور مورخین اہل سنت جیسے طبری ،ابو الفرج اصفہانی واحمد بن حنبل ولادت فاطمہ کو بعثت سے پانچ سال پہلے لکھا ۔(١)١۔تاریخ طبری ،ج٢،ص٤٧٣؛ مقاتل الطالبین ،ص٣٠؛مسند احمدبن حنبل،ج٦،ص١٦٣ و الطبقات الکبریٰ،ج٨،ص١١
(٤) کچھ اہل سنت نے فاطمہ کی ولادت کو رسول خداۖکی اکتالیس (٤١) سالہ زندگی میں لکھا ہے ۔(٤)
آپ کے القاب، کنیت اور نام :
فاطمہ زہرا کے کئی نام ہیں جو بعض خدا کی طرف سے اور بعض رسول خدا ۖ نے رکھے۔ امام صادق نے فرمایا: خداوند عالم نے نو (٩) نام فاطمہ کے رکھے:
فاطمہ ،صدیقہ ،مبارکہ ،طاہرہ ،زکیہ ، راضیہ ،مرضیہ ،محدثہ و زہرائ۔
ان کا نام فاطمہ اس لئے رکھا کیونکہ وہ ہر گناہ سے دور تھیں۔
علامہ مجلسی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: صدیقہ یعنی معصومہ، مبارکہ یعنی صاحب برکت اور صاحب علم وفضل طاہرہ یعنی ہر نقص سے پاک ،زکیہ یعنی کمالات میں عروج ،راضیہ یعنی قضاء خدا پر راضی ،مرضیہ یعنی خدا کا پسندیدہ بندہ ،محدثہ یعنی فرشتہ اس سے باتیں کرتا تھا ،زہراء یعنی نورانی۔
مورخین نے فاطمہ کی یہ کنیت ذکر کی ہیں:((ام الائمہ ،ام ابیھا ،ام الحسن ،ام الحسین وام المحسن))
اس کے القاب مندرجہ ذیل یہ ہیں :حصان ،حورہ ،عذرا ،منصورہ ،نوریہ ،بتول ،علیمہ ،حکیمہ ،نقیہ ،حلیمہ ،تقیہ ،سیدہ ،مضطھدة الشھیدہ ،مونسة خدیجة الکبریٰ۔(١)
بچپن اور جوانی :
فاطمہ نے بچپن سے ہی دشمن کی طرف سے آنحضرت ۖ پر آنے والے مصائب دیکھے۔(٢)
جب آنحضرت ۖشعب ابی طالب میں محاصرہ ہوگئے تو فاطمہ بھی آپ کے ساتھ تھیں۔(٣)
ایک دن فاطمہ اتنی بھوکی تھیں کہ آپ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوگیا تھا، اپنے باپ کے پاس آتی ہیں اور کہتی ہیں :کہ بابا میں بھوکی ہوں، آنحضرت ۖ نے اپنا دست مبارک سینے پر رکھااور آسمان کی طرف ہاتھ بلند کرکے دعا کی: اے خدایا تو بھوکوں کو سیر کرنے والا ہے اور میری بیٹی فاطمہ کو بھوک سے نجات دے ۔عمران بن حصین کہتا ہے : میں نے دیکھا کہ تھوڑی دیر کے بعد فاطمہ کے چہرہ پرپہلے کی طرح شادابی نظر آنے لگی۔(٤)
آخر قریش کا معاصرہ ختم ہوا اوررسول خدا ۖ اپنے ساتھیوں سمیت گھر واپس آئے، اس وقت فاطمہ کی عمر پانچ سال تھی ۔ اس کے بعد فاطمہ کی ماں دنیا سے رخصت ہوگئیں ۔(٥)
جس کے بعد ہمیشہ اپنی ماں کے غم میں غمگین رہتی تھیں ،دشمن کی طرف سے تلخ حوادث آپ نے دیکھے۔ ایک دفعہ فاطمہ نے دیکھا کہ مشرکین مسجدالحرام میں بیٹھے ہیں اور رسول خدا ۖ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تو فاطمہ روتی ہوئی آئیں اپنے باپ ۖکو دشمن کی اس سازش سے آگاہ کیا ۔(٦)
ابن مسعود کہتا ہے: ایک دن رسول خدا ۖ مسجد الحرام کے کنارے نماز میں مشغول تھے کہ ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے آنحضرت ۖ کو دیکھا، تو ان میں سے ایک شخص اٹھا اور اونٹ کی اوجری کو آپ پر پھینک دیا ۔آپ ۖ نے سجدے سے سر اٹھایا تو دوسرے لوگ رسول خدا ۖ کا مذاق اڑا رہے تھے ۔ میں نے یہ سارا ماجرا دیکھا ،لیکن مجھے آگے جانے کی جرات نہ ہوئی۔ جب فاطمہ نے واقعہ سنا تو وہ بہت پریشان ہوئیں،مسجدالحرام میں آئیں اور غلاظت کو رسول خدا ۖ سے دور کیا اور مسخرہ کرنے والوں کی سر زنش کی۔(٧)
آپ کی شادی :
حضرت علی اور حضرت فاطمہ کی شادی کے سال کے بارے میں مورخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض نے ہجرت کے پہلے سال رجب میں لکھا۔(٨) اور بعض نے ہجرت کے دوسرے سال پہلی ذی الحجہ کو بیان کیا ۔(٩)
علامہ سید محسن امین لکھتے ہیں: بعض مورخین نے حضرت زہراء کی شادی کو حضرت ۖ کی ہجرت کے دوسرے سال اور بعض تیسرے سال میں بیان کیا ۔ اگر فاطمہ کی ولادت کو بعثت کے پانچویں سال فرض کریں ،تو انہوں نے مکہ میں اپنے باپ کے ساتھ آٹھ سال گزارے اور ہجرت کے بعد فاطمہ بھی مدینہ چلی گئیں اور ابھی ایک سال نہیں گزرا کہ آپ کی شادی مولا امیر المومنین سے ہوئی۔ (١٠)
فاطمہ میں بہت سے کمالات اور فضائل تھے ،جس کی وجہ سے بہت سے لوگ آپ کا رشتہ مانگنے آئے، لیکن رسول خدا ۖ نے سب کو رد کردیا ۔ایک دن عبدالرحمن بن عوف رسول خدا ۖ سے فاطمہ کا رشتہ مانگنے گیا اور کہا :اے رسول خدا ۖ! اگر مجھے فاطمہ کا رشتہ دیتے ہو تو میں اسے بہت سا مال اور حق مہر دوں گا ۔ رسول خدا ۖ یہ سن کر ناراض ہوئے اور فرمایا: تم پیسے دیکھا کر رشتہ لینا چاہتے ہو ۔(١١)
انس کہتا ہے: حضرت علی سے پہلے ابوبکر وعمر بھی رشتہ مانگنے گئے ،لیکن آنحضرت ۖ نے قبول نہ کیا بلکہ فرمایا: میں حکم خدا کا انتظار کررہا ہوں ۔(١٢)
ابوبکر عمر سعد بن معاذ حضرت علی کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم رسول خدا ۖ سے زہراء کا رشتہ مانگو ، مولاامیر نے فرمایا: میری بھی یہی آرزو ہے ۔ (١٣)
مولا امیر فرماتے ہیں :میں زہراء سے شادی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، لیکن رسول خدا ۖ سے اس موضوع پر بات کرنے سے شرما رہا ہوں ۔ بہت سوچنے کے بعد ایک روز میں رسول خدا ۖ کی خدمت میں پہنچا، آنحضرت نے مجھ سے پوچھا: اے علی! بتائو کیا شادی کرنے کا ارادہ ہے۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ میں قریش کی لڑکیوں میں سے کسی ایک کے ساتھ شادی کرنے کی فکر میں تھا۔ میں رسول خدا ۖ سے دور گیا تو اچانک فرشتہ آیا اور اس نے رسول خدا ۖ سے کہا اے رسول قبول کرو ۔ رسول خدا ۖ ام سلمیٰ کے کمرے میں تھے مجھے دیکھ کر خوش ہوئے اور فرمایا: اے علی خوشخبری سنائو ںابھی جبرائیل مجھ پر نازل ہوا اور اس نے کہا فاطمہ کی شادی علی سے کرو ۔(١٤)
حق مہر :
رسول خدا ۖ نے علی سے پوچھا کہ زہرا کے حق مہر کیلئے کوئی چیز رکھتے ہو۔ حضرت علی نے جواب دیا یا رسول اللہ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، ایک تلوار، ایک زرہ اور ایک اونٹ کے سوا کچھ نہیں۔ آنحضرت نے فرمایا :تلوار اور اونٹ جہاد اور کام کیلئے رکھو اور زرہ کو بیچ دو۔ اس زرہ کی قیمت پانچ سو درہم
تھی ۔(١٥)
جو زہراء کا حق مہر بنا اس حق مہر کو مہر سنت بھی کہتے ہیں اور یہی مقدار مسلمانوں کے درمیان رائج ہے رسول خدا ۖ کی بیویوں کا حق مہر اتنا ہی تھا ۔(١٦)
ابن ابی الحدید لکھتا ہے : عمر نے اپنی خلافت کے دوران حضرت زہراء کے حق مہر سے زیادہ دینا ممنوع قرار دیا تھا ۔ (١٧)
جہیز :
حضرت علی اور حضرت فاطمہ کی مشترک زندگی کا آغاز بہت ہی سادہ تھا۔ جناب زہرا کا جہیز مندرجہ ذیل اشیاء پر مشتمل تھا :
(١) ایک عدد قمیص (٢) ایک عدد مقنعہ (٣) ایک عدد کالا کپڑا (٤) خرمہ سے بنی ہوئی تختی (٥) دو عدد بستر (٥) چار عدد تکیے (٧) ایک عدد پردہ (٨) ایک اوڑھنی (٩) چکی (١٠) مشک (١١) دودھ کے لیے پیالہ (١٢) ڈش وٹپ (١٣) گھڑا (١٥) ایک عدد چٹائی (١٦) بھیڑ کے چمڑے سے بنا ہوا دسترخوان ۔
یہ جہیز رسول خدا ۖ کے حکم سے بعض اصحابہ نے خریدا کہ جن کی قیمت (٦٣) ترسیٹھ درہم تھی ۔رسول خدا ۖ نے کچھ رقم بلال کو دی تاکہ وہ فاطمہ کے لیے عطر خرید لائے اور کچھ مقدار ام ایمن کو دی تاکہ وہ ضروری وسائل خریدے اور باقی رقم ام سلمیٰ کے سپرد کی۔ (١٨)
جب رسول خدا ۖ نے جہیز کو دیکھا تو فرمایا:(( اللھم بودک للاھل بیت جل انیتھم من اخزف)) (١٩)
خدایا اس جہیز کو اہل خانہ کیلئے مبارک قرار دے کہ جس میں سے اکثر برتن مٹی کے ہیں ۔
شادی کے مراسم :
تقریباً ایک ماہ خریداری میں گزرا اور حضرت علی اس دوران شرم وحیاء کی وجہ سے رسول خدا سے باتیں نہیں کرتے تھے ۔ایک دن علی کے بھائی عقیل انہیں کہتے ہیں :اپنی بیوی کو گھر میں کیوں نہیں لا رہے ہو ،جب رسول خدا ۖ نے سنا تو علی کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ کیا تو حاضر ہے کہ شادی کی جائے، مولا نے مثبت جواب دیا۔(٢٠)
پہلی ذی الحجہ سے لے کر چھٹی ذی الحجہ تک رسول خدا ۖ کے حکم سے شادی کے مراسم انجام پائے۔ آنحضرت نے ولیمے کا حکم دیا ،انصار کے ایک بزرگ سعد نامی شخص نے ولیمہ کے لئے ایک دنبہ ہدیہ کیا۔ کچھ دوسرے افراد آٹا لائے ،اس کے علاوہ گھی اورکھجور بازار سے خریدا گیا، رسول خدا ۖ کی نظارت میں کھانا تیار ہوا ۔ رسول خدا ۖ کی برکت سے لوگوں نے بہت کھانا کھایا، لیکن پھر بھی بچ گیا اور فقیروں کو بھی غذا دی گئی۔(٢١)
رسول خدا ۖ نے اپنی بیویوں کو حکم دیا کہ عبدالمطلب کی لڑکیوں کو بھیجیں تاکہ وہ فاطمہ کو تیار کریں اور تکبیر پڑھیں خدا کی حمد وثناء کریں اور کوئی ایسا کلمہ نہ کہیں جو رضائے خدا کے منافی ہو۔(٢٢)
اس شادی میں جبرائیل ومیکائیل کے ساتھ ستر ہزار فرشتے شریک ہوئے ،پہلے جبرائیل نے تکبیر کہی، پھر میکائیل اور پھر باقی فرشتوں نے، رسول خدا ۖ نے بھی تکبیر کہی اس وقت سے لے کر آج تک شادی میں تکبیر کہنا رسم بن چکی ہے ۔(٢٣)
شادی کی رات ذکر خدا:
شادی در حقیقت ایک خاندان کی پہلی اینٹ ہوتی ہے، میاں بیوی دونوں کی مشترک زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ شادی کی رات حضرت علی نے فاطمہ کو پریشان دیکھا اور پوچھا ناراض کیوں ہو؟بی بی نے جواب دیا ،مجھے آخرت اور قبر یاد آئی۔ آج میں اپنے باپ کے گھر سے تمہارے گھر آئی ہوں اور اس کے بعد قبر اور قیامت کی منزل طے کروں گی ،خدا کی قسم اے علی !آئو، دونوں اللہ کی عبادت کریں۔اگر سیرت اہل بیت پر چلنا ہے، تو آئیں ان دو شخصیات کی عملی سیرت کو اپنائیں ۔
گھر کی حالت :
مولا علی اور بی بی فاطمہ کی زندگی بہت ہی سادہ تھی حضرت، علی ہجرت کے بعد ایک انصاری کے گھر میں رہتے تھے اور شادی کے بعد اسی گھر میں رہے۔
ایک دن رسول خدا ۖ مولا علی کے گھر تشریف لائے اور فرمایا: تمہارا گھر بہت دور ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ کا گھر کہیں قریب ہو ،فاطمہ نے عرض کیا :بابا جان آپ کے ہمسائے میں حارثہ بن نعمان کا گھر بہت ہی مناسب ہوگا ۔ آنحضرت نے فرمایا :میں حارثہ بن نعمان سے پہلے ہی مہاجرین کے لیے چند گھر مانگ چکا ہوں، اب ان سے شرم آتی ہے ۔جب حارثہ نے یہ سنا ،تو فوراً رسول خدا ۖ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا۔ یا رسول اللہ! یہ گھر آپ کا گھر ہے ،رسول خدا ۖنے یہ گھر مولا علی اور بی بی فاطمہ کے اختیار میںدے دیا ۔(٢٤)
١۔تفکر فی حالی وامری عند ذھاب عمری ونزولی فی قبری فشبھت دخولی فی فراشی بمنزلی کد خولی الی لحدی وقبری فأنشدک اللہ ان قمت الی الصلاة فنعبداللہ تعالیٰ ھذہ اللیلة ۔
جیسا کہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ ان کے گھر دنبے کی کھال کے علاوہ کچھ نہ تھا، رات کو اس پر سوتے تھے اور دن کو اس پر اونٹ کو چارا ڈالتے تھے ۔(٢٥)
تقسیم وظائف :
گھر کا سارا کام عورت پر واجب نہیں،بلکہ گھر کو مرد اور عورت دونوںنے مل کر چلانا ہوتا ہے ۔حضرت علی اور بی بی فاطمہ کی شادی کے بعد رسول خدا ۖ ان کے گھر تشریف لے گئے اور انہیں فرمایا :اے علی! اے فاطمہ! میں تمہارے درمیان گھریلوکام کو تقسیم کرنا چاہتا ہوں،گھر کے اندرونی کام فاطمہ کے ذمے اور گھر کے باہر کے کام علی کے سپرد کرتا ہوں۔ فاطمہ نے عرض: کیا خدا جانتا ہے کہ میں اپنے باپ کی تقسیم پر کس قدر خوشحال ہوں ۔(٢٦)
حضرت فاطمہ کی خانہ داری :
ایک دن رسول خدا ۖ جناب فاطمہ کے گھر آئے تو دیکھا دونوں میاں بیوی آٹا پیسنے کے لئے چکی چلا رہے ہیں۔ پیغمبر ۖ نے فرمایا :میں تم میں سے کس کی مدد کروں۔حضرت علی نے فرمایا: یا رسول اللہ ۖ فاطمہ تھک گئی ہیںان کی مدد آپ کریں۔ رسول خدا ۖ نے فرمایا: فاطمہ بیٹی تم اٹھو میں چکی چلاتا ہوں ۔(٢٧)
امام جعفر صادق ـفرماتے ہیں لکڑیاں لانا تندور گرم کرنا، پانی لانا اور گھر میں جھاڑو دینا علی کی ذمہ داری تھی اور آٹا پیسنا آٹا گوندھنا اور روٹی پکانا فاطمہ زہرا کی ذمہ داری تھی ۔ (٢٨)
زہری لکھتا ہے: فاطمہ بنت رسول خدا ۖ نے اتنی چکی چلائی کہ آپ کے ہاتھوں میں چھالے پڑگئے۔(٢٩)
امام صادق ـنے فرمایا: ایک دفعہ رسول خدا ۖ فاطمہ کے گھر میں داخل ہوئے اور دیکھا فاطمہ چکی چلا رہی ہیں اور بچے کو دودھ بھی پلا رہی ہیں، یہ دیکھ کر رسول خدا ۖکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور فرمایا: اے بیٹی آج دنیا میں اس مشقت کا اجر آخرت میں ضرور ملے گا، بی بی فاطمہ نے عرض کیا :میں خدا کا حمد کرتی ہوں اور اس کی نعمتوں کا شکر بجالاتی ہوں ۔(٣٠)
سلمان فارسی فرماتے ہیں: ایک دن میں فاطمہ کے گھر میں داخل ہوا اور دیکھا کہ فاطمہ چکی چلا رہی تھی، آپ کے ہاتھ خون سے آلودہ تھے ۔حسین کمرے کے اندر بے قراری سے رو رہے تھے، میں نے فاطمہ سے عرض کیا: اے رسول ۖ کی بیٹی! تیرے ہاتھ زخمی ہوچکے ہیں، حالانکہ تمہاری خادمہ فضہ گھر میں موجود ہے۔ حضرت فاطمہ نے فرمایا:میرے باپ نے ہمارے درمیان گھر کا کام تقسیم کیا ۔ایک دن میں اور ایک دن فضہ کام کرتی ہے، کل فضہ کی باری تھی اور آج میری باری ہے ۔ سلمان نے کہا میں تمہارا آزاد شدہ غلام ہوں پس میں چکی چلاتا ہوں اور تم حسین کو لے لو سلمان فارسی کہتا ہے:
جب میں کچھ پیس چکا تو نماز کے لیے اذان واقامت ہوئی لہذا میں مسجد میں چلا گیا۔ نماز کے بعد میں نے مولا امیر کو یہ ماجرا سنایا، مولا پریشانی کی حالت میں مسجد سے نکلے، گھر گئے اور پھر مسکراتے ہوئے واپس آئے۔ رسول خدا ۖ نے مولا سے مسکرانے کی علت پوچھی۔ تو مولا نے کہا: فاطمہ کے پاس گیا ہوں،دیکھا تو فاطمہ سو رہی تھیں اور حسین ان کے سینے پر ہیں اور چکی خود بخود چل رہی ہے۔ آنحضرت ۖ نے فرمایا :اے علی !کیا تمہیں معلوم نہیں کہ خدا وند عالم نے بہت سے فرشتے آل محمد کی خدمت کے لیے پیدا کیے ہیں ۔(٣١)
جب مولا امیر جہاد پر جاتے تو گھر کا سارا کام بی بی خود انجام دیتی تھیں ۔
شوہر کے لیے ایثار :
مولا کے زمانے میں لوگ غربت کا شکار تھے ،حتیٰ بعض اوقات آپ کے گھر میں کھانے کی کوئی چیز نہ ہوتی، اس کے باوجود حضرت فاطمہ نے تمام مشکلات کو برداشت کیا اور کبھی بھی شوہر سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا ۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مولا امیر فاطمہ سے فرماتے ہیں: اے فاطمہ !گھر میں کچھ کھانا ہے، تو انہوں نے جواب دیا نہیں۔ خدا کی قسم دو دن سے گھر میں پوری غذا نہیں ہے ،جو کچھ تھا حسن اور حسین کو دیا اور تھوڑی سی مقدار میں نے خود کھائی۔ مولا بڑے افسوس سے فرماتے ہیں: اے فاطمہ توں نے مجھے کیوں نہیں بتایا ۔
فاطمہ نے جوا ب دیا:(( یا ابالحسن الی لا ستح من الٰھی أن اکلف نفسک ما لا تقدر علیہ))(٣٢)
اے ابوالحسن! مجھے خدا سے شرم آتی ہے کہ تمہیں ایسی چیز کے بارے میں کہو جس کی تم طاقت نہیں رکھتے ہو ۔
شوہر کا احترام :
ثقیفہ جیسے تلخ واقعات کے بعد بی بی فاطمہ پر بہت سخت گزری ،دشمن اہل بیت نے اہل بیت کو وہ مقام نہ دیا جو رسول خدا ۖ اپنی زبانی فرما گئے تھے ۔ ابوبکر اور عمر دونوں نے مولا امیر سے فاطمہ کی ملاقات کے لیے کہا، مولا نے بھی قبول کیا اور فرمایا :اے فاطمہ !میں ان دونوں کو آپ کی ملاقات کا وعدہ دے چکا ہوں ۔
جناب زہرا نے قبول نہ کیا اور جب حضرت علی ـنے فرمایا : اے فاطمہ میں ان سے وعدہ کر چکا ہوں تو فاطمہ فرماتی ہیں :((البیت بیتک والحرة زوجتک ففعل ما تشائ))(٣٣)
گھر تیرا گھر ہے اور میں تیری بیوی ہوں تم جو چاہو انجام دو۔ بی بی فدک کے غاصب افراد کو نہیں دیکھنا چاہتی تھیں لیکن چونکہ شوہر وعدہ کرچکے تھے جب ابوبکر اورعمر گھر میں داخل ہوئے تو ابن عباس کہتے ہیں فاطمہ نے پردہ کیا اور ان دونوں افراد نے جناب فاطمہ سے معذرت چاہی، بی بی نے فرمایا: اب عذر خواہی کے لیے تمہارا آنا کس نیت سے ہے۔ انہوں نے کہا:آپ پوچھنے کا حق رکھتی ہیں تو جناب فاطمہ زہراء نے فرمایا: خدا کی قسم! کیا تم نے رسول خدا ۖ سے یہ نہیں سنا:(( فاطمة بعضعة منی یوذینی ماآذاھا ویغضبی ما اغضبھا))
فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس نے اسے تکلیف پہنچائی، اس نے مجھے تکلیف پہنچائی، جس نے اسے ناراض کیا، اس نے مجھے ناراض کیا۔
انہوں نے کہا جی ہاں یہ حدیث ہم نے سنی تھی فاطمہ نے دونوں ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کیا اور فرمایا: اے خدا !ان دو لوگوں نے مجھے تکلیف دی ،پھر ان دونوں سے فرمایا :خدا کی قسم میں تم سے کبھی راضی نہیں ہوں گی ابوبکر رونے لگا اور کہنے لگا :کاش میں پیدا نہ ہوتا، عمر طعنے سے کہتا ہے، میں ان لوگوں پر تعجب کررہا ہوں کہ انہوں نے تمہیں کیسے خلیفہ انتخاف کیا ،حالانکہ تو ایک عورت کے ناراض ہونے پر رو رہا ہے۔(٣٤)
بچوں کو اسلامی تعلیم :
حضرت علی ـ فرماتے ہیں:(( کانت فاطمة لاتدع احداً من اھلھا ینام تلک اللیلة وتداویھم بقلة الطعام وتتاھب لھا من النھار وتقول محروم من حرم خیرھا))(٣٥)
حضرت علی ـنے فرمایا: جناب فاطمہ گھر میں کسی کو شب قدر میں سونے کی اجازت نہیں دیتی، بلکہ بچوں کو کم کھانا دیتی اور شب قدر میں جاگنے کی فضیلت کے بارے میں فرمایا :محروم ہیں وہ شخص جو اس رات کی برکات سے محروم ہے ۔بچوں کی تربیت والدین کی ذمہ داری ہے اور یہ تربیت ماں کے پیٹ ہی سے شروع ہوتی ہے اور بالغ ہونے تک جاری رہتی ہے ۔
امام حسن ـسے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا: ایک رات ہماری ماں شب جمعہ عبادت میں مشغول تھیں اور ساری رات مومنین کیلئے دعا کرتی رہیں، لیکن اپنے کے لیے کوئی دعا نہ کی، میں نے ماں سے پوچھا امی جان تم دوسروں کے لئے دعا کررہی ہو اور اپنے لیئے نہیں؟ تو میری ماں نے فرمایا :پہلے دوسروں کے لیے دعا کرنی چاہیے۔(٣٦)
امام موسیٰ کاظم نے فرمایا :فاطمہ جب بھی دعا کرتی تھیں، تو پہلے دوسروں کے لیے دعا کرتیں تھیں اور یہ فرمایا: کرتی تھیں کہ پہلے ہمسائیوں کے لیے دعا کرنی چاہیے۔(٣٧)
پردہ داری :
اسلامی معاشرے کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ اسلامی اصولوں کے مطابق ہوتا ہے۔ اسلام نے عورت پر پردہ واجب کیا تاکہ وہ پاکدامن رہے۔
خداوند عالم قرآن کریم میں فرماتا ہے :وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِہِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَہُنَّ وَ لااَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوْبِہِنَّ وَ لااَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ ٰابَآئِہِنَّ اَوْ ٰابَآئِ بُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اَبْنَآئِہِنَّ اَوْ اَبْنَآئِ بُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اِخْوَانِہِنَّ اَوْ بَنِیْ اِخْواٰانِہِنَّ اَوْ بَنِیْ اَخَوَاتِہِنَّ اَوْ نِسَآئِہِنَّ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْہَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآئِ وَ لااَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِہِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِہِنَّ وَ تُو ْبُو اِلَی اﷲِ جَمِیْعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْن(٣٨)
اور با ایمان عورتوں سے کہہ دو کہ وہ بھی اپنی آنکھوں کو (نگاہِ ہوس آلود سے) بند رکھیں اپنا دامن محفوظ رکھیں۔ اور سوائے اس حصے کے کہ جو ظاہر ہے اپنے بنائو سنگھار کو ظاہر نہ کریں اور اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے سینے پر ڈالیں(تاکہ اس سے گردن اور سینہ چھپ جائے)نیز کسی کے سامنے اپنا بنائوسنگھار ظاہر نہ کریں۔ سوائے اپنے شوہر اپنے آبائو اجداد اپنے شوہروں کے آبائو اجداد' اپنے بیٹوں' اپنے شوہروں کے بیٹوں' اپنے بھائیوں' اپنے بھائیوں کے بیٹوں' اپنی بہنوں کے بیٹوں'اپنی ہم مذہب عورتوں اپنی عورتوں اور کنیزوں یا کسی عورت کی طرف میلان نہ رکھنے والے زیرِ دست مردوںیاان بچوں کے جو ابھی عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے آگاہ نہ ہوں۔ اور اس طرح زمین پر پائوںمار کر (بھی) نہ چلیں کہ ان کی چھپی ہوئی زینت ظاہر ہو جائے (اور پازیبوں کی جھنکار لوگوں کو سنائی دے) اور سب اللہ کی طرف لوٹ آئو،اے ایمان والو! تاکہ فلاح پا جائو۔
حضرت علی فرماتے ہیں: کہ فاطمہ اپنے باپ کے گھر میں تشریف فرما تھیں کہ ایک نابینا آدمی کے آنے پر آپ نے پردہ کیا تو رسول خدا ۖ نے جناب زہراء سے پوچھا ؟آپ نے نابینا سے پردہ کیا وہ تو آپ کو نہیں دیکھ سکتا ! جناب زہراء نے فرمایا: وہ نہیں دیکھ سکتا مگر میں تو دیکھ سکتی ہوں ۔ رسول خدا ۖ نے فرمایا: اے فاطمہ تو میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔
عاصمہ بنت عمیص کہتی ہیں :جناب زہراء اپنی آخری زندگی میں مجھ سے فرمایا: کہ مجھے عورتوں کا جنازہ پسند نہیں کیونکہ عورتوں کے جنازے میں ان کے جسم کا حجم مرد کو نظر آتا ہے۔ عاصمہ کہتی ہیں :میں نے رسول خدا ۖ سے عرض کیا کہ میں نے حبشہ کی سر زمین میں ایک تابوت دیکھا جس میں مردے کا جسم نظر نہیں آرہا تھا ،اگر آپ اجازت دیں تو میں ایک تابوت تیار کروں ۔عاصمہ نے ایک تابوت بنایا فاطمہ یہ تابوت دیکھ کر بہت خوشحال ہوئیں۔ عاصمہ نے کہا : کہ رسول کی رحلت کے بعد سب سے پہلی مسکراہٹ تھی ۔جناب زہراء نے عاصمہ سے کہا :میرے لیئے ایسا تابوت تیار کرو تاکہ جنازے میں میرے جسم کا حجم لوگ نہ دیکھ سکیں ۔
عورت کی سب سے اچھی صفت :
حضرت علی نے فرمایا: ہم رسول خدا ۖ کی خدمت میں تھے اور انہوں نے فرمایا :عورتوں کے لیے بہترین چیز کیا ہے؟ کسی نے جواب نہ دیا ،میں فاطمہ کے پاس آیا اور رسول خدا ۖ کا سوال انہیں دہرایا فاطمہ نے فرمایا :میں جانتی ہوں ۔ بہترین چیز عورتوں کے لیے یہ ہے کہ مرد انہیں نہ دیکھیں اور وہ مردوں کو نہ دیکھیں۔ میں دوبارہ رسول خدا ۖ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی جواب دیا انہوں نے فرمایا: آپ کو کس نے بتایا!میں نے عرض کیا: جناب فاطمہ نے آنحضرت ۖنے فرمایا: فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔(٣٩)
یاد رہے جناب زہراء کا یہ مقصد نہیں کہ عورت گھر میں دن رات بند رہے، بلکہ عورت معاشرے میں اسلامی اصولوں کی رعایت کرتے ہوئے اور اپنی کرامت وشخصیت کو محفوظ کرتے ہوئے عام روز مرہ زندگی کے کام کرسکتی ہے ۔
تعلیم احکام :
جناب فاطمہ مدینہ میں مسلمان عورتوں کی سب سے پہلی معلمہ تھیں۔ مدینہ کی عورتوں نے احکام ،اخلاق اور عقائد اسلامی آپ ہی سے سیکھے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مدینہ کی ایک عورت جناب فاطمہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا میری ضعیفہ ماں نے مجھے نماز کے بارے میں چند سولات کی خاطر بھیجا ہے۔
حضرت فاطمہ نے ان تمام سوالوں کے جواب دیئے وہ عورت کہنے لگی :اے بی بی! میں آپ کو زیادہ زحمت نہیں دینا چاہتی تو جناب زہراء نے فرمایا: جب بھی تمہیں کوئی سوال درپیش ہو تو پوچھ سکتی ہو میں ناراض نہیں ہوتی ۔اگر ایک شخص کو مزدور بنائیں اور اسے سنگین بوجھ اٹھانا پڑے اور اسے کہا جائے کہ ایک لاکھ دینار مزدوری ہے تووہ نہیں تھکے گا ۔ جناب زہراء نے فرمایا :مسائل کا جواب دینا بہت بڑا اجر عظیم ہے ۔ (٤١)
فاطمہ زہراء کی عبادت :
فاطمہ رسول کی اکلوتی بیٹی تھیں۔ فاطمہ نے آنحضرت ۖ سے دین اسلام سیکھا اور وحی کے سائے میں ان کی تربیت ہوئی ،وہ تہجد گزار تھیں۔ حسن بصری کہتاہے: عبادت کے لحاظ سے امت اسلامی میں فاطمہ سے بڑھ کر کوئی نہیں تھا ۔ آپ اللہ کی اتنی عبادت کرتی تھیں کہ آپ کے قدم مبارک زخمی ہوجاتے۔ (٤٢)
ابن عباس کہتا ہے کہ رسول خدا ۖ نے فرمایا: میری بیٹی زہراء حورہ انسیہ ہے ہر وقت عبادت میں مشغول رہتی ہے ۔خدا فرشتوں سے فرماتا ہے: اے میرے فرشتوں!دیکھو میری کنیز فاطمہ کتنی عبادت میں مشغول ہے پس گواہ رہوں میں اس کے ماننے والے شیعوں کو دوزخ کی آگ سے نجات دوں گا۔(٤٣)
انفاق میں خلوص :
ایک دفعہ امام حسن وامام حسین مریض ہوگئے، رسول خدا ۖ ان کی عیادت کے لیے زہراء کے گھر تشریف لائے اور فرمایا:اگر تم ان کی شفاء کے لیے نذر مانو ۔ علی وفاطمہ دونوں نے نذر مانی جب دونوں بھائی صحت یاب ہوگئے، تو سب نے تین روزے رکھے، امام حسن امام حسین ،فضہ ، بی بی فاطمہ اور حضرت علی سب روزے میں تھے۔
پہلے دن افطار کے وقت ایک مسکین نے دستک دی۔ حضرت علی نے اپنی روٹی اسے دے دی، پھر فاطمہ ، حسن ،حسین اور فضہ نے بھی اپنی اپنی روٹیاں مسکین کو دے دی، سب نے پانی سے افطار کیا ۔دوسرے روز اذان مغرب کے وقت یتیم نے دستک دی تو حسب معمول سب نے اپنی اپنی روٹیاں یتیم کو دے دی اور پانی سے افطار کرلیا ۔ تیسرے دن افطار کے وقت ایک اسیر نے آواز دی تو سب نے اپنی روٹیاں اسے دے دیں اور پانی سے افطار کیا۔(٤٤)
یُوفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا کَانَ شَرُّہ مُسْتَطِیْرًا٭وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہ مِسْکِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا٭اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اﷲِ لااَانُرِیْدُ مِنْکُمْ جَزَآئً وَّ لااَا شُکُوْرًا۔
وہ اپنی نذر کو پورا کرتے ہیں اور اس دن سے کہ جس کا عذاب وسیع ہوگا، ڈرتے رہتے ہیں۔٭اور '' اپنا '' کھانا، اس کی خواہش اور احتیاج رکھنے کے باوجود ، مسکین و یتیم و اسیر کو دے دیتے ہیں۔٭( اور وہ یہ کہتے ہیں: ) ہم تو تمہیں اللہ کے لئے کھانا کھلاتے ہیں، اور ہم تم سے نہ تو کسی قسم کا کوئی اجر مانگتے ہیں اور نہ ہی ہم تم سے کسی شکریہ کے طلبگار ہیں۔(٤٥)
حضرت فاطمہ اور جہاد :
شیخ مفید لکھتے ہیں:جنگ احد میںواپسی کے بعد حضرت زہراء اپنے باپ کے استقبال کے لیے گئیں۔ حضرت علی کے ہاتھ خون آلودہ تھے، ذوالفقار بی بی کو دی اور فرمایا: اس تلوار کو لو ،اس تلوار نے دشمن کی کمر توڑی یہ تلوار بھی ان کے خون سے آلودہ ہے، لہذا اسے پاک کرو ۔رسول خدا ۖ نے فرمایا: ہاں فاطمہ اسی طرح ہے تیرے شوہر نے اپنا وظیفہ انجام دیا ہے۔(٤٦)
جنگ خندق کے موقع پر مدینہ دشمنوں کے معاصرے میں تھا۔ حضرت سلمان فارسی کے مشورے سے خندق کھودی گئی، عورتیں پانی اور غذا آمادہ کررہی تھیں۔جناب فاطمہ نے روٹیاں پکائیں۔انس کہتا ہے :ایک دن فاطمہ نے چند روٹیاں پکائیں اور جاکر لشکر میں تقسیم کیں اور رسول خدا ۖ سے فرمایا:((قرصاً خبزتُہُ ولم تطب نفسی،حتیٰ اتیتک بھذہ الکسرة؛
یہ میں نے خود روٹی پکائی اور تمہارے لیئے لے آئی ہوں آنحضرت ۖنے فرمایا: تیرے باپ نے تین دن کے بعد پہلی دفعہ یہ غذا کھائی ہے ،دنیا کے بھوکے قیامت میں سیر ہوں گے ۔ مبغوض ترین لوگ وہ ہیں جو خود پیٹ بھر کر کھاتے ہیں اور فقیروں کا خیال نہیں کرتے۔(٤٧)
نقل حدیث :
شیخ طوسی نقل کرتے ہیں: جناب فاطمہ زہراء بیمار تھیں اور مہاجر وانصار کی چند عورتیں عیادت کے لیے آئیں تو جناب بی بی سے کہا :اے فاطمہ آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ فاطمہ نے شکر خدا کیا اور پھر ان کے مردوں کی بے وفائی کے بارے میں یوں فرمایا :خدا کی قسم انہوں نے فتنے کا بیج بویا ،اس کا پھل وہ خود حاصل کریں گے۔
مقام امام ـ:
محمود بن لبید کہتا ہے :میں نے رسول خدا ۖ کی رحلت کے بعد فاطمہ کو حضرت حمزہ کی قبر کے کنارے روتے ہوئے دیکھا ،میں نے سوال کیا تمہارے پاس علی کی امامت کے بارے میں رسول خدا ۖ کی کوئی حدیث ہے۔
حضرت زہراء نے فرمایا :تعجب! کیا تم روز غدیر کو بھول گئے ہو کہ جس دن رسول خدا ۖ نے فرمایا: علی میرا جانشین ہے اور اس کے بعد اس کے دوبیٹے اور پھر امام حسین کی اولاد سے دوسرے نو (٩) آئمہ ہوں گے ۔ اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پائو گے ۔میں نے عرض کیا تو پھر علی کیوں خاموش ہیں حضرت فاطمہ نے جواب دیا رسول خدا ۖ نے فرمایا: امام کعبہ کی مانند ہے لوگوں کو کعبہ کے طواف کے لیے آنا چاہیے نہ یہ کہ کعبہ لوگوں کے پاس جائے۔(٤٨)
حضرت فاطمہ الزہراء اور اہمیت نماز :
حضرت فاطمہ باعظمت خاتون ہیں ان کا قول حجت ہے یعنی اگر کوئی ان سے حدیث نقل ہوئی ہے تو وہ ہمارے لیئے حجت ہے۔ حضرت فاطمہ نے اپنے باپ ۖ سے پوچھا اس مرد اور عورت کی کیا سزا ہے جو نماز کو اہمیت نہیں دیتے ۔رسول خدا ۖ نے فرمایا: اے فاطمہ جو شخص نماز کو اہمیت نہیں دیتا ۔خداوند عالم اسے پندرہ قسم کے عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ جن میں سے چھ دنیا میں، تین موت کے وقت،تین قبر میں اور تین روز قیامت۔
وہ چھ عذاب جو دنیا میں ہوں گے: (١) خداوند عالم ایسے شخص کی عمر سے برکت اٹھا لیتا ہے۔ (٢) روزی میں برکت نہیں ہوتی ۔(٣) چہرے پر نور نہیں ہوتا ۔(٤) نیک کام کا اجر نہیں ملتا۔ (٥) دعا قبول نہیں ہوتی ۔(٦) نیک افراد کی دعا میں کوئی حصہ نہیں ہوتا ۔
موت کے وقت آنے والے تین عذاب یہ ہیں :(١) ذلیل مرے گا ۔(٢) بھوکا مرے گا۔ (٣) پیاسا مرے گا۔
قبر میں ہونے والے تین عذاب یہ ہیں :(١) قبر میں ایک فرشتہ عذاب کے لیے معمور ہوتا ہے ۔(٢) فشار قبر زیادہ ہوتا ہے۔ (٣) قبر اندھیری ہوتی ہے ۔
قیامت کے دن قبر سے نکلتے وقت یہ عذاب ہوں گے: (١) ایک فرشتہ اس کے چہرے کو زمین پر مارتا ہے۔ (٢) حساب سخت ہوگا۔(٣) خداوند عالم کی نظر و کرم سے محروم ہوگا ۔ (٤٩)
جناب فاطمہ کی حالت نماز کے وقت کچھ یوں ہوتی تھی:(( کانت فاطمہ تنصج فی الصلاتھا من خوف اللہ تعالیٰ))(٥٠)
حضرت فاطمہ نماز کے وقت خوف خدا میں ہوتی تھیں
فضائل فاطمہ :
حضرت فاطمہ کے بے شمار فضائل ہیں جن میں سے بعض قرآن مجید میں اور بعض رسول خدا ۖ کی زبانی ذکر ہوئے ہیں۔(٥١)
رسول خدا ۖنے سلمان سے فرمایا: اے سلمان !جس شخص کے دل میں فاطمہ کی محبت ہوگی ، جنت میںوہ میرا ہمسایہ ہوگا اور جس نے فاطمہ کو ناراض کیا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اے سلمان! فاطمہ کی محبت سو (١٠٠) مقامات پر کام آئے گی ۔ جن میں سے آسان ترین مقام موت ،قبر ،روز محشر ، پل صراط اور حساب ہیں۔ جس سے فاطمہ راضی اس سے میں راضی اور جس سے میں راضی اس سے اللہ راضی۔ جس نے فاطمہ کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا، جس نے مجھے ناراض کیا ،اس نے خدا کو ناراض کیا۔ اے سلمان! وائے ہو، اس پر جو فاطمہ اور علی کو تکلیف پہنچائے، وائے ہو اس پر جو ان کی اولاد کو ستائے گا۔(٥٢)
ایک دن رسول خدا ۖ علی ،فاطمہ ،حسن ،حسین کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ رسول خدا ۖ نے فرمایا: اے خدا تو جانتا ہے یہ میرے اہل بیت ہیں میرے نزدیک سب سے عزیز ہیں، ان کے ماننے والوں پر کرم فرما اور ان کے دشمنوں سے نفرت فرما ۔میں دیکھ رہا ہوں قیامت کے دن میری بیٹی فاطمہ نور کی سواری پر سوار ہوں گی، دائیں طرف ستر ہزار فرشتے، بائیں طرف ستر ہزار فرشتے ہونگے اور اسی طرح آگے پیچھے ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔
جو عورت روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھتی ہے، ماہ رمضان میں روزے رکھتی ہے، حج کرتی ہے، زکواة دیتی ہے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرتی ہے۔ ولایت علی رکھنے والی ہو تو ایسی عورت کو شفاعت فاطمہ ضرور ملے گی ۔
رسول خدا ۖ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ ۖ !کیا فاطمہ اپنے زمانے کی عورتوں کی سردار ہیں؟ تو آپ ۖ نے فرمایا : مریم بنت عمران اپنے زمانے کی عورتوں کی سردار تھیں، لیکن میری بیٹی فاطمہ قیامت تک کی عورتوں کی سردار ہیں۔ جب وہ عبادت کے لیے کھڑی ہوتی تھیں تو ستر ہزار فرشتے اسے سلام کرتے اور کہتے ہیں اے فاطمہ! بے شک خداوند عالم نے تمہیں تمام عورتوں پر فضیلت دی ۔
پھر رسول خدا ۖنے حضرت علی سے فرمایا اے علی فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا میری آنکھ کا نور ہے۔(٥٣)
اِنَّ اﷲَ اصْطَفٰکِ وَطَہَّرَکِ وَاصْطَفٰکِ عَلٰی نِسَآئِ الْعٰلَمِیْنَ(٥٤)
حضرت شہر بانو حضرت امام سجاد ـکی ماں
نام ولقب : مورخین نے امام سجاد کی ماں کے کئی نام ذکر کیے ہیں جن میں سے مشہور یہ ہیں: شہر بانو ،شاہ زنان ،جہان بانو ،شہربانو یہ ، جہاں شاہ ،حرار، سندیہ ، سلامہ ، سلافہ ،خولہ وغزالہ۔(٥٥) علامہ مجلسی لکھتے ہیں: مشہور کے نزدیک امام سجاد کی ماں شہر بانو یزد جرد بن شہر یار کی بیٹی تھی۔(٥٦)صحیفہ زہرا میں بھی امام سجاد کی ماں کا نام شہر بانو ذکر ہوا ہے۔(٥٧) یوسف بن حاتم شامی کہتا ہے:امام سجاد کی ماں یزد جرد کی بیٹی تھیں ۔ جو اپنے زمانے کی مشہور ونسب تھیں۔(٥٨)حضرت امیر انہیں افتخار سے مریم یا فاطمہ کے لقب سے پکارتے تھے کیونکہ وہ مریم کی طرح باعفت خاتون تھیں ۔(٥٩)
شہربانو کون تھیں :
بعض مورخین نے یزد جرد کی بیٹی ،بعض نے کسریٰ کی بیٹی ،بعض نے سبحان ملک اور بعض نے ملک حرب کی بیٹی لکھا ہے ۔(٦٠)
ان کے مقام ولادت کے بارے میں بھی مورخین کے درمیان اختلاف ہے۔ مشہور نظریہ کی بنا پر وہ ایرانی تھیں، بعض نے کابل اور بعض نے سندھ لکھا ہے۔ یعقوبی لکھتا ہے: امام سجاد کی ماں کا نام حرارتھا ،امام حسین نے اس کا نام غزالہ رکھا کہا گیا ہے کہ اس کی ماں کابل کے اسیروں میں سے تھی۔(٦١) ایک لبنانی مورخ لکھتا ہے: یزد گرد جب مدائن سے کابل کی طرف گیا تو اس سفر میں اس کی بیٹیاں بھی اس کے ہمراہ تھیں ۔کچھ مدت کے بعد عرب سپاہیوں نے کابل پر حملہ کردیا اور قلعوں کو فتح کردیا ،یزد گرد وفات پاگیا اور اس کی بیٹیاں اسیر ہوگئیں ۔(٦٢) یہ بھی لکھتے ہیں کہ امام سجاد کی والدہ کا نام غزالہ تھا۔لیکن صحیح قول یہ ہے کہ وہ شہربانو تھیں، جس کے باپ نے ہرات میں لشکر اسلام میں شکست کھائی اور اس کی بیٹی اسیر ہوگئی ۔(٦٣)ایک قول کی بناء پر امام سجاد کی ماں سندھی تھی ۔(٦٤)
مدینہ کی طرف :
اب سوال یہ ہے کہ شہربانو کس بادشاہ کے زمانے میں اسیر ہوئی اور کیسے مدینہ پہنچی؟ مورخین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ وہ عمر کی خلافت میں اسیر ہوئیں، بعض نے عثمان کے زمانے میں، بعض نے مولا امیر کے زمانے میں لکھا ہے۔ اب ہم ان تین اقوال کو بیان کرتے ہیں ۔
عمر کے زمانے میں :
ابن جریر طبری اور قطب رواندی نقل کرتے ہیں: کہ امام محمد باقر نے فرمایا:جب یزد وجرد بن شہریار کی بیٹی کو مدینے لایا گیا، تو مدینہ کی تمام عورتیں اس کے حسن وجمال کو دیکھنے اکٹھی ہوئیں۔ عمر نے بھی اسے دیکھنے کا ارادہ کیا ، لیکن جب اس نے عمر کو دیکھا تو کہا ہرمز کا چہرہ سیاہ ہو ۔اس کی مرادیہ ہے تھی اگرخسروپرویز کا دادارسول خداۖ کی دعوت اسلام کو قبول کرتا تو آج ان کے نواسے قیدی نہ ہوتے۔
کہ تم اس کی اولاد پر دست درازی کرنا چاہتے ہو ۔عمر نے کہا یہ مجھے گالیاں دے رہی ہے ،عمر اسے اذیت دینا چاہتا تھا، لیکن حضرت علی نے روک لیا اور فرمایا :تو فارسی نہیں جانتا۔ پس تمہیں کیسے معلوم کہ وہ گالیاں دے رہی ہے۔ عمر اسے بیچنا چاہتا تھا ،لیکن مولا امیر نے فرمایا :رسول خدا ۖ کی حدیث ہے کہ ہر قوم کے بزرگ افراد کا احترام کیا جائے۔ عمر نے کہا میں نے بھی رسول خدا ۖ سے یہی سنا ہے۔ عمر کہنے لگا پس کیا کیا جائے ؟حضرت علی نے فرمایا :اس کی کسی مسلمان سے شادی کرو اور بیت المال سے حق مہر ادا کرو۔ مولانے فرمایا: میں ان اسیروں میں سے اپنا حق آزاد کرتا ہوں۔ اس کے بعد سب نے اپنا اپنا حق مولا کو بخش دیا ،عمر نے کہا میں بھی اپنا حق بخشتا ہوں۔ لہذا حضرت علی نے تمام قیدیوں کو راہ خدا میں آزاد کردیا۔(٦٥)
عثمان کے زمانے :
سھل بن قاسم نو شجائی لکھتا ہے: امام رضا نے فرمایا :کیا تمہیں معلوم ہے کہ میرے اور تیرے درمیان ایک برتری کی نسبت ہے۔ میں نے عرض کیا اے امیروہ کون سی نسبت ہے؟
امام نے فرمایا: عبداللہ بن عامر بن قریض نے خراسان کو فتح کیا ،یزد جرد بن شہریار کی بیٹی کو قیدی بنا کر عثمان بن عفان کے پاس بھیجا۔ عثمان نے ایک امام حسن ـاور دوسری امام حسین کو بخش دی ،یہ دونوں ان بزرگوار کی بیویاں تھیں، جو امام حسین کو ملی تھیں۔ وہ زین العابدین کی ولادت کے دوران ہی فوت ہوگئیں ۔(٦٦)
حضرت علی کے زمانے میں :
حریث بن جابر حنفی نے یزد جرد کی دو بیٹیاں حضرت علی کی خدمت میں بھیجیں اور آپ نے ایک کو امام حسین کہ جس سے امام سجاد پیدا ہوئے اور دوسری محمد بن ابی بکر کو دی جس سے قاسم بن محمد پیدا ہوئے ۔لہذا امام سجاد اور قاسم آپس میں خالہ زاد ہیں۔(٦٧)