X
تبلیغات
السلام علیک یا قائم آل محمد

السلام علیک یا قائم آل محمد

تبلیغی، تربیتی و اخلاقی

دوست اور دوستی

 

                              

                   مقدمہ 

الحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ علی سیدنا محمد وآلہ اجمعین

    اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے ہیں کہ جس نے ہمیں انبیاء ، آئمہ اطھار اور علماء ربانی جیسی نعمتیں دی اور جن کی کوشش اور جہاد سے ہمیں دستورات الٰہی کے مطابق صحیح زندگی گزارنے کا سبق ملا .

آج کل ہمارے جوان لڑکے اور لڑکیوں کیلئے اسکول ، کالج اور یونیورسٹی میں دوستی کا ماحول ہے . ان کا مختلف قسم کے جوانوں سے میل جول ہوتا ہے .

     ہر جوان لڑکا اور لڑکی اپنے دوست کا انتخاب کرتا ہے انسان پر اچھے دوست کے مثبت اثرات اور برے دوست کے منفی اثرات پڑتے ہیں . ایک اچھا اور شریف آدمی جب برے دوستوں سے آنا جانا رکھتا ہے تو وہ اپنے آپ کو کھو دیتا ہے اور ایک دن ایسا آتا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے کردار پر ہوتا ہے .

     ایسے موضوع پر کچھ لکھنا میرا وظیفہ ہے ۔ یہ موضوع آئمہ اطہار  اور خصوصاً حضرت علی   کے کلمات پر مشتمل ہے . امید ہے کہ ہمارے لئے چراغ ہدایت ہو ۔ .

                                والسلام

                                اسد اللہ محمدی نیا

        دوست کا انتخاب

کن افراد کو دوست بنانا چاہیے ؟

     بعض جوان سوال کرتے ہیں کہ کون سے افراد کو دوست بنانا چاہیے . ایسے جوانوں کی ایسے مسائل میں رہنمائی کرنی چاہیے تاکہ انھیں بعد میں مشکلات پیش نہ آئے ۔ کچھ افراد اچھے لوگوں کو دوست بناتے ہیں جس سے وہ مادی ومعنوی مسائل میں کامیاب رہتے ۔     بہت سے افراد کی کامیابی ان کے دوستوں کی وجہ سے ہے ۔

     اس کے برخلاف کچھ جوانوں کی زندگی خراب گزرتی ہے . انھیں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ہمیشہ ناکام رہتے ہیں ۔ نہ اچھی تعلیم حاصل کر پاتے ہیں اور نہ اچھا کاروبار ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے جوانوں کے دوست فاسد اور برے افراد ہوتے ہیں ۔                دوست انسان کی زندگی پر بڑا تاثیر گزار ہوتا ہے انسانی زندگی پر اچھے دوست  کے مثبت اثرات اور برے دوست کے منفی اثرات پڑتے ہیں ۔

دوست کو رفیق وصدیق کیوں کہتے ہیں ؟

      ١۔اس کے بارے میں حضرت علی  ـ فرماتے ہیں .

(اِنَّمٰا سُمِّیَ الرَّفِیْقُ رَفِیْقاً لِاَنَّہُ یُرْفِقُکَ عَلیٰ اِصْلَاحِ دِیْنِکَ فَھُوَ الرَّفِیْقُ الشَّفِیْقُ )(١)

     بے شک رفیق کو رفیق اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمہاری دینی اور معنوی امور میں نرمی وخوش اسلوبی سے اصلاح کرتا ہے ۔ پس وہ ایک مہربان رفیق شخص ہے ۔

ایک اور مقام پر آپ  فرماتے ہیں .

(اِنَّمَاسُمِّیَ الصَّدِیْقُ صَدِیْقاً لِاَنَّہُ یُصَدِّقُکَ فِیْ نَفْسِکَ وَمَعٰایِبِکَ ، فَمَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ فَاسْتَنِمْ اِلَیْہِ فَاِنَّہُ الصَّدِیْقُ(٢) 

     بے شک صدیق کو اس لئے صدیق کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تیرے عیب اور غلطیوں کی تصدیق کرتا ہے (تمہیں اچھے اور برے کاموں            

 غررالحکم فصل ١٥(٢)غررالحکم فصل ١٥ شمارہ ١٩

کا تذکر دیتا ہے تاکہ تیری اصلاح ہو ) پس ایسا کردار ادا کرنے والا تیرا حقیقی دوست ہے ۔ ایسا دوست تیرے رشد وتکامل میں مدد گار ثابت ہوتا ہے ۔ یہ شخص تیرا صدیق اور دوست ہے ۔

دوست کی قدر وقیمت

حضرت علی  ـ نے فرمایا :(١)

(وَالْغَرِیْبُ مَنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ حَبِیْبُ )

    غریب اور تنھا وہ شخص ہے جس کا کوئی اچھا صدیق ورفیق نہ ہو .

نیز آپ  نے فرمایا : (٢)

مَنْ لَا صَدِیْقَ لَہُ لَاذُخْرَ لَہُ 

    جس کا کوئی دوست نہیں اس کا ذخیرہ نہیں ۔

پھر آپ  فرماتے ہیں .

مِنَ النِّعَمِ الصَّدِیْقُ الصَّدُوْقُ(٣)

                      

(١)نہج البلاغہ نامہ ٣١(٢)غررالحکم فصل ٧٧ (٣) غررالحکم باب ٧٨

      خدا کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک نعمت انسان کا سچا وصادق دوست ہے ۔

امام فرماتے ہیں .

اِخْوٰانُ الصِّدْقِ زِیْنَةُ فِیْ السَّرَّائِ وَعُدَّةُ فِیْ الضَّرَّائ(١)ِ 

 اچھے اور سچے دوست انسان کیلئے فقر وتنگ دستی میں زینت ہوتے ہیں اور دکھ و مصیبت میں توشہ ہوتے ہیں ۔

آپ  نے فرمایا :

فَقْدُالْاِحِبَّةِ غُرْبَة(٢)

بہترین وبدترین دوست

 حضرت علی  ـ نے فرمایا

اَلْعَقْلُ صَدِیْقُ مَقْطُوْعُ(٣) 

 عقل انسان کا واقعی اور حقیقی دوست ہے ۔

               

(١) غررالحکم فصل ١(٢)نہج البلاغہ قصار٦٢

ایک اور مقام پر آپ  فرماتے ہیں ۔

اَلْحُمْقُ اَضَرُّالْاَصْحٰابِ  (١)

    حماقت اور نادانی انسان کی بدترین دوست ہے۔

اعتماد سے پہلے دوستوں کا امتحان :

١۔ حضرت علی  ـ فرماتے ہیں

لاَاتَثِقْ بِالصَّدِیْقِ قَبْلَ الْخُبْرَةِ )(٢)

    آزمائش اور امتحان کرنے سے پہلے دوست پر مت اعتماد کریں .

٢۔امام صادق   ـ فرماتے ہیں:

(لَا تَثِقَنَّ بِاَخِیْکَ کُلَّ الثِّقَةِ فَاِنَّ صُرْعَةُ الْاِسْتِرْ سٰالُ لٰایُسْتَقٰالُ )

     اپنے دوست پر پورا اور صد در صد اعتماد نہ کریں ۔ کسی پر جلدی مطمئن ہونا اور اس کو خلوص دکھانا اس بات کا باعث ہے کہ وہ دوستی                     

 (١)غررالحکم فصل ١ (٢) قبلی

پائدار نہیں رہتی ۔

٣۔امام صادق  ـ نے فرمایا :

    کبھی بھی کسی شخص کو صدیق اور دوست نہ سمجھنا جب تک اس کا تین مقام پر امتحان نہ کرلو . پھر آپ  نے فرمایا .

(تُغْضِبْہُ فَتَنْظُرَ غَضَبُہُ یُخْرِجُہُ مِنَ الْحَقِْ اِلٰی الْبَاطِلِ عِنْدَالدُّنْیٰا وَالدِّرْھَمِ وَحَتٰیٰ تُسٰافِرَ مَعَہُ )(١)

     امتحان کے طور پر اسے پہلے غضبناک اور ناراض کرو پھر دیکھو کہ آیا اس کا غصہ اسے حق سے پھیرتا اور ناحق کی طرف کھینچ کر لے جاتا ہے یا نہیں ؟

    پھر اس کے مال سے آزمایش کرو کہ ایسے موقع پر وہ کیسا ہے اس کے اس کے ساتھ سفر کرو تاکہ تم پر اس کا اخلاق اور ایثار واضح ہوجائے .                 

 (١) بحارالانوار ج ٧٤ ص ١٨٠

٤۔لقمان حکیم نے فرمایا:

((وَلَا تَعْرِفُ اَخٰاکَ اِلَّا عِنْدَ حٰاجَتِکَ اِلَیْہِ ))(١)

    انسان دوست اور بھائی کو پوری طرح نہیں پہنچان سکتا مگر اس وقت کہ جب اس کی ضرورت ہو ۔ ضرورت کے وقت معلوم ہوتا ہے کہ کون دوست کتنا مخلص ہے .

اپنی زندگی کا راز اپنے دوست کو نہ بتائو .

امام صادق  ـ اپنے بعض اصحاب سے فرماتے ہیں 

لَا تَطَّلِعْ صَدِیْقَکَ مِنْ سِرِّکَ اَلّٰا عَلٰیٰ مٰا لَوْ اِطَّلَعَ عَلَیْہِ عَدُوُّکَ لَمْ یَضُرُّکَ فَاِنَّ الصَّدِیْقَ قَدْ یَکُوْنُ عَدُوَّکَ یَوْماً مٰا ) (٢)

 اپنے دوست کو زندگی کے رازوں سے آگاہ نہ کرو . صرف اتنی مقدار   

 میں اپنے راز بتائو کہ اگر تمہارا دشمن بھی سن لے تو تمہیں نقصان نہ              

(١) بحارالانوار ج ٧٤ ص ١٧٨ (٢)بحارالانوار ج ٧٤ ص ١٧٧

 دے سکے ۔ اس لئے کہ شاید یہی تمہارا دوست ایک دن تمہارا دشمن بن جائے .

    بعض افراد اپنے دوستوں سے بہت ہی مانوس ہوجاتے اور اپنی زندگی کے سارے راز انھیں بتا دیتے ہیں حالانکہ ممکن ہے بعض مسائل کی وجہ سے ان کی دوستی ختم ہوجائے اور دوستی ختم ہوجائے اور دوستی دشمنی میں بدل جائے .

    اب دوست موقع سے فائدہ اٹھاتا ہے جن رازوں سے وہ آگاہ تھا اب وہ لوگوں کے سامنے کہہ دیتا ہے جس سے انسان کی آبرو ختم ہوجاتی ہے .   وہی دوست آج ذلیل وخوار کررہا ہے . لہذا پہلے دوست کوآزما لینا چاہیے افسوس آج کل کچھ جوان لڑکے اور لڑکیاں بڑے ولولہ وجذبہ سے گہرے دوست بن جاتے ہیں . ایک دوسرے سے راز اگلوانے کے درپے ہوتے ہیں . انھیں جب کچھ راز ملتے ہیں تو آیندہ کیلئے ذخیرہ کر لیتے ہیں . ایک وقت آتا ہے بعض شریف لوگ بد کردار افراد سے سر جھکائے چلتے ہیں . اس ڈر سے کہ وہ راز سے واقف ہوتے ہیں .

اچھے دوست کی نشانیاں .

جوان مرد :

     دوست کی سب سے پہلی نشانی جوان مردی اور مروت ہے . یہ نشانی دوست میں ہونی چاہیے . .

١۔حضرت علی  ـ فرماتے ہیں . 

اَوَّلُ الْمُرُوَّةِ طٰاعَةُ اللّٰہِ وَآخِرُھٰا التَّنَزُّہُ عَنِ الدَّنْیٰا(١) 

     سب سے پہلی مروت خدا کا اطاعت گزار ہونا اور آخری مروت اپنے آپ کو گناہوں سے پاک ومنزہ کرنا ہے ۔

٢۔آپ نے فرمایا

مَنْ لَا دِیْنَ لَہُ مُرُوَّتَ لَہُ(٢)

    جس کا دین نہیں اس کی جوان مردی نہیں . وہ جوان مرد نہیں ہے .                             

(١) غررالحکم فصل ٨(٢) غررالحکم فصل ٧٧

٣۔ حضرت امیر  فرماتے ہیں 

مَنْ لَامُرُوَّةَ لَہُ لَاھِمَّةَ لَہُ (١)

اَلْمُرُوَةُ بَرِیَّةُ مِنَ الْخَنٰائِ وَالْغَدْرِ )

     جوان مرد انسان کی زبان بے حیائی اور فحش سے پاک اور جس کی فکر سے دوسر ے دھوکہ وفریب سے محفوظ رہتے ہیں

اچھی راہنمائی .

١۔حضرت علی  ـ نے فرمایا :

 اَخُوْکَ فِیْ اللَّہِ مَنْ ھَدٰاکَ اِلَیٰ الرَّشٰادِ ...)

    تیرا دینی بھائی وہ ہے جو تمہیں سیدھے راستے کی ہدایت کرتے ہیں .

٢۔آپ  فرماتے ہیں 

مَنْ نَصَحَکَ فَقَدْ اَنْجَدَکَ )                           

(١) غررالحکم فصل ٧٧

    جس نے تمہیں نصیحت کی در حقیقت اس نے تیری مدد کی ہے

اسی طرح آپ  نے فرمایا :

مَنْ بَصَّرَکَ عَیْنَیْکَ فَقَدْ نَصَحَکَ (١)

 جس نے تمہیں آگاہ کیا ، در حقیقت اس نے تمہیں نصیحت کی ہے .

حضرت علی  ـ نے فرمایا :

مَنْ وَعَطَکَ اَحْسَنَ اِلَیْکَ )

 جس نے تمہیں نصیحت کی اس نے تم پر احسان کیا .

نیز آپ  نے فرمایا (٤) غررالحکم فصل ٧٧

مَنْ نَصَحَکَ اَشْفَقَ عَلَیْکَ )

    جس نے تمہیں نصیحت وراہنمائی کی اس نے تم سے محبت کی .

 آپ  ہی نے فرمایا .

     

(١) غررالحکم فصل ٧٧

(٢) غررالحکم فصل ٧٧

 مَنْ لَمْ یَنْصَحْکَ فی صَدِیْقَتِہِ فَلَاتُعَذِّرْہ(١)

     جس نے اپنی دوستی میں تمہیں نصیحت نہیں کی ، اس کا عذر قبول نہ کرو اور وہ دوستی میں سچا نہیں ہے ۔

نصیحت پذیر.

    اگر کوئی اپنے دوست کو اچھے کاموں میں نصیحت کرتا ہے تو انسان کا وظیفہ ہے کہ وہ اپنے دوست کی نصیحت قبول کرے .

١۔ حضرت امیر  ـ فرماتے ہیں 

مَنْ قَبِلَ النَّصِیْحَةَ سَلِمَ مِنَ الْفَضِیْحَةِ (٢)

جو شخص دوسری کی نصیحت کو قبول کرتا ہے وہ رسوائی سے نجات پاتا ہے .                     

(١) غررالحکم فصل ٧٧

(٢) غررالحکم فصل ٧٧

٢۔اسی طرح آپ  نے فرمایا :

 مَنْ اَقْبَلَ عَلٰیٰ النَّصِیْحِ اَعْرَضَ عَنِ الْقَبِیْحِ (١)

    جس نے کسی کی نصیحت کو قبول کیا در حقیقت اس نے برے کاموں سے دوری کی ہے .

حضرت علی   ـ فرماتے ہیں :

 مِنْ اَکْبَرالتَّوْفِیْقِ اَلَاخْذُ بِالنَّصِیْحَةِ )

      ا نسان کیلئے سب سے بڑی توفیق دوسروں کی نصیحت کو قبول کرنا ہے

  ظلم اور گناہ سے بچانے والا .

     اچھے دوست کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ وہ انسان ظلم اور گناہ سے بچا لیتا ہے . اگر ایک شخص دوسرے پر ظلم کرے تو اس کے دوست کو

                 

(٦) غررالحکم فصل ٧٧

(٢) غررالحکم فصل ٧٨۔١۔٢٣

اسے منع کرنا چاہیے اسی طرح اگر کوئی کسی کا حق چھین لینے کا ارادہ رکھتا ہو تو دوست کو چاہیے کہ اسے اس سے روکے اور نصیحت کرے 

١۔ حضرت علی  ـ نے فرمایا :

...وَ نَھٰاکَ عَنِ الْفَسٰادِ )

      اچھا دوست وہ ہے جو تمہیں فتنہ وفساد سے منع کرے ۔

آپ  نے فرمایا:

الصَّدِیْقُ مَنْ کَانَ نٰاھِیاً عَنِ الظَّلْمِ وَالْعُدْوٰانِ مُعِیْناً عَلٰیٰ البِرِّ وَالْاِحْسٰانِ )

      دوست وہ ہے جو اپنے دوست کو ظلم وستم کرنے سے منع کرے اور نیکی کے کاموں میں مدد کرے

 عیب اور غلطیوں کایاد دلانے والا.

١۔حضرت علی  ـ فرماتے ہیں :             

 (١) غررالحکم فصل ٧٨ ۔١ ۔٢٣(٢) غررالحکم فصل ٧٨ ۔ ١۔٢٣

ثَمَرَةُ الْاُخُوَّةِ حِفْظُ الْغَیْبِ وَاِھْدٰائُ الْعَیْبِ(١)

     دوستی کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ دوست انسان کی عدم موجودگی میں اس کے عیب بیان نہیں کرتا لیکن اس کی موجوگی میں اس کی اصلاح کی خاطر اسے عیب یاد دلاتا ہے .

      اس کے بارے میں امام صادق  ـ فرماتے ہیں: اَحَبُّ اِخْوٰانِیْ اَلَیَّ مَنْ اَھْدیٰ اِلَیَّ عُیُوْبِیْ (٢)

     میرے بہترین دوست وہ ہیں جو مجھے عیب یاد دلائیں ۔

دلسوز وغم خوار

  حضرت علی  ـ نے فرمایا :

مَنْ اِھْتَمَّ بِکَ فَھُوَ صَدِیْقُکَ (٣)

تمہارا دوست وہ ہے جو دلسوز اور غمخوار ہو ۔

٢۔ ایک مقام پر آپ  نے فرمایا :                       

(١) تحف العقول ص ٣٨٥.(٢) غررالحکم فصل ٧٧(٣)غررالحکم فصل ٧٧

  من لم  َمْ یُبٰالُ بِکَ فَھُوَ عَدُوُّکَ (١)

     جو شخص تیری سرنوشت وتقدیر کے بارے میں خیال اور بے تفاوت ہو وہ تیرا دشمن ہے .

کام آنے والا دوست

١۔ حضرت علی  ـ فرماتے ہیں .

اَصْدَقُ الْاِخْوٰانِ مَوَدَّةَ اَفْضَلُھُمْ لِاِخْوٰانِہِ فِیْ

السَّرَّائِ مُسٰاوٰاةً وَفِیْ الضَّرَّائِ مُوٰاسٰاة(٢)ً 

     دوستی میں سب سے سچے وہ افراد ہیں جو فقر وتنگ دستی میں مدد کریں اور دکھ و مصیبت کے وقت کام آئیں ۔

فِیْ السَّرَّائِ وَمُسٰاوٰاة

  اگر کسی پر کوئی مصیبت آجائے تو انسان کو اس کی ایسی ہی مدد کرنی چاہیے جیسے وہ اپنے خاندان کی مدد کرتا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر خرچ              

(١)غررالحکم فصل ٧٧(٢)غررالحکم فصل ٨

   کرنا چاہیے ۔

      اگر کوئی مریض ہو جائے اور ہسپتال میں ہو تو دوسروں کو اس کی ہر قسم کی مدد کرنی چاہیے ۔ پیسے کی ضرورت ہو یا گاڑی کی دوست کو ایسے موقع پر مدد کرنی چاہیے ۔ البتہ بعض لوگ ایسے موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں کہ انھیں کچھ مل جائے . ضرورت نہ بھی ہو تو مانگتے پھرتے ہیں ۔ ان کیلئے رقم جمع کرنے کا سنہری موقع مل جاتا ہے ۔ ایسے لوگ گدا گروں کے زمرے میں آتے ہیں .

٢۔ مولا امیر  ـ نے فرمایا

لایَکُوْنُ الصَّدِیْقُ صَدِیْقاً حَتٰیٰ یَحْفَظَ اَخٰاہُ فِیْ ثَلاٰثٍ نِکْبَتِہِ وَغَیْبَتِہِ وَ وَفٰاتِہِ

      انسان کا حقیقی دوست وہ ہے جو تین مقام پر کام آئے (١) دکھ ومصیبت میں کام آنے والا (٢) انسان کی عدم موجودگی میں اگر کوئی اس کا گلہ وغیبت کرے تو اس کا دفاع کرنے والا  (٣) مرنے کے وقت مدد کرنے والا یعنی اس کیلئے دعا مغفرت کرنے والا .

جس کا ظاہر وباطن یکساں ہو .(١)

١۔ حضرت علی  ـ نے فرمایا :

 وَالصَّدِیْقُ مَنْ صَدَقَ غَیْبُہُ )

      حقیقی دوست وہ ہے جس کا باطن بھی ظاہر جیسا ہو (٢).

اسی طرح ایک اور مقام پر آپ  نے فرمایا :

اَلصَّدِیْقُ الصَّدُوْقُ مَنْ نَصَحَکَ فَیْ عَیْبِکَ

وَحَفِظَکَ فِیْ غَیْبِکَ ...)(٣)

      تیرا صادق  اور سچا دوست وہ ہے جو تیرے عیب وغلطیوں کو دیکھ کر تجھے نصیحت کرے اور تیری عدم موجودگی میں تیری حفاظت کرے اور اگر کوئی تیری سر زنش کرے تو اس کا دفاع کرے ۔

 دوست کو اپنے آپ پر مقدم کرنا .

١۔ حضرت امیر  ـ فرماتے ہیں .                          

(١) نہج البلاغہ ، قصار ١٢٩ (٢)نہج البلاغہ نامہ ٣١ ، فراز ٥٩(٣)غررالحکم فصل ١

اَلصَّدِیْقُ الصَّدُوْقُ ... وَاَثَرَکَ عَلٰیٰ نَفْسِہِ )

      سچا دوست وہ ہے جو تجھے اپنے آپ پر مقدم کرے ۔ یعنی دوست کے منافع وضروریات کو اپنے پر مقدم کرے . (١)

ایک اور مقام پر آپ  نے فرمایا :

اَلصَّدِیْقُ مَنْ وَقٰاکَ بِنَفْسِہِ وَاَثَرَکَ عَلٰیٰ مٰالِہِ وَ وَلَدِہِ وَعِرَّضِہِ )

     حقیقی دوست وہ ہے جو تم پر جان قربان کرنے والا ہو اور تجھے اپنے مال واولاد پر مقدم کرے .(٢)

دوست کو دیکھ کر خدا یاد آجاتا ہو ۔

  ١۔ رسول اکرم  ۖ سے پوچھا گیا . اچھے اور باوفا دوست کون سے ہیں ؟        

(١)غررالحکم فصل ١

(٢)غررالحکم فصل ١

آپ ۖ نے فرمایا :

مَنْ ذَکَرَکُمْ بِاللّٰہِ رُوْیَتُہُ وَ زَادَکُمْ فی عَمَلِکُمْ مِنْطِقُہُ ...)

     بہترین دوست وہ ہیں جن کو دیکھ کر خدا یا د آجاتا ہو ۔ جن کی کلام سے انسان کے عمل کی اصلاح ہوتی ہو ۔(١)

٢۔ حضرت عیسیٰ   کے حواریوں نے پوچھا ۔ ہمیں کن افراد سے دوستی رکھنی چاہیے تو حضرت عیسیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا :

(مَنْ یُذَکِّرُکُمْ اللّٰہ رُئویَتُہُ ...)

   اس شخص کو دوست بنائو کہ جسے دیکھ کر تمھیں خدا یادآجائے (٢)

آخرت کی اصلاح والا

١۔ حضرت محمد  ۖ سے پوچھا گیا . یا رسول اللہ :

 کون سے بہترین دوست وساتھی ہیں ؟

آپ ۖ نے فرمایا:                             

بحارالانوار ج ٧٤ ، ص ١٨٦(٢)بحارالانوار ج ٧٤ ، ص ١٨٩

 ..(مَنْ) ذَکَّرَکُمْ بِالآخِرَةِ عَمَلُہُ )

    بہترین ساتھی ودوست وہ ہیں کہ جن کے عمل کو دیکھ کر تمہیں روز قیامت یاد آجائے .(١)

٢۔ حضرت علی  ـ نے فرمایا :

اَخُوْکَ فِی اللّٰہِ ... وَاَعٰانَکَ عَلٰیٰ اِصْلاٰحِ الْمَعٰادِ )

   تیرا دینی بھائی وہ ہے جو تیری آخرت سنوارنے میں مدد کرے(٢)

٣۔ حواریوں نے حضرت عیسیٰ سے پوچھا. ہم کن لوگوں کے        ساتھ آنا جانا اور دوستی رکھیں ؟ تو حضرت نے جواب دیا

مَنْ یُرَغِّبُکُمْ فِی الْآخِرَةِ عَمَلُہُ )

     اس انسان کے ساتھ آنا جانا اور دوستی رکھو جس کے عمل کو دیکھو کہ تمھیں بھی توشہ آخرت کا خیال رہے یعنی تمھیں بھی آخرت میں                        

(١)بحارالانوار ج ٧٤ ، ص ١٨٦(٢)غررالحکم فصل ١

 نجات دینے والے اعمال کرنا یاد آجائیں .(١)

٤۔ حضرت علی  ـ فرماتے ہیں ۔

اَخُوْالْعِزِّ مَنْ تَحَلّٰیٰ بِالطّٰاعَةِ )

     عزیز اور پیارے دوست وہ ہے کہ جس کے دل میں اطاعت خدا ہو.  (٢)

پائدار دوستی .

١۔ حضرت علی  ـ نے فرمایا : 

(اِخْوٰانُ الدَّیْنِ اَبْقٰیٰ مَوَدَّةً (٣)

    ١۔متدین اور مومن افراد کی دوستی زیادہ پائدار ہوتی ہے . جو لوگ انتخاب دوست میں دقت نہیں کرتے اور جن کی دوستی کا معیار دنیا                                          

(١)بحارالانوار ج ٧٤ ، ص ١٨٩

(٢غررالحکم فصل ١

(٣)غررالحکم فصل ١

ہوتا ہے وہ دوستی پائدار نہیں ہوتی .

٢ ۔ پھر آپ  فرماتے ہیں :

اَخْوٰانُ الدَّنْیٰا تَنْقَطِعُ مَوَدَّتُھُمْ بِسُرْعَةِ اِنْفِطٰاعِ اَسْبٰابِھٰا )

       دنیا پرست انسان کی دوستی صرف اسباب کے ختم ہونے سے ختم ہو جاتی ہے . کیونکہ جو شخص دنیا کے سبب اور غرض سے دوستی رکھتا ہے .تو صرف مال ختم ہونے سے اس کی دوستی ختم ہوجاتی ہے . کیونکہ اس کی دوستی مال کی خاطر تھی .(١)

ہم فکر وہم عقیدہ

حضرت علی  ـ فرماتے ہیں . 

اَلرَّفِیْقُ کَالصَّدِیْقِ فَاخْتِرْہُ مُوٰافِقاً )

    رفیق صدیق کی مانند ہے لہذا اسے ہم فکر ہونا چاہیے اگر دوست ہم فکر ہو تو زندگی میں کئی اختلافات وانحراف پیدا ہوسکتے ہیں .(٢)

                        

(١)شرح غررالحکم خوانساری ، ج ١ ، شمارہ ١٧٩٦ (٢) غررالحکم ، فصل ١ شمارہ ١٢٢٤

خوشامد اور چاپلوسی سے دوری .

     بری عادات میں سے ایک بری عادت چاپلوسی ہے چاپلوس  انسان ضعیف انسان ہوتا ہے صرف روٹی پانی کیلئے ہر بندے کی چاپلوسی کرتا ہے .ملازمت کے حصول کیلئے چاپلوسی کرنا یا مطلب کو نکالنے کیلئے انسان کو ایسے شخص کی دوستی سے بچنا چاہیے .

اس کے بارے میں حضرت علی  ـ فرماتے ہیں:

انَّمٰا یُحِبُّکَ مَنْ لاٰیَتَمَلَّقُکَ وَیُثَنٰیٰ عَلَیْکَ مَنْ لَایُسْمِعُکَ )(١)

    بے شک تمہارا دوست وہ ہے جو چاپلوس نہ ہو اور حقیقی دوست وہ ہے جو تعریف نہ کرے بعض لوگ غلطیوں کی بھی تعریف کرتے ہیں . اور گناہ کرنے پر اسے بہادر سمجھتے ہیں . تو نے فلان کو مارا بہت اچھا کیا فلاں آدمی ہمارے گھر کے پاس سے گزرتا ہے اسے پکڑ کر                           

(١)غررالحکم فصل ١٥

جوتے ماریں گے . ایسے مشورے دینے والے افراد دنیا وآخرت کی نابودی کا سبب بنتے ہیں .

مولا امیر  ـ فرماتے ہیں :

مَنْ مَدَحَکَ فَقَدْ ذَبَحَکَ )

      جس نے تیری مدح وثناء کی در حقیقت اس نے اسی تعریف سے تیرا سر قلم کر دیا ہے .(١)

ایسے افراد کی تعریف سے لوگوں میں تکبر وغرور آجاتا ہے . اور راہ راست سے منحرف ہوجاتے ہیں .بڑے بڑے عہدوں پر فائز افراد کی زندگی اسی چاپلوسی نے خراب کی ہے . لہذا حقیقی دوست وہ ہے جس میں چاپلوسی نہ ہو .

ہاں اسلام میں تشویق وترغیب اپنی جگہ محفوظ ہے .                         

غررالحکم فصل ٧٧

برے دوست کی نشانیاں .

     اچھے دوست کی نشانیاں مولا علی  ـ کے کلام کی روشنی میں بیان ہوچکی ہیں اب برے دوست کی نشانیاں یہ ہیں .

جاہل واحمق

١۔ حضرت نے فرمایا : 

اِحْذَرْ مُجٰالِسَةَ الْجٰاھِلِ کَمٰا تَامَنُ مِنْ مُصٰاحِبَةِ

الْعٰاقِلِ )

      عاقل دوست کی محفل مفید ہوتی ہے اور انسان کو سکون ملتا ہے .لہذا جاہل کی دوستی سے کنارہ کشی کرو(١) 

٢۔ ایک مقام پر آپ  نے فرمایا :

بِئْسَ الْقَرِیْنُ الْجَھُوْلُ )

      انسان کا جاہل ونادان دوست بہت ہی بد ہوتا ہے .(٢)                                     

(١)غررالحکم فصل ٤(٢)غررالحکم فصل ٢٠

٣۔نیز آپ نے فرمایا :

 مِنْ عَدَمِ الْعَقْلِ مُصٰاحِبَةُ ذَوِیِ الْجَھْلِ )

      جس انسان کی دوستی جاہلوں سے ہوگی وہ کم عقل ہوگا.(١) .

٤۔آپ مزید فرماتے ہیں :

اِحْذَرِالاَحْمَقَ فَاِنَّ مُداٰراتَہُ تُعْیبُکَ وَ مُوٰافَقَتَہُ تُرْدِیْکَ وَمُخٰالِفَتَہُ تُوْذِیْکَ وَمُصٰاحَبَتَہُ وَبٰالُ عَلَیْکَ )

      احمق انسان سے بچو کیونکہ اس کی محفل تمہیں معیوب بنائے گی اس کی موافقت تمہیں نابود کرے گی .اس کی مخالفت سے تمہیں اذیت و آزار ہو گی اس کی رفاقت سے تم بد بخت اور گمراہ ہونگے (٢)

٥۔نیز آپ  نے فرمایا :

 اِیَّاکَ وَمُصٰادَقَةَ الْاَحْمَقِ فَاِنَّہُ یُرِیْدُ اَنْ یَنْفَعَکَ

فَیَضُرُّکَ )                       

غررالحکم فصل ٧٨ (٢)غررالحکم فصل ٤

    احمق دوست کی دوستی سے بچو کیونکہ جب وہ تمہیں فائدہ پہنچانا چاہتا ہے تو تیرا نقصان ہو گا . احمق سمجھتا ہے کہ یہ میرے دوست کیلئے فائدہ ہے .حالانکہ وہ ضرر پہنچانا ہے(١) .

٦۔مولا کائنات فرماتے ہیں 

اِیَّاکَ وَمَوَدَّةَ الْاَحْمَقِ فَاِنَّہُ یَضُرُّکَ مِنْ حَیْثُ یَرٰیٰ اَنَّہُ یَنْفَعُکَ وَیَسُوْئُکَ وَھُوَ یَرٰیٰ یَسُرُّکَ

    بے وقوف اور احمق دوست کی دوستی سے پرہیز کرو کیونکہ یہ تمہیں ضرر و نقصان دے گا . حالانکہ یہ نقصان ہے. لیکن وہ نفع سمجھتا ہے . وہ تیرے ساتھ بدی وظلم کرے گا . لیکن یہ سمجھے گا کہ میں نے دوست کو خوشحال کیا ہے .(٢)

     بعض احمق دوست نفع اور نقصان کا فرق نہیں سمجھتے . بدی اور نیکی میں فرق نہیں رکھتے .نقصان کو نفع اور بدی کو نیکی سمجھتے ہیں .                                  

(١)غررالحکم فصل ٥ (٢)غررالحکم فصل ٥

حسود وحاسد .

١۔ حضرت علی  ـ نے فرمایا :

بِئْسَ الرَّفِیْقُ الْحَسُوْدُ )

   حاسد دوست بہت ہی برا دوست ہے .(١)

٢۔نیز فرماتے ہیں :

اَلْحٰاسِدُ یُظْھِرُ وَدَّہُ فی اَقْوٰالِہِ وَیُخْفٰیٰ بُغْضَہُ فی اَفْعٰالِہِ فَلَہُ اِسْمُ الصَّدِیْقَ وَصِفَةُ الْعَدُوِّ )

      حاسد دوست اپنی دوستی کا الفاظ وکلمات میں اظہار کرتا ہے اور بغض اور کینہ اپنے معاملات اور کاموں میںپنھان رکھتا ہے .ظاہر میں دوست اور باطن میں دشمن ہوتا ہے .(٢)

حسدایک بدترین روحانی مرض ہے. حاسد ہمیشہ دوست کو حقیر کرنے کی کوشش کرتا ہے .کبھی غیبت کرے گا . یا تہمت ومذاق کے ذریعے

حقارت کا اظہار کرے گا . حاسد ان چیزوں سے اپنی حسادت شروع

 (١)غررالحکم فصل ٢٠(٢)غررالحکم فصل ١

 کرتا ہے . جب بہت زیادہ حاسد ہو تو اگر کوئی دوسرا شخص اس سے حسد کرے تو اسے قتل کرنے پر تیار ہو جاتا ہے . قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو حسد کی وجہ سے قتل کیا تھا .(١)حضرت یوسف کے بھائیوں نے حسد ہی کی وجہ سے اسے کنویں میں ڈال دیا تھا٢)

آخر یہ نوبت آتی ہے کہ اگر وہ اپنے مخالف کو قتل نہ کر سکے تو اپنے آپ کو قتل کر دیتا ہے .(٣) یہ ہے حسد کا نتیجہ لہذا حاسد دوست ظاہراً دوست ہوتا ہے لیکن باطن میں دشمن .

 ٣۔ مولا  فرماتے ہیں :

اَلْحَسَدُ شَرُّالْاَمْرٰاضِ 

  حسد بدترین بیماری ہے .(٤)

٤۔ نیز فرماتے ہیں :

اَلْحَسَدُ یُذِیْبُ الْجَسَدَ ) (٥)                                  

(١)سورہ مائدہ /٣٢ ۔ ٧٢(٢)سورہ یوسف .(٣)سورہ انفال٣٢(٤)غررالحکم فصل ١(٥)غررالحکم فصل ١

  حسادت حاسد کے بدن پگھلا کر پانی میں تبدیل کر دیتی ہے .بدن پانی پانی ہوجاتا ہے .

 ایک مقام پر آپ  نے فرمایا :

ثَمَرَةُ الْحَسَدِ شِقٰائُ الدَّنْیٰا وَالآخِرَةِ (١)

  حسادت کا نتیجہ دنیا وآخرت کی شقاوت ہے .

حسادت کا علاج :

علماء اخلاق حسادت کے علاج کے بارے میں فرماتے ہیں کہ حاسد کو پہلے اپنے مخالف کی صفات اور خوبیاں بیان کرنا چاہیے . نماز کے وقت دعا کرنی چاہیے . اس طرح آہستہ آہستہ حسادت ختم ہوجاتی ہے ۔

فاسق وفاجر .                   

غررالحکم فصل ٢٣ شمارہ ٤٤

١۔ حضرت علی  ـ فرماتے ہیں :

اِیَّاکَ وَمُصٰاحِبَةَ الْفُسّٰاقِ فَاِنَّ الشَّرَّ بِالشَّرِّ یَلْحَقُ(١) 

فاسق اور بدکار دوستوں سے بچو . کیونکہ برے کام میں قدم بہ قدم رہے گا . فاسق دوست کے اثرات نیک آدمی تاثیر گزار ہوتے ہیں لہذا اس سے بچنا چاہیے ۔

٢۔ نیز آپ  نے فرمایا :

اِیَّاکُمْ وَمُصٰادَقَةَ الْفٰاجِرِ فَاِنَّہُ یَبِیْعُ مُصٰادِقَةَ بِالتٰافِةِ(٢)  اَلْمُحْتَقَرِ)

      بدکار اور فاسق دوست کی دوستی سے پرہیز کرو کیونکہ وہ دوستی کو

ایک حقیر اور ادنی چیز کے بدلے بیچ ڈالے گا . جہاں اس کا فائدہ ہو وہاں دوستی کی پرواہ نہیں کرتا(٣) .

                                    

(١)غررالحکم فصل ٥(٢)النافہ : الحقیر الخسیس ؛ بحارالانوار ، ج ٦ ص ٣١٠

(٣)غررالحکم فصل ٥

شرارتی دوست

١۔ مولا نے فرمایا :

اِیِّاکَ وَمُعٰاشَرَةَ الْاَشْرَارِ فَاِنَّھُمْ کَالنَّارِ مُبٰاشَرَتُھٰا تُحْرِقُ 

     شریر دوست کی دوستی سے بچو کیونکہ وہ آگ کی مانند ہیں اور ان کا میل جول انسان کو جلا دیتا ہے .(١)

٢۔ نیز آپ  نے فرمایا :

(مَنْ صَحِبَ الْاَشْرٰارِ لَمْ یَسْلِمْ

     جو شخص شریر انسان کا دوست بنے وہ سالم نہ رہے گا .(٢)

٣۔ حضرت علی  ـ فرماتے ہیں :

مِنْ سُوْئِ الْاِخْتِیٰارِ صُحْبَةُ الْاَشْرَار

    برے اور شریر لوگوں کو دوست بنانا بہت برا انتخاب ہے .(٣)                            

(١)غررالحکم فصل ٥(٢)غررالحکم فصل ٧٧

(٣)غررالحکم فصل ٧٨

نیز آپ  نے فرمایا .

مُجٰالِسَةُ الْاَشْرَارِ تُوْجِبُ التَّلَفَ )

     شریر اور بدکار کی محفل انسان کو نابود کردیتی ہے .(١)

بخیل وکنجوس

١۔ حضرت علی  ـ نے فرمایا :

اِیَّاکَ وَمُصٰادَقَةَ الْبَخِیْلِ فَاِنَّہُ یَقْعُدُ عَنْکَ اَحْوَجُ

مٰاتَکُوْنُ اِلَیْہِ ) (٢)

     بخیل اور کنجوس کی صحبت سے بچو کیونکہ جب تمہیں اس کی ضرورت ہوگی تو وہ آپ سے پریشانیوں کا اظہار کرے گا . یعنی اگر تمہیں پیسے کی ضرورت ہوتو فقیر بن جاتا ہے . جب تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو وہ پہلے سے آپنے آپ کو نیاز مند ومحتاج ظاہر کرے گا .                           

(١)غررالحکم فصل ٨٠(٢)غررالحکم فصل ٥

جھوٹا

١۔ مولا امیر  فرماتے : 

اِیَّاکَ وَمُصٰادَقَةَ الْکَذّٰابِ فَاِنَّہُ یُقَرِّبُ عَلَیْکَ الْبَعِیْدَ وَیُبَعِّدُ عَلَیْکَ الْقَرِیْبَ ) (١)

      زیادہ جھوٹ بولنے والے سے پرہیز کرو کیونکہ وہ تمہیں دور کو نزدیک اور نزدیک کو دور دکھائے گا ۔

٢۔ اسی طرح آپ  نے فرمایا :

(اَلْکَذّٰابُ وَالْمَیِّتُ سَوٰائُ فَاِنَّ فَضِیْلَةَ الْحَیِّ عَلٰیٰ الْمَیِّتِ الثَّقَةُ بِہ ، فَاِذاَ لَمْ یُوْثَقُ بِکَلٰامِہ بَطَلَتْ حَیٰاتُہُ )(٢)

      جھوٹا انسان مردہ کے برابر ہے کیونکہ زندہ شخص کا مردہ پر یہ امتیاز ہے کہ لوگ اس پر اعتماد کرتے ہیں . جب زندہ فرد پر جھوٹ کی وجہ سے اعتماد ختم ہوجاتا ہے تو اس کی زندگی بیھودہ ہوجائے گی .                             

(١)غررالحکم فصل ٥(٢)غررالحکم فصل ١ 

عیب نکالنے والا .

حضرت فرماتے ہیں :

اِیَّاکَ وَصُحْبَةَ مَنْ اَلْھٰاکَ وَاَغْرَاکَ فَاِنَّہُ یَخْذُلْکَ وَیُوْبِقُکَ ) (١)

     ایسے افراد کی دوستی سے بچو جو ہمیشہ عیب کی تلاش میں ہوتے ہیں کیونکہ ایسے افراد سے انسان سالم نہیں رہ سکتا ۔

حیلے گر .

حضرت علی  ـ فرماتے ہیں:

(اِیَّاکَ وَمُعٰاشِرَةَ مُتَتَبِعی عُیُوْبِ النَّاسِ فَاِنَّہُ لَمْ یَسْلَمْ مُصٰاحِبُھُمْ مِنْھُمْ )(٢)

      جو شخص لوگوں کا مذاق اڑائے اور دھوکہ دے ، اس کی دوستی

سے بچو . کیونکہ ایسا انسان تمہیں نابودی وذلیل وخواری کی طرف لے                                    

غررالحکم فصل ٥

جائے گا . یعنی تم نابود ہوجائوں گے اور ذلیل وخوارہوکر رہ جائوںگے

اہم نکات .

   ١۔ ہرانسان کی پہچان اور شناخت اس کے دوست سے ہوتی ہے ۔

     دوست کا انتخاب بہت ہی اہم مسئلہ ہے جس طرف ہر انسان کو توجہ کرنی چاہیے . اگر کسی کا دوست ایمان اور اخلاق کے لحاظ سے ضعیف ہے تو اسے اس کی اصلاح کرنی چاہیے . اگر اصلاح ممکن نہ ہو تو اس سے کنارہ کشی کرلینا بہتر ہے . بعض اوقات ایک فرد خود نیک ہوتا ہے لیکن اس کا میل جول برے لوگوں کے ساتھ ہونے کی وجہ سے معاشرہ کی بدنامی کا شکار ہوجاتا ہے ۔

     اسکول ، کالج اور یونیورسٹی میں ایک لڑکی یا لڑکے کا کردار اس کے دوست سے معلوم ہوتا ہے . ہمارے معاشرے میں بہت سے جوان اپنی تعلیم میں ناکام رہے ہیں . اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ انھیں اچھے دوست نہیں ملے

     بہت سے افراد ایسے ملتے ہیں جو زندگی میں ناکام رہے اور آخر میں جب ان سے سوال کیا کہ تم تمہاری ناکامی کی وجہ کیا ہے تو اکثر یہی جواب دیں گے کہ ہمیں اچھے دوست نصیب نہیں ہوئے .

حضرت علی  ـ فرماتے ہیں :

 مُجٰالَسَةُ الْاَشْرَارِ تُوْرَثُ سُوْئَ الظَّنِّ بِالْاَخْیٰارِ (١)

     شریر اور بدکار انسان سے میل جول کی وجہ سے اچھے افراد بدبینی کا سبب بن جاتے ہیں .

امام صادق  ـ نے فرمایا:

(مَنْ رَایٰ اَخٰاہُ عَلٰیٰ اَمْرٍ یَکْرَھَہُ فَلَمْ یَرُدُّہُ وَھُوَ یَقْدِرُ عَلَیْہِ فَقَدْ خٰانَہُ ، وَمَنْ لَمْ یَجْتَنِبْ مُصٰادَقَةَ

الْاَحْمَقِ اَوْشَکَ اَنْ یَتَخَلّٰقَ بِاَخْلاٰقِہِ  (٢)                          

بحارالانوار ، ج ٧٤ ، ص ١٩١.

بحارالانوار ، ج ٧٤ ص ١٩٠

     ا گر ایک شخص اپنے دوست کو برے کاموں میں دیکھتا ہے اور وعظ ونصیحت کی قدرت رکھنے کے باوجود منع نہیں کرتا تو گویا اس نے اپنے دوست سے خیانت کی اور اگر ایک احمق دوست کی دوستی سے کنارہ نہیں کیا تو ایک دن یہ بھی متاثر ہوگا .

رسول خدا  ۖ فرماتے ہیں ۔

اَلْمَرْئُ عَلٰیٰ دِیْنِ خٰلِیْلِہ فَلَیَنْظُرْ اَحَدُکُمْ مَنْ یُخٰالِلْ (١)

    انسان اپنے دوست  کے دین پر ہوتا ہے . پس احتیاط کرنا کہ کسے دوست بنا رہے ہو .

٢۔ خوش باوری سے دوری .

      بعض نیک افراد کے دل پاک ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی اپنے جیسا نیک تصور کرتے ہیں ۔ لہذا جلد ہی ان پر اعتماد کر لیتے ہیں لیکن ان کا باطن کچھ اور ہوتا ہے جس سے وہ نیک لوگ دھوکہ کھا                           

بحارالانوار ، ج ٧٤ ص ١٩٢

جاتے ہیں .

   کچھ کوگ ظاہراً بڑے نیک نظر آتے ہیں اور معاشرے میں نیک افراد سے میل جول رکھ لیتے ہیں . چونکہ ان کا باطن ناپاک ہوتا ہے لہذا ایک نیک افراد کو آلودہ کردیتے ہیں ۔ لہذا ہمارے جوانوں کو ایسے افراد کی صحبت سے بچنا چاہیے .

    اس کے بارے میں حضرت علی  ـ فرماتے ہیں ۔

(اَعْظَمُ الْجَھْلِ ... الثِّقَةُ بِالْغٰادِرْ (١)

      سب سے بڑی جھالت اور نادانی یہ ہے کہ انسان ایک مکار وحیلے گر شخص ہے .

دوستوں کی اقسام

امام صادق  ـ فرماتے ہیں :

غرراحکم ، فصل ٨ ،شمارہ ٥٣٣

(اِنَّ الَّذِیْنَ تَرٰاھُمْ لَکَ اَصْدِقٰائُ اِذاَ بَلَوْتَھُمْ وَجَدْتَھُمْ عَلٰیٰ طَبَقٰاتٍ شَتَّیٰ فَمِنْھُمْ کَالْاَسْدِ فی عِظَمِ الْاَکْلِ وَشِدَّةِ الصَّوْلَةِ ، وَمِنْھُمْ کَالذِئْبِ فِیْ الْمَضَرَّةِ ، وَمِنْھُمْ کَالْکَلْبِ فِیْ الْبَصْبَصَةِ ، وَمِنْھُمْ کَالثَّعْلَبِ فِیْ الرَّوَغٰانِ وَالسَّرَّقَةِ ، صُوَرَھِمْ مُخْتَلِفَةُ وَالْحِرْفَةُ وَاحِدَةُ ، مٰا تَصْنَعُ غَداً اِذاَ تَرَکْتَ فَرْداً وَحِیْداً لَا اَھْلُ لَکَ وَلاَ وَلَدُ اِلَّا اللّٰہَ رَبِّ الْعٰالَمِیْنَ 

     جو تمہیں اپنے ارد گرد بہت سے دوست اور رفیق نظر آرہے ہیں  جب ان کا امتحان کرو گے تو ان کی قسمیں ہوں گی .

      ١۔ بعض دوست شیر کی مانند ہے جس طرح شیر اپنا پیٹ بھرنے کے درپے ہوتا ہے اور ہر قسم کا شکار کرلیتا ہے تاکہ اس کا پیٹ بھرا رہے کچھ دوست بھی ایسے ہی ہوتے ہیں .

     ٢۔کچھ دوست بھیڑیے جیسے ہوتے ہیں . ایسے افراد بھیڑیے کی

مانند دوستوں کو ضرر اور نقصان پہنچاتے ہیں .

      ٣۔کچھ دوست کتے کی طرح ہوتے ہیں ۔ کتوں کی طرح اپنی

دم ہلانے اور چاپلوسی کے ذریعے کچھ لینے کے چکر میں ہوتے ہیں ۔

     ٤۔ بعض دوست لومڑی کی مانند ہیں کہ اپنے دوستوں سے کسی نہ کسی بہانے سے کچھ حاصل کرنے کیلئے گھومتے ہیں

معاشرے میں شیر ، بھیڑیے ، کتے اور لومڑی جیسے جانوروں کا کردار ادا کرتے ہیں . ان کی شکلیں مختلف ہیں لیکن ان کا ھدف ایک ہی ہے ۔

      پس اے انسان جان لے ! ایک دن قیامت میں حساب ہوگا . قبر سے گزر کر جانا ہے ۔ جس دن کوئی چیز کام نہ آئے گی نہ مال نہ اولاد ۔ .

اس دن صرف خدا وند عالم کی ذات ہی پناہ گاہ ہوگی حشر ونشر ہوگا . صرف نیک کام آئیں گے ۔ خدا وند عالم ہمیں ان برائیوں سے                               

(١) بحارالانوار ، ج ٧٤ ص ١٧٩

بچائے ۔ آمین. 

وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰالَمِیْنَ

والسلام

سید ظفر حسین نقوی

+ نوشته شده در  پنجشنبه یازدهم خرداد 1391ساعت 21:21  توسط ZafarHussainNaqvi  | 

اے اللہ !میںتجھ سے شکایت کرتا ہوں ۔جوکچھ تیرے نبی کی بیٹی کے بیٹے پر ظلم ہوا ۔ 

        ایک اور مقام پر فرمایا :((اللھم احصھم عدداً واقتلھم بدداً ولا تبق منھم احداً))(٣٣)

        اے خدا!انہیںکن اور قتل کرے تاکہ ان میں سے کوئی باقی نہ رہے۔خدایا !میں تجھ سے شکایت کرتا ہوں کہ جو کچھ فرزند رسول ۖکے ساتھ لوگوں نے سلوک کیا ۔خدایا !انہیں شمار کریں اور تمام کو قتل کر کہ ان میں سے روئے زمین پر کوئی باقی نہ رہے ۔

٢٣۔حضرت یوسف ـ نے خدا وند کی پناہ لی :

        وَغَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ ہَیْتَ لَکَ  قَالَ مَعَاذَ اﷲِ

        اور دروازے بند کر دیئے اور کہا کہ اس چیز کی طرف جلدی آؤ جو تمہارے لئے مہیا ہے (یوسف نے) کہا: میں خدا سے پناہ مانگتا ہوں وہ (عزیز مصر) میرا صاحب نعمت ہے۔(٣٤)

        حضرت امام حسین ـ نے بھی خداوند کی پناہ لی ۔((اللھم انی اعوذ بک من الکرب والبلائ))(٣٥)

        اے خدا! میں دکھ وبلا سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

٢۔حضرت امام حسین ـ وارث حضرت نوح   ـ

السلام علیک یا وارث نوح نبی اللّٰہ

ا۔کشتی نوح  ـمؤمنین کی نجات کا باعث بنی:

         فَاَنجَیْنہُاٰا وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ َپھر ہم نے(نوح) کو اور کشتی والوں کو نجات دی ۔(٣٦)

٢۔حضرت نوح   ـکے ماننے والے بہت کم افراد تھے:

        وَ مَآ ٰامَنَ مَعَہ اِلَّا قَلِیْلاور اسی طرح مومنین کو لیکن مختصر سے گروہ کے سوا اس پر کوئی ایمان نہیں لایا تھا۔(٣٧)

        حضرت امام حسین ـ کشتی نجات ہیں ۔اور ان کے ماننے والے اور اصحاب بھی کم تھے۔

٣۔حضرت نوح   ـنے خدا کو حاضر ناظر سمجھ کر کام کیا :

        وَ اصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا اور (اب) ہمارے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بناؤ۔(٣٨)

        حضرت امام حسین ـ نے بھی خدا کو حاضر ناظر سمجھ کر کام کیا ۔اپنے بیٹے علی اکبر کی شہادت کے وقت فرمایا:((ھون علی انہ بعین اللّٰہ))(٣٩)

٤۔حضرت نوح  ـعبد شکور تھے:

        اِنَّہ کَانَ عَبْدًا شَکُوْرًاوہ ایک شکر گزار بندہ تھا۔(٤٠)

        حضرت امام حسین ـ  بھی عبد شکور تھے اسی لئے دعائے عرفہ میں خدا کی تمام نعمتوں کا شکر کرتے ہیں ۔

٥۔حضرت نوح  ـمتواضع تھے :

        اس لئے فرمایا:وَ مَآ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَمیں کبھی بھی مومنین کو نہیں دھتکاروں گا۔(٤١)

        حضرت امام حسین ـ بھی متواضع تھے ۔اسی لئے جب غریب افراد آپ کو دعوت دیتے تو آپ قبول فرماتے تھے۔

٦۔دعوت حضرت نوح  ـ  ہمیشگی تھی :

        اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلااًا وَّ نَہَارًامیں نے اپنی قوم کو رات دن تیری طرف ) دعوت دی۔(٤٢)

        دعوت امام حسین ـہمیشہ کے لئے تھی۔

٣۔حضرت امام حسینـ وارث حضرت ابراھیم  ـ

السلام علیک یا وارث ابراھیم خلیل اللّٰہ

ا۔حضرت ابراہیم  ـکعبہ کی تعمیر کے وقت فرمایا:

        رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا  اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ اے ہمارے پروردگار ! تو ہم سے قبول فرما کہ تو سننے والا اور جاننے والا ہے۔(٤٣)

        حضرت امام حسین ـ نے بھی فرمایا:((ربنا تقبل منا ھذا القربان))

٢۔حضرت ابراہیم  ـبیوی بچوں کے ساتھ مکہ کے بیابان میں آئے تاکہ نماز قائم کریں:

         رَبَّنَآ اِنِّیْ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِلا رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ

        پروردگار ا ! میں نے اپنی کچھ اولاد کو تیرے گھر کے پاس کہ جو تیرا حرم ہے ،بے آب و گیاہ سر زمین میں ٹھہرایا ہے تاکہ نماز قائم کریں۔(٤٤)

        ہم زیارت ناحیہ میں امام حسین ـکو خطاب میں پڑھتے ہیں۔((اشھد انک قد اقمت الصلوة))

٣۔حضرت ابراہیم  ـمقام یقین پر تھے:

        وَکَذٰلِکَ نُرِیْ اِبْرَاہِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ

        اس طرح ہم نے آسمانوں اور زمین کے ملکوت ابراہیم کو دکھائے تاکہ وہ اہل یقین میں سے ہو جائے۔(٤٥)

        حضرت امام جعفرصادق   ـحضرت امام حسین ـ کے بارے میں فرماتے ہیں :((عبدت اللّٰہ حتی اتاک الیقین بالحکمة والموعظة الحسنة))(٤٦)

        میں نے خدا کی عبادت کی حتیٰ خدا نے یقین حکمت اور موعظہ حسنہ عطا کیا۔

٤۔حضرت ابراہیم  ـنے بت پرستی کا مقابلہ کیا:

        اُفاٍااّا لَّکُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِتف ہے تم پر بھی اور اس پر بھی جسے خدا کو چھوڑ کر پوجتے ہو؟(٤٧)

        وَ تَاﷲِ لااَاَاکِیْدَنَّ اَصْنَامَکُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ خدا کی قسم !میں تمہارے جانے کے بعد تمہاری غیر حاضری میںتمہارے بتوں کی نابودی کامنصوبہ بناؤںگا۔(٤٨)

        حضرت امام حسین  ـنے بھی یزید سے مقابلہ کیا اور فرمایا :((یزید رجل فاسق شارب الخمر قاتل النفس المحرمہ معلن بالفسق ومثلی لایبایع مثلہ))(٤٩)

 ٥۔حضرت ابراہیم  ـاور حضرت اسماعیل  ـ  تسلیم فرمان خدا تھے:

        فَلَمَّآ اَسْلَمَا وَ تَلَّہ لِلْجَبِیْنِجب دونوں آمادہ و تیار ہو گئے اور اس (ابراہیم) نے اسے پیشانی کے بل لٹایا۔

        وَ نَادَیْنہُاٰا اَنْ یّٰاِآابْرَاہِیْمُتو ہم نے اسے ندادی کہ اے ابراہیم!

        قَدْ صَدَّقْتَ الرُّئْیَاج اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ

        جو حکم تجھے خواب میں دیا گیا تھا تو نے اسے پورا کر دیا، ہم اسی طرح سے نیکو کا روں کو جزا دیتے ہیں۔

        اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الْبَلٰؤُا الْمُٖبِیْنُبے شک یہ ایک کھلی آزمائش ہے ۔(٥٠)

        حضرت امام حسین ـ نے بھی فرمایا :((تسلیماً لأمرک لامعبود سواک))

٦۔حضرت ابراہیم  ـنے خدا کی نعمتوں کو بیان کیا :

         الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَہُوَ یَہْدِیْنِجس (خدا)نے مجھے پیدا کیا ہے وہی میری ہدایت فرماتا ہے۔

        وَ الَّذِیْ ہُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِوہی تو ہے جو مجھے کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی۔

        وَ اِذَا مَرِضْتُ فَہُوَ یَشْفِیْنِاور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو مجھے شفاء بھی دیتا ہے۔(٥١)

        حضرت امام حسین ـ نے بھی دعائے عرفہ میں خدا کی نعمتوں کو بیان فرمایا :

        ((...حتی اذا اتممت علی جمعیاً النعم وصرفت عنی کل النقم...فان دعوتک اجبتنی وان سئلتک اعطیتنی وان اطعتک شکرتنی وان شکرتک زدتنی کل ذلک اکمال لأنعمک علی واحسانک الی فسبحانک من مبدیٍ ء حمید مجید تقدست اسماؤک وعظمت الاؤک...))

٧۔حضرت ابراہیم  ـاسؤہ کمالات تھے:

        قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَة حَسَنَة فِیْ اِبْرَاہِیْمَ تمہارے لئے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کی زندگی ایک اچھا نمونہ ہے ۔(٥٣)

٨۔حضرت ابراہیم  ـخدا کے دوست تھے:

        وَ اتَّخَذَ اﷲُ اِبْرَاہِیْمَ خَلِیْلااًا اور خدا نے ابراہیم کو اپنی د وستی کے لئے منتخب کر لیا ہے۔(٥٤)

        امام حسین ـبھی اسؤہ کمالات اور محبوب خداوند تھے۔

٩۔حضرت ابراہیم  ـنے سرزمین بابل سے حضرت لوطـاور ان کی بیوی کیساتھ سرزمین شام کی طرف ہجرت کی:

        فَاٰمَنَ لَہ لُوْط  وَ قَالَ اِنِّیْ مُہَاجِر اِلٰی رَبِّی

        پس اس (ابراہیم) پر لوط ایمان لایااور(ابراہیم نے) کہا: میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔(٥٥)

        حضرت امام حسین ـ نے بھی اپنے اہل بیت٪کے ساتھ مدینہ سے کربلا کی طرف ہجرت کی۔

١٠۔حضرت ابراہیم  ـقلب سلیم رکھتے تھے:

        وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِہ لااَاِابْرَاہِیْمَاور ابراہیم اس (نوح) کے پیروکاروں میں سے تھا۔

        اِذْ جَآئَ رَبَّہ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ(یاد کرو اس وقت کو) جبکہ وہ قلب سلیم کے ساتھ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں آیا۔(٥٦)

        حضرت امام حسین ـ بھی قلب سلیم رکھتے تھے ۔اس لئے رضائے الہی کے علاوہ کسی کی فکر نہ تھی۔اور سب کچھ خدا کی راہ میں قربان کردیا ۔

        ((ترکت الخلق طراً فی ھوا کا وایتمت العیال لکی اراکا لان قطعتنی فی الحب ارباً لما حن الفؤاد الی سواکا))

١١۔حضرت ابراہیم  ـمتواضع اور مطیع خدا تھے:

        اِنَّ اِبْرَاہِیْمَ کَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰہابراہیم (تنِ تنہا)ایک امت تھا،امرِ الٰہی کا مطیع تھا۔(٥٧)

        حضرت امام حسین ـ میں بھی یہ صفت تھی۔

١٢۔حضرت ابراہیم  ـ

        نمرود کی جلاتی ہوئی آگ سے نہ ڈرے اور خدا پر توکل کیا اور فرشتوں سے مدد نہ لی اور فرمایا:((علمہ بحالی حسبی من سؤالی))(٥٨)

        امام حسین ـنے بھی یزیدیوں کی جلائی ہوئی آگ سے نہ ڈرے اور خدا پر توکل کیا اور فرشتوں سے مدد نہ لی اور فرمایا:((انت ثقتی فی کل کرب))(٥٩)

١٣۔حضرت ابراہیم  ـبہت مؤدب تھے :

        اس لئے جب نعمت خلقت،ہدایت اور روزی کو بیان کرتے تو خدا کی طرف نسبت دیتے۔لیکن جب مریض ہوتے تو اپنی طرف نسبت دیتے ہیں ۔

        وَ اِذَا مَرِضْتُ فَہُوَ یَشْفِیْنِاور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو مجھے شفاء بھی دیتا ہے۔(٦٠)

        امام حسین ـبھی بہت مؤدب تھے۔اس لئے جب تک امام حسین ـزندہ تھے بات نہ کی۔((ما تکلم بین یدی الحسن اعظاماً لہ))(٦١)

١٤۔حضرت ابراہیم  ـحامد اور شکر گزارخداوند تھے:

        اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ وَ ہَبَ لِیْ عَلَی الْکِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَط اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآئِ

        حمد ہے اس اللہ کی جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق  عطا کئے یقینا میرا خدا دعا سنتا ہے (اور قبول فرماتا ہے)۔(٦٢)

        امام حسین ـبھی حامد اور شکر گزارخداوند تھے۔((الحمد اللّٰہ الذی خلق الدنیا فجعلھا دار فناء وزوال متصرفة باھلھا حالاً بعد حال))(٦٣)

١٥۔فرزند ابراہیم  ـموت سے نہ ڈرے۔اس لئے اسماعیلـ نے فرمایا:

        قَالَ یٰاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُز سَتَجِدُنِیْ اِنْ شَآئَ اﷲُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ

        اس میں تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: ابا جان! آپ کو جو حکم ملا ہے اس کی تعمیل کیجئے، انشاء اللہ آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے۔(٦٤)

        فرزند امام حسین  ـ  حضرت قاسم   ـنے بھی فرمایا:میرے نزدیک موت شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہے ۔((احلی من العسل))

١٦۔خداوند نے نبوت کو نسل ابراہیم  ـمیں قرار دیااور امامت کو نسل امام حسین  ـ میں قرار دیا۔

١٧۔حضرت ابراہیم  ـ نے شرک سے بیزاری کی اور توحید کے علم دار تھے۔

         قَالَ ٰیقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْئ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ

        تو کہا اے قوم میں ان شریکوں سے جنہیں تم (خدا کے لئے) قرار دیتے ہو بیزار ہوں۔

        اِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ

        میں نے تو اپنا رخ اس ہستی کی طرف کر لیا ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے میں اپنے ایمان میں مخلص ہوں اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔(٦٥)

        امام حسین ـ میں بھی یہ فضیلت تھی ۔

١٨۔حضرت ابراہیم  ـشاکر نعمت خدا اور برگزیدہ الہی تھے۔

        شَاکِرًا لااّاِاَانْعُمِہ  اِجْتَبہُاٰا وَہَداٰہُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ

        وہ پروردگار کی نعمتوں کا شکر گزار تھا۔اللہ نے اس کو منتخب فرمایا اور اسے سیدھے راستے کی ہدایت فرمائی۔(٦٦)

امام حسین ـ شاکر نعمت الہی تھے۔

٤۔امام حسین ـوارث حضرت موسیٰ   ـ

السلام علیک یا وارث موسیٰ کلیم اللّٰہ

١۔حضرت موسیٰ   ـنے فرعون کی ہدایت کے لئے اس کی طرف حرکت کی۔

        اِذْہَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہ طَغٰیفر عون کی طرف جا کہ وہ سر کش و باغی ہو گیا ہے۔(٦٧)

        اور فرعون سے فرمایا :کہ شاید وہ ہدایت پاجائے گا۔

        فَقُوْلااَا لَہ قَوْلااًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰیلیکن اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا شاید وہ متوجہ ہو یا (خدا سے)ڈرے۔(٦٨)

        امام حسین ـنے بھی یزید کی ہدایت کے لئے حرکت کی۔((وانما خرجت لطلب الاصلاح فی امة جدی))(٦٩)

٢۔حضرت موسیٰ   ـنے رات کو حرکت کی۔

        فَخَرَجَ مِنْہَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُز قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ

        پس وہ(موسیٰ) شہر سے ڈرتے ہوئے نکلا اور اسے ہر لحظہ کسی حادثے کا کھٹکا تھا۔(اس نے خدا سے دعا کی) اور کہا: اے میرے رب ! مجھے ان ظالم لوگوں سے نجات عطا فرما۔(٧٠)

        امام حسین ـ نے بھی رات کو مدینہ سے حرکت کی اور اسی آیت کی تلاوت کی

٣۔حضرت موسیٰ   ـبارگاہ خداوند میں اپنے فقر کا اقرارکیا۔

        رَبِّ اِنِّیْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْر کہا :پروردگارا ! تو مجھے جو بھی نعمت عطا  فرمائے گا میں اس کا حاجت مند ہوں۔(٧١)

        امام حسین ـ نے بھی خدا سے اپنے فقر کا اقرارکیا۔((الھی انا الفقیر فی غنای فکیف لااکون فقیراً فی فقری))(٧٢)

٤۔ حضرت موسیٰ   ـکا بھائی ہارون اس کا مدگار تھا ۔

        سَنَشُدُّ عَضُدَکَ بِاَخِیْکہم تیرے بازوئوں کو تیرے بھائی کے وسیلہ سے مضبوط کریں گے۔(٧٣)

        وَاجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَہْلِیْمیرے خاندان میں سے میرا ایک وزیر قرار دے۔

        ھٰرُوْنَ اَخِیمیرے بھائی ہارون کو۔

        اشْدُدْ بِہ اَزْرِیاس کے ذریعے میری کمر کو مضبوط کر دے ۔(٧٤)

        حضرت ابوالفضل بھی امام حسین ـ کے مدد گار تھے ۔امام حسین ـنے ان سے فرمایا :((انت صاحب لوائی و اذا مضیت تفرق عسکری))(٧٥)

٥۔حضرت موسیٰ   ـ سے خدا نے امتحان لیا۔

        وَ کَانَ عِنْدَ اﷲِ وَجِیْہًااور وہ خدا کے نزدیک آبرو مند تھے۔(٧٦)

        حضرت امام حسین ـ کا بھی خدا نے امتحان لیا ۔

٦۔حضرت موسیٰ   ـ خدا کے نزدیک تھے۔

        ((یا وجیھاً عند اللّٰہ اشفع لنا عنداللّٰہ))(٧٧)

        حضرت امام حسین ـ  خدا کے نزدیک ہیں۔

٧۔قوم موسیٰ حضرت موسیٰ   ـکو جانتے تھے اور انہیں اذیت دی۔

ِ        لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اﷲِ

        اے میری قوم تم مجھے اذیت کیوں دیتے ہو، حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔ (٧٨)

        جنہوں نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا ہوا تھا وہ حضرت امام حسین ـ  کو پہچانتے تھے۔اسی لئے امام  ـنے فرمایا:تم میرے جد ،جدہ اور میرے ماں باپ کوجاتے ہو!پس میرے خون کو بہانا کیسے جائز سمجھتے ہو؟((فبم تستحلون دمی))(٧٩)

٨۔حضرت موسیٰ   ـ کے دشمنوں کو کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔

        وَ لااَا یُفْلِحُ السّٰحِرُ حَیْثاُا اَتٰی اور جادوگر جہاں کہیں بھی جائے گا فلاح نہیں پائے گا۔(٨٠)

        حضرت امام حسین ـ  کے دشمن بھی اپنے ناپاک عزائم میں نورخدا کو بجھانا چاہتے تھے لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔

٩۔اصحاب موسیٰ   ـنے فرعون سے فرمایا:جو کچھ کرنا چاہتے ہو کرلو۔

        فَاقْضِ مَآ اَنْتَ قَاضہرگز مقدم نہ رکھیں گے جو حکم تو کرنا چاہے کر۔(٨١)

        شب عاشور اصحاب حضرت امام حسین ـ نے اپنی وفاداری کا اسی طرح اظہار کیا۔اگر ہم کئی بار قتل ہوجائیں پھر زندہ،تو بھی حضرت امام حسین ـ کی نصرت کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔

١٠۔حضرت موسیٰ   ـ کی بہن پیغام لانے والی تھی۔

        ہَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی مَنْ یَّکْفُلُہ کیا میں تمہیں ایک ایسے گھر کی نشاندہی کروں جو اس نومولود بچہ کی کفالت کرے(اور وہاں اس کیلئے ایک اچھی دایہ ہے)۔(٨٢)

        حضرت امام حسین ـ کی بہن حضرت زینب بھی پیغام پہچانے والی تھی۔

١١۔حضرت موسیٰ   ـ خدا کے مخلص بندے تھے۔

        وَ اذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ مُوْسٰیز اِنَّہ کَانَ مُخْلَصًا اوراس(آسمانی) کتاب میں موسیٰ کو یادکرو۔ وہ مخلص تھا ۔(٤)

        حضرت امام حسین ـ بھی خدا کے ایک مخلص بندے تھے۔

١٢۔حضرت موسیٰ   ـ  کلیم اللہ اور مقربین میں سے تھے۔

        حضرت امام حسین ـ  میں بھی یہ دو خصوصیات تھیں۔

        وَکَلَّمَ اﷲُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا اور خدا نے موسیٰ سے کلام کیا۔(٨٣)

        وَ نَادَیْنہُاٰا مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنہُاٰا نَجِیًّاہم نے اُسے(کوہِ) طور کی دائیں طرف سے پکارا اور اسے قریب کیا اور اس سے ہم نے گفتگو کی۔(٨٤)

١٣۔حضرت موسیٰ   ـنے اپنی قوم کو صبر کرنے کے لیے فرمایا تھا:

        قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہِ اسْتَعِیْنُوْا بِاﷲِ وَاصْبِرُوْا اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰہِ یُوْرِثُہَا مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ

        موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: خدا سے مدد چاہو اور صبر اختیار کرو کہ زمین خدا ہی کی ہے اپنے بندوں میں سے وہ جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے اور نیک انجام پرہیز گاروں کیلئے ہے۔(٨٥)

        حضرت امام حسین ـ نے بھی اپنے اصحاب کو راہ خدا میں صبر کرنے کی تلقین فرمائی تھی۔((صبراً یا بنی الکرام فما الموت ال قنطرة تعبر بکم))(٨٦)

١٤۔اصحاب حضرت موسیٰ   ـ کی تعداد کم تھی۔

        وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰی اُمَّة یَّہْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِہ یَعْدِلُوْنَاور قوم موسیٰ میں سے ایک گروہ حق کی طرف ہدایت کرتا ہے اور اسی حق کے ساتھ عدالت کرتا ہے۔(٨٧)

        فَمَآ ٰامَنَ لِمُوْسٰی اِلَّا ذُرِّیَّة مِّنْ قَوْمِہ(شروع میں) کوئی شخص موسیٰ پر ایمان نہ لا یامگر صرف اس کی قوم کی اولاد میں سے ایک گروہ۔(٨٨)

        اصحاب حضرت امام حسین ـ کی تعداد ہی میں تھے۔

١٥۔اصحاب حضرت موسیٰ   ـ نے خدا پر توکل کیا۔

        وَ قَالَ مُوْسٰی ٰیقَوْمِ اِنْ کُنْتُمْ ٰامَنْتُمْ بِاﷲِ فَعَلَیْہِ تَوَکَّلُوْآ اِنْ کُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَموسیٰ نے کہا: اے میری قوم! اگر تم خدا پر ایمان لائے ہو تو اس پر توکل کرو اگر اس کے فرمان کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہو۔

        فَقَالُوْا عَلَی اﷲِ تَوَکَّلْنَا رَبَّنَا لااَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَانہوں نے کہا ہم صرف خدا پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ پروردگار! ہمیں ظالم گروہ کے زیراثر قرار نہ دے۔(٨٩)

        اصحاب حضرت امام حسین ـبے بھی امام کی طرح خدا پر توکل کیا۔

١٦۔حضرت موسیٰ   ـ مجرم لوگوں کی حمایت نہیں کرتے تھے بلکہ آپ نے ان کے ساتھ جنگ کی۔

        قَالَ رَبِّ بِمَآ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَکُوْنَ ظَہِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ

        اُس نے عرض کی :اے پروردگار ! میں اس نعمت کے شکرانہ میں جو تو نے مجھے عطافرمائی ہے، کبھی مجرموں کی مدد نہ کروں گا۔(٩٠)

        حضرت امام حسین ـ نے بھی مجرم افراد کی کبھی حمایت نہیں فرمائی۔بلکہ یزید جیسے فاسق کے ساتھ جنگ کی۔

١٧۔حضرت موسیٰ   ـ نے تمام امور میں خدا کو وکیل بنایا۔

        حضرت امام حسین ـ نے خدا کو وکیل بنایا۔

٥۔حضرت امام حسین ـ وارث حضرت عیسیٰ  ـ

السلام علیک یا وارث عیسی روح اللّٰہ

١۔حضرت عیسیٰ  ـکی ماں صدیقہ تھی۔

        وَ اُمُّہ صِدِّیْقَة  ان کی ماں بھی بہت سچی خاتون تھیں ۔(٩١)

        حضرت امام حسین ـ کی ماں بھی صدیقہ تھی۔جب امام جعفر صادق   ـسے پوچھا گیا کہ حضرت علی  ـنے جناب فاطمہ زہراء کو کیوں غسل دیا؟

        تو آپ ـنے فرمایا :((لانھا صدیقہ ولا یغسلھا الا صدیق))

        کیونکہ وہ صدیقہ تھیں اور صدیقہ کوصدیق ہی غسل دے سکتا ہے۔یعنی حضرت عیسیٰ  ـاور حضرت امام حسین ـدونوں کی مائیں معصوم تھیں۔

        قرآن مجید میں ہے:

        اِنَّ اﷲَ اصْطَفٰکِ وَطَہَّرَکِ وَاصْطَفٰکِ عَلٰی نِسَآئِ الْعٰلَمِیْنَ

        خد انے تجھے چنا ' پاک کیا اور تمام جہان کی عورتوں پر برتری اور فضیلت دی۔(٩٢)

        یہ آیت اگرچہ حضرت مریم  کے بارے میں ہے لیکن حضرت زہراء  بھی اس میں شامل ہیں۔

٢۔حضرت عیسیٰ  ـعبد خدا تھے۔

        اِنِّیْ عَبْدُ اﷲ ااٰاٰتنِیَ الْکِتٰب میںاللہ کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھے (آسمانی) کتاب دی ہے۔(٩٣)

        حضرت امام حسین ـ خدا کے خاص بندے تھے۔

٣۔حضرت عیسیٰ  ـکا وجود مبارک تھا۔

        وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَکًا اَیْنَ مَا کُنْتاور میں جہاں کہیں بھی ہوں مجھے برکتوں والا بنایا ہے۔(٩٤)

        حضرت امام حسین ـ کا وجود مبارک تھا۔آپ کی شہادت سے اسلامی معاشرے میں بہت سی برکات کے اثرات ہیں۔

٤۔حضرت عیسیٰ  ـمریض کو شفا دیتے تھے۔

        وَ اُبْرِیُٔ الْاَکْمَہَ وَ الْاَبْرَصَ  اندھے کو اور برص میں مبتلا لوگوں کو شفا دیتا ہوں۔(٩٥)

        حضرت امام حسین ـ بھی ایک مریض کی عیادت کے لیے گئے تو اس کا بخار اتر گیا۔مریض نے آپ سے کہا:میں خوش ہوں کہ آپ کے آنے سے میرا بخار اتر گیا اور یہ خاندان رسالت کی کرامت ہے۔آپ نے فرمایا:خدا نے کوئی ایسی چیز خلق نہیں کی جو ہماری مطیع نہ ہو۔

        ((واللّٰہ ما خلق اللّٰہ شیئاً الا وقد امرہ بالطاعة لنا))(٩٦)

٥۔حضرت عیسیٰ  ـمردوں کو زندہ کرتے تھے۔

َ        وَ اُحْیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اﷲ میں خدا کے اذن سے مردوں کو زندہ کرتا ہوں۔(٩٧)

        ایک روایت میں ہے کہ ایک جوان لڑکا روتا ہوا حضرت امام حسین ـ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا :میری ماں فوت ہوگئی ہے اور اس نے اپنے مال کے لیے وصیت نہیں کی تھی۔امام اس کے گھر میں تشریف لے گئے اور حکم خدا سے زندہ کیا۔وہ زندہ ہوکر کہنے لگی:یابن رسول اللہ :ایک سوم مال آپ کے لئے اور دوسوم بیٹے کے لئے ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ آپ کا یارومددگار  رہے اگر آپ کے لئے باوفا نہیں تو وہ مال بھی آپ کا ہے۔

        پھر اس کی ماں حضرت امام حسین ـ سے درخواست کرتی ہے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی نماز جنازہ پڑھیں اس کے بعد وہ اللہ کو پیاری ہوگئی۔(٩٨)

٦۔حضرت عیسیٰ  ـنے جب لوگوں میں کفر والحاد دیکھا تو فرمایا:

        خدا کی حمایت کیلئے میرا ساتھ دینے والے کون افراد ہیں۔

        فَلَمَّآ اَحَسَّ عِیْسٰی مِنْہُمُ الْکُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اﷲِ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اﷲَِ

        حضرت عیسیٰ نے ان سے کفر (اور مخالفت) کو دیکھا تو کہا کون خدا کی طرف (اور اس کے دین کے لئے )میرا یاور و مددگار بنے گا ؟ حواریین (جو ان کے مخصوص شاگرد تھے) کہنے لگے ہم خدا کے یاور و مددگار ہیں ۔(٩٩)

        حضرت امام حسین ـ نے بھی روز عاشورا فرمایا:((أفلا ناصرٍ ینصرنی))(١٠٠)

٧۔حضرت عیسیٰ  ـخدا کی بارگاہ میں آبرو مند اور مقرب تھے۔

        اِنَّ اﷲَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَةٍ مِّنْہُ اسْمُہُ الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْہًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ

        خدا اپنی طرف سے تجھے ایک کلمہ اور (با عظمت شخصیت) کی بشارت دیتا ہے جس کا نام عیسیٰ بن مریم ہے وہ دنیا وآخرت میں مقام و عظمت کا مالک ہو گا اور وہ مقربین میں سے ہے۔(١٠١)

        حضرت امام حسین ـ میں بھی یہ دونوں خوبیاں تھیں۔

٦۔حضرت امام حسین ـ وارث رسول اکرم  ۖ

السلام علیک یا وارث محمد حبیب اللّٰہ

١۔ رسول اکرم  ۖلوگوں کی ہدایت کے لیے فکر مند رہتے تھے۔

        عَزِیْز عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْص عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَئُوْفاا رَّحِیْم

        جسے تمہاری تکالیف اور رنج و الم ناگوار ہیں اور جو تمہاری ہدایت پر اصرار کرتا ہے اور مومنین پر رئوف و مہربان ہے۔(١٠٢)

        حضرت امام حسین ـ کو بھی لوگوں کی ہدایت کی بڑی فکر تھی۔اسی لئے بعض افراد نے آپ کا ساتھ دیا جیسے زہیر نے امام  ـکی دعوت قبول کی۔عبیداللہ حر جعفی ابن یزیدنے بھی آخری وقت آپ کا ساتھ دیا۔

٢۔رسول اکرم  ۖخلق عظیم کے مالک تھے۔

        وَ اِنَّکَ لَعَلٰی لَخُلُقٍ عَظِیْمٍاورتو اخلاق کے عظیم درجہ پر فائز ہے۔(١٠٣)

        ایک روایت میں ہے کہ حضرت امام حسین ـ کے غلام نے کوئی غلطی کی ،آپ ـاسے سرزنش کرنا چاہتے تھے لیکن یہ آیت پڑھی۔

ِ        وَ الْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَ اﷲُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ

        اپنا غصہ پی جاتے ہیں،لوگوں کی خطائوں سے در گزر کرتے ہیں اور خدا نیکو کار لوگوں کو دوست رکھتا ہے۔(١٠٤)

        اس کے بعد آپ ـ نے فرمایا :آج کے دن کے بعد میں تجھے دو بھائیوں کے حقوق کے برابر حق دوں گا۔((ولک ضعف ما عطیک))(١٠٥)

٣۔رسول اکرم  ۖشرح صدر رکھتے تھے۔

        اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَککیا ہم نے تیرے سینہ کو کشادہ نہیں کیا؟(١٠٦)

        حضرت امام حسین ـ بھی شرح صدر رکھتے تھے۔اس لئے آپ ـ نے دشمن اور اس کے سپاہیوں اور گھوڑوں کو پانی پلایا۔ایک آدمی دیر سے آیا تو آپـ نے اسے خود پانی دیا۔(یہ حر اور اس کے لشکر کی طرف اشارہ ہے)

٤۔رسول اکرم  ۖتسبیح پڑھنے والے تھے۔

         سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَیاپنے بلند پروردگار کے نام کی تسبیح کر۔(١٠٧)

        حضرت امام حسین ـ بھی تسبیح گوہ تھے۔((سبحان الرفیع الاعلی سبحان العظیم الاعظم...سبحان من قضی الموت علی العباد۔سبحان الملک المقتدر سبحان الملک القدوس سبحان الباقی الدائم))(١٠٨)

٥۔رسول اکرم  ۖمعزز تھے۔

        وَ لِلّٰہِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِہ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ حالانکہ عزت اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے لئے مخصوص ہے۔(١٠٩)

        حضرت امام حسین ـ بھی عزت والے تھے۔((ھیھات منا الذلہ)) (١١٠)

٦۔رسول اکرم  ۖعفودرگزر کرنے والے تھے۔

        خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰہِلِیْنَان سے نرمی برتو اور ان کا عذر قبول کر لو اور نیکیوں کی طرف دعوت دو اور جاہلوں سے رخ موڑ لو(ان سے لڑائی جھگڑا نہ کرو)۔(١١١)

        عصار بن مصطلق کہتا ہے :میں مدینہ میں حضرت امام حسین ـکی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے حضرت امام علی  ـکو برا بھلا کہا تو حضرت امام حسین ـنے اس آیت کی تلاوت فرمائی :

        خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰہِلِیْنَ

        ان سے نرمی برتو اور ان کا عذر قبول کر لو اور نیکیوں کی طرف دعوت دو اور جاہلوں سے رخ موڑ لو(ان سے لڑائی جھگڑا نہ کرو)۔(١١٢)

        پھر آپ ـ نے فرمایا :اگر تجھے مدد کی ضرورت ہے تو ہم تیری مدد کرتے ہیں ۔اگر تجھے ہدایت کی ضرورت ہے تو ہم آپ کو وعظ ونصیحت کریں۔

        ((انک لو اسعنتنا لاعناک ولو استرفدتنا لرفدناک ولو استرشدتنا لارشدناک))

        عصار کہتا ہے :حضرت امام حسین ـ کا یہ سلوک دیکھ کر میں شرمندہ ہوا اور اس آیت کی تلاوت کی ۔

        قَالَ لااَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اﷲُ لَکُمْ وَ ہُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ

        اس نے کہا: آج تم پر کوئی ملامت اور سرزنش نہیں ہے، اللہ تمہیں بخشے اور وہ ارحم الراحمین ہے۔(١١٣)

        آخر میں امام ـنے پوچھا :کیا تو شامی ہے ؟((امن اھل الشام انت؟))(١١٤)

٧۔رسول اکرم  ۖمعلم انسان اور لوگوں کا تذکیہ نفس کرنیوالے تھے۔

        لَقَدْ مَنَّ اﷲُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثاَا فِیْہِمْ رَسُوْلااًا مِّنْ اَنْفُسِہِمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ ٰاٰیتِہ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَةَج وَ اِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ

        خدا نے مومنین پر احسان کیا (انہیں ایک عظیم نعمت بخشی) جبکہ ان میں انہی کی جنس سے ایک پیغمبر مبعوث کیا جو ان کے سامنے اس کی آیات پڑھتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ اس سے پہلے وہ واضح گمراہی میں تھے۔(١١٥)

        حضرت امام حسین ـ نے بھی یزید کے خلاف جنگ کی اور اپنے خون کو لوگوں کی ہدایت کے ایثار کیا۔

        ((وبذل مھجتہ لیسنقذ عبادک من الجھالة وحیرة الضلالة))(١١٦)

٨۔رسول اکرم  ۖسخی انسان تھے۔

        وَ لااَا تَبْسُطْہَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا

        اور نہ ہی اُسے بالکل کھول دے کہ (آخر کار) تو ملامت زدہ اوربے کار ہو کر رہ جائے۔(١١٧)

        حضرت امام حسین ـسے ایک عربی شخص نے نیاز مندی کا اظہار کیا تو آپـ نے اسے چار ہزار درہم عطا کئے۔یہ عربی رونے لگا تو آپ ـ نے فرمایا :کیا یہ رقم کم ہے ؟((لعلک استقللت مااعطیناک؟))اس شخص نے کہا:میں اس لئے رو رہا ہوں کہ یہ باکرامت ہاتھ کیسے زمین میں دفن ہوگا۔((ولکن کیف یأکل التراب جودک))(١١٨)

٩۔رسول اکرم  ۖموت سے نہیں ڈرتے تھے۔

        اس لئے آپ  ۖ کو خطاب ہوا۔((لاتکلف الا نفسک))

        حضرت امام علی  ـنے فرمایا :((کنا اذا احمر البأس اتقینا برسول اللّٰہ))(١١٩)

        حضرت امام حسین ـبھی موت سے نہیں ڈرتے تھے۔اور خدا کی راہ میں شہادت کو سعادت سمجھتے تھے۔

        ((وانی لا اری الموت الا سعادة والحیاة مع الظالمین الا برماً)) (١٢٠)

١٠۔رسول اکرم  ۖنے امرونہی کیا۔

        یَاْمُرُہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْہٰہُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ اور یہ نبی انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے اور بدی سے روکتا ہے۔(١٢١)

        حضرت امام حسین ـنے فرمایا :

        ((ارید ان آمر بالمعروف وأنھی عن المنکر))میں لوگوں کو امر ونہی کرنے کے لیے نکلا ہوں۔(١٢٢)

١١۔رسول اکرم  ۖمیں تمام انسانی کمالات تھے۔

        لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اﷲِ اُسْوَة حَسَنَة  تم لوگوں کے لئے رسولِ خدا کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے ۔ (١٢٣)

        حضرت امام حسین ـمیں بھی تمام انسان کیلئے نمونہ عمل تھے ۔

١٢۔رسول اکرم  ۖنے کفار اور منافق لوگوں کی اطاعت نہیں کی۔

َ        لااَا تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَ الْمُنفِقِیْنَاٰاکفار و منافقین کی اطاعت نہ کرو۔(١٢٤)

        حضرت امام حسین ـنے بھی کفارومنافقین کی بیعت نہیں کی۔

١٣۔رسول اکرم  ۖنے لوگوں کو خرافات سے نجات دی۔

        وَ یَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْہِمْ اور وہ ان کے کاندھوں سے بوجھ

ہٹاتا ہے اور ان تمام طوق و سلاسل کو ان سے الگ کرتا ہے۔(١٢٥)

        حضرت امام حسین ـنے بھی بدعات کو ختم کیا۔

        ((ان البدعة قد احییت والسنة قد امیتت))

١٤۔رسول اکرم  ۖنے فتح مکہ کے دن لوگوں کو معاف کردیا

        حضرت یوسف ـکے اس کلام کو یاد کیا۔

َ        لااَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اﷲُ لَکُمْ وَ ہُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ

        آج تم پر کوئی ملامت اور سرزنش نہیں ہے، اللہ تمہیں بخشے اور وہ ارحم الراحمین ہے۔(١٢٦)

        حضرت امام حسین ـنے بھی شب عاشور معاف فرمایا تھا:جب شمر امان نامہ لے کر آیا اور کسی نے جواب نہ دیا تو آپـ نے فرمایا :اگرچہ یہ فاسق ہے لیکن جواب دو۔

        ((اجیبوہ وان کان فاسقاً فانہ بعض اخوالکم))(١٢٧)

١٥۔رسول اکرم  ۖنے مقام ولایت کا دفاع کیا۔

        روایت میں ہے کہ ایک جنگ میں کسی صحابی نے مال غنیمت لوگوں میں تقسیم کردیا حضرت علی ـ نے سارا مال غنیمت واپس لے لیا اور فرمایا :تو نے مال غنیمت رسول خدا  ۖکی خدمت میں پہنچنے سے پہلے کیوں تقسیم کیا لوگوں نے رسول خدا  ۖکی خدمت میں حضرت علی  ـکی شکایت کی۔رسول خدا  ۖ نے فرمایا :علی  ـکی شکایت نہ کرو۔

        ((ارفعوا السنتکم عن علی بن ابی طالب فانہ خشن فی ذات اللّٰہ غیر مداھن فی دینہ))(١٢٨)

        حضرت امام حسین ـنے بھی ولایت کا دفاع کیا۔آپ ـ نے جب یہ سنا کہ مدینہ کا حاکم مروان نے مسجد میں حضرت کی اہانت کی ہے تو آپ ـفوراً مسجد میں آئے اور مروان کی سرزنش کی اور اس آیت کی تلاوت فرمائی :

        اِنَّ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِِ سَیَجْعَلُ لَہُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا

        جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے خدائے رحمان ان کی محبت دلوں میں ڈال دے گا۔(١٢٩)

        اور فرمایا :یہ آیت حضرت امام علی  ـاس کے ماننے والوں کے بارے میں ہے۔

        پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی :

        فَاِنَّمَا یَسَّرْٰنہُ بِلِسَانِکَ لِتُبَشِّرَ بِہِ الْمُتَّقِیْنَ وَتُنْذِرَ بِہ قَوْمًا لُّدًّا

        ہم نے قرآن کو تیری زبان پر آسان کر دیا ہے تاکہ اس کے ذریعے تو پرہیز گاروں کو بشارت دے اور سخت قسم کے دشمنوں کو ڈرائے۔(١٣٠)

        اور فرمایا :یہ آیت تیرے اور تیرے ماننے والوں کے بارے میں ہے۔

١٦۔بعض اصحاب نے رسول اکرم  ۖکو جنگ میں اکیلا نہیں چھوڑا۔

         اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا بِاﷲِ وَ رَسُوْلِہ وَ اِذَا کَانُوْا مَعَہ عَلٰی اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْہَبُوْا حَتّٰی یَسْتَاْذِنُوْہ

        حقیقی مومن وہ ہیں کہ جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہوں اور جس وقت کسی اہم کام میں اس کے ساتھ ہوں تو اس کی اجازت کے بغیر کہیں نہ جائیں۔(١٣١)

        حضرت امام حسین ـکے اصحاب نے جنگ میں شرکت کی اور امام ـ نے فرمایا:میں نے اپنے اصحاب سے بڑھ کر کسی کو باوفا نہیں پایا۔

١٧۔رسول اکرم  ۖمتواضع تھے۔

        وَ اخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَاپنے بازوان مومنین کیلئے جھکا دو جو تمہاری پیروی کرتے ہیں۔(١٣٢)

        حضرت امام حسین ـبھی متواضع تھے۔حضرت امام حسین ـکے بھائی محمد حنفیہ آپ ـ کو خط لکھتا ہے :اے میرے بھائی !میر ے  اور تیرے باپ حضرت علی  ـہیں پس اس لحاظ سے ہمیں ایک دوسرے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ،لیکن تیری ماں رسول خدا  ۖکی بیٹی حضرت زہراء  ہیں ۔اگر پوری زمین سونے سے بھر جائے اور میرے لیے ہوتو پھر بھی تیری ماں با فضیلت ہیں۔

        جب میرا خط تمہیں ملے تو پڑھیں اور میرے پاس آئیں تاکہ مجھے راضی کریں،کیونکہ تم بافضیلت ہو۔والسلام علیکم ورحمة ...

        حضرت امام حسین ـمحمد حنفیہ کا خط پڑھنے کے بعد بڑے تواضع کے ساتھ اٹھے اور اپنے بھائی محمد حنفیہ کے پاس گئے۔اس کے بعد محمد حنفیہ کے دل میں کدورت کبھی نہ آئی۔

        اسی طرح ایک دن حضرت امام حسین ـ مساکین کے پاس سے گزر رہے تھے۔آپ نے دیکھا کہ دستر خوان پر روٹی کا ٹکڑا رکھا ہوا تھا اور مساکین تناول کررہے تھے حضرت نے انہیں سلام کیا ۔ انہوں نے جواب دیا اور آپ کو دعوت دی تاکہ آپ ان کے ساتھ بیٹھ کر غذا کھائیں ۔امام  ـان کے پاس بیٹھ گئے اور فرمایا: اگر تمہارا کھانا صدقہ نہ ہوتا تو میں آپ کے ساتھ ضرور کھاناکھاتا پھر فرمایا: آپ بھی میرے گھر آئیں ۔ فقیر آپـکے گھر تشریف لے گئے حضرت امام حسین ـنے انہیں غذا اور لباس دیا اور کچھ رقم بھی دی۔

١٨۔رسول اکرم  ۖشجاع تھے۔

        اس لئے بہت سی جنگوںمیںآپ ۖنے شرکت کی۔حضرت امام حسین ـبھی شجاع تھے ۔لہذا آپ کے اصحاب ایک دوسرے سے کہتے تھے۔

        ((انظروا لا یبالی بالموت)) حسین بن علی کو دیکھو !موت سے نہیں ڈرتے۔

 

 

پاورقی:

 ١۔ سورہ احزاب،آیہ٣٩(٢)۔سورہ جن ،آیہ٢٧ (٣)۔بحارالانوار ٤٤/٣٦٤ (٤) ۔ سورہ ابراھیم،آیہ ١٢(٥)۔بحارالانوار ٤٥/٤(٦)۔سورہ انبیاء ،آیہ٧٣ (٧)۔ بحارالانوار ٩٤/١٨٤(٨)۔سورہ شعراء :١٠٦۔١٠٨(٩)۔سورہ نحل :٣٦(١٠)۔سورہ اعراف:٦٥ (١١)۔سورہ آل عمران:٣٨۔٣٩(١٢)۔سورہ انبیاء :٨٥۔٨٦(٣ ١)۔ سورہ انعام :٨٥(١٤)۔سورہ صافات:١٣١(١٥)۔سورہ انعام:٨٦(١٦)۔سورہ ص:٤٨(١٧)۔سورہ ص:٤٥۔٤٧ (١٨)۔سورہ بقرہ:٣٠(١٩)۔ سورہ بقرہ :٣٣ (٢٠)۔سورہ احقاف :١٥(٢١)۔کشف الغمہ ٢/٢٩(٢٢)۔ سورہ نمل ،آیہ١٥(٢٣)۔ سورہ ص:٢٥ و٤٠ (٢٤)۔ سورہص: ٤٤(٢٥)۔ سورہ مریم :٥٤۔٥٥(٢٦)۔کشف الغمہ ٢/٢٩(٢٧)۔ سورہ یوسف :١٨(٢٨)۔ سورہ یوسف :٩٢(٢٩)۔سورہ ھود:٨٨ (٣٠) ۔بحارالانوار ٤٤/٣٢٩ (٣١)۔ سورہ یوسف:٨٦ (٣٢)۔ بحار الانوار٤٥/ ٥٠ (٣٣)۔بحارالانوار٤٥/٥٢(٣٤)۔سورہ یوسف:٢٣ (٣٥)۔بحارالانوار ٤٤ / ١ ٨ ٣ (٣٦)۔سورہ عنکبوت :١٥(٣٧)۔سورہ ھود:٤٠(٣٨)۔سورہ ھود:٣٧ (٣٩)۔ بحار ا لانوار٤٥/٤٦(٤٠)۔سورہ اسرائ:٣(٤١)۔سورہ شعرائ:١١٤(٤٢)۔سورہ نوح : ٥ (٤٣)۔سورہ بقرہ :١٢٧(٤٤)۔سورہ ابراھیم :٣٧(٤٥)۔سورہ انعام : ٧٥ (٤٦)  ۔ تعذیب الاحکام ٦/٥ (٤٧)۔سورہ انبیاء :٦٧ (٤٨)۔سورہ انبیاء :٥٧ (٤٩) ۔ مقتل الحسین خوارزمی ١/١٨٤(٥٠)۔سورہ صافات :١٠٣ ۔١٠٦ (٥١)۔ سورہ شعراء : ٧٨ ۔٨٠(٥٣)۔سورہ ممتحنہ :٤(٥٤)۔سورہ نساء :١٢٥ (٥٥)۔سورہ عنکبوت :٢٦ (٥٦)۔سورہ صافات :٤٣ الی ٨٤(٥٧)۔سورہ نحل :١٢٠(٥٨)۔بحار ١٤/٢٤٢ (٥٩)۔بحار٥ ٤/٤(٦٠)۔سورہ شعراء :٨٠(٦١)۔فرھنگ سخنان امام حسین ، ص٦٩٠(٦٢)۔سورہ ابراھیم :٣٩ (٦٣)۔بحار ٤٥/٥(٦٤)۔سورہ صافات :١٠٢ (٦٥)۔سورہ انعام :٧٨۔٧٩(٦٦)۔سورہ نحل :١٢١(٦٧)۔سورہ نازعات :١٧ (٦٨)۔سورہ طہ :٤٤(٦٩)۔فرھنگ سخنان امام حسین ، ص٣٤٤(٧٠)۔ سورہ قصص :٢١(٧١)۔سورہ قصص :٢٤ (٧٢)۔بحار ٩٨/٢٢٥(٧٣)۔سورہ قصص :٣٥ (٧٤)۔سورہ طہ :٢٩۔٣١(٧٥)۔بحار ٤٥/٤١ (٧٦)۔سورہ احزاب :٦٩ (٧٧)۔دعائے توسل (٧٨)۔سورہ صف،آیہ٥(٧٩)۔لھوف ،ص٣٨ (٨٠) ۔ سورہ طہ :٦٩ (٨١)۔سورہ طہ :٧٢(٨٢)۔سورہ طہ :٤٠(٤) ۔سورہ مریم :٥١ (٨٣)۔سورہ نساء :١٦٤(٨٤)۔ورہ مریم :٥٢ (٨٥)۔سورہ اعراف :١٢٨(٨٦)۔ معانی الاخبار،ص٢٨٨(٨٧)۔ سورہ اعراف :١٥٩(٨٨)۔ سورہ یونس :٨٣ (٨٩)۔ سورہ یونس :٨٤۔٨٥(٩٠)۔ سورہ قصص، آیہ ١٧(٩١)۔ سورہ مائدہ :٧٥  (٩٢)۔سورہ آل عمران :٤٢ (٩٣)۔ سورہ مریم:٣٠(٩٤)۔ سورہ مریم:٣١(٩٥)۔ سورہ آل عمران :٤٩(٩٦)۔فرھنگ سخنان امام حسین، ص٧١١(٩٧)۔سورہ آل عمران :٤٩ (٩٨)۔بحارالانوار٤٤/١٨٠۔١٨١(٩٩)۔ سورہ آل عمران :٥٢ (١٠٠)۔بحارالانوار٤٢/٣٦٤(١٠١)۔ سورہ آل عمران :٤٥ (١٠٢)۔ سورہ توبہ :١٢٨ (١٠٣)۔ سورہ قلم :٤(١٠٤)۔ سورہ آل عمران :١٣٤(١٠٥)۔بحارالانوار ٤٤/١٩٥ (١٠٦)۔سورہ الم نشرح ،آیہ ١(١٠٧)۔ سورہ اعلیٰ :١(١٠٨)۔بحارالانوار ٩٤/٢٠٦ (١٠٩)۔سورہ منافقون :٨(١١٠)۔لھوف،ص١٥٦(١١١)۔سورہ اعراف :١٩٩ (١١٢)۔ سورہ اعراف :١٩٩(١١٣)۔ سورہ یوسف :٩٢(١١٤)۔ فرھنگ سخنان امام حسین ، ص٢٩٣ (١١٥)۔سورہ آل عمران :١٦٤(١١٦)۔ زیارت اربعین(١١٧)۔ سورہ اسراء : ٢٩(١١٨)۔بحارالانوار ٤٤/١٩٠(١١٩)۔بحارالانوار ١٦/١١٦ (١٢٠)۔بحارالانوار ٤٤/ ١٩٢(١٢١)۔ سورہ اعراف :١٥٧ (١٢٢)۔بحارالانوار ٤٤/٣٢٩(١٢٣)۔سورہ احزاب :٢١ (١٢٤)۔ سورہ احزاب :١(١٢٥)۔سورہ اعراف :١٥٧(١٢٦)۔ سورہ یوسف :٩٢ (١٢٧)۔ لھوف ،ص٨٧(١٢٨)۔بحارالانوار ٢١/٣٨٥(٩ ١٢)۔سورہ مریم :٩٦ (١٣٠)۔ سورہ مریم :٩٧ (١٣١)۔ سورہ سورہ نور:آیہ ٦٢(١٣٢)۔ سورہ شعراء :٢١٥

 

 

 

 

 

 

 

 

        ہر انسان دوچیزوںکا مرکب ہے ۔ایک جسم اور دوسری روح۔جس طرح جسم کو مادی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے،جیسے غذا ولباس وغیرہ۔اسی طرح روح کو معنوی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔والدین اپنی اولاد کی مادی ضروریات کو اچھی طرح جانتے ہیں اور ہر لحاظ سے خیال رکھتے ہیں،لیکن بعض والدین بچوں کی معنوی ضروریات کو نہیں جانتے اور اپنی اولاد کی صحیح تربیت نہیں کرسکتے۔

        آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ مادی ضروریات فقط بعض جسمانی ضرورت شمار ہوتی ہیں۔ان دومادی ومعنوی ضروریات میں سے معنوی ضرورت زیادہ با اہمیت ہے کیونکہ بعض معنوی کی عدم موجودگی سے انسان اور خاص طور پر بچے کی جسمانی رشدونمو میں خلل پیدا ہوسکتا ہے۔اب ہم بنیادی اور اہم ضروریات کو بیان کرتے ہیں۔

١۔بچے سے محبت:

        بے شک بچے کو بنیادی ترین مادی ضروریات کی مانند محبت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔محبت صرف انسانوں میں نہیں بلکہ حیوانوں میں مشاہدہ کی جاتی ہے۔البتہ انسان میںمحبت زیادہ ہے۔والدین کو بچے کی اس ضرورت پر پوری توجہ دینی چاہئے۔ماں باپ کی محبت سے بچے کو آرام وسکون ،اعتماد بنفس اور روحی شادابی اعتماد بنفس سے محروم رہتی ہے بلکہ احساس کمتری ،عجزوانکساری نفسیاتی مریض اور انحرافات اجتماعی کا شکار ہوجاتا ہے۔

        جب ہم اہل بیت٪کی عملی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اولاد کی تربیتی میں بچوں سے محبت کو بڑی اہمیت دی ہے۔

        ایک دن رسول خدا  ۖنے حضرت امام حسن وحضرت امام حسین ٪کا بوسہ لیا ۔اقرع بن حالبس یہ دیکھ کر آنحضرت ۖ سے کہنے لگا :میرے دس بچے ہیں لیکن میں نے آج تک کسی کا بوسہ نہیں لیا۔آپۖ نے فرمایا:میں کیا کروں،خدا نے تیرے دل سے رحمت کو ختم کردیا ہے۔(١)

        حضرت امام صادق   ـاپنے بچے سے بہت محبت کرتے تھے ۔جب امام ـ سے لوگ پوچھتے کہ یابن رسول اللہ!آپ کو اپنے بچے سے کتنی محبت ہے تو آپـ فرماتے :مجھے اس بچے سے اس قدر محبت ہے کہ چاہتا ہوں دوسرا بچہ نہ ہو ،تاکہ یہ محبت ان میں تقسیم ہوجائے۔(٢)

        حضرت امام موسیٰ کاظم  ـاپنے بیٹے علی رضاـ کو دامن میں لیتے ،اس کا بوسہ لیتے،اس کی زبان چوستے،اسے اپنے کندھوں پر اٹھاتے،اسے بغل کرتے ،اور فرماتے:تیرا باب تجھ پر قربان ہو!کتنے باخوشبو ہو ،کتنے فضائل کے مالک ہو!۔(٣)

        اولاد کی محبت میں مساوات ہونی چاہئے۔ ایک بچے سے کم اور دوسرے سے زیادہ پیار کرنا حسد کا باعث بنتا ہے۔

        ایک دن رسول خدا  ۖکے سامنے ایک شخص نے اپنے ایک بچے کا بوسہ لیا اور دوسرے کا بوسہ نہ لیا۔آنحضرتۖ نے فرمایا:تو بچوں کے درمیان عدالت نہیں کی۔لہذا دوسرے بچے کابھی بوسہ لو تاکہ مساوات رہے۔(٤)

        پیار ومحبت صرف اپنی اولاد سے مخصوص نہیں بلکہ دوسروں کے بچوں سے محبت کرنا فطرتی عمل ہے ۔رسول خدا  ۖہر بچے سے محبت کرتے تھے۔آپۖ نے بچوں سے پیار کرنے کو عبادت قرار دیا ہے آپ ۖ نے فرمایا:اپنے بچوں سے محبت کرو اور ان پر رحم کرو،اپنے بچوں کا بوسہ لو کیونکہ ہر بوسے کے بدلے جنت میں ایک درجہ ملتا ہے۔باپ کی محبت اپنے بچے کے چہرے پر محبت بھری نگاہ کرنا عبادت ہے۔(٥)

حضرت امام جعفرصادق   ـنے فرمایا:حضرت موسیٰ   نے خدا سے عرض کیا۔خدایا!تیرے نزدیک سب سے بہترین عمل کیا ہے؟

خداوند عالم نے فرمایا:بچوں سے محبت بہترین عمل ہے۔کیونکہ میںنے انہیں فطرت توحید پر پیدا کیا اور اگر وہ مرجائیں تو سب کو اپنی رحمت سے جنت میں بھیجوں گا۔بہت سے ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ محبت کی کمی سے بچے جسمانی مشکلات سے دوچار ہوتے ہیںمثلاً چہرے کا رنگ بدل جانا،طبیعی شادابی سے محروم ،سانس کی مشکل اور اسی طرح معدے وآنتوں کا درد جو کہ بعد میں بچوں میں اسہال کا باعث ہوتا ہے۔(٦)

        بہت سے لوگ اپنی اولاد سے محبت کرتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ وہ محبت کا اظہار کیسے کریں۔دل میں محبت کرتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ وہ محبت کا اظہار کیسے کریں۔دل میں محبت کا ہونا کافی نہیں خصوصاً بچوں کو جب لمس نہ کریں وہ درک نہیں کر سکتے۔لہذا بچے کو ہاتھوں پر اٹھانا،اس کا بوسہ لینا،سر پر ہاتھ پھیرنا اور محبت آمیز الفاظ سے باتیں کرنے کا انجام اظہار محبت ہے۔بعض افراد اپنی اولاد سے محبت کرنے میں افراط وتفریط سے کام لیتے ہیں اور یہ بالکل غلط ہے۔افراط وتفریط جاہل لوگوں کا کام ہوتا ہے۔

حضرت امام جعفر صادق   ـنے فرمایا:((شرالآباء من دعاہ البر الی الافراط))یعنی بدترین باپ وہ ہیں جو اولاد سے نیکی میں افراط کرتے ہیں۔(٧)

        حضرت امام علی  ـنے فرمایا:((حب ا لشی یعمی ویعم))یعنی کسی بھی چیز کی محبت انسان کو اندھا کردیتی ہے۔(٨)

بچوں سے محبت کا انداز:

        سیرت اہل بیت ٪ کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اولاد سے کیسے محبت کرتے ہیں ۔

١۔محبت کا اظہار کرنا:

        حضرت امام علی  ـاپنے بیٹے امام حسن ـ سے یوں خطاب کرتے ہیں۔تو میرے جسم کا ٹکڑا ہے بلکہ تو میرا دل وجان ہے ۔اگر تجھے کوئی تکلیف ہو تو وہ میری تکلیف ہے ،اگر تجھے موت آئے تو میری زندگی کے لئے بھی موت ہے۔

٢۔بچے کے ساتھ کھیلنا:

        جابر بن عبداللہ کہتا ہے۔میں رسول اکرم  ۖکی خدمت میں حاضر ہوا اور دیکھا کہ حسن وحسین ٪آپۖ کی پشت پر سوار ہیں۔آپۖکے زا نوں زمین پر تھے اور فرمارہے تھے:تمہاری سواری کتنی اچھی ہے اور کتنے اچھے سوار ہیں۔(٩)

٣۔پھل پہلے بچوں کو دینا:

        جب بھی رسول خدا  ۖپھل لاتے تو فرماتے:اے خدا!ہمارے شہر ،ہمارے پھل اور پیمانہ کو بابرکت قرار دے۔پھر آپۖ پھل سب سے پہلے حاضرین میں سے چھوٹے بچے کو دیتے تھے۔(١٠)

٤۔بچے کو تحفہ دینا:

        حضرت امام جعفر صادق   ـفر ماتے ہیں:جب بھی سفر سے واپس آؤ تو اہل خانہ کے لئے کوئی نہ کوئی چیز ضرور لاؤ،اگرچہ وہ چیز کم قیمت ہی کیوں نہ ہو جیسے پتھر۔(١١)

٥۔بچے کا احترام کرنا:

        اسلام کی نظر میں بچے قابل احترام ہیں۔اہل بیت ٪ کی عملی سیرت میں بھی بچوں کے احترام کی بڑی تاکید کی گئی ہے۔در حقیقت خداوندعالم نے انسانوں کو باکرامت خلق کیا ہے۔

        قرآن مجید میں اس کرامت ذکر موجود ہے۔خداوند عالم فرماتا ہے:وَ لَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ ٰادَم۔ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی۔

        یہ کرامت کسی خاص گروہ یا فرد کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ حجرت آدم کی پوری اولاد با کرامت خلق ہوتی ہے۔بچے فطرت الہی پر پیدا ہوتے ہیں لہذا فضیلت سے بہرہ مند ہوتے ہیں ۔فطرتی طور پر ہر انسان حب ذات ہوتا ہے یعنی انسان اپنے آپ کو قابل احترام سمجھتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اس کی آبرو محفوظ رہے۔جہاں پر بے احترامی کا خدشہ ہو وہاں جانے سے پرہیز کرتا ہے۔

حضرت امام جعفر صادق   ـنے فرمایا:انسانوں کے دل جن کی نظر میں محترم ہوتے ہیں ان سے خوش ہوتے ہیں اور جن کی نظر میں محترم نہیں ہوتے وہ خوش نہیں ہوتے۔(١٢)

        پس اگر والدین بچے کا احترام کریں اور اسے اپنا مقام دیں تو بچے پر ہر بات کا اثر ہوتا ہے۔پھر بچہ اپنی تشخیص کو باقی رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور کوئی فعل نہیں انجام نہیں دیتا جو والدین کی مرضی کے منافی ہو۔اس کے برعکس اگر والدین بچوں کی بے احترامی کریں تو ان پر نصیحت کا اثر نہیں ہوتا۔ممکن ہے ظاہری طور پر وہ چپ ہوجائیں لیکن ان کے دل میں نفرت پیدا ہوتی ہے۔جب بچے کو اپنا مقام نہیں ملتاتو وہ تنہائی سی محسوس کرتا ہے ۔اس میں احساس کمتری پیدا ہوجاتی ہے۔بچے کو دلی سکون نہیں ملتا بلکہ بعض نفسیاتی مریض ہوجاتے ہیں۔جو انسان اپنے آپ کو حقیر سمجھنے لگتا ہے وہ آہستہ آہستہ حقیر افعال انجام دینا شروع کردیتا ہے۔لیکن جو شخص اپنے آپ کو باکرامت سمجھتا ہے وہ کرامت کے منافی افعال انجام دینے سے پرہیز کرتا ہے۔حضرت امام علی   ـنے فرمایا:جو شخص اپنے آپ کو باکرامت سمجھتا ہے ،اس کے نزدیک دنیا کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔(١٣)

ایک اور مقام پر مولا ـفرماتے ہیں:باکرامت شخص کی نظر میں اس کی خواہشات ذلیل وخوار ہوتی ہیں ۔پس بچے کے ساتھ اچھا برتاؤکرنے سے مثبت اور برا سلوک کرنے سے اس پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔بچے کو مقام ملنے سے،اس مقام کی وہ حفاظت ضرور کرتا ہے۔(١٤)

        آج اگر ہم نے بچے کا احترام نہیں کیا تو کل وہ بھی اپنی اولاد سے یہی سلوک کرے۔جس سے آہستہ آہستہ تربیتی پہلو معاشرے میں سے ختم ہوکر رہ جاتے ہیں۔ہر ایک دوسرے کو حقیر سمجھنے لگتا ہے۔کوئی کسی کا احترام نہیں کرتا۔ایک باتربیت خاندان میں کئی آنے والی نسلوں میں تربیت کے آثار باقی رہتے ہیں۔امام غزالی نے احیاء علوم الدین میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے وہ لکھتے ہیں:جب بچہ کوئی اچھا کام تو اس کی تعریف کرو اور اسے انعام دو تاکہ وہ خوش ہوجائے۔(١٥)

        ہمارے معاشرے میں آج بھی بچوں کی صحیح تربیت نہیں ہوتی جس کے منفی اثرات پڑتے ہیں۔مولا امیرـفرماتے ہیں جو شخص اپنے آپ کو حقیر سمجھتا ہو۔اس سے نیکی کی امید نہ رکھو۔(١٦)

بچے کا احترام کیسے کریں؟

        بچے کا احترام مختلف طریقوں سے کیا جاتا ہے۔جن میں سے بعض کی طرف ہم اشارہ کرتے ہیں۔

١۔بچے کے لئے کھڑا ہونا:

        جب بچہ باہر سے واپس آپ کے پاس پہنچے تو کھڑے ہوجائیں والدین پر اولاد کے لئے کھڑا ہونا واجب نہیں بلکہ انہیں ادب سکھانے کی غرض سے یہ فعل دیاجاتا ہے۔اس کے لئے خود کھڑے ہونے والے شخص کے اندر سے تکبر ختم اور تواضع کی نشانی ہے۔رسول خدا  ۖہر آنے والے شخص کے احترام کے لئے کھڑے ہوتے تھے۔آپ ۖجناب فاطمہ  ،حسن وحسین ٪کے لئے تو کھڑے ہونے کے علاوہ اس کے استقبال کے لئے چند قدم آگے جاتے تھے۔ہمارے رسول خدا  ۖدوسرے کے لئے کھڑے ہوتے تھے لیکن ہمیں کھڑے ہونا عیب نظر آتا ہے۔ہمارے معاشرے میں زیادہ افراد اس لئے نہیں کھڑے ہوتے کیونکہ انہیں ایسی تربیت ہی نہیں دی گئی ہے۔

٢۔بچے کوسلام کرنا:

        اسلامی تہذیب وتمدن میں اسلام نے سلام کرنے کی بڑی تاکید کی ہے۔اگرچہ سلام کرنا مستحب ہے لیکن جواب دینا واجب ہے ۔اگر کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی دوسرا اسے سلام دے تو نمازی کو فوراً نمازہی کی حالت میں جواب دینا واجب ہے۔سلام کرنا تواضع وفروتنی کی علامت۔سلام میں پہل کرنا زیادہ ثواب ہے سلام کرنے والے کو ٦٩ نیکیاں اور جواب دینے والے کو ایک نیکی ملتی ہے۔

        رسول خدا  ۖجب بچوں کو دیکھتے تو انہیں سلام کرتے تھے۔حضرت امام رضا  ـاپنے جد سے نقل کرتے ہیںکہ رسول خدا  ۖنے فرمایا:میں پانچ چیزوں کو مرتے دم تک نہیں چھوڑوں گا...بچوں کو سلام کرنا تاکہ میرے بعد دوسروں کے لئے سنت قرار پائے۔(١٧)

٣۔حق تلفی پر معذرت کرنا:

        جب بچے کی حق تلفی ہورہی ہو تو اس سے معذرت کرنا چاہئے۔اس سے بچے کو اپنے مقام کا احساس ہوتا ہے۔جب گھر میں اور بچے بطور مہمان آئیں اور چیز بھی کم ہوتو بچے سے کہنا کہ بیٹا!یہ چیز اس دوسرے بچے کو دے رہاہوں۔معذرت چاہتا ہوں کیونکہ چیز کم ہے اور وہ مہمان ناراض نہ ہوجائے تو ایسی صورت میں بچہ ناراض نہیں ہوگا بلکہ خوش ہوجاتا ہے۔

٤۔بچوں کی دعوت قبول کرنا:

        اہل بیت ٪ کی عملی سیرت میں ملتا ہے کہ وہ بڑوں کی مانند بچوں کا احترام بھی کرتے تھے۔

        ابی ابن حدید نقل کرتا ہے:ایک دن امام حسن ـبچوں کے قریب سے گزر رہے تھے بچے روٹی کھا رہے تھے۔بچوں نے امام حسنـکو کھانے کی دعوت دی۔آپ نے دعوت قبول کی اور ان کے ساتھ کھانا کھایا۔اس کے بعد امام بچوں کو گھر لے گئے اور انہیں اچھا کھانا کھلایا،انہیں کپڑے دیئے اور فرمایا:بچوں کی دعوت میری دعوت سے اچھی تھی۔کیونکہ جب بچوں نے دعوت دی تو ان کے پاس وہی کچھ تھا جو مجھے پیش کیا لیکن میرے پاس تو اور بھی تھا،میں نے تو بچوں کی خدمت میں کچھ حاضر کیا ہے۔

٥۔بچے کو احترام سے بولانا:

        ہمارے اہل بیت٪ہمیشہ بچوں کو محترمانہ آواز سے بولاتے تھے۔بچوں کا اچھا نام رکھتے اور اگر کسی بچے کا نام اچھا نہ ہوتا تو اسے خانم جان،بیٹا جان،قربان جان،صدقے جاؤں وغیرہ پکارتے تھے۔

٦۔بچے کے ساتھ کھیلنا:

        اہل بیت ٪نہ صرف بچوں پر سختی نہیں کرتے بلکہ جو لوگ اپنی اولاد سے سختی سے پیش آتے انہیں منع کرتے۔حضرت ابوالفضل العباس کی بیوی ام الفضل سے منقول ہے:

        جب حضرت امام حسین ـشیر خوار تھے آنحضرتۖ نے انہیں اپنی گود میں لیا۔میں نے تھوڑی دیر کے بعد دیکھا کہ رسول خدا  ۖکا لباس گیلا ہے۔لہذا میں نے جلدی سے حسینـ کو آپ سے لے لیا۔حسین نے رونا شروع کردیا۔رسول خدا  ۖنے فرمایا:اے ام الفضل !آرام سے رہو!یہ بچہ ہے۔حسین کے دل میں تیرے بارے نفرت کونکالے گا؟(١٨)

        یہ صرف ہماری تربیت کے لئے ہے۔آپ ہمیں فرمارہے ہیں کہ اگر بچے سے سختی سے پیش آئیں گے تو اس کے دل میں تمہاری کدورت پیدا ہوجائے گی۔

پاورقی:

(١)۔طبرسی ،مکارم الاخلاق،ص٢٣١(٢)کتاب العیال ،ج١،ص٣١٥(٣)۔وسائل الشیعہ ،ج ١٨،ص٥٥٧(٤)۔ چہل حدیث ،تربیت اولاد،نشرمعروف(٥)۔مستدرک الوسائل ، ج١٥،ص ١٧٠(٦)۔روان شناس رشد،ج١،ص٢٣١(٧)۔ تاریخ یعقوبی ،ج٢، ص٣٢٠ (٨)۔ من لایحضرہ الفقہ،ج٤،ص٣٨٠(٩)۔ بحار الانوار ،ج٤٣، ص٢٨٥ (١٠) ۔صحیح مسلم،ج٤، ص١١٧ (١١)۔ وسائل الشیعہ ،ج٨،ص٣٣٧(١٢)۔ وسائل الشیعہ ، ج١١، ص ٤٤٥(١٣)۔مستدرک الوسائل ،ج ١١،ص٣٣٩(١٤)۔نہج البلاغہ ،حکمت ٤٤٩ (١٥)۔ ج ٢،ص٧٣(١٦)۔ غررالحکم ،ج٢، ص٧١٢ (١٧) ۔ سنن النبی،ص٤٢(١٨)۔ ہدیہ حباب ، ص١٩٦

 

+ نوشته شده در  جمعه بیست و نهم اردیبهشت 1391ساعت 21:33  توسط ZafarHussainNaqvi  | 

        امام صادقـ نے فرمایا:

        اَلرَّاوِیَة لِحَدِیْثِنَا یُشَدَّد بِہ قُلُوْبَ شِیْعَتِنَااَفْضَل مِنْ اَلْفَ عَابِدٍ۔ 

        جو شخص ہماری احادیث کو لوگوں میں بیان کرتا ہے تاکہ ہمارے شیعوں کے دل استوار ہوں، ایسے شخص کو ہزار عابد کی عبادت سے زیادہ ثواب ملتاہے۔

عظمت علماء

        امام باقر ـ نے فرمایا:

        عَالِم یُنْتَفَع بِعِلْمِہ اَفْضَل مِنْ عِبَادَةِ سَبْعِیْنَ اَلْفَ عَابِدٍ۔

        ایسا عالم جس کے علم سے معاشرے کو فائدہ پہنچے تو یہ عالم ستر ہزار عابد کی عبادت سے افضل ہے۔

         عالم معاشرے کی اصلاح کرتا ہے، لیکن عابد اپنی نجات کیلئے کوشش کرتا ہے۔

قلم علماء

        حضرت محمدۖ نے فرمایا:

        وُزِنَ حِبْر الْعُلَمَائِ بِدَمِ الشُّھَدَائِ فَرَجَّحَ عَلَیْہِ۔

        قیامت کے دن علماء کے قلم کو خون شہدا سے قیاس کیا جائے گا تو قلم علماء کو خون شہدا پر برتری حاصل ہوگی۔

مومن کا مقام

        امام صادق ـ نے فرمایا:

        اَلْمُوْمِن اَعْظَم حُرْمَة مِنَ الْکَعْبَةِ۔

        مومن انسان کا احترام حرمت کعبہ سے زیاد ہے۔

اچھا استاد:

        امام جعفر صادق ںفرماتے ہیں:

        مُعَلَّم الْخَیْرِ تَسْتَغْفِر لَہ دَوَابّ الْاَرْضِ وَ حَیْتَان الْبَحْرِ وَ کُلّ صَغِیْرَةٍ وَ کَبِیْرَةٍ فِیْ اَرْضِ اللّٰہِ وَ سَمَائِہ۔

        زمین پر چلنے والے حیوان ہوں یا سمندر میں مچھلیاں ، زمین و آسمان کی چھوٹی بڑی ہر مخلو ق اچھے استاد کے لئے مغفرت کی دعا کرتی ہے۔

مساجد

مسجد میں جانے کی اہمیت:

        ثَلَاثَة یَشْکُوْنَ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مَسْجِد خَرَاب لَا یُصَلِّیْ فِیْہِ اَھْلِہ وَ عَالِم بَیْنَ الْجُھَّالِ وَ مُصْحَف مُعَلَّق قَدْ وَقَعَ عَلَیْہِ غُبَار لَا یُقْرَئَ فِیْہِ۔

        امام صادق ـ نے فرمایا:  قیامت کے دن تین چیزیں اللہ کے ہاں شکایت کریں گی۔

(١)  وہ ویران مسجد کہ جس میں اس کے محلے والے نماز نہ پڑھتے ہوں۔

(٢)  وہ عالم جو جاہل لوگوں کے درمیان ہے اور لوگ اس کے علم سے مستفیض نہیں ہوتے۔

(٣)  وہ قرآن جو گھر میں رکھا گیا ہو اور پڑھتے نہیں بلکہ اس پر گردو غبار جمع ہو جائے۔

        حضرت علیـ فرماتے ہیں:

        لَا صَلَاةَ لِجَارِ الْمَسْجِدِ اِلَّا اَنْ یَکُوْنَ لَہ عُذْر اَوْ بِہ عِلَّة۔

        مسجد کے ہمسائے کی حقیقی نماز وہی ہے جو وہ مسجد میں پڑھے مگر یہ کہ اس کے لئے کوئی عذر ہو یا وہ بیمار ہو۔

نوجوان

نوجوانوں کو رسول خدا ۖ کی نصیحت

        آپۖ نے فرمایا:اُوْصِیْکُمْ بِالشُّبَانِ  خَیْرًا فَاِنَّھُمْ اَرَق اَفْئِدَة۔

        میں تمہیں نوجوانوں کے لئے نیکی کے کاموںمیں نصیحت کرتا ہوں کیونکہ ان کے دل نرم ہوتے ہیں اور انہیں تمہاری محبت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

محبوب خدا

        رسول خداۖ نے فرماتے ہیں: اِنَّ اﷲَ یُحِبّ الشَّبَابَّ التَّائِبَ۔

        خداوندعالم ایسے جوان سے محبت کرتا ہے جو گناہوں سے توبہ کرے۔

جوان مومن

        حضرت محمد مصطفیۖ نے فرمایا:

        اِنَّ اﷲَ یُحِبّ الشَّابَّ الَّذِیْ یُفْنٰی شَبَابَہ فِیْ طَاعَةِ اللّٰہِ۔

        بے شک خدا وند ایسے جوان سے محبت کرتا ہے جو اپنی جوانی خدا کی اطاعت میں گزارتا ہو۔

 نوجوان اور بزرگوں کا احترام:

        مَا اَکْرَمَ شَابّ شَیْخًا لِسِنِّہ اِلَّا قَیَّضَ اللّٰہ عِنْدَ سِنِّہ مَنْ یُکْرِمَہ۔

        رسول خداۖ نے فرمایا: جو جوان بوڑھے مسلمانوں کا احترام اور ان کی مدد کرتا ہو تو اس کے بدلے میں جب یہ جوان بوڑھا ہو گا تو خداوندعالم کسی نہ کسی شخص کو اس کے احترام کے لئے انتخاب کرتا ہے۔

نوجوان اور محفل قرآن

        حضرت علیـ نے فرمایا:

        فَاِذَا نَظَرَ اَلَی الشَّیْبِ  نَاقِلِیْ اِقْدَامَھُمْ اِلَی الصَّلٰواتِ وَ الْوِلْدَانِ یَتَعَلَّمُوْنَ الْقُرْاٰنَ رَحِمَھُمْ وَ اَخَّرَ عَنْھُمْ ذٰلِکَ۔

        جب تو دیکھے کہ کسی قوم کے بزرگ (مسجد کی طرف) نماز کے لئے جاتے ہوں اور اس قوم کے بچے اور جوان تلاوت قرآن کرتے ہوں تو خداوند سبحان اس قوم کے ان دونوں گروہوں پر نظر رحمت کرے گا اور ان پر عذاب کرنے میں تاخیر کر دے گا۔

جوانوں کی عظمت

        امام صادق ـ فرماتے ہیں:

        عَلَیْکَ بِالْاَحْدَاثِ فَاِنَّھُمْ اَسْرَع اِلٰی کُلِّ خَیْرٍ۔

        تم پر ضروری ہے کہ جوانوں پر زیادہ توجہ دیں کیونکہ وہ نیکی کے کاموں میں جلدی عمل کرتے ہیں۔

دوست کا مقام

        ماہرین نفسیات کہتے ہیں:  لوگوں کا ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنے سے ایک دوسرے پر اثرات ہوتے ہیں، اگر اچھے لوگوں کے ساتھ آنا جانا ہے تو مثبت اثرت ہوتے ہیں اور اگر بد کردار لوگوں سے آنا جانا ہو تو منفی اثرات ہوتے ہیں، برے اور اچھے دوست کے اثرات احادیث کی روشنی میں۔

دوست کا امتحان

        حضرت علیـ نے فرمایا:

        لَا تَثِقْ بِالصَّدِیْقِ قَبْلَ الْخُبْرَةِ۔

        آزمانے سے پہلے دوست پر اعتماد مت کرو۔

اچھے دوست کی نشانیاں

        حضرت علیـ نے فرمایا:

        اَخُوْکَ فِی اللّٰہِ مَنْ ھَدَاکَ اِلَی الرِّشَادِ۔

تیرا دینی بھائی وہ ہے جو تمہیں راہ راست کی ہدایت کرتا ہو۔

حضرت علیـ نے فرمایا: وَ نَھَاکَ عَنِ الْفَسَادِ۔

تمہارا اچھاوہ دوست ہے جو تمہیں فاسد ہونے سے بچائے۔

آپہی نے فرمایا:  مَنْ ذَکَّرَکُمْ بِاللّٰہِ رُؤْیَتُہ۔

اچھے دوست وہ ہیں کہ جن کو دیکھنے سے خدا یاد آجا تا ہو۔

دوست کی اقسام

        امام صادق ـ نے فرمایا:

        اِنَّ الَّذِیْنَ تَرَاھُمْ لَکَ اَصْدِقَائَ اِذَا بَلَوْتَھُمْ وَجَدْتَھُمْ عَلٰی طَبَقَاتِ شَتّٰی: فَمِنْھُمْ کَالْاَسَدِ فِیْ عِظَمِ الْاَکْلِ وَ شِدَّةِ الصَّوْلَةِ۔ وَ مِنْھُمْ کَالذِّئْبِ فِی الْمَضَرَّةِ۔ وَ مِنْھُمْ کَالْکَلْبِ فِی الْبَصْبَصَةِ۔ وَ مِنْھُمْ کَالثَّعْلَبٍ فِی الرَّوْغَانِ وَ السَّرْقَةِ۔ صُوْرُھُمْ مُخْتَلِفَة وَ الْحِرْفَة وَاحِدَة، مَا تَصْنَع غَدًا اِذَا تَرَکْتَ فَرْدًا وَحِیْدًا لَا اَھْل لَکَ وَ لَا وَلَد اِلَّا اللّٰہَ رَبّ الْعَالَمِیْنَ۔

جب تم دوستوں کا امتحان کرتے ہو تو ان کے چند گروہ ہیں:

(١)  بعض دوست شیر کی طرح ہیں جس طرح شیر بڑے اور پر لذیز اور غلبے سے شکار کرتا ہے تو بعض دوست بھی اسی شیر کی مانند ہیں۔

(٢)  بعض دوست بھیڑیئے کی طرح ہیں اور ہمیشہ اپنے دوست کو نقصان پہنچاتے ہیں

(٣)  کچھ دوست کتوں کی مانند ہیں اور چاپلوسی اور دم ہلاتے ہیں تاکہ دوست سے کچھ مل جائے۔

(٤)  بعض دوست لومڑی کی طرح ہیں اور مکرو فریب سے کوئی نہ کوئی چیز لینے کے چکر میں ہوتے ہیں ان دوستوں کی مختلف شکلیں ہونگی لیکن سب کا حدف ایک ہی ہو گا پس ہوشیار رہیں کہ جب قیامت کا عالم ہو گا تو کسی کو کسی کی خبر نہیں ہوگی خدا کے علاوہ کوئی فریاد سننے والا نہ ہوگا۔

بہترین دوست

        حضرت علیـ نے فرمایا:

        اَخُوْکَ فِی اللّٰہِ مَنْ ھَدَاکَ اِلَی الرَّشَادِ وَنَھَاکَ عَنِ الْفَسَادِ وَ اَعَانَکَ عَلٰی اِصْلَاحِ الْمَعَادِ۔

        تیرادینی بھائی وہ ہے جوتمہیں راہ راست کی ہدایت کرے، گناہ سے روکے اور آخرت کی اصلاح میں تمہاری مدد کرے۔

        رسول اکرمۖ نے بہترین دوستوں کے بارے میں فرمایا:

        مَنْ تَذْکُرُکُم اللّٰہ بِرَؤْیَتِہ، وَ یَزِیْد فِیْ عِلْمِکُمْ مَنْطِقُہ، وَ یُرَغِّبَکُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَمَلَہ۔

        بہترین دوست وہ ہیں:

        (١)   جنہیں دیکھ کر خدا یاد آجاتا ہو

        (٢)  جن کے ساتھ گفتگو کرنے سے تمہارے علم اور معلومات میں اضافہ ہو

        (٣)  جس کے عمل کو دیکھ کر آخرت کی یاد آئے۔

اچھے دوست

        حضرت علیـ نے فرمایا:مَنْ اَحَبَّکَ نَھَاکَ۔

        تمہار دوست وہ ہے جو تمہیں گناہوں سے منع کرے۔

برے دوست

        حضرت علیـ نے فرمایا:

        مَنْ صَحِبَ الْاَشْرَارَ لَمْ یَسْلِمْ۔

        جس شخص کا بیٹھنا اُٹھنا برے لوگوں سے ہو تو وہ گناہوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔

ایسے دوستوں سے پرہیز

        امام جعفر صادق ـ نے فرمایا:

        لَا یَنْبَغِیْ لِلْمَرْئِ اَنْ یُؤَافِیَ الْفَاجِرَ وَ لَا الْاَحْمَقَ وَ لَاالْکَذَّابَ۔

        انسان کو فاجر، احمق اور جھوٹے شخص کی دوستی نہیں رکھنی چاہئے۔

        امام سجادـ نے اپنے فرزند امام باقر ـ سے فرمایا:

        اے میرے بیٹے ! پانچ قسم کے افراد سے نہ دوستی رکھنا،نہ اُن کا ہم محفل بننا اور نہ ہی سفر میں اپنا رفیق قرار دینا۔

(١)     جھوٹے شخص کو دوست نہ بنائو کیونکہ وہ سراب مانند ہوتا ہے، دورکو نزدیک اور نزدیک کو دور دکھاتا ہے۔

(٢)      فاسق لوگوں کی دوستی سے بچو کیونکہ وہ تمہیں ایک چھوٹی چیز کے بدلے یا ایک لقمے کی خاطربلکہ اس سے بھی کم قیمت میں بیچ ڈالے گا۔

(٣)      بخیل لوگوں کو دوست نہ بنائو کیونکہ اگر تمہیں اس کے مال کی ضرورت ہو تو وہ تمہیں ذلیل و خوار کرے گا۔

(٤)    احمق کی محفل سے بچو کیونکہ وہ تمہیں نفع پہنچانا چاہے گا ،لیکن اپنی حماقت کی وجہ سے نقصان دے گا۔

(٥)    قطع رحمی کرنے والوں سے مل جل کر نہ رہنا اور انہیں دوست نہ بنانا کیونکہ قرآن مجید میں ایسے افراد پر لعنت کی گئی ہے۔

(الف)  الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللّٰہِ مِنْ بَعْدِ مِیثَاقِہ' وَ یَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰہ بِہ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ؟ اُولٰئِکَاا ھُم الْخٰسِرُوْنَ

        (فاسقین وہ لوگ ہیں) جو خدا سے محکم عہد و پیمان کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں وہ تعلق جنہیں خدا نے برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے انہیں توڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں۔ یہی لوگ خسارے میں ہیں۔

(ب)   وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللّٰہِ مِنْ بَعْدِ مِیْثَاقِہ وَ یَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰہ بِہ اَنْ یُّوْصَلَ وَیُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ اُولٰئِکَاا لَھُم اللَّعْنَة وَلَھُمْ سُوْء الدَّارِ

        اور وہ کہ جو عہد الٰہی کو مستحکم ہونے کے بعد توڑدیتے ہیں اور ان رشتوں کو قطع کردیتے ہیں جنہیں قائم رکھنے کا حکم اللہ نے دیا ہے اور روئے زمین میں فساد کرتے ہیں ان کیلئے لعنت اور آخرت (کے گھر) کا عذاب ہے۔(سورۂ رعد)

(ج)    فَھَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْآ اَرْحَامَکُمْ٢٢ اُولٰئِکَاا الَّذِیْنَ لَعَنَھُم اللّٰہ فَاَصَمَّھُمْ وَ اَعْمٰی اَبْصَارَھُمْ٢٣

         لیکن اگر تم روگردانی اختیار کر و تو تم سے سوائے زمین میں فساد اور قطع رحمی کے اور کیا تو قع رکھی جا سکتی ہے۔ یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں خدا نے اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے، ان کے کانوں کو بہرہ اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا ہے۔(سورۂ محمد)

زندگی کی آفت

        حضرت علیـ نے فرمایا:

        لِکُلِّ شَیْئٍ اٰفَة وَ اٰفَة الْخَیْرِ قَرِیْن السُّوْئِ

        ہر چیز کیلئے ایک آفت ہوتی ہے اور نیکیوں کے لئے برا دوست ایک آفت ہے۔

تین قسم کے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے سے دل مردہ ہوتا ہے۔

        رسول خداۖ فرماتے ہیں:

        ثَلَاثَة مَجَالِسَتُھُمْ تُمِیْت الْقَلْبَ: اَلْجُلُوْس مَعَ الْاِنْذَالِ، وَ الْحَدِیْث مَعَ النِّسَائِ وَ الْجُلُوْس مَعَ الْاَغْنِیَائِ۔

        تین قسم کے لوگوں کے ساتھ ملنے جلنے سے دل مردہ ہوتا ہے۔

(١) پست لوگوں کے ساتھ بیٹھنا۔ (٢)نامحرم عورتوں سے غیر ضروری باتیں کرنا۔ (٣)  امیر لوگوں کے ساتھ بیٹھنا۔

 

 

 

 

 

 

١۔امام حسین ـ کمالات انبیاء کے وارث

١۔خوف خدا:

        انبیاء میں خوف خدا تھا :

        نِالَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اﷲِ وَ یَخْشَوْنَہ وَ لااَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اﷲَ وَ کَفٰی بِاﷲِ حَسِیْبًا

        (وہ گذشتہ انبیاایسے لوگ تھے) جو خدائی پیغا مات کی تبلیغ کرتے تھے اور اُسی سے ڈرتے تھے اور خدا کے علاوہ کسی سے خوف نہیں کھا تے تھے۔اور یہی کافی ہے کہ خدا حساب لینے والا ہے۔(١)

        حضرت امام حسین ـ دعائے عرفہ میں فرماتے ہیں :((اللھم اجعلنی اخشاک کأنی أراک))

٢۔علم غیب :

        انبیاء علم غیب رکھتے تھے :

         اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ

        مگر ان رسولوں کو، جنہیں اس نے منتخب کر لیا ہے۔(٢)

        امام حسین ـ بھی علم غیب رکھتے تھے ۔امام حسین ـ اپنی شہادت سے آگاہ تھے اور جانتے تھے کہ انھیں شہید کردیا جائے گا۔

        ((ولکن اعلم علماً ان ھناک مصرعی و مصرع اصحابی لاینجوا منھم الا ولدی علی))(٣)

٣۔صبر۔٤۔توکل :

        انبیاء صابر تھے اور اللہ پر توکل رکھتے تھے :

        وَ مَا لَنَآ اَلاَّ نَتَوَکَّلَ عَلَی اﷲِ وَ قَدْ ہَداٰانَا سُبُلَنَا وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰی مَآ ٰاذَیْتُمُوْنَا

        ہم اللہ پر کیوں توکل نہ کریں جب کہ اس نے ہمیں ہماری (سعادت کی) راہوں کی طرف رہبری کی ہے اور ہم تمہاری ایذارسانیوں پر یقینا صبر کریں گے۔(٤)

فرمایا:((صبراًعلی بلائک))نیز فرمایا:((انت ثقتی فی کل کرب))(٥)

٥۔ہدایت ۔٦۔عبادت:

        انبیاء لوگوں کے ہادی اور خدا کے بندے تھے :

        وَجَعَلْنہُمْاٰا اَئِمَّةً یَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَآ اِلَیْہِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآئَ الزَّکوٰةِ وَ کَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَ

        اورہم نے انہیں ایسے امام (اورپیشوا) قرار دیا جو ہمارے حکم سے (لوگوںکو) ہدایت کرتے تھے اور ہم نے انہیں نیک کام انجام دینے، نماز قائم کرنے اور زکوٰة ادا کرنے کی وحی کی۔اور وہ صرف میری ہی عبادت کیا کرتے تھے۔(٦)

        حضرت امام حسین ـ نے فرمایا :

        ((انی احب الصلوة وتلاوة کتابہ وکثرة الدعا والاستغفار))((ان الحسین مصباح الھدی وسفینة النجاة))(٧)

٧۔اخلاص :

        انبیاء با اخلاص تھے ۔

         قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لااَاُاغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَاس نے کہا : تیری عزت کی قسم ؛ میں ان سب کو گمراہ کروں گا۔

         اِلَّا عِبَادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیْنَسوائے تیرے ان بندوں کے جوان میں سے تیرے مخلص ہوں گے۔(٣) ٣۔ سورہ ص،آیہ ٨٢۔٨٣

انبیاء کا ہدف :

٨۔تقوی ٰکی دعوت :

         اِذْ قَالَ لَہُمْ اَخُوْہُمْ نُوْح اَلااَا تَتَّقُوْنَ٭ اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْل اَمِیْن٭فَاتَّقُوا اﷲَ وَ اَطِیْعُوْنِ

        جب ان کے بھائی نوح نے انہیں کہا: کیا تم تقویٰ اختیار نہیں کرتے؟میں تمہارے لئیرسول ِامین ہوں۔توخدا کا تقویٰ اختیار کرواور میری اطاعت کرو۔(٨)

        ان جیسے الفاظ حضرت ھود ـ،حضرت صالح   ـ،حضرت لوط ـاور حضرت شعیب ـ نے بھی بیان فرمائے ہیں ۔

٩۔خدا کی دعوت :

        وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلااًا اَنِ اعْبُدُوا اﷲَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ

        ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ وہ خدائے یکتا کی عبادت کریں اور طاغوت سے اجتناب کریں.(٩)

         وَ اِلٰی عَادٍ اَخَاہُمْ ہُودًا قَالَ ٰیقَوْمِ اعْبُدُوا اﷲَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہ اَفَلااَ اتَتَّقُوْنَ۔

        اور قوم عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا انہوں نے کہا کہ اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو اس کے علاوہ تمہارا کوئی خدا نہیں ہے تم کیوں نہیں ڈرتے ہو۔(١٠)

ایسے ہی الفاظ حضرت صالح   ـاور حضرت لوط ـنے بھی بیان فرمائے۔امام حسینـ بھی لوگوں کو تقوٰی اور عبادت کی دعوت کرتے تھے ۔

١٠۔خدا نے حضرت زکریا  ـ  کو طیب اولادعطا کی:

         رَبِّ ہَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً اِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعَآئِ

        خداوند اپنی طرف سے مجھے(بھی) پاکیزہ فرزند عطا فرما کہ تو دعا کو سننے والا ہے۔

        فَنَادَتْہُ الْمَلٰئِکَةُ وَ ہُوَ قَآئِم یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ اَنَّ اﷲَ یُبَشِّرُکَ بِیَحْیٰی مُصَدِّقًابِکَلِمَةٍ مِّنَ اﷲِ

        جب وہ محراب میں مشغول عبادت تھا تو فرشتوں نے اسے پکار کر کہا خدا تجھے یحییٰ کی بشارت دیتا ہے وہ خدا کے کلمہ مسیح کی تصدیق کرے گا ۔(١١)

        خدا وند نے امام حسینـ  کو بھی طیب اولاد عنایت فرمائی۔ ((والامامة من نسلہ))

١١۔انبیاء کے کچھ اور اوصاف:

        خدا نے عبد ،صالح ،خیر ،صبر ،اخلاص اور احسان جیسی صفات حضرت ذکریا ـ،حضرت یحییٰ   ـ ، حضرت الیاس ـ،حضرت ادریس ـ،حضرت اسماعیل ـ،حضرت الیسع  ـ،حضرت یونس ـ،حضرت لوطـ،حضرت ابراھیم  ـ،حضرت اسحاق  ـاورحضرت یعقوب ـجیسے انبیاء میںبیان کیں ۔یہ تمام کمالات امام حسینـمیںپائی جاتی ہیں ۔

        الف؛وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیسَ وَ ذَا الْکِفْلِ کُلّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَ

        اور اسماعیل، ادریس اور ذالکفل (کو یاد کرو) کہ وہ سب صابرین میں سے تھے۔

        وَ اَدْخَلْنہُمْاٰا فِیْ رَحْمَتِنَا  اِنَّہُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ

        اور ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل فرمایا، کیونکہ وہ صالحین میں سے تھے۔(١٢)

ب؛وَ زَکَرِیَّا وَ یَحْیٰی وَعِیْسٰی وَ اِلْیَاسَ  کُلّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَاور (اسی طرح) زکریا ، یحییٰ، عیسیٰ اور الیاس سب کے سب صالحین میں سے تھے۔(١٣)

        اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَہم نیکوکاروں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔(١٤)

        ج؛وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا  وَ کُلًّا فَضَّلْنَا عَلَی الْعٰلَمِیْناور اسماعیل، الیسع، یونس اور ہر ایک کو ہم نے عالمین پر فضیلت دی۔(١٥)

        د؛وَاذْکُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَذَا الْکِفْلِ  وَ کُلّ مِّنَ الْاَخْیَارِاور اسماعیل، الیسع اور ذاالکفل کو بھی یاد کرو، وہ سب نیک لوگوں میں سے ہیں۔ (١٦)

        ہ؛وَ اذْکُرْ عِبٰدَنَآ اِبْرَاہِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ

        اور ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو کہ جو (طاقت ور) ہاتھوں والے اور (بینا) آنکھوں والے تھے۔

        اِنَّآ اَخْلَصْنہُمْاٰابِخَالِصَةٍ ذِکْرَی الدَّارِہم نے انہیں خاص خلوص کے ساتھ خالص کیا تھا وہ آخرت کی یاد آوری تھی۔

        وَ اِنَّہُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِاور وہ ہمارے نزدیک بر گزیدہ اور نیک افراد میں سے ہیں۔(١٧)

١٢ حضرت آدم  ـخدا کے خلیفہ اور فرشتوں کے معلم تھے:

        وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰئِکَةِ اِنِّیْ جَاعِل فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًَجب آپ کے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں روئے زمین پر ایک جانشین اور حاکم مقرر کرنے لگا ہوں۔(١٨)

        یٰاٰدَمُ اَنْبِئْہُم باَسْمَآئِہِمْاے آدم ! انہیں ان (موجودات) کے ناموں (اور اسرار) سے آگاہ کر دے۔(١٩)

        حضرت امام حسین ـ میں یہ دونوں صفات پائی جاتی ہیں ۔

١٣۔حضرت سلمان ـرضائے الہی پر راضی تھے :

        قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَ الِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰہُ

        خداوند! مجھے توفیق عطافرماکہ تونے جو احسانات مجھ پر اور میرے والدین پر کئے ہیں ان کا شکر بجالائوں اور ایسا نیک کام کر وں جسے تو پسند فرمائے۔(٢٠)

        حضرت امام حسین ـ نے فرمایا :((رضی اللّٰہ رضانا اھل بیت))(٢١)

١٤۔حضرت داؤد  ـ اور حضرت سلیمان ـ  کو بہت سے لوگوں پر فضیلت تھی اور خدا کے شکر گزار تھے:

        وَ لَقَدْ ٰاتَیْنَا دَاودَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًاوَ قَالااَاالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِیْنَ

        ہم نے دائود اور سلیمان کو اچھا خاصا علم عطا فرمایااور انہوں نے کہا:اس خدا کیلئے حمد ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت بخشی ہے۔(٢٢)

        حضرت امام حسین ـ  صرف لوگوں پر نہیں بلکہ رسول خدا  ۖکے علاوہ تمام انبیاء پر فضیلت حاصل ہے۔

١٥۔حضرت داؤد  ـ اور حضرت سلیمان ـ دونوں خداکے مقرب بندے تھے :

        وَ اِنَّ لَہ عِنْدَنَا لَزُلْفٰی وَ حُسْنَ مَاٰبٍ اور وہ ہمارے ہاں مقام بلند اور نیک انجام کاحامل ہے۔ (٢٣)

        حضرت امام حسین ـ بھی اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے تھے۔

        ((ان لک درجة لا تنالھا الا بالشھادة))

١٦۔حضرت ایوب  ـ اور حضرت سلیمان ـ دونوں بہترین بندگان خدا تھے:

        ((نعم العبد انہ اواب))ان دو بزرگوار شخصیات کے بارے میں ہے ۔

١٧۔حضرت ایوب ـ صابر تھے:

        اِنَّا وَجَدْٰنہُ صَابِرًااور اپنی قسم نہ توڑ، ہم نے اسے صابر پایا۔(٢٤)

        نیزحضرت امام حسین ـ نے فرمایا:((نصبر علی بلائہ))ہم مصیبت پر صبر کرتے ہیں۔

١٨۔حضرت اسماعیل  ـمرضی خدا تھے:

        وَ اذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَز اِنَّہ کَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ کَانَ رَسُوْلااًا نَّبِیًّا

        اپنی (آسمانی) کتاب میںا سمعیل کو یاد کرو، جواپنے وعدوں میں سچا،اور ایک بزرگ پیغمبر اور رسول تھا۔

        وَ کَانَ یَاْمُرُ اَہْلَہ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّکٰوةِ  وَ کَانَ عِنْدَ رَبِّہ مَرْضِیًّا

        وہ ہمیشہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰة کا حکم دیا کرتا تھا اور ہمیشہ اپنے پروردگار کی رضا کا حامل تھا۔(٢٥)

        حضرت امام حسین ـ بھی صابر اور مرضی خدا تھے ۔لہذا فرمایا :((رضی اللّٰہ رضانا اھل البیت نصبر علی بلائہ ویوفینا اجور الصابرین ))(٢٦)

        ہم اہل بیت پر اللہ راضی ہے ۔ہم اہل بیت پر صبر کرتے ہیں نہ اجر صابرین ملتا ہے ۔

١٩۔حضرت یعقوب ـ نے ایک بیٹے کی جدائی پر صبر جمیل فرمایا:

        فَصَبْر جَمِیْل  وَ اﷲُ الْمُسْتَعَانُ  میں صبر جمیل کروں گا۔ اور ناشکری نہیں کروں گا۔ اور جو کچھ تم کہتے ہو اس کے مقابلے میں خدا سے مدد طلب کرتا ہوں۔(٢٧)

        حضرت امام حسین ـ نے بہتر شھداء کربلا پر صبر جمیل فرمایا۔

٢٠۔حضرت یوسف ـ نے بھائیوں کو معاف کردیا:

َ        لااَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ  یَغْفِرُ اﷲُ لَکُمْ وَ ہُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ

        یہ میری قمیض لے جاؤ اور میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو تو وہ بینا ہو جائے گااور تمام گھر والوں کو میرے پاس لے آؤ۔(٢٨)

حضرت امام حسین ـ نے حر بن یزید ریاحی کو معاف کردیا ۔

٢١۔حضرت شعیب ـ نے فرمایا:میں اپنی قدرت کے مطابق اصلاح کر سکتا ہوں :

        اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلااَاحَ مَا اسْتَطَعْت سوائے اصلاح کے، جتنی کہ مجھ میں توانائی ہے۔(٢٩)

        حضرت امام حسین ـ نے فرمایا:((وانما خرجت لطلب الاصلاح فی امة جدی(ص) ارید ان آمر بالمعروف وأنھی عن المنکر))(٣٠)

        اور میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح کیلئے نکلا ہوں ۔میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر  جانتا ہوں۔

٢٢۔حضرت یعقوب ـ نے خدا سے شکایت کی :

        قَالَ اِنَّمَآ اَشْکُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْ اِلَی اﷲِ اس نے کہا: میں اپنا درد و غم صرف خدا سے کہتا ہوں (اور اس کے ہاں شکایت کرتا ہوں) ۔(٣١)

        حضرت امام حسین ـ نے بھی خدا سے شکایت کی ۔((اللھم انی اشکوا الیک ما یفعل بابن بنت نبیک))(٣٢)

+ نوشته شده در  جمعه بیست و نهم اردیبهشت 1391ساعت 21:28  توسط ZafarHussainNaqvi  | 

شہر بانو کا خواب  

   شہر بانو کہتی ہیں: میں نے خواب دیکھا کہ رسول خداۖ اور امام حسین  ہمارے گھر میں آئے اور امام حسین  کے لیے میرا رشتہ مانگا۔ لہذا میرے باپ نے میرا نکاح حسین  سے کیا، دوسری رات میں نے حضرت زہراء  کو خواب میں دیکھا جن کے ہاتھوں میں نے اسلام قبول کیا۔ پھر بی بی نے مجھ سے فرمایا: مسلمانوں کا لشکر تیرے باپ کو شکست دے گا اور تجھے اسیر کرلیا جائے گا اور تیرا نکاح میرے بیٹے سے ہوگا ۔ شہربانو کہتی ہیں: خدا نے میری حفاظت کی اور کسی نامحرم نے مجھے ہاتھ تک نہیں لگایا یہاں تک کہ میں مدینہ پہنچ گئی ۔(٦٨)

حضرت علی  کا سوال اور شہر بانو کا جواب :

جب شہربانو کو قیدی بنا کر مدینہ لایا گیا تو حضرت نے اس سے پوچھا :کیا تجھے واقعہ فیل میں سے کوئی بات یاد ہے؟ شہربانو نے کہا مجھے یاد ہے میرا باپ یہ کہہ رہا تھا ،کہ جب خدا کا ارادہ غالب ہوجائے تو تمام تدبیریں ناکام ہو جاتی ہیں اور جب زندگی کی مدت ختم ہو جاتی ہے تو موت دبوچ لیتی ہے۔ حضرت علی  ـ نے فرمایا: تیرے باپ کا یہ کتنا اچھا قول ہے ۔(٦٩)

شادی :

        حضرت علی  نے فرمایا :کہ تو آزاد ہے جس جوان مسلمان سے چاہتی ہو شادی کرلو ،شہربانو نے خاموشی اختیار کی حضرت علی  نے دوبارہ پوچھا کہ شادی کے بارے میں آپ کا کیا ارادہ ہے ،کس سے شادی کرنا چاہتی ہو ،اس نے مولا سے پوچھا کہ تمہیں کیسے معلوم میں شادی کا قصد رکھتی ہوں؟

 مولا نے فرمایا :کہ جب بھی کسی لڑکی کو رسول خدا ۖ کے پاس لایا جاتا تو اسی طرح پوچھتے تھے اور جب لڑکی خاموش رہتی تو رسول خدا ۖ رضایت سمجھتے تھے ۔ بہرحال شہربانو نے امام حسین کو انتخاب کیا حذیفہ نے ان کا نکاح پڑھا۔(٧٠)

حضرت علی  ـ کی نصیحت :

حضرت علی  امام حسین  کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اے بیٹے اس عورت سے اچھا سلوک کرو اور اس کی حفاظت کرو۔ جلد ہی عرب وعجم کا سردار اس عورت سے پیدا ہوگا ۔(٧١)

امام حسین ـاور شہربانو    :

        عرب لوگ کنیز اور عجم سے شادی کرنا ننگ وعار سمجھتے تھے۔ جب شہربانو کی امام حسین  سے شادی ہوئی تو یہ تعصب ختم ہوگیا۔یعقوبی لکھتا ہے :جب شہربانو کی امام حسین  سے شادی ہوئی جو کہ ایک عجم کنیز تھی اور اس سے امام سجاد  پیدا ہوئے ، تو فوری عرب اس کے کمال اور عظمت کی طرف متوجہ ہوئے اور آرزو کرنے لگے۔ اے کاش! ہماری ماں بھی اس کنیز جیسی ہوتی ۔اس کے بعد عربوں میں کنیزوں سے شادی کرنے کا رواج شروع ہوا۔(٧٢)

         قریش قبیلے کے ایک مرد کا کہنا ہے: ایک دن وہ اپنے دوست کے ہاں گیا ،دوست نے پوچھا تو کون ہے؟ میں نے کہا میری ماں کنیز ہے، میرے دوست نے جب یہ سنا تو اس نے مجھے حقارت کی نگاہ سے دیکھا ۔ایک دن اسی دوست کی موجودگی میں امام سجاد  تشریف لائے، میرے دوست نے ان کا بڑا احترام کیا ۔جب امام چلے گئے تو اس نے پوچھا یہ کون تھے؟

         میں نے دوست سے کہا وہ امام زین العابدین  ہیں۔ میں نے پوچھا اس کی ماں کون ہے، اس نے کہا اس کی ماں کنیز ہے۔ میں نے اپنے دوست سے کہا جب میں نے کہا تھا کہ میری ماں کنیز ہے تو مجھ سے نفرت کا اظہار کیا اس کے بعد میرا دوست اپنی غلطی کی طرف متوجہ ہوگیا ۔ (٧٣)

پرہیز گار خاتون :

یزد جرد کی بیٹی اپنے گھر میں بہت ہی پرہیزگار اور شریف ترین عورت تھیں۔ خداوند عالم نے اس کی تقدیر میں یہ لکھا کہ اسے اسیر ہونا پڑا اور امام حسین  کی زوجہ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔

 حضرت علی  ـاس کے بارے میں فرماتے ہیں:(( ھی ام الاوصیاء الذریة الطیبة))(٧٤)وہ اصیاء کی ماں، پاک نسل سے تھیں۔

 امام حسین  نے پانچ شادیاں کی جن میں سے پہلی شادی شہربانو کے ساتھ تھی جس سے امام زین العابدین  پیدا ہوئے ۔ (٧٥)

وفات :

        حضرت شہربانو کی ولادت شادی اور وفات کے بارے میںکچھ زیادہ معلومات حاصل نہیں۔ مشہور نظریہ کی بناء پر یہ خاتون ٣٨ ھ میں امام سجاد  کی ولادت کے بعد ہی فوت ہوگئیں ۔ یعنی امام زین العابدین  کی ولادت کے دس (١٠) دن بعد آپ دنیا سے رخصت ہوگئیں ۔(٧٦)اہل سنت کے مورخین کے مطابق شہربانو امام حسین  کی شہادت کے بعد زندہ تھیں  ابن شہر آشوب مقتل ابو المخنف سے سے نقل کرتے ہیں: ((جاؤ بالحرم اُ ساری الا شہر بانویہ فانھا اتلفت نفسھا فی الفرات))(٧٧) تمام اہل خانہ کو اسیر کیا گیا سوائے شہربانو کے کہ اس نے اپنے آپ کو دریائے فرات میں چھلانگ لگا دی ۔

مقبرہ :

مشہور قول کی بنا پر شہر بانو نے کوفہ میں وفات پائی ،لیکن بعض مورخین نے مدینہ میں لکھی ہے ۔ پس ان کے مقبرہ کے بارے میں دو قول ہیں: ایک قول کے مطابق ان کی آرامگاہ کوفہ میں ہے کیونکہ امام سجاد  ـکی ولادت کوفہ میں ہوئی اور ولادت کے فوراً بعد ہی وہ دنیا سے رخصت ہوگئیں۔دوسرے قول کے مطابق امام سجاد  ـمدینہ میں پیدا ہوئے تھے لہذا ان کی ماں شہر بانو نے مدینہ میں وفات پائی اور وہاں پر مدفون ہیں۔(٧٨)

پاورقی:

(١)۔اعیان الشیعہ ،ج١،ص٣٠٦(٢)۔اعیان الشیعہ ،ج١، ص ٣٠٦(٣)۔ بحار الانوار، ج٤٣،ص٨(٤)۔الاصابہ ،ج٤، ص٣٧٧ ومقتل الحسین ، ص ٨٩ (١)۔ بحار الانوار،ج٤٣،ص١٦ ومناقب ابن شھر آشوب،ج٣،ص١٣٣ (٢)۔ السیرة النبویة، ج١،ص١٩٦(٣)۔ھمان ،ص٢٣٧ (٤)۔زھرامولود وحی ،ص٦١ (٥) ۔ الفصول المھمہ فی معرفة احوال الائمہ ،ص١٤٩ ؛تاریخ الیعقوبی،ج٢، ص٣٥  وبحارالانوار،ج١٦،ص١(٦)۔مناقب ابن شھر آشوب،ج١، ص١٠٣ (٧)۔صحیح بخاری ،باب مالقی النبی واصحابہ من المشرکین ،ج٣، ص١٣٩٩ (٨)۔الطبقات الکبری ، ج٨، ص ١٣(٩)۔مناقب آل ابی طالب ،ج٣،ص٤٠٥ ؛ الفصول المھمہ ،ص١٤٤ ووالذریة الطاھرة ،ص٩٣(١٠)۔مقالات الزھرا،امین، ص ١٠٣ (١١)۔کشف الغمہ ،ج١،ص٣٦٨و مناقب آل ابی طالب ،ج٣،ص٣٩٥ (١٢)۔ مناقب آل ابی طالب ،ج٣،ص٣٤٦؛الطبقات الکبری ،ج٨،ص١١ وکشف الغمہ ،ج١،ص٣٥٤(١٣)۔الطبقات الکبری ،ج٨،ص١٩ والامالی ،ج١، ص٣٨ (١٤)۔امالی صدوق،ص٥٥٩ والطبقات الکبری ،ج٨،ص١١ (١٥)۔بحارالانوار، ج٤٣،ص١٢٧ و مناقب ابن شھر آشوب،ج٣،ص٤٠٠ (١٦)۔ الطبقات الکبری ،ج٨،ص٢٢ وعوالم المعارف ،ج١١،ص٣٥٩(١٧)۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج٣،ص١٥٢(١٨)۔مناقب آل ابی طالب ،ج٣،ص٤٠١ومقالات الزھرا، امین، ص١٣٧ (١٩)۔امالی ،ص٤٠ واعیان الشیعہ ،ج١ ،ص٣١٢ (٢٠)۔بحار الانوار، ج٤٣، ص٩٢  و١٣٠(٢١)۔ الطبقات الکبری ،ج٨،ص١٢ و بحارالانوار، ج٤٣، ص١٣٧(٢٢)۔ مناقب آل ابی طالب ،ج٣، ص٤٠٣ (٢٣)۔مقتل الحسین ،ص١٠٨ ؛ مناقب ابن مغازلی ، ص٣٤٤ و روضة الواعظین ،ص١٢٧ (٢٤)۔ الطبقات الکبری ، ج٨ ، ص١٤ و مستدرک الصحیحین ، ج٣،ص١٢٥(٢٥)۔البدایة و النھایة، ج٧ ص٣٤٢؛ الطبقات الکبری ،ج٨،ص١٣ ومجموعہ ورام ،ج٢، ص٢٨(٢٦)۔ بحار الانوار، ج٤٣،ص٨١ وعوالم ، ج ١١، ص٢١٧(٢٧)۔مجموعہ ورام ،ج٢،ص٤٨٧ وبحار الانوار، ج ٤٣،ص٥٠(٢٨)۔ مجموعہ ورام ،ج٢،ص١٦٢ ؛ بحارالانوار، ج٤٣،ص١٥١ و وسائل الشیعہ ،ج١٢،ص٢٤(٢٩)۔مناقب ابن  شھر آشوب، ج٣، ص٣٨٩ (٣٠)۔ مقتل الحسین ،ص ١٠٥ وعوالم ، ج ١١،ص٢٦٦(٣١) الخرایج والجرایح، ص٣٩٠ و بحارالانوار،ج٤٣،ص٢٨(٣٢)۔امالی طوسی ،ص٦١٦؛کشف الغمہ ،ج١ ، ص٤٦٩  وبحار الانوار، ج٣٧، ص١٠٣ (٣٣)۔علل الشرائع،ص١٧٨ (٣٤)۔علل الشرائع، ص١٧٩؛الامامة وسیاسہ ، ج١،ص٢٠ ومأساة الزھرا، ص٢١٦ (٣٥)۔دعائم الاسلام ، ج١، ص ٢٨٢ و بحار الانوار،ج٩٤،ص١٠(٣٦)۔علل الشرائع، ص١٧٢ و کشف الغمہ ،ج١،ص٤٦٨(٣٧)۔ علل الشرائع،ص٢١٦ (٣٨) ۔ سورہ نور ،آیت ٣١ (٤٠)۔بحارالانوار،ج١٠١،ص٣٦ و اعیان الشیعہ ، ج١،ص٣٢٢ (٤١)۔بحار الانوار، ج٢، ص٣ (٤٢) مناقب ،ج٣،ص٣٨٩۔(٤٣)۔امالی ،ص١١٣ (٤٤) ۔فرائد السمطین،ج٢،ص٥٤ ومناقب ،ج٣،ص٤٢٦ (٤٥)۔سورہ دہر ، آیت ٧ تا ٩ (٤٦)۔ الارشاد ،ص٨١ (٤٧)۔مجموعہ ورام ، ج١، ص ١٩٨ ؛بحارالانوار، ج٢٠، ص٢٤٥  و واحقاق الحق ، ج١٠، ص ٢٨٥ (٤٨)۔احقاق الحق ،ج٢١،ص٢٦ وفرھنگ سخنان فاطمہ ،ص٢٤ (٤٩)۔مستدرک الوسائل ،ج٣،ص٢٣ ومسند فاطمہ ،ص٣٤٦ (٥٠)۔ارشاد القلوب ، ص١٠٥ (٥١)۔ مانند سورہ کوثر ،سورہ احزاب، آیہ تطہیر ،سورہ آل عمران ، آیہ مباہلہ ، سورہ شوریٰ ،آیہ٢٣ برای اطلاع بیش تر،تفسیر کبیر جلد ٢٣ ،ص١٢٤ و جلد٨،ص٨٥ ،تفسیر کشاف ،جلد ٤،ص١٩٧،تفسیر برھان ، جلد٤،ص٤١٢،مجمع البیان، جلد٥، ص٥٤(٥٢)۔فرائد السمطین،ج٢،ص٦٨ ومقتل الحسین ، ص١٠٠ (٥٣)۔ امالی ، ص٤٨٦(٥٤)۔سورہ آل عمران ،آیہ ٤٢ (٥٥)۔ارشاد ، ص٤٩٢ ؛ کشف الغمہ ،ج٢،ص٧٥؛دلائل الامامہ،ص١٩٤؛ أعلام الوری،ص٢٥٦والفصول المھمة ، ص١٩٩ (٥٦)۔جلاء العیون،ص٨٣١(٥٧)۔ملحقات الحاق الحق ، ص١٧ (٥٨)۔ الدرالنظیم ،ص٨١(٥٩)۔مناقب ،ج٤، ص ١٩٠ (٦٠)۔اعیان الشیعہ ، ج١، ص٥٧٩ والرحم الطیب ،ص٤٠ (٦١)۔  تاریخ الیعقوبی،ج٢،ص٣٠٣ (٦٢)۔زندگانی امام زین العابدین،ص١٠(٦٣)۔خلاصہ البیان فی احوال شاہ زنان ،ص١٣٠ (٦٤)۔مرآة الجنان ،ج١،ص٩٠(٦٥)۔دلائل الامامہ ، ص١٩٤؛الخرائج والجرایح،ص٥٢٨؛نور الابصار، ص ٢٨١؛الدالنظیم ، ص٥٨ وبحارالانوار ،ج٤٦،ص١٥ (٦٦)۔ عیون اخبار الرضا، ص٣٦٩؛کشف الغمہ،ج٢، ص٨٢؛تنقیح المقال ، ج٣، قسم٢، ص ٨٠ و بحارالانوار ، ج٤٦، ص٨ (٦٧)۔ارشاد ،ص٤٩٢؛روضة الوعظین،ص١٧٢؛أعلام الوری،ص٢٥٦والدرالنظیم ، ص ٥٧٩ (٦٨)۔الخرائج و الجرایح، ص٥٢٩؛ جلاء العیون، ص٨٣٣؛ بحارالانوار، ج٤٦، ص١١  و منتھی الامال، ج٢،ص٣١ (٦٩)۔ ارشاد، ص١٦٠ (٧٠)۔دلائل الامامہ،ص١٩٥، مناقب، ج٤، ص ٥٥ و بحارالانوار ، ج٤٦، ص١١(٧١)۔احقاق الحق ،ج٢، ص٦ و الخرائج و لجرایح، ص٥٢٩ (٧٢)۔تاریخ یعقوبی ، ج٢، ص٣٠٣ (٧٣)۔الکامل ،ج٢،ص٤٩٢ (٧٤)۔الخرائج والجرایح، ص ٥٢٩وبحارالانوار ،ج٤٦،ص١١(٧٥)۔بحارالانوار ، ج٤٦، ص ١١(٧٦)۔ارشاد ،ص٤٩٢؛تاریخ قم،ص١٦٩ وعیون اخبار الرضا، ص١٢٨ (٧٧)۔وفیات الاعیان،ج٣،ص٢٦٩ و الطبقات الکبریٰ،ج٥،ص٢١١ (٧٨)۔ارشاد ، ص٤٩٢ ؛ الفصول المھمة ،ص٢٠١ وکشف الغمہ، ج١، ص٧٣

 

 

        (معرفت خدا)

        اسلامی مسائل تین قسموں میں تقسیم ہوتے ہیں:

        (١) اعتقادات  (٢) احکام  (٣)  اخلاق

         احکام تقلیدی مسائل میں سے ہیں کیونکہ قرآن و سنت کی روشنی میں استنباط اور استدلال کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں اور احکام کے موضو ع پر سینکڑوں کتابیں موجود ہیں، لہٰذا اکثر لوگ دستوراتِ اسلامی اور واجبات و محرمات کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ پس احکام الٰہی پر عمل کرنے کے لئے مجتہد کی لکھی ہوئی توضیح المسائل کی طرف رجوع کرتے ہیں جس طرح ایک بیمار اپنی بیماری کے لئے ڈاکٹر سے رجوع کرتا ہے۔

        اعتقادات اور اصول دین، قلبی امور میں سے ہیں۔ انسان کیلئے وجود خدا، نبوت و امامت کی ضرورت کو استدلالی اور منطقی دلیل سے ثابت ہونا چاہیے، اگر چہ یہ امور ایک تقدیر سے ہی کیوں نہ سنے گئے ہوں، اصول دین میں سے توحید اور خدا شناسی کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اسلئے کہ نبوت، امامت، معاد اور عدل جیسے مسائل توحید ہی کے ذریعے حل ہوتے ہیں۔

معرفت خدا کی اہمیت کے بارے میں حضرت علیـ فرماتے ہیں:  اَوَّل اَلدِّیْنِ مَعْرِفَتُہ    

        دین، اہم ترین موضوع معرفت خداوندعالم ہے۔  علم کلام جو کہ اصول دین اور عقائد کے بارے میں بحث کرتا ہے، معرفت خدا کے بارے میں اُس کی ذات ، صفات اور افعال کے بارے بحث ہوتی ہے، ذات خدا کے بارے میں علماء فرماتے ہیں کہ اس کی ذات کو درک کرنا اور سمجھنا ہر انسان کے بس کی بات نہیں کیونکہ دنیا کی تمام موجودات محدود اور معلول ہیں اور محدو د چیز نا محدود کو کو نہیں سمجھ سکتی، انسان ایک محدود اور خدا وند نا محدود ہے، اسی لئے روایات میں ذات خدا کے بارے میں غوروفکر کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

        حضرت علیـ نے فرمایا:  ''مَنْ تَفَکَّرَ فِیْ ذَاتِ اللّٰہِ سُبْحَانَہ اَلْحَدَ ''

        جو شخص ذات خدا میں فکر کرتا ہے وہ کافر اور بے دین ہوجاتا ہے۔

        امام صادق ـ نے فرمایا: ''مَنْ نَظَرَ فِی اللّٰہِ کَیْفَ ھُوَ ھَلَکَ ''

جو شخص یہ فکر کرتا ہے کہ خدا وند کی ذات کیسی ہے وہ نابود ہوگا۔

        دعائے جوشن کبیر میں ہم پڑھتے ہیں: ''یَامَنْ لَا تَنَال اَلْاَوْھَام کَنْھَہ '' 

        اے وہ خدا کہ جس کی ذات کے بارے میں ہمارے افکارکو رسائی حاصل نہیں۔

        خدا کی صفات کے بارے میں فلسفی حضرات کہتے ہیں کہ خدا کی صفات اس کی عین ذات ہے اور ان کے درمیان کوئی فرق نہیں جس طرح خود انسان اور اس کے علم کے درمیان تفکیک اور فرق نہیں۔ لہٰذا جو کچھ انسان کے لئے قابل شناخت ہے، وہ خداوندعالم کے افعال ہیں اور افعال سے مراد آسمان زمین اور جو کچھ ان میں ہے کو شامل ہے، ان میں سے ہر ایک بحث اپنے مقام پر ہوگی۔

عظمت قرآن کریم

        انسان آج کے ترقی یافتہ دور میں مختلف علوم میں مہارت رکھتا ہے اور ایک آنکھ جھپکنے میں دنیا کے ہر کونے سے رابطہ قائم کرسکتا ہے، لیکن اس کے باوجو د انسانی معاشرہ اخلاقی، معنوی اور عدالت کے لحاظ سے تنزلی کا شکار ہے۔ بہت سارے گناہ ایک معمول بن چکے ہیں، انسان دورِ جاہلیت کی طرف پلٹ رہا ہے اور اس کی علت اور فلسفہ یہ ہے کہ انسان دین، اخلاق اور عبادت خدا سے بہت دور ہوچکا ہے۔

        علم و صنعت میں انسان کی ترقی ایک مادی ترقی ہے، لیکن انسان صرف مادہ سے مرکب نہیں بلکہ جسم اور روح دو چیزوں کا مرکب ہے، لہٰذا انسان روح سے غافل ہوچکا ہے یعنی مادی ترقی تو کررہا ہے، لیکن روح کے لحاظ سے بہت ہی تنزلی کا شکار ہے۔ جب تک انسانی معاشرہ دین، اخلاق اور معنویت پر توجہ نہیں کرے گا اگر چہ علم و صنعت میں وہ جتنی بھی ترقی کرلے، پھر بھی وہ ظلم و فساد کا شکار ہی ہوگا طاقتور ممالک ضعیف ممالک کو قتل و غارت سے فتح کریں گے اس مطلب پر بہترین دلیل یورپ اور مغربی صنعتی انقلاب ہے کیوبا کا رہنما کچھ یوں اظہار کرتا ہے، اس سے دین ، قرآن کریم اور روایات اہل بیت٪ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ یہ چیزیں کتنی اہمیت کی حامل ہیں۔ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اب قرآن کی عظمت کے بارے میں چند آیات اور روایات پر توجہ فرمائیں۔

قرآن تمام دکھوںکا علاج

        اس کے بارے میں خدا وندعالم  فرماتا ہے: یٰاَیُّھَا النَّاس قَدْ جَائَتْکُمْ مَّوْعِظَة مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ شِفَائ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ٥ وَھُدًی وَّ رَحْمَة لِّلْمُؤْمِنِیْنَ قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَ بِرَحْمَتِہ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا؟ ھُوَ خَیْر مِّمَّایَجْمَعُوْنَ

اے لوگو ! تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی شفا کا سامان، ہدایت اور صاحبانِ ایمان کے لئے رحمت (قرآن) آچکا ہے۔ اے رسول ! کہہ دیجئے کہ یہ (قرآن) فضل و رحمت خدا کا نتیجہ ہے۔ لہٰذا اس پر خوش ہونا چاہیے کہ یہ ان کے جمع کئے ہوئے اموال سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔

 باعث رحمت: وَ نُنَزِّل مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا ھُوَ شِفَائ وَّرَحْمَة لِّلْمُؤْمِنِیْنَوَلَایَزِیْد الظّٰلِمِیْنَ اِلَّاخَسَارًا

        'اور ہم قرآن میں وہ سب کچھ نازل کررہے ہیں جو صاحبانِ ایمان کے لئے شفا اور رحمت ہے اور ظالمین کیلئے خسارہ میں اضافہ کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا۔

قرآن پناہ گاہ ہے

        رسول خداۖ نے فرمایا: فَاِذَا اِلْتَبَسَتْ عَلَیْکُم الْفِتَن کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلَمِ فَعَلَیْکُمْ بِالْقُرآنِ۔

        جب فتنے برپا ہونگے اور صحیح اسلام کی پہچان نہ ہوسکتی ہو تو تم پر لازم ہے کہ قرآن سے تمسک کرو۔

عظمت قرآن: حضرت علیـ کے کلام میں

قرآن کے آثار و برکات کے بارے میں فرماتے ہیں:

نور ابدی:

        ''نُوْرًا لَا تُطْفَأ مَصَابِیْحُہ''قرآن ایسا نور ہے کہ جس کے چراغ خاموش نہیں ہونگے۔

عمیق سمندر:

        ''بَحْرًا لَایُدْرُکَ قَصْرُہ''قرآن ایک ایسا سمند ر ہے کہ جس کی گہرائی کسی کو معلوم نہیں ہے۔

راہ مستقیم:

        ''مِنْھَاجًا لاَیُضِلّ نَھْجُہ''قرآن ایسا راہ ہے کہ جس کو طے کرنے سے گمراہی اور انحراف نہیں ہے۔

اساس محکم:

        ''تِبْیَانًا لَاتُھْدَم اَرْکَانُہ''قرآن ایک ایسی محکم بنیاد ہے کہ جس کے پائے منہدم نہیں ہونگے۔

ہردرد کیلئے شفائ:

        ''شِفَائ لَاتُخْشٰی اَسْقَامُہ''قرآن ایسی شفاء دینے والا ہے کہ جس کی موجودگی میں بیماریوں کا کوئی خطرہ نہیں۔

شکست ناپذیر :

        ''عِزّاً لَاتُھْزَم اَنْصَارُہ''قرآن ایک ایسی طاقت ہے کہ جس کی پیروی کرنے والوں کیلئے شکست نہیں۔

حق:

        ''وَحَقَّاً لَا تُّخْذَلْ اَعْوَاُنہ''

قرآن وہ حق ہے کہ جس کے پیروکار کے لئے ذلت نہیں۔

سر چشمہ علم:

        ''وَ یَنَابِیْع الْعِلْمِ وَبُحُوْرُہ''

        قرآن علم کا سرچشمہ اور سمندر ہے ''

ختم نہ ہونے والا سمندر:

        ''وَبَحْر لَا یَنْزِفَہ الْمُسْتَنْزِفُوْنَ''

        قرآن ایسا سمندر ہے کہ جس سے جتنا پیاسے پئیں گے، اس کا پانی ختم نہیں ہوگا۔

ہر درد کی دوا:

        ''وَدَوَائ لَیْسَ بَعْدَہ دَائ''

قرآن ایسی دوا ہے کہ جس کے بعد کوئی بیماری نہیں ہوتی۔

مضبوط رسی:

        ''وَحَبْلاً وَثِیَاقًا عُرْوَتُہ''

        قرآن ایسی رسی ہے کہ جس کی گرہیں مضبوط اور مطمئن ہیں۔

آفتوں کے لئے ڈھال:

        ''وَمَعْقِلًا مَنِیْعًا ذِرْوَتُہ''

        ایسی پناہ گاہ ہے کہ جس کے محکم قلعے نقصان پہنچانے سے مانع ہیں۔

عظیم قدرت:

        ''وَ عِزّاً لِمَنْ تَوَلَّاہُ''

        قرآن اس شخص کے لئے ایک ایسی عظیم قدرت ہے جو اس سے محبت کرتا ہو۔

باعث امن:

        ''وَ سِلْمًا لِمَنْ دَخَلَہ''

قرآن امن کی جگہ ہے اور جو داخل ہو گا محفوظ رہے گا۔

مضبوط دلیل:

        ''وَبُرْھَانًا لِمَنْ تَکَلَّمَ بِہ''

        دلیل پیش کرنے والے کے لئے مضبوط دلیل ہے۔

        ''وَ فَلْجًا لِمَنْ حَاجَّ بِہ''

استدلال کرنے والوں کے لئے قرآن ایک کامیابی ہے۔

مخالفت کے مقابلے میں ڈھال:

        ''وَجُنَّةً لِمَنْ اِسْتَلْاَمَ''

قرآن جنگی لباس پہننے والے کے لئے ڈھال ہے۔

عظمت حضرت علیـ

حضرت امیر المومنینـ فرماتے ہیں: اگر تمام پردے ہٹا دئیے جائیں تو میرے یقین میں ذرا بھر اضافہ نہیں ہو گا۔

         اس کلام کا یہ مطلب ہے کہ آپ کے لئے علم غیب اور علم شہود یکساں ہیں یعنی اکثر لوگ مرنے کے بعد عالم قبر اور عالم قیامت کے بارے میں باخبر ہوتے ہیں، لیکن حضرت علیـ فرماتے ہیں، میں جن مقامات پر نہیںگیا اُن کے حالات جانتا ہوں۔ لہٰذا آپ جیسی شخصیت کے بارے میں (بلکہ عام انسانوں اگرچہ وہ باتقویٰ اور بزرگ ہی کیوں نہ ہوں) کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں کیونکہ حضرت علیـ ایک ایسے مقام پر فائز ہیں کہ جس کا عام لوگ تصور بھی نہیں کرسکتے۔ لہٰذا حضرت علیـ کی عظمت کے بارے میں صرف اُسی شخص کو بیان کرنے کا حق ہے کہ جسے آپ کی معرفت ہو۔ اب چند احادیث توجہ فرمائیں:

        حضرت محمد مصطفیۖ فرماتے ہیں:

        مَن اَرَادَ اَنْ یَنْظُرَ اِلٰی اِسْراٰفِیْلَ فی ھَیْبَتِہ، وَ اِلٰی مِیْکَائِیْلَ فی رُتْبَتِہ، وَ اِلٰی جَبْرَئِیْلَ فِیْ عَظَمَتِہ وَ جَلَالَتِہ، وَ اِلٰی اٰدَمَ فِیْ سَلْمِہ، وَ اِلٰی نُوْحٍ فِیْ حُسْنِہ، وَ اِلٰی اِبْرَاٰھِیْمَ فِیْ خُلَّتِہ وَ سَخَاوَتِہ، وَ اِلٰی یُوْسُفَ فِیْ جَمَالِہ، وَ اِلٰی سُلَیْمَانَ فِیْ مُلْکِہ، وَ اِلٰی مُوْسٰی فِیْ مُنَاجَاتِہ وَ شُجَاعَتِہ، وَ اِلٰی اَیُّوْبَ فِیْ صَبْرِہ، وَ اِلٰی یَحْیٰی فِیْ زُھْدِہ، وَ اِلٰی عِیْسٰی فِیْ سِیَاحَتِہ، وَ اِلٰی مُحَمَّدٍۖ فِیْ خُلْقِہ وَ جِسْمِہ وَ شَرَفِہ وَ کَمَالِہ وَ مَنْزَلَتِہ، فَلْیَنْظُرَ اِلٰی عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍں۔

        جو شخص اسرافیلـ کی ہیبت کو دیکھنا چاہے، مقام میکائیلـ کو دیکھنا چاہے، اسی طرح جبرائیلـ کی عظمت و بزرگی کا ملاحظہ کرنا چاہیے، آدمـ کی سلامتی کا مشاہدہ کرنا چاہے، نوحـ کے حسن اخلاق کو دیکھنا چاہیے اور ابراہیمـ کی دوستی او ر سخاوت کو دیکھنا چاہیے، یوسفـ کے حسن و جمال، حضرت سلیمانـ کی حکومت، حضرت موسیٰـ کی مناجات اور شجاعت، حضرت ایوبـ کا صبر، حضرت یحییٰـ کا تقویٰ، حضرت عیسیٰـ کی سیر و سیاحت اور حضرت محمدۖ کے اخلاق ، جسم، شرف و کمال یا حضرت کو دیکھنا چاہیے حتیٰ کہ اگر کوئی شخص تمام اوصاف انبیاء کو دیکھنا چاہیے تو حضرت علی ابن ابی طالبـ کو دیکھے کہ جس میں یہ تمام صفات پائی جاتی ہیں۔

اسلام: حضرت علیـ کی نظر میں

        حضرت علیـ نے فرمایا:''اَلْاِسْلَام ھُوَ التَّسْلِیْم وَ التَّسْلِیْم ھُوَ الْیَقِیْنُ، وَالْیَقِیْن  ھُوَ التَّصْدِیْقُ، وَ التَّصْدِیْق ھُوَ الْاِقْرَارُ، وَ الْاِقْرَار ھُوَ الْاَدَاء وَ الْاَدَاء ھُوَ الْعَمَلُ''۔

        اسلام یعنی دستورات الٰہی کے سامنے تسلیم ہونا اور تسلیم وہی یقین اور ایمان اور یقین وہی تصدیق اور تصدیق وہی احساس ذمہ داری ہے اور احساس ذمہ داری وہی عمل ہے۔

مسلمان واقعی

        رسول اکرم ۖ فرماتے ہیں: ''اَلْمُسْلِم مَنْ سَلَمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہ وَ یَدِہ''

        مسلمان وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔

         لہٰذا جو شخص زبان، ہاتھ اور جسم کے دوسرے اعضاء سے دوسروں کو تکلیف دیتا ہے یا عورت میک اپ کرکے بھڑکیلے لباس کے ساتھ باہر آئے اور سینکڑوں مردوں کی توجہ کا مرکز بنے اور جوانوں کی شہوت کا سبب بنے تو کیا یہ انسان ایک حقیقی مسلمان ہو سکتا ہے۔

بہترین صفات

محبت اہلبیتـ

        امام صادقـ فرماتے ہیں:

        ''اَحْسَن الْحَسَنَاتِ حُبُّنَا اَھْل الْبَیْتِ وَ اَسْوَء السَّیہّئَاتِ بُغْضُنَا''

        اہل بیت ـسے محبت رکھنا، بہترین صفت ہے اور ہم سے دشمنی رکھنا بدترین بدی ہے۔

اسلام کی بنیاد

        امام صادقـ نے فرمایا:

        ''لِکُلِّ شَیْئٍ اَسَاس وَ اَسَاس الْاِسْلَامِ حُبُّنَا اَھْل الْبَیْتِ''

        ہر چیز کی ایک بنیاد ہوتی ہے اور اسلام کی بنیاد ہم اہلبیت کی محبت ہے۔

معصومین٪ کے کلام کا اثر:

        امام باقرـ نے فرمایا: 

        ''اِنَّ حَدِیْثَنَا یُحْیہی الْقُلُوْبَ''

        ہمارے احادیث دلوں کو زندہ کرتی ہیں۔

احادیث اہل بیت٪ کو بیان کرنے کا ثواب
+ نوشته شده در  جمعه بیست و نهم اردیبهشت 1391ساعت 21:26  توسط ZafarHussainNaqvi  | 

 

 تیرے خالص نیک بندوں کے بارے میں مدد کی اور اے خدا! وہ قدرت نہیں رکھتے تھے لیکن تیری مدد سے انہوں نے اسلام کا دفاع کیا اور تیرے دشمنوں کے ساتھ مختلف شہروں میں جاکر جنگ کی۔

 ٨……اسلام کی سربلندی

''وَ ھَجَمَ عَلَیْھِمْ فِیْ بُحْبُوْحَةِ قَرَارَھِمْ حَتّٰی ظَھَرَ اَمْرُکَ وَ عَلَتْ کَلِمَتُکَ وَ لَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکِیْنَ''

 تیرے دشمن بڑے قدرت مند تھے اور ان کے گھروں پر حملہ کیا تاکہ تیرا حکم عام اور دعوت اسلام دی ، اگرچہ مشرکین اس سے ناخوش تھے یہ سب کچھ تیرے دین کی سربلندی کے لئے کیا۔

 فضیلت صلوات

 ١۔ امام محمد باقرـ  نے فرمایا:

''مَا فِی الْمِیْزَانِ شَیْئ اَثْقَلُ مِنَ الصَّلَاةِ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ''

 اعمال کے ترازو میں صلوات محمد وآل محمد٪ سے زیادہ کوئی سنگین چیز نہیں ہے۔(٩)

 ٢۔ امام رضاـ فرماتے ہیں:

''وَ الصَّلَاةُ عَلَی النَّبِِیِِّ وَاجِبَة فِیْ کُلِِّ مَؤْطِنٍ وَ عِنْدَ الْعِطَاسِِ وَ الذَّبَائِحِ وَ غَیْرِِ ذٰلِکَ''

 رسول خداۖپر ہر جگہ صلوات بھیجنا چاہیے، چھینک لیتے وقت ، حیوان کے ذبح کرنے کے وقت اور دوسرے مواقع پر صلوات بھیجنا مستحب ہے۔(٢)وسائل الشیعة۔ ج٤،ص١٢١٩، بحار الانوار،ج٩٤،ص٥٠

 ٣۔رسوال خدا ۖنے فرمایا:

''اُسْرِیَ بِیْ لَیْلَةِ الْمِعْرَاجِ اِلَی السَّمَآئِ فَرَأَیْتُ مَلَکًا لَہ اَلْفُ یَدٍ، لِکُلِِّ یَدٍ اَلْفُ اِصْبَعٍ ھُوَ یُحَاسِبُ وَ یَعُدُّ بِتَلْکَ الْاَصَابِعِ، فَقُلْتُ لِجِبْرَئِیْلَ مِنْ ھٰذَا الْمَلَکِ؟ وَ مَا الَّذِیْ یُحَاسِبُہ؟

قَالَ: ھٰذَا الْمَلَکُ مُوَکِّل عَلٰی قَطَرِِ الْمَطَرِ، یَحْفَظُہَا کَمْ قَطَرَةٍ تُنَزَّلَ مِنَ السَّمَآئِ اِلَی الْاَرْضِ فَقُلْتُ لِلْمَلَکِ: اَنْتَ تَعْلَمُ مُذْ خَلَقَ اللّٰہُ الدُّنْیَا ، کَمْ قَطَرَةٍ نَزَلَتْ مِنَ السَّمَائِ اِلَی الْاَرْضِ؟

 فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ: فَوَا اللّٰہِ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ اِلٰی خَلْقِہ غَیْرُ اِنِّیْ اَعْلَمُ کَمْ قَطَرَةٍ نَزَلَتْ مِنَ السَّمَآئِ اِلَی الْاَرْضِِ، اَعْلَمُ تَفْصِیْلًا کَمْ قَطَرَةٍ نَزَلَتْ فِی الْبَحْرِِ وَ کَمْ قَطَرَةٍ نَزَلَتْ فِی الْبَرِِّ وَ کَمْ قَطَرَةٍ نَزَلَتْ فِی الْعُمْرَانِ، وَ کَمْ قَطْرَةٍ نَزَلَتْ فِی الْبُسْتَانِ، وَ کَمْ قَطَرَةٍ نَزَلَتْ فِی السَّبْخَةِ، وَ کَمْ قَطَرَةٍ نَزَلَتْ فِی الْقُبُوْرِ۔

فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِۖ فَتَعَجَبْتُ مِنْ حِفْظِہ وَ تَذَکُّرِہ حِسَابِہ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ حِسَاب لَا اَقْدَرُ عَلَیْہِ بِمَا عِنْدِیْ مِنَ الْحِفْظِ وَ التَّذَکُّرِِ وَ الْاِصَابِعِ، فَقَالَ: اَیُّ حِسَابٍ ھُوَ؟ فَقَالَ: قَوْم مِنْ اُمَّتِکَ یَحْضُرُوْنَ مُجْمِعًا فَیُذْکَرُ اِسْمُکَ عِنْدَھُمْ فَیُصَلُّوْنَ عَلَیْکَ فَاَنَا لَا اَقْدَرُ عَلٰی حَصَرَِ ثَوَابَِھُِمْ''

 جب مجھے معراج پر لے جایا گیا تو وہاں میں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ تھا جس کے ہزار ہاتھ اور ہر ہاتھ کی ہزار انگلیاں تھیں جن سے وہ حساب کررہا تھا ،میں نے جبرائیلـ سے پوچھا: یہ کون فرشتہ ہے اور کس چیز کا حساب کررہا ہے ؟ جبرائیلـ نے کہا: یہ ایک فرشتہ ہے جو بارش کے قطرے گننے پر مامور ہے اور آسمان سے گرنے والے قطروں کو گن رہا ہے۔

 رسول خداۖ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا: کیا تم زمین کے خلق ہونے سے لے کر آج تک بارش کے برسنے والے قطروں کو جانتے ہو ؟

 فرشتے نے کہا:! اے اﷲ کے رسول !مجھے قسم ہے اس خدا کی جس نے آپ کو رسول مبعوث کیا میں زمین پر گرنے والے تمام قطرات کی تعداد بتا سکتا ہوں بلکہ کہاں کتنے قطرے گرے ہیں وہ بھی بتا سکتا ہوں۔ پھر فرشتے نے کہا: بارش کے وہ قطرات جو دریاؤں، شہروں ، بنجر زمین اور اسی طرح قبرستان میں بھی گرتے ہیں میں ان کی تعداد بتا سکتاہوں۔

 رسوال خدا ۖنے پوچھا: مجھے اس فرشتے کے حافظے پر بڑا تعجب ہوا!

 پھر فرشتے نے کہا: اے اﷲ کے رسولۖ! اتنی قدرت اوردست وپا کے باوجود میں  ایک کام کے ثواب کا حساب نہیں کرسکتاہوں۔ جناب رسالت مآبۖ نے پوچھا: وہ کونسا کام ہے ؟

 فرشتے نے کہا : جب آپ کی امت جمع ہوتی ہے اور آپ پر صلوات پڑھتی ہے اس وقت میں ثواب نہیں گن سکتاہوں۔(١٠)

 زیادہ ثواب کی علت

 سوال: شاید بعض لوگوں کے ذہن میں یہ بات آجائے کہ صلوات کا اتنا ثواب کیوں ہے ؟

 جواب:         رسول خداۖ اور ان کے اہل بیت اللہ کے وہ خالص بندے ہیں کہ جن کی تطہیر کا قرآن مجید میں اعلان فرمایا۔ وہ رسولۖ جن کو دین خدا کی راہ میں کئی مشکلات برداشت کرنا پڑیں ، آپۖ کو لوگوں نے لہولہان کردیا، اس کے باوجود آپ نے ہمت نہ ہاری اور ثابت قدم رہے، آپۖ پر تہمتیں لگائیں ، آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا، آپۖ سے بائیکاٹ کردیا گیا اور طرح طرح کی تکلیفیں دیں۔

 رسول خداۖ کی وفات کے بعد اسلام کی بقاء اہل بیت٪ کے ہاتھ میں تھی اور انہوں نے اسلام کے لئے جان، مال اور آبرو تک قربان کردی لہٰذا ان تمام مشکلات کے مقابلے میں خدا نے ان پر صلوات بھیجنے کا حکم دیا۔

 یہی وجہ ہے کہ اس خاندان کا اتنا بلند مقام ہے کہ فرشتے بھی افتخار کرتے ہیں۔

 صلوات کا فلسفہ

 خداوند عالم نے محمد وآل محمد٪ پر صلوات بھیجنے کا حکم دیا جس کا ہدف یہ ہے تاکہ لوگ اہل بیت کی سیرت پر عمل کریں ،جب لوگ صلوات بھیجتے ہیں تو محمد و آل محمد٪ کی صفات اپناتے ہیں۔

 امام صادقـ نے فرمایا:

''مَنْ حَسُنَ بِرُّہ بِاَھْلِہ زَادَ اللّٰہِ فِیْ عُمْرِِہ''

 جو اپنے اہل وعیال کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتا ہے خداوند اس کی عمر لمبی کرتا ہے۔(١١)

 رسول خداۖنے فرمایا:

''مَنْ اَصْبَحَ وَ لَایَھْتَمَّ بِاَمْرِِ الْمُسْلِمِیْنَ فَلَیْسَ مِنَ الْاِسْلَامِ فِیْ شَیْئٍ وَ مَنْ شَھِدَ رَجُلًا یُنَادِیْ یَا لِلْمُسْلِمِیْنَ فَلَمْ یَجِبْہُ فَلَیْسَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ''

 جوشخص صبح کرتا ہے اور امور مسلمین کیلئے کوشش نہیں کرتا تو اس میں مسلمان والی کوئی شئے نہیں اور اگر ایک مسلمان سے مظلوم مدد کی درخواست کرے اور اسے قبول نہ کرے تو حقیقی مسلمان نہیں ہے۔(١٢)

 حضرت محمد مصطفیۖ فرماتے ہیں :

''کَیْفَ بِِکُمْ اِذَا فَسَدَتْ نِسَآئُکُم وَ فَسَقَ شَبَابُکُمْ وَ لَمْ تَاْمُرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ لَمْ تَنْھَوْا عَنِِ الْمُنْکَرِِ''

 تم پر کیسی گذرے گی جب تمہاری عورتیں فاسد اور جوان فاجر ہونگے ، یہ اس وقت ہوگا کہ جب لوگ امربالمعروف اور نہی ازمنکر کرنا چھوڑ دیں گے۔(١٣) شہادت کے بارے میں رسول خداۖ فرماتے ہیں :

''اَشْرَفُ الْمَوْتِ قَتْلُ الشَّھَادَةِ''

بہترین موت راہِ خدا میں شہادت ہے۔

 جب لوگ حقیقی صلوات بھیجتے ہیں تو ان میں ایسے اوصاف آجاتے ہیں جن سے ان کی اخلاقی ، سیاسی اور اجتماعی زندگی میں انقلاب آجاتا ہے اور کئی مشکلات حل ہوجاتی ہیں۔(١٤)

 صلوات کی شرط

 یہ جتنے صلوات کے آثاروبرکات ہیں صرف زبانی صلوات پڑھنے کے فوائد نہیں بلکہ انسان تہہ دل سے اور پوری توجہ سے پڑھے۔

 ہمیں اہل بیت٪ سے بہت محبت ہے ،ہم ان کے ماننے والے ہیں انہوں نے ہمیں پورا دین بتایا صلوات کی شرائط بتائیں ، ہماری پہچان ان سے ہوتی ہے لہٰذا ان کی سیرت پر عمل کریں۔

صلوات امام صادقـ کے کلام میں

 امامـ فرماتے ہیں :

''مَنْ صَلّٰی عَلَی النَّبِیِّ فَمَعْنَاہُ اَنِّی اَنَا عَلَی الْمِیْثَاقِِ وَ الْوَفَائِ الَّذِیْ قَبِِلْتُ حِیْنَ قَوْلِہ: ''اَلَسْتُ بِرَبِِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی''

 رسول خداۖ پر صلوات بھیجنے کا معنی یہ ہے کہ میں نے جوعالم فطرت میں اللہ سے عہد وپیمان کیا تھا ،اس کا پابند ہوں ، جس عالم میں خدا نے یہ فرمایا تھا کہ کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ سب نے کہا تھا کیوں نہیں یقینا تو ہمارا رب ہے۔(١٥)

 صلوات کا معنی در حقیقت خدا کی توحید کا اقرار کرنا ہے اور اسی طرح صلوات بھیجنے سے انسان اعلان کرتا ہے کہ وہ ہر قسم کی بت پرستی اور شرک سے پاک ہے اور صراط مستقیم پر ہے۔

 صلوات کیسے پڑھنی چاہیے؟

 رسول خداۖ نے فرمایا:

''مَنْ قَالَ صلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہ، قَالَ اللّٰہُ جَلَّ جَلَالَہ: صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْکَ فَلْیُکَثِّرْ مِنْ ذٰلِکَ، وَ مَنْ قَالَ صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ لَمْ یُصَلِّ عَلٰی اٰلِہ لَمْ یَجِدْ رِیْحَ الْجَنَّةِ''

 جو شخص محمد وال محمد٪ پر صلوات بھیجتا ہے، خداوند اس کے مقابلے میں اس پر صلوات بھیجتا ہے اور فرماتا ہے : زیادہ صلوات پڑھو اور جو صرف محمدۖ پر صلوات بھیجتا ہے اور اہل بیت پر نہیں بھیجتا، وہ جنت کی خوشبو تک نہیں سونگھ سکے گا۔(١٦)

 آل پر صلوات نہ بھیجنے کا انجام

 رسول اکرمۖ نے فرمایا :

''اِذَا صُلِّیَ عَلَیَّ وَ لَم یُتَّبَع بِالصَّلَاةِ عَلٰی اَھْلِ بَیْتِی کَانَ بَیْنَھَا وَ بَیْنَ السَّمَآئِ سَبْعُوْنَ حِجَابًا وَّ یَقُوْلُ جَلَّ جَلَالُہ: لَا لَبَّیْکَ وَ لَا سَعْدَیْکَ، یَا مَلَا ئِکَتِیْ لَا تَصْعُدُوْا دُعَآئَہ اِلاَّ اَنْ یَلْحَقَ بِنَبِیِّیْ عِتْرَتَہ''

 جب مجھ پر صلوات بھیجی جاتی ہے لیکن میرے اہل بیت پر صلوات نہ بھیجیں تو ایسی صلوات اور آسمان کے درمیان ستر پردے حائل ہوجاتے ہیں اور صلوات اوپر نہیں جاتی۔

 خداوند عالم فرماتا ہے :میں ایسے شخص کا جواب نہیں دونگا ،اے فرشتو! اس شخص کی دعا اوپر نہ لے جانا جب تک رسول اکرمۖ کے نام کے بعد اس کے اہل بیت پر بھی صلوات نہ پڑھ لے۔(١٧)

''لَا تُفَرِِّقُوْا بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اٰلِیْ بِعَلٰی''

 میرے اور میری آل کے درمیان ''عَلٰی'' کا فاصلہ نہ دیں یعنی یہ پڑھے: ''اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ'' نہ اس طرح  ''اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ'''۔

 اہل بیت٪ پر ظلم

 امام صادقـ نے فرمایا :

 میں نے اپنے باپ سے سنا ہے کہ ایک مردکعبہ سے لپٹا ہوا یہ کہہ رہا تھا: اللھم صل علی محمدۖ

 میرے باپ نے اس سے منع فرمایا:

''وَلَا تَبْتُرْھَا لَا تُظْلِمْنَا حَقَّنَا، قُلْ: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ''

 صلوات کو ناقص نہ پڑھو اور ہمارے حق میں ظلم نہ کرو اور آل پر بھی صلوات بھیجو یعنی اس طرح پڑھو: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ

 جس محفل میں صلوات نہ پڑھی جائے

 رسول گرامیۖ نے فرمایا:

''مَا مِنْ قَوْمِ اِجْتَمِعُوْا فِی مَجْلِسٍ وَ لَمْ یَذْکُرُوا للّٰہَ عَزَّ وَ جَلَّ وَ لَم یُصَلُّوْا عَلَیَّ اِلاَّ کَانَ ذٰلِکَ الْمَجلِسُ حَسْرَةً عَلَیْھِِمْ''

 جو قوم کسی جگہ جمع ہو اور اللہ کا ذکر نہ کرے اور مجھ پر صلوات نہ پڑھے تو ایسی محفل ان لوگوں کیلئے پشیمانی کا باعث بنے گی۔(١٩)

 نام محمد مصطفیۖ سننے پر صلوات نہ پڑھنے کا انجام

 ١۔خواری و ذلت

 رسول اکرمۖ نے فرمایا :

''رُغِمَ اَنْفُ رَجُلٍ ذُکِرْتُ عِنْدَہ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ''

 جس شخص کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ صلوات نہ پڑھے تو وہ شخص ذلیل و خوار ہوگا۔

 ٢۔ بدبختی

 رسول اکرمۖ فرماتے ہیں :

''مَنْ ذَکَرَنِیْ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ فَقَدْ شَقٰی''

 جوشخص میرا نام لے اور مجھ پر صلوات نہ پڑھے تو اس نے گویا خود کو بدبخت کیا۔

 ٣۔ بخیل

 رسول خداۖ نے فرمایا :

''اِنَّ البَخِیْلَ کُلَّ البَخِیْلِ الَّذِیْ اِذَا ذُکِرْتُ عِنَدَہ لَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ''

 وہ انسان بخیل ہے جو میرے نام سننے پر مجھ پر صلوات نہ بھیجے ۔(٢٠)

 ٤۔ خدا کی رحمت سے دوری

 رسول خداۖ نے فرمایا :

''مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ فَدَخَلَ النَّارَ فَاَبْعَدَہُ اللّٰہُ عزَّ وَ جَلَّ''

 جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ مجھ پر صلوات نہ بھیجے تو وہ دوزخ میں داخل ہوگا اور خداوند اسے اپنی رحمت سے دور کرے گا۔

 لہٰذا ہم سب پر ضروری ہے کہ جب بھی رسول خداۖکا نام محمدۖ یا لقب احمد، محمود اور مصطفی وغیرہ پکارا جائے تو ضروری ہے کہ صلوات بھیجیں۔(٢١)

 ٥۔ صلوات کے بغیر نماز

 امام صادقـ نے فرمایا :

''اِذَا صَلّٰی اَحَدُکُمْ وَ لَمْ یَذْکُرِ النَّبِیَّ یَسْلُکُ بِصَلَا تِہ غَیْرَسَبِیْلِِ الْجَنَّةِ''

 جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے اور اس میں صلوات نہ پڑھے، ایسا شخص جنت کے علاوہ کسی اور راستے پر ہے۔(٢٢)

 ٦۔ ظالم ترین لوگ

 رسول خداۖ فرماتے ہیں :

''اَجْفَی النَّاسِِ رَجُل ذُکِرْتُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ''

 جفا ترین وہ شخص ہے جس کے پاس میرا نام لیا جائے اور وہ مجھ پر صلوات نہ بھیجے۔(٢٣)

صلوات کا ثواب

اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلَائِکَتَہ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِی............اس آیت کی تفسیر کے بارے میں امام صادقـ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اس طرح پڑھو :

''صَلَوَاتُ اللّٰہِ وَ مَلَائِکَتَہ وَ اَنْبِیَآئِہ وَ رُسُلِہ وَ جَمِیْعِ خَلْقِہ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَ السَّلَامُ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمْ وَ رَحْمَةُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہ''

 پھر آپ سے پوچھا گیا: اس صلوات کا کتنا ثواب ہے ؟

 امام صادقـ نے فرمایا:

''اَلخُرُوْجُ مِنَ الذَنْبِِ وَ اللّٰہِ کَھَیْئَةِ یَوْمَ وَلَدِتْہُ اُمُّہ''

 یہ صلوات پڑھنے والا انسان تمام گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے، اس طرح جیسے ماں کے پیٹ سے آج ہی پیدا ہوا ہو۔(٢٤)

 امام رضاـ نے فرمایا:

''اَلصَّلَاةُ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہ تَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّ وَ جَلَّ التَّسْبِیْحَ وَ التَّھْلِیْلَ وَ التَّکْبِیْرَ''

 محمد وآل محمد٪ پر صلوات بھیجنے کا ثواب اتنا ہے جتنا کوئی یہ ذکر پڑھے سُبْحَانَ اللّٰہِ، لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔(٢٥)

صلوات پڑھنے سے رسول خداۖکی خواب میں زیارت

 جو شخص چاہتا ہے کہ اسے رات کو خواب میں رسول خداۖکی زیارت ہو تو وہ پاک و پاکیزہ ہو کر با خلوص صلوات بھیجے، انشاء اللہ ہر کام میں کامیاب ہوگا۔ اول یہ کام انجام دے:

 ١۔ نماز عشاء پڑھنے کے بعد غسل کرے،

 ٢۔ چار رکعت نماز پڑھے جس میں سورۂ توحید کی بجائے آیت الکرسی پڑھے ،

٣۔ ہزار مرتبہ صلوات پڑھے ،

٤۔ پاک وصاف لباس پہن کر سوئے،

٥۔ہمبستری نہ کرے ،

 ٦۔ اپنا دایاں ہاتھ رخسار کے نیچے رکھے،

٧۔ سومرتبہ یہ پڑھے: ''سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ الْحَمْدُلِلّٰہِ وَ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَ اللّٰہُ اَکْبَرُ وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلاَّ بِاللّٰہِ''

٨۔ سو مرتبہ یہ پڑھے :  مَا شَآئَ اللّٰہُ

 اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو اسے خواب میں رسول خداۖکی زیارت نصیب ہوگی۔

 آئمہ اطہار٪ سے نقل ہوا ہے کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ خاندان کے مرنے والوں کو خواب میں دیکھے تو اسے رات کو دائیں طرف سونا چاہئے اور یہ پڑھے۔

''اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الْحَدُّ الَّذِیْ لَا یُوْصَفَ، وَ الْاِیْمَانِ یُعْرَفُ مِنْہُ، مِنْکَ بَدَتِ الْاَشْیَآئُ وَ اِلَیْکَ تَعُوْدُ، فَمَا اُقْبِلَ مِنْھَا کُنْتَ مَلْجَأَہُ وَ مَنْجَاہُ، وَ مَا اَدْبَرَ مِنْھَا لَمْ یَکُنْ لَہ مَلْجَائ وَ لَا مَنْجَائ اِلاَّ اِلَیْکَ۔

فَاَسْاَلُکَ بِلَا اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ وَ اَسْئَلُکَ بِسْمِِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِِ، وَ بِحَقِِّ مُحمَّدٍ سیِّدِ النَّبِیِیْنَ، وَ بِحَقِِّ عَلِیٍّ خَیْرُ الْوَصِیِّیْنَ، وَ بِحَقِِّ سَیِّدَةِ نِسَآئِ الْعَالَمِیْنَ، وَ بِِحَقِِّ سَیِّدَیْ شَبَابِ اَھْلِِ الْجَنَّةِ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْنَ، اَلسَّلَامُ اَنْ تُصَلِّی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اَھْلِِ بَیْتِہ وَ اَنْ تَرِیَنِیْ مَیِّتِیْ فِی الْحَالِِ الَّتِیْ ھُوَ فِیْھَا''۔(٢٦)

 جب یہ دعا پڑھی جائے تو بہت ہی خضوع و خشوع کے ساتھ ہواور یہ جانتا ہو کیا کہہ رہا ہے اور کس سے کہہ رہا ہے۔

 دنیا میں صلوات کے آثار و برکات

 ہم پہلے صلوات کی اہمیت کے بارے میں بیان کرچکے ہیں اور اب اس کے آثار و برکات بیان کریں گے ، صلوات پڑھنے سے انسان کی معنوی و روحانی زندگی میں ضرور تبدیلی آتی ہے۔

 ١۔ نزول رحمت کا باعث

 حضرت علیـ نے فرمایا:

''وَ بِالصَّلَاةِ تَنَالُوْنَ الرَّحْمَةَ''

 صلوات پڑھنے سے رحمت خدا شامل حال ہوتی ہے ۔(٢٧)

٢۔ دعا قبول ہوتی ہے

 رسول اکرمۖ نے فرمایا:

''صَلَا تُکُمْ عَلَیَّ اِجَابَةً لِدُعَائِکُمْ''

 حقیقی صلوات پڑھنے سے تمہاری دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ (٢٨)

 حضرت علیـ فرماتے ہیں:

''صَلُّوْا عَلٰی مُحمَّدٍ وَّ اٰلِِ مُحَمَّدٍ فَاِنَّ عَزَّ وَ جَلَّ یَقْبِِلُ دُعَائَ کُمْ عِنْدَ ذِکْرِ مُحَمَّدٍ وَّ دُعَآئِکُمْ لَہ''

 محمد و آل محمد٪ پر صلوات بھیجو کیونکہ جب ان کا مقدس نام زبان پر لیتے ہو اور ان کے لئے طلب رحمت ہوتو خداوند عالم تمہاری دعا کو قبول کرتا ہے۔(٢٩)

 ٣۔ دعا کا اوپر جانا

 حضرت علیـ نے فرمایا :

''کُلُّ دُعَائٍ مَحْجُوْب عَنِ السَّمَآئِ حَتّٰی یُصَلِّیْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہ''

 کوئی دعا آسمان پر نہیں جاتی جب تک محمد وآل محمد٪ پر صلوات نہ بھیجو۔(٣٠)

 رسول اکرمۖ نے فرمایا :

''مَا مِنْ دُعَائٍ اِلاَّ بَیْنَہ وَ بَیْنَ السَّمَآئِ حِجَاب حَتّٰی یُصَلِّی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ، وَ اِذَا فَعَلَ ذٰلِکَ اِنْخَرَقَ الْحِجَابُ فَدَخَلَ الدُّعَآئُ وَ اِذَا لَمْ یَفْعَلْ لَمْ یَرْفَعِ الدُّعَائُ''

 آسمان پر جانے والی دعا کیلئے ایک پردہ ہوتا ہے اور محمد وآل محمد٪ پر صلوات بھیجنے سے وہ پردہ دور ہوجاتا ہے اور دعا اوپر جاتی ہے(یعنی قبول ہوتی ہے) لیکن اگر یہ صلوات نہ پڑھیں تو دعا اوپر نہیں جاتی۔(٣١)

٤۔ گناہوں کی مغفرت

 امام رضاـ نے فرمایا:

''مَنْ لَمْ یَقْدِرْ عَلٰی مَا یُکَفِّرْ بِِہ ذُنُوْبَہ فَلْیُکَثِّرْ مِنَ الصَّلَاةِ عَلٰی مُحمَّدٍ وَّ اٰلِہ فَاِنَّھَا تَھْدِمُ الذُّنُوْبَ ھَدْمًا''

 جو شخص گناہوں سے بچنے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو اسے صلوات پڑھنی چاہئے کیونکہ حقیقی صلوات گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔(٣٢)

 رسول اکرمۖ نے فرمایا :

''مَنْ صَلَّی عَلَیَّ مَرَّةً لَمْ یَبْقِِ مِنْ ذُنُوْبِہ ذَرَّة''

 جو شخص مجھ پر ایک دفعہ صلوات بھیجتا ہے اس کے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔(٣٣)

 رسول خداۖنے فرمایا :

''مَنْ صَلَّی عَلَیَّ صَلَاةً……مَحْیٰ عَنْہُ عَشَرَ سَیِّئَاتٍ''

 جو شخص مجھ پر ایک دفعہ صلوات بھیجتا ہے خدا اس کے دس گناہ معاف کردیتا ہے۔(٣٤)

 ٥۔ صلوات بھیجنے والے پر خدا کا درود

 جو انسان رسول اکرمۖ اور اہل بیت٪ پر صلوات بھیجتا ہے اس کے گناہ معاف ہونے کے علاوہ اسے اور بھی فیض نصیب ہوتا ہے اور وہ یہ کہ صلوات بھیجنے والے پر خدا ، رسولۖ اور فرشتے درود بھیجتے ہیں۔

 امام صادقـ نے فرمایا :

''مَنْ صَلَّی عَلَی النَّبِیِِّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ اَلْفَ صَلَاةً صَفٍّ مِنَ الْمَلائِکَةِ وَ لَم یَبْقِِ شَیْئ مِمَّا خَلَقَ اللّٰہُ الاَّ صَلَّ عَلٰی ذٰلِکَ الْعَبْدِ لِصَلَاةِ اللّٰہِ وَ صَلَاةِ مَلَائِکَتِہ''۔

 جو انسان صحیح معنوں میں محمد وآل محمد٪ پر صلوات پڑھتا ہے تو اس کے بدلے اس پر خدا کی طرف سے ہزار صف کے فرشتے ہزار صلوات بھیجتے ہیں۔ خدا کی تمام مخلوق ایسے انسان پر صلوات بھیجتی ہے۔(٣٥)

 ٦۔ سلامتی کا باعث

 رسول خداۖ فرماتے ہیں :

مَنْ صَلَّی عَلَیَّ مَرَّةً فَتَحَ اللّٰہُ بَابًا مِنَ الْعَافِیَةِ

 جو شخص مجھ پر ایک دفعہ صلوات بھیجتا ہے خدا وندایسے انسان پر سلامتی کے دروازے کھول دیتا ہے ۔(٣٦)

٧۔ خدا کی خوشنودی

 رسول اکرمۖ نے فرمایا :

''صَلَا تُکُمْ عَلَیَّ... مَرَضَات لِرَبِّکُمْ''

 تمہاری مجھ پر حقیقی صلوات بھیجنا رضایت الٰہی کا باعث ہے یعنی خدا خوش ہوتا ہے۔

٨۔ بہتر شہید کا ثواب

 حضرت محمد مصطفیۖ فرماتے ہیں :

''مَنْ قَالَ اللّٰھُمَّ صَلِِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِِ مُحَمَّدٍ اَعْطَاہُ اللّٰہُ اَجْرَ اِثْنَیْنَ وَ سَبْعِیْنَ شَھِیْدًا وَ خَرَجَ مِنْ ذُنُوْبِہ کَیَوْمٍ وَلَدَتْہُ اُمُّہ''

 جو شخص اللّٰھُمَّ صَلِِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِِ مُحَمَّدٍ پڑھتا ہے خداوند عالم اسے بہتر شہداء کا ثواب عطا کرتا ہے اور گناہوں سے ایسے پاک ہوجاتا ہے جیسے بچہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے۔

 ٩۔ صلوات پڑھنے والے پر فرشتوں کا سلام

 رسول خداۖ فرماتے ہیں :

''جَائَنِیْ جِبْرَئِیْلُ قَالَ: اِنَّہ لَا یُصَلّٰی عَلَیْکَ اَحَد اِلَّا یُصَلّٰی عَلَیْہِ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ وَ مَنْ صَلّٰی سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ کَانَ مِنْ اَھْلِِ الْجَنَّةِ''

 جبرائیل میرے پاس آئے اور کہنے لگے: جو شخص آپ پر صحیح صلوات بھیجتا ہے تو اس کے بدلے ستر ہزار فرشتے اس شخص پر صلوات بھیجتے ہیں اور جن پر ستر ہزار فرشتے صلوات بھیجیں وہ اہل جنت میں سے ہوگا ۔

١٠۔ فرشتوں کا صلوات بھیجنا

 امام صادقـ فرماتے ہیں :

''مَنْ صَلّٰی عَلَی النَّبِیِِّ وَ اٰلِہ مِائَةَ مَرَّةً فِیْ کُلِِّ یَوْمٍ اَسْدَاھَا سَبْعُوْنَ مَلَکاً یُبَلِّغُھَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ قِبَلَ صَاحِبِِہ''۔

 جو شخص ہر روز سومرتبہ صلوات محمد وآل محمد٪ پڑھتا ہے تو ستر ہزار فرشتے کسی کمی بیشی کے بغیر وہ صلوات بھیجنے والے کی طرف سے رسول خداۖ کی خدمت میں بھیجتے ہیں۔

١١۔ تین دن تک گناہ نہیں لکھے جاتے

 رسول اکرمۖ نے فرمایا :

''مَا مِنْ اَحَدٍ صَلّٰی عَلَیَّ مَرَّةً وَ اسْمَعَ حَافِظَیْہِ اِلَّا اَنْ لَا یَکْتُبَا ذَنْبِہ ثَلَاثَةَ اَیَّامٍ''

 جو انسان مجھ پر ایک مرتبہ صلوت بھیجتا ہے تو دو محافظ فرشتے اس شخص کا گناہ تین دن تک نہیں لکھتے۔

١٢۔ شیطان سے دوری

 جب انسان خدا کے ذکر میں مشغول رہتا ہے تو اس میں نورانیت پیدا ہوتی ہے، جس سے انسان شیطانی وسوسہ سے محفوظ رہتا ہے۔

 اسی لئے رسول خداۖ نے فرمایا:

''اِنَّ الشَّیْطَانَ اِثْنَانِ، شَیْطَانُ الْجِنِّ وَ یَبْعُدُ بِلَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمِ وَ شَیْطَانُ الْاِنْسِ وَ یَبْعُدُ بِالصَّلَاةِ عَلَی النَّبِیِّ وَ اٰلِہ''

 شیطان دو قسم کا ہے ایک جناتی شیطان جو کہ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمِ کہنے سے دور ہوجاتا ہے۔دوسرا شیطان، منحرف انسان ہے اور یہ رسول و آل رسول٪ پر صلوات پڑھنے سے دور ہوتا ہے۔

١٣۔ سخت وقت میں سکون

 خداوند عالم فرماتا ہے:

''وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَائِ وَ الضَّرَّائِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ''

 نیکی اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان غربت، بیماری اور دشمن کے مقابلے میں صبر کرتا ہو۔

 امام حسن عسکریـ نے فرمایا :

''یَذْکُرُ اللّٰہَ وَ یُصَلِّیْ عَلٰی مُحَمَّدُ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَ عَلٰی عَلِیٍّ وَلِیِّ اللّٰہِ وَ یُوَالِیْ بِقَلْبِہ وَ لِسَانِہ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ وَ یُعَادِیْ کَذٰلِکَ اَعْدَائَ اللّٰہِ''

 انسان جب کسی مشکل میں ہو تو اسے ذکر خدا کرنا چاہئے اور اسے حضرت محمد مصطفیۖ و حضرت علیـ پر صلوات پڑھنی چاہئے اور دل سے اہل بیت٪ سے دوستی رکھے اور ان کے دشمنوں سے دشمنی کرے۔

١٤۔ بہترین دعا

 ابن نعیم کہتا ہے میں نے امام صادقـ کی خدمت میں عرض کیا:  اِنِّیْ دَخَلْتُ الْبَیْتَ فَلَمْ یَحْضُرْنِیْ شَیْئ بَیْنَ الدُّعَائِ اِلَّا الصَّلَاة عَلَی النَّبِیِّ۔

 میں خانہ کعبہ میں داخل ہوا تو مجھے صلوات کے علاوہ کوئی دعا یا دنہ تھی۔

 امامـ نے فرمایا:

''فَقَالَ: لَمْ یَخْرُجْ اَحَد اِلَّا بِاَفْضَلِ لِمَا خَرَجْتَ''

 یاد رکھو! جتنا تجھے ثواب ملا کسی اور کو نہیں۔

١٥۔ آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں

 رسول خداۖنے فرمایا :

''اَخْبِرْنِیْ جِبْرَئِیْلُ اَنَّ الرَّجُلَ مِنْ اُمَّتِیْ اِذَا صَلّٰی عَلَیَّ وَ اتْبَعَ بِالصَّلَاةِ عَلٰی اَھْلِ بَیْتِیْ فُتِحَتْ لَہ اَبْوَابَ السَّمَائِ وَ صَلَّتْ عَلَیْہِ الْمَلَائِکَةُ سَبْعِیْنَ صَلَاةً وَ اِنَّہ لِمُذْنِبٍ خَطَّا، ثُمَّ تَحَاتُّ عَنْہُ الذُّنُوْبِ کَمَا یَتَحَاتُّ الْوَرَقِ مِنَ الشَّجَرِِ''

 مجھے جبرائیل نے بتایا: جب میری امت میں ایک شخص مجھ پر اور میرے اہل بیت پر صلوات بھیجتا ہے تو آسمان سے رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اس کے علاوہ خدا کے فرشتے ستر مرتبہ صلوات بھیجتے ہیں اور اس شخص کے گناہ ایسے ہی گر جاتے ہیں جیسے درخت کے پتے گرتے ہیں۔

 ١٦۔ صلوات بھیجنے والے پر تمام موجود ات کی صلوات

 جب خدا کسی شخص پر صلوات بھیجتا ہے تو تمام مخلوق بھی اس شخص پر صلوت بھیجتی ہے کیونکہ مخلوق خدا جانتی ہے کہ خدا صلوات بھیجتا ضرور ہے لہٰذا وہ بھی صلوات بھیجتے ہیں۔

''مَنْ صَلّٰی عَلَی النَّبِیِّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلّٰی عَلَیْہِ اَلْفَ  صَلَاةٍ فِیْ اَلْفَ صَفٍّ مِنَ الْمَلَائِکَةِ وَ لَمْ یَبْقِ شَیْئ مِمَّا خَلَقَ اللّٰہُ اِلَّا صَلَّ عَلٰی ذٰلِکَ الْعَبْدِ لِصَلَاةِ اللّٰہِ وَ صَلَاةِ مَلَائِکَتِہ''۔

جو شخص رسول خداۖ پر ایک مرتبہ صلوات بھیجتا ہے تو خداوندعالم اسکے بدلے میں ہزار ہزار فرشتوں کی ہزار صفوں کو صلوات پڑھنے پر متعین کرتا ہے۔ اسلئے خدا اور فرشتے اس شخص پر صلوات بھیجتے ہیں بلکہ خدا کی تمام مخلوق ایسے شخص پر صلوات بھیجتی ہے۔(٣٨)

 ١٧۔ ستر ہزار فرشتوں کی صلوات

 رسول اکرمۖ نے فرمایا :

''جَائَنِیْ جِبْرَئِیْلُ وَ قَالَ: اِنَّہ لَا یُصَلِّیْ  عَلَیْکَ اَحَد اِلَّا یُصَلِّیْ عَلَیْہِ سَبْعُوْنَ اَلْفَ مَلَکٍ''۔

 جبرائیل میرے پاس آئے اور کہا : جو شخص تم پر صلوات بھیجتا ہے تو اس کے بدلے میں اس پر ستر ہزار فرشتے صلوات بھیجتے ہیں۔

١٨۔ صلوات کا ثواب : امام رضاـ کے کلام میں

 امام رضاـ فرماتے ہیں:

 جو شخص رسول خداۖ اور اہل بیت٪ پر صلوات بھیجتا ہے اور انہیں مسرور کرتا ہے اور یہ کہتا ہے:

''اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ فِی الْاَوَّلِیْنَ، وَ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ فِی الْاٰخَرِیْنَ، وَ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ فِی الْمَلَأِ الْاَعْلٰی، وَ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ فِی الْمُرْسَلِیْنَ، اَللّٰھُمَّ اَعْطِ مُحَمَّدًا اَلْوَسِیْلَةَ وَ الشَّرْفَ وَ الْفَضِیْلَةَ وَ الدَّرَجَةَ الْکَبِیْرَةَ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَمَنْتُ بِمُحَمَّدٍ وَ لَمْ اَرَہُ، فَلَاتَحْرِمْنِیْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ رَوْیَتَہ، وَ ارْزُقْنِیْ صُحْبَتَہ، وَ تَوَفَّنِیْ عَلٰی مِلَّتِہ ، وَ اسْقِنِیْ مِنْ حَوْضِہ مَشْرَبًا رَوِیًّا سَائِغًا ھَنِیْئًا لَا ظَمَأَ بَعْدَہ اَبَدًا اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدْیْر، اَللّٰھُمَّ اٰمَنْتُ بِمُحَمَّدٍ وَّ لَمْ اَرَہُ فَعَرِّفْنِیْ فِی الْجَنَانِ وَجْھُہ اَللّٰھُمَّ بَلِّغْ رُوْحَ مُحَمَّدٍ عَنِّیْ تَحِیَّةَ کَثِیْرَةً وَ سَلَامًا''۔(٣٩)

 خدایا! اولین واخرین کی صلوات محمد وآل محمد پر ہو ، درود محمد وآل محمد کہ جن کا بلند ترین مقام ہے۔ صلوات محمد وآل محمد پر تمام کے مقابلے میں۔

 خدایا! اپنے رسول کو تمام امور میں وسیلہ قرار دے ، شرافت، فضیلت درجہ اور بلند مقام عطا فرما۔

 خدایا! اپنے پیغمبر کہ جس کو میں نے نہیں دیکھا اور ایمان لے آیا ہوں مجھے قیامت کے دن ان کی زیارت سے محروم نہ فرما ،مجھے ان کا جوار نصیب فرما ،مجھے ان کے دین اور حقیقی مسلمان مارنا، مجھے حوض کوثر کا خوشگوار و مسرت بخش جام پلانا اس طرح کہ پھر میں کبھی پیاسا نہ ہوں کیونکہ تو ہر کام پر قادر ہے۔

 خدایا! میں تیرے رسول محمدۖ پر ایمان لایا ہوں حالانکہ آنحضرتۖ کو نہیں دیکھا پس مجھے ان کے نورانی چہرے کی زیارت کا شرف عطا فرما۔

 خدایا! میری طرف بے شمار سلام بر محمد وآل محمد٪ہو۔

 گناہوں سے پاک  ہونا

''فَاِنَّ مَنْ صَلّٰی عَلَی النَّبِِیِّ بِھٰذَا الصَّلَوَاتِ ھُدِمَتْ ذُنُوْبَہ''

 جو شخص اس طرح رسول خداۖ پر صلوات بھیجتا ہے وہ گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے۔

 خطائیں معاف ہوتی ہیں

''وَ مُحِیَتْ خَطَایَاہُ''

 اسکی خطائیں معاف ہوتی ہیں

 نشاط دائمی

''دَامَ سُرُوْرُہ''

 اس کیلئے دائمی خوشحالی پیدا ہوتی ہے

 اجابت دعا

''وَ اسْتُجِیْبَ دَعَائُہ''

 اسکی دعا قبول ہوتی ہے

 امیدیں پوری ہوتی ہیں

''وَ اُعْطِیْ اَمَلُہ''

 ایسے شخص کی آرزو پوری ہوتی ہے

 زیادہ روزی

''وَ بُسِطَ لَہ رِزْقُہ''

 اس کا رزق زیادہ ہوتا ہے

 دشمن پر غلبہ

''وَ اُعْیِنَ عَلٰی عَدُوِّہ''

 ایسا شخص دشمن پر غالب آئے گا

 زیادہ خیرو برکت

''وَ ھِیَ لَہ سَبَبُ اَنْوَاعِ الْخَیْرِ''

 اس صلوات کے پڑھنے سے خیرو برکت زیادہ ہوتی ہے

 جنت میں رسول خداۖ کا دوست

''وَ یَجْعَلُ مِنْ رُفَقَائِ نَبِیِّہ فِیْ الْجَنَانِ الْاَعْلٰی''۔

 اس صلوات کو پڑھنے والا شخص قیامت میں رسول خداۖ کا دوست ہوگا۔

 ایک اہم نکتہ:

 صلوات کی فضیلت اور اس کے آثار و برکات اس وقت محقق ہوتے ہیں کہ انسان زبانی صلوات نہ بھیجے بلکہ حقیقی صلوات بھیجے اور حقیقی صلوات کی شرائط ہیں۔ با تقویٰ ہونا، خلوص نیت سے اور پوری توجہ سے صلوت پڑھنا چاہئے اس صلوات سے انسان کا اللہ اور اس کے رسولۖ کے درمیان رابطہ محکم ہوتا ہے انسان کے اعضاء وجوارح اس کے اختیار میں ہوں نہ شیطان کے۔

 آنکھ ، کان اور زبان سے رنگ الٰہی کا جلوہ ہوتو یہ حقیقی صلوات ہے اور صرف حقیقی صلوات کے آثاروبرکات ہوتے ہیں۔

١٩۔اعمال کی زکوٰة

 اسلام میں ہر چیز پر زکوٰة ہوتی ہے یعنی اگر خداوندعالم کسی کو معمول سے زیادہ کوئی چیز عنایت فرمائے تو اس شے کی رشد ونمو اور بقاء کیلئے اسکی زکوٰة دینی چاہیے۔

 اقسام زکوٰة

 حضرت علیـ نے فرمایا:

''لِکُلِّ شَیْئٍ زَکَاة وَ زَکَاةُ الْعَقْلِ اِحْتِمَالُ الْجُھَّالِ''

 ہر چیز کی زکوٰة ہوتی ہے اور عقل کی زکوٰة جاہل انسان کے مقابلے میں صبرو تحمل اور بردباری ہے۔

 پھر مولا امیرـ فرماتے ہیں :

 علم کی زکوٰة اسکی ترویج ہے ، قدرت کی زکوٰة انصاف ، خوبصورتی کی زکوٰة پاکدامنی ،کامیابی کی زکوٰة احسان ،بدن کی زکوٰة جہاد اور روزہ، سلامتی کی زکوٰة اطاعت لہٰذا کوشش کرنا چاہئے۔ حکومت کی زکوٰة عدالت، عبادت کی زکوٰة خشوع اور شجاعت کی زکوٰة راہ خدا میں جہاد کرنا ہے۔

 لیکن ہمارے اعمال کی زکوٰة صلوات ہے کیونکہ انسان کے کاموں میں نقص اور عیب ہوتا ہے اور صلوات بھیجنے سے عمل زیادہ ہوتا ہے اور زیادہ ثواب ملتا ہے اسی لئے رسول خداۖ نے فرمایا:

''صَلَاتُکُمْ عَلَیَّ زَکَاة لِاَعْمَالِکُمْ''

 مجھ پر تمہاری صلوات ،تمہارے اعمال اور کاموں کی زکوٰة ہے۔

٢٠۔اقسام حجاب

 حجاب کی دو قسمیں ہیں:

١۔  مادی حجاب: جیسے پردہ یا دو چیزوں کے درمیان دیوار کا فاصلہ ہونا یا چادر کی مانند جو عورتوں کے سر پر ہوتی ہے تا کہ کوئی نامحرم نہ دیکھے۔

 ٢۔ حجاب معنوی : یہ حجاب آنکھوں سے نہیں ہوتا بلکہ یہ کچھ صفات ہیں جو قرب الٰہی سے مانع ہوتی ہیں جیسے غرور، تکبر، حسد ، بخل اور کینہ جس شخص میں یہ بری صفات ہوں وہ قرب الٰہی حاصل نہیں کرسکتا۔

 صلوات کا ایک فائدہ یہ ہے کہ انسان میں خودشناسی کے علاوہ خدا شناسی پیدا ہوتی ہے اسی لئے آنحضرتۖ نے فرمایا:

''مَا مِن دُعَائٍ اِلَّا بَیْنَہ وَ بَیْنَ السَّمَائِ حِجَاب حَتّٰی یُصَلِّیْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَ اِذَا فَعَلَ ذٰلِکَ اِنْخَرَقَ الْحِجَابُ''

 ہر دعا اور آسمان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے اگر دعا صلوات کے ساتھ ہوتو وہ پردے ختم ہوجاتے ہیں۔

 ٢١۔ حافظہ کا سبب

 جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ بعض حجاب معنوی ہیں جیسے نسیان کہ انسان عام طور پر زیادہ چیزوں کو بھول جاتا ہے، اگر کوئی شخص چاہتا ہے کہ اس کا نسیان ختم ہوجائے تو اسے صلوات پڑھنی چاہئے، صلوات در حقیقت انسان ، خدا اور رسول اکرمۖ کے درمیان رابطے کا نام ہے۔

 اسی لئے امام حسن مجتبیٰـ نے فرمایا :

''اِنَّ قَلْبَ الرَّجُلَ فِیْ حَقٍّ وَ عَلَی الْحَقِّ طَبَق فَاِنَّ صَلَّی الرَّجُلَ عِنْدَ ذٰلِکَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ صَلَاةً تَامَّةَ اِنْکَشَفَ ذٰلِکَ الطَّبِقُ عَنْ ذٰلِکَ الْحَقُّ فَاَضَائَ الْقَلْبُ وَ ذَکَرَ الرَّجُلُ مَا کَانَ نَسِیَ۔

وَ اِنْ لَمْ یُصَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ أَوْ نَقَصَ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَیْھِمْ اِنْطَبَقَ ذٰلِکَ الطَّبَقُ عَلٰی ذٰلِکَ الْحَقِّ فَاَظْلَمَ الْقَلْبُ وَ نَسِیَ مَا کَانَ ذَکَرَہ''۔ (٤٠)

 ہر انسان کو چاہے اچھا ہو یا برا، اس کے دل پر پردہ ہوتا ہے، البتہ یہ پردہ ایمان کے درجے کے مطابق ہوتا ہے اور یہ پردہ انسان کو حقائق درک کرنے سے مانع ہوتا ہے، لیکن جب انسان صلوات محمد وآل محمد٪ پڑھتا ہے تو یہ پردہ ختم ہوجاتا ہے اور بھولی ہوئی چیز انسان کو یاد آجاتی ہے، اگر صلوات نہ بھیجے یا ناقص بھیجے تو انسان کا دل تاریک رہتا ہے اور یاد آنے والی ہر چیز کو بھول جاتا ہے۔

٢٢۔ ایک صلوات کے بدلے میں خدا کی ہزار صلوات

 امام صادقـ نے فرمایا :

''اِذَا ذُکِرَ النَّبِیُّ فَاکْثِرُوا الصَّلَاةَ عَلَیْہِ فَاِنَّہ مَنْ صَلّٰی عَلَی النَّبِیِّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ اَلْفَ صَلَاة''۔

 جب رسول خداۖ کا نام لیا جائے اور زیادہ صلوات بھیجی جائے تو ایک صلوات کے بدلے خداوند اس پر ہزار صلواة بھیجتا ہے۔

 ٢٣۔ سو حاجتوں کا پورا ہونا

 رسول خداۖ نے فرمایا :

''مَنْ صَلّٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ مِائَةَ مَرَّةً قَضَی اﷲُ لَہ مِائَةَ حَاجَةٍ''

 جو شخص محمد وآل محمد٪ پر سو صلوات بھیجتا ہے تو خداوند عالم اس کے بدلے اسکی سو حاجت پوری کرتا ہے۔

 امام جعفر صادقـ نے فرمایا:

''مَنْ صَلّٰی عَلَی النَّبِیِّ وَ اٰلِہ مَرَّةً وَاحِدَةً بِنِیَّةِ الْاِخْلَاصِ مِنْ قَلْبِہ قَضَی اللّٰہُ لَہ مِائَةَ حَاجَةٍ مِنْھَا ثَلَاثُوْنَ لِلدُّنْیَا، وَ سَبْعُوْنَ لِلْاٰخِرَةِ''۔

 جو شخص خلوص سے ایک مرتبہ محمد وآل محمد٪ پر صلوات بھیجتا ہے تو خداوند عالم اس کے بدلے اس شخص کی سو حاجات پوری کرے گا جن میں سے تیس دنیا کی ہونگی اور ستر حاجات آخرت کی پوری کرے گا۔

 حضرت علیـ نے فرمایا:

''مَنْ قَالَ ثَلَاثُ مَرَّاتٍ: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ   قَضَی اللّٰہُ حَاجَتَہ''

 جو شخص تین مرتبہ محمد وآل محمد٪ پر صلوات بھیجتا ہے اللہ اسکی حاجت کو پورا کرتا ہے۔

 ٢٤۔ دعا کے اول ، وسط اور آخر میں صلوات

 رسول اکرمۖ نے فرمایا :

''مَا مِنْ دَعَائٍ اِلَّا بَیْنَہ وَ بَیْنَ السَّمَائِ حِجَاب، فَاِذَا دَعَا الْعَبْدُ وَ لَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ فِیْ اَوَّلِہ، عَسٰی اَن یَّرْفَعَ اِلَی الْحِجَابِ ثُمَّ یُرَدُّ۔

وَ اِذَا صَلّٰی عَلَیَّ فِیْ اَوَّلِہ تَصْعُدُ الصَّلَاةُ فَتَفْتِقُ الْحِجَابَ وَ تَصْعُدُ اِلَی السَّمَائِ وَ یَتْبَعُھَا الدُّعَائُ اِلٰی دُوْنِ الْعَرْشِ فَھُنَاکَ تَرْجِیَ الْاَجَابَةُ''۔

 ہر دعا اور آسمان کے درمیان ایک پردہ ہوتا ہے جب انسان دعا کے اول میں صلوات نہ پڑھے تو اسکی دعا واپس آجاتی ہے لیکن جب اول میں صلوات پڑھے تو وہ پردہ ختم ہوجاتا ہے اور دعا و صلوات دونوں اوپر جاتے ہیں اور عرش الٰہی تک دعا پہنچ جاتی ہے لہٰذا دعا قبول ہوجاتی ہے۔

 رسول خداۖ نے فرمایا :

''لَا تَجْعَلُوْنِیْ کَقَدْحِ الرَّاکِبِ فَاِنَّ الرَّاکِبَ یَمْلَؤُ قَدَحَہ فَیَشْرِبُہ اِذَا شَآئَ، اِجْعَلُوْنِیْ فِیْ اَوَّلِ الدُّعَا وَ فِیْ وَسَطِہ وَ فِیْ اٰخِرِہ''۔

 اپنی دعاؤں کو گھڑ سوار کے برتن میں پانی کی مانندنہ بناؤ کہ جب پیاسا ہو پیتا ہے بلکہ دعا کی قبولیت کیلئے شروع، درمیان اور آخر میں صلوات بھیجیں یعنی اسی طرح دعا نہ مانگنا کہ کبھی صلوات پڑھنا اور کبھی نہ پڑھنا بلکہ اپنی دعاؤں میں ہمیشہ صلوات پڑھیں تا کہ قبول ہوں۔

 امام صادقـ نے فرمایا:

''مَنْ کَانَتْ لَہُ اِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَ جَلَّ حَاجَةُ فَلْیَبْدِئُ بِالصَّلَاةِ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ ثُمَّ یَسْئَلُ حَاجَتَہ، ثُمَّ یَخْتِمْ بِالصَّلَاةِ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ فَاِنَّ عَزَّ وَ جَلَّ اَکْرَمُ مَنْ اَنْ یَقْبَلُ الطَّرَفَیْنِ وَ یَدَعِ الْوَسَطَ، اِذَا کَانَتِ الصَّلَاةُ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ لَا تَحْجُبُ عَنْہُ ''۔(٤١)

 جو شخص خدا سے حاجت چاہتا ہو اسے دعا سے پہلے صلوات پرھنی چاہیے اور پھر اپنی حاجت مانگے ،دوبارہ صلوات پڑھے کیونکہ جس دعا میں اول وآخر صلوات ہو وہ دعا قبول ہوتی ہے۔ جب صلوات بھیجی جائے تو (اس کے بدلے میں) خداوند عالم اسکی حاجت کو بھی قبول کرے گا۔

 ٢٥۔ حضرت فاطمہ زہرا پر صلوات بھیجنے کا ثواب

 رسول اکرمۖ نے فرمایا:

''یَا فَاطِمَةُ مَنْ صَلّٰی عَلَیْکَ غَفَرَ اللّٰہُ لَہ وَ اَلْحَقَہ بِیْ حَیْثُ کُنْتُ مِنَ الْجَنَّةِ''۔

اے فاطمہ! جو انسان تم پر صلوات بھیجتا ہے تو اس کے بدلے خداوند دو اجرعطا کرتاہے۔

 (١) خدا اس شخص کے تمام گناہ بخش دیتا ہے ،

 (٢) جنت میں وہ میرے ساتھ ملحق ہوگا ۔

 ٢٦۔ صلوات پڑھنے والے کو رسول اکرمۖ کا جواب

 ہمارا عقیدہ ہے کہ چودہ معصومین٪ حاضر وناظر ہیں شہادت کے وقت ان کی روح بدن سے جدا ہوتی ہے اگر وہ چاہیں تو ہمارے اعمال کی نظارت کرسکتے ہیں ،ہمارے اچھے اعمال سے وہ خوش ہوتے ہیں اور بد اعمال سے ناراض ہوتے ہیں۔

 

 ہمارے اعمال پر آئمہ کی نظارت

 خداوند عالم فرماتا ہے :

''قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمْ وَ رَسُوْلُہ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ؟ وَسَتُرَدُّوْنَ ژ عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّھَادَةِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ''

 اور اے پیغمبر! کہہ دیجیے کہ تم لوگ عمل کرتے ہو کہ تمہارے اعمال کو اللہ ، رسول اور صاحب ایمان سب دیکھ رہے ہیں اور عنقریب تم اس خدائے عالم الغیب والشھادة کی طرف پلٹا دیئے جاؤ گے اور وہ تمہیں تمہارے اعمال سے با خبر کرے گا۔

 امام صادقـ اس آیت کی تفسیر کے بارے میں فرماتے ہیں:

''تُعْرَضُ الْاَعْمَالُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ اَعْمَالُ الْعِبَادِ کُلُّ صَبَاحٍ اَبْرَارُھَا وَ فُجَّارُھَا فَاحْذَرُوْھَا''۔

 لوگوں کے تمام اعمال ہر روز صبح رسول خداۖ کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں نیک لوگوں کے اعمال اور بد افراد کے اعمال ،لہٰذا تم احتیاط کرنا۔

 رسول اکرمۖ نے فرمایا :

 ''حَیَاتِیْ خَیْر لَّکُمْ تُحَدِّثُوْنَ وَ نُحَدِّثُ لَکُمْ وَ مَمَاتِیْ خَیْرلَّکُمْ تَعْرُضُ عَلَیَّ اَعْمَالُکُمْ، فَاِنْ رَأَیْتُ حَسُنًا جَمِیْلًا حَمَدْتُّ اللّٰہِ عَلٰی ذٰلِکَ وَ اِنْ رَأَیْتُ غُیْرُ ذٰلِکَ اِسْتَغْفَرْتُ اللّٰہَ لَکُمْ''۔(٤٢)

 جب میں دنیا میں تھا تو میری زندگی تمہارے لئے خیرو برکت تھی تم مجھ سے بولتے اور میں تم سے بولتا تھا اور میری موت بھی تمہارے لئے خیرو برکت ہے کیونکہ تمہارے اعمال میرے پاس بھیجے جاتے ہیں۔ اگر تمہارے اعمال اچھے ہوں تو خدا وند سے تعریف کرتا ہوں اور اگر اعمال بد ہوں تو خدا سے تمہاری مغفرت کرتا ہوں۔

 معصومین٪ کی زندگی وموت مساوی ہے یعنی جب دنیا میں تھے تو عالم برزخ اور قیامت کو دیکھتے تھے اور جب کہ عالم برزخ میں ہیں تو بھی ہمارے اعمال کا مشاہدہ کرتے ہیں۔جب ہم کسی معصوم کی زیارت کرتے ہیں تو وہ ہمارے نام تک جانتے ہیں اور ہماری حاجات کو بھی جانتے ہیں۔

جیسا کہ ہم حضرت علیـ کی  زیارت میں پڑھتے ہیں:

''اِنَّکَ تَسْمَعُ کَلَامِیْ وَ تَرُدُّ سَلَامِیْ''

آپ میرا کلام سنتے ہیں اور سلام کا جواب دیتے ہیں۔

 اس حدیث سے واضح ہوجاتا ہے کہ جب ہم معصومین٪ کی زیارت کرتے ہیں تو وہ سنتے ہیں اور جواب بھی دیتے ہیں۔

 حضرت امیرـ نے فرمایا :

''…فَلَا یُصَلِّیْ عَلَیْہِ اَحَد بَعْدَ وَفَاتِہ اِلَّا ھُوَ یَعْلَمُ بِذٰلِکَ وَ یَرُدُّ عَلَی الْمُصَلِّیْ مِثْلَ ذٰلِکَ…''

 جو شخص رحلت رسول اکرمۖ کے بعد ان پر صلوات بھیجے تو آنحضرتۖ صلوات بھیجنے والے کو جانتے ہیںاور وہ بھی صلوات بھیجتے ہیں۔

 ٢٧۔ زمین سے آسمان تک اشرف عمل

 امام حسن عسکریـ فرماتے ہیں :

''اِنَّ اَشْرَفَ اَعْمَالِ الْمُوْمِنِیْنَ فِیْ مَرَاتِبِھِمُ الَّتِیْ قَدْ رَتَبُوْا فِیْھَا، مِنَ الثَّرٰی اِلَی الْعَرْشِ الصَّلَاةِ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہِ الطَّیِّبِیْنَ''۔

 مومنین اپنے درجہ کے لحاظ سے ان کے شریف ترین اعمال زمین سے لے کر عرش الٰہی تک محمد وآل محمد٪ پر صلوات بھیجنا ہے۔

 

پاورقی:

(١)۔سورۂ احزاب…٥٦(٢)۔ تفسیر نمونہ جلد١٧، صفحہ ٤١٧  (٣)۔سورہ اعلیٰ … ١٥ (٤)۔بحارالنوار۔ج٩٤، ص ٥٨(٥)۔سورۂ احزاب…٤٣ (٦)۔ سورۂ  بقرہ …٥٥ تا ٥٧(٧)۔سورۂ توبہ…١٠٣(٨)۔نہج البلاغہ خطبہ ٧١،٧٢ (٩)۔ وسائل  الشیعة۔ ج٤،ص١٢١٠، بحار الانوار، ج٩٤،ص٤٩ (١٠)۔ مستدرک الوسائل۔ ج ٥، ص٣٥٥حدیث٨(١١)۔خصال شیخ الصدوق۔ ص٨٨،  اصول کافی،ج٨،ص٢١٩(١٢)۔بحار الانوار۔ ج٧٥، ص١(١٣)۔وسائل الشیعة۔ ج١١، ص٣٩٦(١٤)۔بحار الانوار۔ ج١٠٠، ص٨ (١٥)۔بحار الانوار۔ ج٩٤،ص٥٤(١٦)۔بحار الانوار۔ ج٩٤، ص٤٨،٥٦(١٧)۔بحار الانوار۔ ج٩٤،ص٥٦، مستدرک الوسائل،ج٥،ص٣٥٥(١٨)۔ مستدرک الوسائل،ج٥،ص٣٥٦ (١٩) ۔ مستدرک الوسائل۔ ج٥،ص٣٥١(٢٠)۔مستدرک الوسائل۔ ج ٥، ص ٣٥٣،  بحار الانوار۔ ج٩٤،ص٥٥،٦١(٢١)۔بحار الانوار۔ ج٩٤،ص٤٩ (٢٢) ۔ بحار الانوار۔ ج٩٤، ص٤٩(٢٣)۔بحار الانوار۔ ج٩٤،ص٨١ (٢٤)۔ بحار الانوار۔ ج٩٤،ص٥٥(٢٥)۔بحار۔ ج٩٤،ص٤٧،  وسائل۔ ج٤،ص٢١٢،  مستدرک۔ ج٥،ص٣٣٠' ٣٤١ (٢٦)۔بحار الانوار۔ ج٧،ص٢١٥ (٢٧)۔مستدرک الوسائل،ج٥،ص٣٤١،  بحار الانوار۔ ج٩٤،ص٤٨ (٢٨)۔بحار الانوار۔ ج٩٤،ص٦٨،٥٤،٥٠، اسی طرح ص ٦٥، ٦٦(٢٩)۔بحار الانوار۔ ج٩٤،ص٥٠(٣٠)۔بحار الانوار۔ ج٩٤،ص٥٨،٦٥(٣١)۔مستدرک الوسائل، ج٥،ص٢٢٧،  بحار الانوار۔ ج٩٤،ص٦٤، ٦٥، ٦٦ (٣٢)۔بحار الانوار۔ ج٩٤،ص٤٧،٦٣،  وسائل الشیعة۔ ج٩٤،ص٢١٢ (٣٣)۔بحار الانوار۔ ج٩٤، ص٦٣، مستدرک الوسائل ۔ ج٥،ص٣٣٤ (٣٤)۔ مستدرک الوسائل۔ ج٥، ص٣٣٥،٣٣٧ (٣٥)۔بحار۔ ج٩٤،ص٦٥،  وسائل،ج٤،ص١٢١١، مستدرک  ج٥،ص٣٣٤ (٣٦)۔بحار۔ ج٩٤،ص٦٣،  مستدرک۔ ج٥، ص٣٣٣ (٣٧)۔بحار الانوار۔ ج٩٤ ص٦٤،  مستدرک الوسائل ۔ ج٥،ص٣٣٥۔٣٣٦ (٣٨)۔وسائل الشیعة۔ ج٥،ص٢٢٠،  مستدرک الوسائل ۔ ج٥،ص٣٥٥ (٣٩)۔بحار الانوار۔ ج٩٤، ص ٦٥،  وسائل۔ج٤،ص١١،١٢ )(٤٠)۔وسائل الشیعة، ج٤، ص١٢١٥(٤١)۔وسائل الشیعة، ج٤، ص١١٣٧ (٤٢)۔بصائر الدرجات، جز٩، باب١٢، حدیث٤ (٤٣)۔بحار الانوار، ج٩٤،ص٥٥ (٤٤)۔ بحار الانوار، ج٨٦،ص٢٦٨(٤٥)۔بحار الانوار، ج٩٤،ص٥٠(٤٦)۔کنز العمال، ج١، ص٥٠٦، شمارہ ٢٢٣٨(٤٧)۔کنز العمال ، ج١، ص٥٠٦، شمارہ ٢٢٣٧ (٤٨)۔ کنز العمال ، ج١، ص٩٩، شمارہ٢٢٠٤ (٤٩)۔ کنز  لعمال، ج١، ص ٢١٤٣ (٥٠)۔مکارم الاخلاق، ص٤٦٤

 

 

 

 

 

 

 

 

                اس فصل میں دو معصومین  کی ماں کی عظمت کے بارے میں بیان کریں گے ۔ حضرت فاطمہ زہرا  کے بے شمار فضائل ہیں۔ فاطمہ اپنے باپ کی مونس تھی ،یہاں تک کہ رسول خدا ۖ نے انہیں(( أم ابیھا)) کا لقب دیا ۔ہمارا قلم ان کی فضیلت لکھنے سے عاجز ہے۔

        ان کی فضیلت کے بارے میں یہ کافی ہے کہ خداوند عالم نے انبیاء کی نسل، ان کی صلب میں رکھی۔ لیکن پیغمبر ۖ کی نسل کو حضرت علی  کی صلب میں رکھا اور فاطمہ  سے ہونے والی اولاد میں فاطمہ پاکدامن تھیں اور پاکدامن اولاد کی تربیت کی آپ  کی زندگی بہت کم تھی۔ لیکن آپ کے آثار وبرکات بہت زیادہ ہیں۔ فاطمہ اپنے شوہر کے لئے بہترین بیوی اور اپنی اولاد کیلئے بہترین ماں تھیں ۔ ہماری عورتوں کو فاطمہ  کی سیرت پر چلنا چاہیے ۔

ولادت :

        فاطمہ زہراء  مکہ کے ایک ایسے مبارک ونورانی گھر میں پیدا ہوئیں۔ جو محل نزول وحی تھا، جس گھر میں فاطمہ  پیدا ہوئیں۔ وہ گھر مسلمانوں کے نزدیک پر برکت ہے۔ فاطمہ رسول خدا ۖاور خدیجہ کی سب سے چھوٹی اور اکلوتی بیٹی تھیں۔ (١)

جناب زہراء  بیس (٢٠) جمادی الثانی کو پیدا ہوئیں، ولادت کے دن میں اتنا اختلاف نہیں ۔لیکن سال کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ کس سال میں پیدا ہوئیں ۔

        کلینی ، ابن جریر،طبری،طبرسی،مجلسی،ابن شہر آشوب اور سید محسن امین(٢)

جیسے علماء نے فاطمہ کی ولادت کو بعثت کا پانچواں سال لکھا ہے ۔

        (٢) کچھ اور شیعہ علماء جیسے شیخ مفید حدائق الریاض میں اور شیخ طوسی مصباح المجتہد میں فاطمہ کی ولادت کو بعثت کا دوسرا سال لکھا ہے ۔(٣)

        (٣) کچھ شیعہ مورخین اور مورخین اہل سنت جیسے طبری ،ابو الفرج اصفہانی واحمد بن حنبل ولادت فاطمہ  کو بعثت سے پانچ سال پہلے لکھا ۔(١)١۔تاریخ طبری ،ج٢،ص٤٧٣؛ مقاتل الطالبین ،ص٣٠؛مسند احمدبن حنبل،ج٦،ص١٦٣ و الطبقات الکبریٰ،ج٨،ص١١

        (٤) کچھ اہل سنت نے فاطمہ کی ولادت کو رسول خداۖکی اکتالیس (٤١) سالہ زندگی میں لکھا ہے ۔(٤)

آپ  کے القاب، کنیت اور نام :

        فاطمہ زہرا  کے کئی نام ہیں جو بعض خدا کی طرف سے اور بعض رسول خدا ۖ نے رکھے۔ امام صادق  نے فرمایا: خداوند عالم نے نو (٩) نام فاطمہ  کے رکھے:

        فاطمہ ،صدیقہ ،مبارکہ ،طاہرہ ،زکیہ ، راضیہ ،مرضیہ ،محدثہ و زہرائ۔

ان کا نام فاطمہ  اس لئے رکھا کیونکہ وہ ہر گناہ سے دور تھیں۔

        علامہ مجلسی  اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: صدیقہ یعنی معصومہ، مبارکہ یعنی صاحب برکت اور صاحب علم وفضل طاہرہ یعنی ہر نقص سے پاک ،زکیہ یعنی کمالات میں عروج ،راضیہ یعنی قضاء خدا پر راضی ،مرضیہ یعنی خدا کا پسندیدہ بندہ ،محدثہ یعنی فرشتہ اس سے باتیں کرتا تھا ،زہراء یعنی نورانی۔

        مورخین نے فاطمہ کی یہ کنیت ذکر کی ہیں:((ام الائمہ ،ام ابیھا ،ام الحسن ،ام الحسین وام المحسن))

        اس کے القاب مندرجہ ذیل یہ ہیں :حصان ،حورہ ،عذرا ،منصورہ ،نوریہ ،بتول ،علیمہ ،حکیمہ ،نقیہ ،حلیمہ ،تقیہ ،سیدہ ،مضطھدة الشھیدہ ،مونسة خدیجة الکبریٰ۔(١)

بچپن اور جوانی :

        فاطمہ نے بچپن سے ہی دشمن کی طرف سے آنحضرت ۖ پر آنے والے مصائب دیکھے۔(٢)

         جب آنحضرت ۖشعب ابی طالب میں محاصرہ ہوگئے تو فاطمہ بھی آپ کے ساتھ تھیں۔(٣)

         ایک دن فاطمہ  اتنی بھوکی تھیں کہ آپ  کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوگیا تھا، اپنے باپ کے پاس آتی ہیں اور کہتی ہیں :کہ بابا میں بھوکی ہوں، آنحضرت ۖ نے اپنا دست مبارک سینے پر رکھااور آسمان کی طرف ہاتھ بلند کرکے دعا کی: اے خدایا تو بھوکوں کو سیر کرنے والا ہے اور میری بیٹی فاطمہ  کو بھوک سے نجات دے ۔عمران بن حصین کہتا ہے : میں نے دیکھا کہ تھوڑی دیر کے بعد فاطمہ  کے چہرہ پرپہلے کی طرح شادابی نظر آنے لگی۔(٤)

آخر قریش کا معاصرہ ختم ہوا اوررسول خدا ۖ اپنے ساتھیوں سمیت گھر واپس آئے، اس وقت فاطمہ  کی عمر پانچ سال تھی ۔ اس کے بعد فاطمہ کی ماں دنیا سے رخصت ہوگئیں ۔(٥)

        جس کے بعد ہمیشہ اپنی ماں کے غم میں غمگین رہتی تھیں ،دشمن کی طرف سے تلخ حوادث آپ  نے دیکھے۔ ایک دفعہ فاطمہ  نے دیکھا کہ مشرکین مسجدالحرام میں بیٹھے ہیں اور رسول خدا ۖ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تو فاطمہ  روتی ہوئی آئیں اپنے باپ  ۖکو دشمن کی اس سازش سے آگاہ کیا ۔(٦)

        ابن مسعود کہتا ہے: ایک دن رسول خدا ۖ مسجد الحرام کے کنارے نماز میں مشغول تھے کہ ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے آنحضرت  ۖ کو دیکھا، تو ان میں سے ایک شخص اٹھا اور اونٹ کی اوجری کو آپ پر پھینک دیا ۔آپ ۖ نے سجدے سے سر اٹھایا تو دوسرے لوگ رسول خدا ۖ کا مذاق اڑا رہے تھے ۔ میں نے یہ سارا ماجرا دیکھا ،لیکن مجھے آگے جانے کی جرات نہ ہوئی۔ جب فاطمہ  نے واقعہ سنا تو وہ بہت پریشان ہوئیں،مسجدالحرام میں آئیں اور غلاظت کو رسول خدا ۖ سے دور کیا اور مسخرہ کرنے والوں کی سر زنش کی۔(٧)

آپ کی شادی :

        حضرت علی  اور حضرت فاطمہ  کی شادی کے سال کے بارے میں مورخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض نے ہجرت کے پہلے سال رجب میں لکھا۔(٨) اور بعض نے ہجرت کے دوسرے سال پہلی ذی الحجہ کو بیان کیا ۔(٩)

         علامہ سید محسن امین لکھتے ہیں: بعض مورخین نے حضرت زہراء  کی شادی کو حضرت ۖ  کی ہجرت کے دوسرے سال اور بعض تیسرے سال میں بیان کیا ۔ اگر فاطمہ  کی ولادت کو بعثت کے پانچویں سال فرض کریں ،تو انہوں نے مکہ میں اپنے باپ کے ساتھ آٹھ سال گزارے اور ہجرت کے بعد فاطمہ  بھی مدینہ چلی گئیں اور ابھی ایک سال نہیں گزرا کہ آپ کی شادی مولا امیر المومنین سے ہوئی۔ (١٠)

        فاطمہ  میں بہت سے کمالات اور فضائل تھے ،جس کی وجہ سے بہت سے لوگ آپ  کا رشتہ مانگنے آئے، لیکن رسول خدا ۖ نے سب کو رد کردیا ۔ایک دن عبدالرحمن بن عوف رسول خدا ۖ سے فاطمہ  کا رشتہ مانگنے گیا اور کہا :اے رسول خدا ۖ! اگر مجھے فاطمہ  کا رشتہ دیتے ہو تو میں اسے بہت سا مال اور حق مہر دوں گا ۔ رسول خدا ۖ یہ سن کر ناراض ہوئے اور فرمایا: تم پیسے دیکھا کر رشتہ لینا چاہتے ہو ۔(١١)

        انس کہتا ہے: حضرت علی  سے پہلے ابوبکر وعمر بھی رشتہ مانگنے گئے ،لیکن آنحضرت ۖ نے قبول نہ کیا بلکہ فرمایا: میں حکم خدا کا انتظار کررہا ہوں ۔(١٢)

        ابوبکر عمر سعد بن معاذ حضرت علی  کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم رسول خدا ۖ سے زہراء  کا رشتہ مانگو ، مولاامیر  نے فرمایا: میری بھی یہی آرزو ہے ۔ (١٣)

        مولا امیر  فرماتے ہیں :میں زہراء  سے شادی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، لیکن رسول خدا ۖ سے اس موضوع پر بات کرنے سے شرما رہا ہوں ۔ بہت سوچنے کے بعد ایک روز میں رسول خدا ۖ کی خدمت میں پہنچا، آنحضرت نے مجھ سے پوچھا: اے علی!  بتائو کیا شادی کرنے کا ارادہ ہے۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ میں قریش کی لڑکیوں میں سے کسی ایک کے ساتھ شادی کرنے کی فکر میں تھا۔ میں رسول خدا ۖ سے دور گیا تو اچانک فرشتہ آیا اور اس نے رسول خدا ۖ سے کہا اے رسول قبول کرو ۔ رسول خدا ۖ ام سلمیٰ کے کمرے میں تھے مجھے دیکھ کر خوش ہوئے اور فرمایا: اے علی  خوشخبری سنائو ںابھی جبرائیل مجھ پر نازل ہوا اور اس نے کہا فاطمہ کی شادی علی سے کرو ۔(١٤)

حق مہر :

        رسول خدا ۖ نے علی  سے پوچھا کہ زہرا  کے حق مہر کیلئے کوئی چیز رکھتے ہو۔ حضرت علی  نے جواب دیا یا رسول اللہ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، ایک تلوار، ایک زرہ اور ایک اونٹ کے سوا کچھ نہیں۔ آنحضرت نے فرمایا :تلوار اور اونٹ جہاد اور کام کیلئے رکھو اور زرہ کو بیچ دو۔ اس زرہ کی قیمت پانچ سو درہم

 تھی ۔(١٥)

         جو زہراء  کا حق مہر بنا اس حق مہر کو مہر سنت بھی کہتے ہیں اور یہی مقدار مسلمانوں کے درمیان رائج ہے رسول خدا ۖ کی بیویوں کا حق مہر اتنا ہی تھا ۔(١٦)

 ابن ابی الحدید لکھتا ہے : عمر نے اپنی خلافت کے دوران حضرت زہراء  کے حق مہر سے زیادہ دینا ممنوع قرار دیا تھا ۔ (١٧)

جہیز :

حضرت علی  اور حضرت فاطمہ  کی مشترک زندگی کا آغاز بہت ہی سادہ تھا۔ جناب زہرا  کا جہیز مندرجہ ذیل اشیاء پر مشتمل تھا :

(١) ایک عدد قمیص (٢) ایک عدد مقنعہ (٣) ایک عدد کالا کپڑا (٤) خرمہ سے بنی ہوئی تختی (٥) دو عدد بستر (٥) چار عدد تکیے (٧) ایک عدد پردہ (٨) ایک اوڑھنی (٩) چکی (١٠) مشک (١١) دودھ کے لیے پیالہ (١٢) ڈش وٹپ (١٣) گھڑا (١٥) ایک عدد چٹائی (١٦) بھیڑ کے چمڑے سے بنا ہوا دسترخوان ۔

        یہ جہیز رسول خدا ۖ کے حکم سے بعض اصحابہ نے خریدا کہ جن کی قیمت (٦٣) ترسیٹھ درہم تھی ۔رسول خدا ۖ نے کچھ رقم بلال کو دی تاکہ وہ فاطمہ  کے لیے عطر خرید لائے اور کچھ مقدار ام ایمن کو دی تاکہ وہ ضروری وسائل خریدے اور باقی رقم ام سلمیٰ کے سپرد کی۔ (١٨)

         جب رسول خدا ۖ نے جہیز کو دیکھا تو فرمایا:(( اللھم بودک للاھل بیت جل انیتھم من اخزف)) (١٩)

        خدایا اس جہیز کو اہل خانہ کیلئے مبارک قرار دے کہ جس میں سے اکثر برتن مٹی کے ہیں ۔

شادی کے مراسم :

        تقریباً ایک ماہ خریداری میں گزرا اور حضرت علی  اس دوران شرم وحیاء کی وجہ سے رسول خدا سے باتیں نہیں کرتے تھے ۔ایک دن علی  کے بھائی عقیل انہیں کہتے ہیں :اپنی بیوی کو گھر میں کیوں نہیں لا رہے ہو ،جب رسول خدا ۖ نے سنا تو علی کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ کیا تو حاضر ہے کہ شادی کی جائے، مولا نے مثبت جواب دیا۔(٢٠)

        پہلی ذی الحجہ سے لے کر چھٹی ذی الحجہ تک رسول خدا ۖ کے حکم سے شادی کے مراسم انجام پائے۔ آنحضرت نے ولیمے کا حکم دیا ،انصار کے ایک بزرگ سعد نامی شخص نے ولیمہ کے لئے ایک دنبہ ہدیہ کیا۔ کچھ دوسرے افراد آٹا لائے ،اس کے علاوہ گھی اورکھجور بازار سے خریدا گیا، رسول خدا ۖ کی نظارت میں کھانا تیار ہوا ۔ رسول خدا ۖ کی برکت سے لوگوں نے بہت کھانا کھایا، لیکن پھر بھی بچ گیا اور فقیروں کو بھی غذا دی گئی۔(٢١)

رسول خدا ۖ نے اپنی بیویوں کو حکم دیا کہ عبدالمطلب کی لڑکیوں کو بھیجیں تاکہ وہ فاطمہ  کو تیار کریں اور تکبیر پڑھیں خدا کی حمد وثناء کریں اور کوئی ایسا کلمہ نہ کہیں جو رضائے خدا کے منافی ہو۔(٢٢)

         اس شادی میں جبرائیل ومیکائیل کے ساتھ ستر ہزار فرشتے شریک ہوئے ،پہلے جبرائیل نے تکبیر کہی، پھر میکائیل اور پھر باقی فرشتوں نے، رسول خدا ۖ نے بھی تکبیر کہی اس وقت سے لے کر آج تک شادی میں تکبیر کہنا رسم بن چکی ہے ۔(٢٣)

شادی کی رات ذکر خدا:

        شادی در حقیقت ایک خاندان کی پہلی اینٹ ہوتی ہے، میاں بیوی دونوں کی مشترک زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ شادی کی رات حضرت علی  نے فاطمہ  کو پریشان دیکھا اور پوچھا ناراض کیوں ہو؟بی بی  نے جواب دیا ،مجھے آخرت اور قبر یاد آئی۔ آج میں اپنے باپ کے گھر سے تمہارے گھر آئی ہوں اور اس کے بعد قبر اور قیامت کی منزل طے کروں گی ،خدا کی قسم اے علی  !آئو، دونوں اللہ کی عبادت کریں۔اگر سیرت اہل بیت  پر چلنا ہے، تو آئیں ان دو شخصیات کی عملی سیرت کو اپنائیں ۔

گھر کی حالت :

        مولا علی  اور بی بی فاطمہ  کی زندگی بہت ہی سادہ تھی حضرت، علی  ہجرت کے بعد ایک انصاری کے گھر میں رہتے تھے اور شادی کے بعد اسی گھر میں رہے۔

        ایک دن رسول خدا ۖ مولا علی  کے گھر تشریف لائے اور فرمایا: تمہارا گھر بہت دور ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ کا گھر کہیں قریب ہو ،فاطمہ  نے عرض کیا :بابا جان آپ کے ہمسائے میں حارثہ بن نعمان کا گھر بہت ہی مناسب ہوگا ۔ آنحضرت نے فرمایا :میں حارثہ بن نعمان سے پہلے ہی مہاجرین کے لیے چند گھر مانگ چکا ہوں، اب ان سے شرم آتی ہے ۔جب حارثہ نے یہ سنا ،تو فوراً رسول خدا ۖ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا۔ یا رسول اللہ! یہ گھر آپ کا گھر ہے ،رسول خدا ۖنے یہ گھر مولا علی اور بی بی فاطمہ کے اختیار میںدے دیا ۔(٢٤)

١۔تفکر فی حالی وامری عند ذھاب عمری ونزولی فی قبری فشبھت دخولی فی فراشی بمنزلی کد خولی الی لحدی وقبری فأنشدک اللہ ان قمت الی الصلاة فنعبداللہ تعالیٰ ھذہ اللیلة ۔

        جیسا کہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ ان کے گھر دنبے کی کھال کے علاوہ کچھ نہ تھا، رات کو اس پر سوتے تھے اور دن کو اس پر اونٹ کو چارا ڈالتے تھے ۔(٢٥)

تقسیم وظائف :

        گھر کا سارا کام عورت پر واجب نہیں،بلکہ گھر کو مرد اور عورت دونوںنے مل کر چلانا ہوتا ہے ۔حضرت علی  اور بی بی فاطمہ  کی شادی کے بعد رسول خدا ۖ ان کے گھر تشریف لے گئے اور انہیں فرمایا :اے علی! اے فاطمہ! میں تمہارے درمیان گھریلوکام کو تقسیم کرنا چاہتا ہوں،گھر کے اندرونی کام فاطمہ  کے ذمے اور گھر کے باہر کے کام علی  کے سپرد کرتا ہوں۔ فاطمہ  نے عرض: کیا خدا جانتا ہے کہ میں اپنے باپ کی تقسیم پر کس قدر خوشحال ہوں ۔(٢٦)

حضرت فاطمہ  کی خانہ داری :

        ایک دن رسول خدا ۖ جناب فاطمہ  کے گھر آئے تو دیکھا دونوں میاں بیوی آٹا پیسنے کے لئے چکی چلا رہے ہیں۔ پیغمبر ۖ نے فرمایا :میں تم میں سے کس کی مدد کروں۔حضرت علی  نے فرمایا: یا رسول اللہ ۖ فاطمہ  تھک گئی ہیںان کی مدد آپ کریں۔ رسول خدا ۖ نے فرمایا: فاطمہ  بیٹی تم اٹھو میں چکی چلاتا ہوں ۔(٢٧)

امام جعفر صادق   ـفرماتے ہیں لکڑیاں لانا تندور گرم کرنا، پانی لانا اور گھر میں جھاڑو دینا علی  کی ذمہ داری تھی اور آٹا پیسنا آٹا گوندھنا اور روٹی پکانا فاطمہ زہرا  کی ذمہ داری تھی ۔ (٢٨)

        زہری لکھتا ہے: فاطمہ  بنت رسول خدا ۖ نے اتنی چکی چلائی کہ آپ  کے ہاتھوں میں چھالے پڑگئے۔(٢٩)

         امام صادق   ـنے فرمایا: ایک دفعہ رسول خدا ۖ فاطمہ  کے گھر میں داخل ہوئے اور دیکھا فاطمہ چکی چلا رہی ہیں اور بچے کو دودھ بھی پلا رہی ہیں، یہ دیکھ کر رسول خدا ۖکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور فرمایا: اے بیٹی آج دنیا میں اس مشقت کا اجر آخرت میں ضرور ملے گا، بی بی فاطمہ  نے عرض کیا :میں خدا کا حمد کرتی ہوں اور اس کی نعمتوں کا شکر بجالاتی ہوں ۔(٣٠)

         سلمان فارسی فرماتے ہیں: ایک دن میں فاطمہ  کے گھر میں داخل ہوا اور دیکھا کہ فاطمہ  چکی چلا رہی تھی، آپ  کے ہاتھ خون سے آلودہ تھے ۔حسین  کمرے کے اندر بے قراری سے رو رہے تھے، میں نے فاطمہ  سے عرض کیا: اے رسول ۖ کی بیٹی! تیرے ہاتھ زخمی ہوچکے ہیں، حالانکہ تمہاری خادمہ فضہ گھر میں موجود ہے۔ حضرت فاطمہ  نے فرمایا:میرے باپ نے ہمارے درمیان گھر کا کام تقسیم کیا ۔ایک دن میں اور ایک دن فضہ کام کرتی ہے، کل فضہ کی باری تھی اور آج میری باری ہے ۔ سلمان نے کہا میں تمہارا آزاد شدہ غلام ہوں پس میں چکی چلاتا ہوں اور تم حسین  کو لے لو سلمان فارسی کہتا ہے:

        جب میں کچھ پیس چکا تو نماز کے لیے اذان واقامت ہوئی لہذا میں مسجد میں چلا گیا۔ نماز کے بعد میں نے مولا امیر  کو یہ ماجرا سنایا، مولا پریشانی کی حالت میں مسجد سے نکلے، گھر گئے اور پھر مسکراتے ہوئے واپس آئے۔ رسول خدا ۖ نے مولا سے مسکرانے کی علت پوچھی۔ تو مولا نے کہا: فاطمہ  کے پاس گیا ہوں،دیکھا تو فاطمہ  سو رہی تھیں اور حسین  ان کے سینے پر ہیں اور چکی خود بخود چل رہی ہے۔ آنحضرت ۖ نے فرمایا :اے علی  !کیا تمہیں معلوم نہیں کہ خدا وند عالم نے بہت سے فرشتے آل محمد کی خدمت کے لیے پیدا کیے ہیں ۔(٣١)

جب مولا امیر  جہاد پر جاتے تو گھر کا سارا کام بی بی خود انجام دیتی تھیں ۔

شوہر کے لیے ایثار :

        مولا کے زمانے میں لوگ غربت کا شکار تھے ،حتیٰ بعض اوقات آپ  کے گھر میں کھانے کی کوئی چیز نہ ہوتی، اس کے باوجود حضرت فاطمہ  نے تمام مشکلات کو برداشت کیا اور کبھی بھی شوہر سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا ۔

        ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مولا امیر  فاطمہ  سے فرماتے ہیں: اے فاطمہ  !گھر میں کچھ کھانا ہے، تو انہوں نے جواب دیا نہیں۔ خدا کی قسم دو دن سے گھر میں پوری غذا نہیں ہے ،جو کچھ تھا حسن  اور حسین  کو دیا اور تھوڑی سی مقدار میں نے خود کھائی۔ مولا بڑے افسوس سے فرماتے ہیں: اے فاطمہ  توں نے مجھے کیوں نہیں بتایا ۔

        فاطمہ  نے جوا ب دیا:(( یا ابالحسن الی لا ستح من الٰھی أن اکلف نفسک ما لا تقدر علیہ))(٣٢)

         اے ابوالحسن! مجھے خدا سے شرم آتی ہے کہ تمہیں ایسی چیز کے بارے میں کہو جس کی تم طاقت نہیں رکھتے ہو ۔

شوہر کا احترام :

        ثقیفہ جیسے تلخ واقعات کے بعد بی بی فاطمہ  پر بہت سخت گزری ،دشمن اہل بیت  نے اہل بیت  کو وہ مقام نہ دیا جو رسول خدا ۖ اپنی زبانی فرما گئے تھے ۔ ابوبکر اور عمر دونوں نے مولا امیر  سے فاطمہ کی ملاقات کے لیے کہا، مولا نے بھی قبول کیا اور فرمایا :اے فاطمہ  !میں ان دونوں کو آپ  کی ملاقات کا وعدہ دے چکا ہوں ۔

جناب زہرا  نے قبول نہ کیا اور جب حضرت علی  ـنے فرمایا : اے فاطمہ  میں ان سے وعدہ کر چکا ہوں تو فاطمہ فرماتی ہیں :((البیت بیتک والحرة زوجتک ففعل ما تشائ))(٣٣)

گھر تیرا گھر ہے اور میں تیری بیوی ہوں تم جو چاہو انجام دو۔ بی بی فدک کے غاصب افراد کو نہیں دیکھنا چاہتی تھیں لیکن چونکہ شوہر وعدہ کرچکے تھے جب ابوبکر اورعمر گھر میں داخل ہوئے تو ابن عباس کہتے ہیں فاطمہ  نے پردہ کیا اور ان دونوں افراد نے جناب فاطمہ  سے معذرت چاہی، بی بی نے فرمایا: اب عذر خواہی کے لیے تمہارا آنا کس نیت سے ہے۔ انہوں نے کہا:آپ پوچھنے کا حق رکھتی ہیں تو جناب فاطمہ  زہراء  نے فرمایا: خدا کی قسم! کیا تم نے رسول خدا ۖ سے یہ نہیں سنا:(( فاطمة بعضعة منی یوذینی ماآذاھا ویغضبی ما اغضبھا))

         فاطمہ  میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس نے اسے تکلیف پہنچائی، اس نے مجھے تکلیف پہنچائی، جس نے اسے ناراض کیا، اس نے مجھے ناراض کیا۔

         انہوں نے کہا جی ہاں یہ حدیث ہم نے سنی تھی فاطمہ  نے دونوں ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کیا اور فرمایا: اے خدا !ان دو لوگوں نے مجھے تکلیف دی ،پھر ان دونوں سے فرمایا :خدا کی قسم میں تم سے کبھی راضی نہیں ہوں گی ابوبکر رونے لگا اور کہنے لگا :کاش میں پیدا نہ ہوتا، عمر طعنے سے کہتا ہے، میں ان لوگوں پر تعجب کررہا ہوں کہ انہوں نے تمہیں کیسے خلیفہ انتخاف کیا ،حالانکہ تو ایک عورت کے ناراض ہونے پر رو رہا ہے۔(٣٤)

بچوں کو اسلامی تعلیم :

        حضرت علی  ـ  فرماتے ہیں:(( کانت فاطمة لاتدع احداً من اھلھا ینام تلک اللیلة وتداویھم بقلة الطعام وتتاھب لھا من النھار وتقول محروم من حرم خیرھا))(٣٥)

        حضرت علی  ـنے فرمایا: جناب فاطمہ  گھر میں کسی کو شب قدر میں سونے کی اجازت نہیں دیتی، بلکہ بچوں کو کم کھانا دیتی اور شب قدر میں جاگنے کی فضیلت کے بارے میں فرمایا :محروم ہیں وہ شخص جو اس رات کی برکات سے محروم ہے ۔بچوں کی تربیت والدین کی ذمہ داری ہے اور یہ تربیت ماں کے پیٹ ہی سے شروع ہوتی ہے اور بالغ ہونے تک جاری رہتی ہے ۔

        امام حسن  ـسے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا: ایک رات ہماری ماں شب جمعہ عبادت میں مشغول تھیں اور ساری رات مومنین کیلئے دعا کرتی رہیں، لیکن اپنے کے لیے کوئی دعا نہ کی، میں نے ماں سے پوچھا امی جان تم دوسروں کے لئے دعا کررہی ہو اور اپنے لیئے نہیں؟ تو میری ماں نے فرمایا :پہلے دوسروں کے لیے دعا کرنی چاہیے۔(٣٦)

        امام موسیٰ کاظم  نے فرمایا :فاطمہ  جب بھی دعا کرتی تھیں، تو پہلے دوسروں کے لیے دعا کرتیں تھیں اور یہ فرمایا: کرتی تھیں کہ پہلے ہمسائیوں کے لیے دعا کرنی چاہیے۔(٣٧)

پردہ داری :

        اسلامی معاشرے کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ اسلامی اصولوں کے مطابق ہوتا ہے۔ اسلام نے عورت پر پردہ واجب کیا تاکہ وہ پاکدامن رہے۔

        خداوند عالم قرآن کریم میں فرماتا ہے :وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِہِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَہُنَّ وَ لااَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوْبِہِنَّ وَ لااَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ ٰابَآئِہِنَّ اَوْ ٰابَآئِ بُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اَبْنَآئِہِنَّ اَوْ اَبْنَآئِ بُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اِخْوَانِہِنَّ اَوْ بَنِیْ اِخْواٰانِہِنَّ اَوْ بَنِیْ اَخَوَاتِہِنَّ اَوْ نِسَآئِہِنَّ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْہَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآئِ وَ لااَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِہِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِہِنَّ وَ تُو ْبُو اِلَی اﷲِ جَمِیْعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْن(٣٨)

        اور با ایمان عورتوں سے کہہ دو کہ وہ بھی اپنی آنکھوں کو (نگاہِ ہوس آلود سے) بند رکھیں  اپنا دامن محفوظ رکھیں۔ اور سوائے اس حصے کے کہ جو ظاہر ہے اپنے بنائو سنگھار کو ظاہر نہ کریں اور اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے سینے پر ڈالیں(تاکہ اس سے گردن اور سینہ چھپ جائے)نیز کسی کے سامنے اپنا بنائوسنگھار ظاہر نہ   کریں۔ سوائے اپنے شوہر اپنے آبائو اجداد اپنے شوہروں کے آبائو اجداد' اپنے بیٹوں' اپنے شوہروں کے بیٹوں' اپنے بھائیوں' اپنے بھائیوں کے بیٹوں' اپنی بہنوں کے بیٹوں'اپنی ہم مذہب عورتوں اپنی عورتوں اور کنیزوں یا کسی عورت کی طرف میلان نہ رکھنے والے زیرِ دست مردوںیاان بچوں کے جو ابھی عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے آگاہ نہ ہوں۔ اور اس طرح زمین پر پائوںمار کر (بھی) نہ چلیں کہ ان کی چھپی ہوئی زینت ظاہر ہو جائے (اور پازیبوں کی جھنکار لوگوں کو سنائی دے) اور سب اللہ کی طرف لوٹ آئو،اے ایمان والو! تاکہ فلاح پا جائو۔ 

        حضرت علی  فرماتے ہیں: کہ فاطمہ  اپنے باپ کے گھر میں تشریف فرما تھیں کہ ایک نابینا آدمی کے آنے پر آپ  نے پردہ کیا تو رسول خدا ۖ نے جناب زہراء  سے پوچھا ؟آپ نے نابینا سے پردہ کیا وہ تو آپ کو نہیں دیکھ سکتا ! جناب زہراء  نے فرمایا: وہ نہیں دیکھ سکتا مگر میں تو دیکھ سکتی ہوں ۔ رسول خدا ۖ نے فرمایا: اے فاطمہ تو میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔

        عاصمہ بنت عمیص کہتی ہیں :جناب زہراء  اپنی آخری زندگی میں مجھ سے فرمایا: کہ مجھے عورتوں کا جنازہ پسند نہیں کیونکہ عورتوں کے جنازے میں ان کے جسم کا حجم مرد کو نظر آتا ہے۔ عاصمہ کہتی ہیں :میں نے رسول خدا ۖ سے عرض کیا کہ میں نے حبشہ کی سر زمین میں ایک تابوت دیکھا جس میں مردے کا جسم نظر نہیں آرہا تھا ،اگر آپ اجازت دیں تو میں ایک تابوت تیار کروں ۔عاصمہ نے ایک تابوت بنایا فاطمہ یہ تابوت دیکھ کر بہت خوشحال ہوئیں۔ عاصمہ نے کہا : کہ رسول کی رحلت کے بعد سب سے پہلی مسکراہٹ تھی ۔جناب زہراء  نے عاصمہ سے کہا :میرے لیئے ایسا تابوت تیار کرو تاکہ جنازے میں میرے جسم کا حجم لوگ نہ دیکھ سکیں ۔

عورت کی سب سے اچھی صفت :

        حضرت علی  نے فرمایا: ہم رسول خدا ۖ کی خدمت میں تھے اور انہوں نے فرمایا :عورتوں کے لیے بہترین چیز کیا ہے؟ کسی نے جواب نہ دیا ،میں فاطمہ  کے پاس آیا اور رسول خدا ۖ کا سوال انہیں دہرایا فاطمہ  نے فرمایا :میں جانتی ہوں ۔ بہترین چیز عورتوں کے لیے یہ ہے کہ مرد انہیں نہ دیکھیں اور وہ مردوں کو نہ دیکھیں۔ میں دوبارہ رسول خدا ۖ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی جواب دیا انہوں نے فرمایا: آپ کو کس نے بتایا!میں نے عرض کیا: جناب فاطمہ  نے آنحضرت ۖنے فرمایا: فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔(٣٩)

        یاد رہے جناب زہراء  کا یہ مقصد نہیں کہ عورت گھر میں دن رات بند رہے، بلکہ عورت معاشرے میں اسلامی اصولوں کی رعایت کرتے ہوئے اور اپنی کرامت وشخصیت کو محفوظ کرتے ہوئے عام روز مرہ زندگی کے کام کرسکتی ہے ۔

تعلیم احکام :

        جناب فاطمہ  مدینہ میں مسلمان عورتوں کی سب سے پہلی معلمہ تھیں۔ مدینہ کی عورتوں نے احکام ،اخلاق اور عقائد اسلامی آپ ہی سے سیکھے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مدینہ کی ایک عورت جناب فاطمہ  کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا میری ضعیفہ ماں نے مجھے نماز کے بارے میں چند سولات کی خاطر بھیجا ہے۔

         حضرت فاطمہ  نے ان تمام سوالوں کے جواب دیئے وہ عورت کہنے لگی :اے بی بی! میں آپ کو زیادہ زحمت نہیں دینا چاہتی تو جناب زہراء  نے فرمایا: جب بھی تمہیں کوئی سوال درپیش ہو تو پوچھ سکتی ہو میں ناراض نہیں ہوتی ۔اگر ایک شخص کو مزدور بنائیں اور اسے سنگین بوجھ اٹھانا پڑے اور اسے کہا جائے کہ ایک لاکھ دینار مزدوری ہے تووہ نہیں تھکے گا ۔ جناب زہراء  نے فرمایا :مسائل کا جواب دینا بہت بڑا اجر عظیم ہے ۔ (٤١)

فاطمہ زہراء  کی عبادت :

        فاطمہ  رسول کی اکلوتی بیٹی تھیں۔ فاطمہ نے آنحضرت ۖ سے دین اسلام سیکھا اور وحی کے سائے میں ان کی تربیت ہوئی ،وہ تہجد گزار تھیں۔ حسن بصری کہتاہے: عبادت کے لحاظ سے امت اسلامی میں فاطمہ سے بڑھ کر کوئی نہیں تھا ۔ آپ اللہ کی اتنی عبادت کرتی تھیں کہ آپ کے قدم مبارک زخمی ہوجاتے۔ (٤٢)

        ابن عباس کہتا ہے کہ رسول خدا ۖ نے فرمایا: میری بیٹی زہراء  حورہ انسیہ ہے ہر وقت عبادت میں مشغول رہتی ہے ۔خدا فرشتوں سے فرماتا ہے: اے میرے فرشتوں!دیکھو میری کنیز فاطمہ  کتنی عبادت میں مشغول ہے پس گواہ رہوں میں اس کے ماننے والے شیعوں کو دوزخ کی آگ سے نجات دوں گا۔(٤٣)

انفاق میں خلوص :

        ایک دفعہ امام حسن  وامام حسین  مریض ہوگئے، رسول خدا ۖ ان کی عیادت کے لیے زہراء  کے گھر تشریف لائے اور فرمایا:اگر تم ان کی شفاء کے لیے نذر مانو ۔ علی  وفاطمہ  دونوں نے نذر مانی جب دونوں بھائی صحت یاب ہوگئے، تو سب نے تین روزے رکھے، امام حسن  امام حسین  ،فضہ ، بی بی فاطمہ  اور حضرت علی  سب روزے میں تھے۔

        پہلے دن افطار کے وقت ایک مسکین نے دستک دی۔ حضرت علی  نے اپنی روٹی اسے دے دی، پھر فاطمہ  ، حسن  ،حسین اور فضہ نے بھی اپنی اپنی روٹیاں مسکین کو دے دی، سب نے پانی سے افطار کیا ۔دوسرے روز اذان مغرب کے وقت یتیم نے دستک دی تو حسب معمول سب نے اپنی اپنی روٹیاں یتیم کو دے دی اور پانی سے افطار کرلیا ۔ تیسرے دن افطار کے وقت ایک اسیر نے آواز دی تو سب نے اپنی روٹیاں اسے دے دیں اور پانی سے افطار کیا۔(٤٤)

         یُوفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا کَانَ شَرُّہ مُسْتَطِیْرًا٭وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہ مِسْکِیْنًا وَّ         یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا٭اِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اﷲِ لااَانُرِیْدُ مِنْکُمْ جَزَآئً وَّ لااَا شُکُوْرًا۔

        وہ اپنی نذر کو پورا کرتے ہیں اور اس دن سے کہ جس کا عذاب وسیع ہوگا، ڈرتے رہتے ہیں۔٭اور '' اپنا '' کھانا، اس کی خواہش اور احتیاج رکھنے کے باوجود ، مسکین و یتیم و اسیر کو دے دیتے ہیں۔٭( اور وہ یہ کہتے ہیں: ) ہم تو تمہیں اللہ کے لئے کھانا کھلاتے ہیں، اور ہم تم سے نہ تو کسی قسم کا کوئی اجر مانگتے ہیں اور نہ ہی ہم تم سے کسی شکریہ کے طلبگار ہیں۔(٤٥)

حضرت فاطمہ اور جہاد :

        شیخ مفید  لکھتے ہیں:جنگ احد میںواپسی کے بعد حضرت زہراء  اپنے باپ کے استقبال کے لیے گئیں۔ حضرت علی  کے ہاتھ خون آلودہ تھے، ذوالفقار بی بی کو دی اور فرمایا: اس تلوار کو لو ،اس تلوار نے دشمن کی کمر توڑی یہ تلوار بھی ان کے خون سے آلودہ ہے، لہذا اسے پاک کرو ۔رسول خدا ۖ نے فرمایا: ہاں فاطمہ  اسی طرح ہے تیرے شوہر نے اپنا وظیفہ انجام دیا ہے۔(٤٦)

         جنگ خندق کے موقع پر مدینہ دشمنوں کے معاصرے میں تھا۔ حضرت سلمان فارسی کے مشورے سے خندق کھودی گئی، عورتیں پانی اور غذا آمادہ کررہی تھیں۔جناب فاطمہ  نے روٹیاں پکائیں۔انس کہتا ہے :ایک دن فاطمہ  نے چند روٹیاں پکائیں اور جاکر لشکر میں تقسیم کیں اور رسول خدا ۖ سے فرمایا:((قرصاً خبزتُہُ ولم تطب نفسی،حتیٰ اتیتک بھذہ الکسرة؛

یہ میں نے خود روٹی پکائی اور تمہارے لیئے لے آئی ہوں آنحضرت ۖنے فرمایا: تیرے باپ نے تین دن کے بعد پہلی دفعہ یہ غذا کھائی ہے ،دنیا کے بھوکے قیامت میں سیر ہوں گے ۔ مبغوض ترین لوگ وہ ہیں جو خود پیٹ بھر کر کھاتے ہیں اور فقیروں کا خیال نہیں کرتے۔(٤٧)

نقل حدیث :

        شیخ طوسی نقل کرتے ہیں: جناب فاطمہ زہراء  بیمار تھیں اور مہاجر وانصار کی چند عورتیں عیادت کے لیے آئیں تو جناب بی بی سے کہا :اے فاطمہ  آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ فاطمہ  نے شکر خدا کیا اور پھر ان کے مردوں کی بے وفائی کے بارے میں یوں فرمایا :خدا کی قسم انہوں نے فتنے کا بیج بویا ،اس کا پھل وہ خود حاصل کریں گے۔

مقام امام  ـ:

        محمود بن لبید کہتا ہے :میں نے رسول خدا ۖ کی رحلت کے بعد فاطمہ  کو حضرت حمزہ کی قبر کے کنارے روتے ہوئے دیکھا ،میں نے سوال کیا تمہارے پاس علی  کی امامت کے بارے میں رسول خدا ۖ کی کوئی حدیث ہے۔

         حضرت زہراء  نے فرمایا :تعجب! کیا تم روز غدیر کو بھول گئے ہو کہ جس دن رسول خدا ۖ نے فرمایا: علی  میرا جانشین ہے اور اس کے بعد اس کے دوبیٹے اور پھر امام حسین  کی اولاد سے دوسرے نو (٩) آئمہ ہوں گے ۔ اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پائو گے ۔میں نے عرض کیا تو پھر علی  کیوں خاموش ہیں حضرت فاطمہ  نے جواب دیا رسول خدا ۖ نے فرمایا: امام کعبہ کی مانند ہے لوگوں کو کعبہ کے طواف کے لیے آنا چاہیے نہ یہ کہ کعبہ لوگوں کے پاس جائے۔(٤٨)

حضرت فاطمہ الزہراء اور اہمیت نماز :

        حضرت فاطمہ  باعظمت خاتون ہیں ان کا قول حجت ہے یعنی اگر کوئی ان سے حدیث نقل ہوئی ہے تو وہ ہمارے لیئے حجت ہے۔ حضرت فاطمہ  نے اپنے باپ ۖ سے پوچھا اس مرد اور عورت کی کیا سزا ہے جو نماز کو اہمیت نہیں دیتے ۔رسول خدا ۖ نے فرمایا: اے فاطمہ  جو شخص نماز کو اہمیت نہیں دیتا ۔خداوند عالم اسے پندرہ قسم کے عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ جن میں سے چھ دنیا میں، تین موت کے وقت،تین قبر میں اور تین روز قیامت۔

        وہ چھ عذاب جو دنیا میں ہوں گے: (١) خداوند عالم ایسے شخص کی عمر سے برکت اٹھا لیتا ہے۔ (٢) روزی میں برکت نہیں ہوتی ۔(٣) چہرے پر نور نہیں ہوتا ۔(٤) نیک کام کا اجر نہیں ملتا۔ (٥) دعا قبول نہیں ہوتی ۔(٦) نیک افراد کی دعا میں کوئی حصہ نہیں ہوتا ۔

        موت کے وقت آنے والے تین عذاب یہ ہیں :(١) ذلیل مرے گا ۔(٢) بھوکا مرے گا۔ (٣) پیاسا مرے گا۔

        قبر میں ہونے والے تین عذاب یہ ہیں :(١) قبر میں ایک فرشتہ عذاب کے لیے معمور ہوتا ہے ۔(٢) فشار قبر زیادہ ہوتا ہے۔ (٣) قبر اندھیری ہوتی ہے ۔

 قیامت کے دن قبر سے نکلتے وقت یہ عذاب ہوں گے: (١) ایک فرشتہ اس کے چہرے کو زمین پر مارتا ہے۔ (٢) حساب سخت ہوگا۔(٣) خداوند عالم کی نظر و کرم سے محروم ہوگا ۔ (٤٩)

        جناب فاطمہ کی حالت نماز کے وقت کچھ یوں ہوتی تھی:(( کانت فاطمہ تنصج فی الصلاتھا من خوف اللہ تعالیٰ))(٥٠)

 حضرت فاطمہ  نماز کے وقت خوف خدا میں ہوتی تھیں

فضائل فاطمہ  :

        حضرت فاطمہ  کے بے شمار فضائل ہیں جن میں سے بعض قرآن مجید میں اور بعض رسول خدا ۖ کی زبانی ذکر ہوئے ہیں۔(٥١)

         رسول خدا  ۖنے سلمان سے فرمایا: اے سلمان !جس شخص کے دل میں فاطمہ  کی محبت ہوگی ، جنت میںوہ میرا ہمسایہ ہوگا اور جس نے فاطمہ کو ناراض کیا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اے سلمان! فاطمہ  کی محبت سو (١٠٠) مقامات پر کام آئے گی ۔ جن میں سے آسان ترین مقام موت ،قبر ،روز محشر ، پل صراط اور حساب ہیں۔ جس سے فاطمہ  راضی اس سے میں راضی اور جس سے میں راضی اس سے اللہ راضی۔ جس نے فاطمہ  کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا، جس نے مجھے ناراض کیا ،اس نے خدا کو ناراض کیا۔ اے سلمان! وائے ہو، اس پر جو فاطمہ اور علی کو تکلیف پہنچائے، وائے ہو اس پر جو ان کی اولاد کو ستائے گا۔(٥٢)

ایک دن رسول خدا ۖ علی  ،فاطمہ  ،حسن  ،حسین  کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ رسول خدا ۖ نے فرمایا: اے خدا تو جانتا ہے یہ میرے اہل بیت ہیں میرے نزدیک سب سے عزیز ہیں، ان کے ماننے والوں پر کرم فرما اور ان کے دشمنوں سے نفرت فرما ۔میں دیکھ رہا ہوں قیامت کے دن میری بیٹی فاطمہ  نور کی سواری پر سوار ہوں گی، دائیں طرف ستر ہزار فرشتے، بائیں طرف ستر ہزار فرشتے ہونگے اور اسی طرح آگے پیچھے ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔

          جو عورت روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھتی ہے، ماہ رمضان میں روزے رکھتی ہے، حج کرتی ہے، زکواة دیتی ہے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرتی ہے۔ ولایت علی  رکھنے والی ہو تو ایسی عورت کو شفاعت فاطمہ  ضرور ملے گی ۔

         رسول خدا ۖ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ ۖ !کیا فاطمہ  اپنے زمانے کی عورتوں کی سردار ہیں؟ تو آپ ۖ نے فرمایا : مریم بنت عمران  اپنے زمانے کی عورتوں کی سردار تھیں، لیکن میری بیٹی فاطمہ  قیامت تک کی عورتوں کی سردار ہیں۔ جب وہ عبادت کے لیے کھڑی ہوتی تھیں تو ستر ہزار فرشتے اسے سلام کرتے اور کہتے ہیں اے فاطمہ!  بے شک خداوند عالم نے تمہیں تمام عورتوں پر فضیلت دی ۔

پھر رسول خدا ۖنے حضرت علی سے فرمایا اے علی  فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا میری آنکھ کا نور ہے۔(٥٣)

اِنَّ اﷲَ اصْطَفٰکِ وَطَہَّرَکِ وَاصْطَفٰکِ عَلٰی نِسَآئِ الْعٰلَمِیْنَ(٥٤)

حضرت شہر بانو    حضرت امام سجاد  ـکی ماں

نام ولقب :       مورخین نے امام سجاد  کی ماں کے کئی نام ذکر کیے ہیں جن میں سے مشہور یہ ہیں: شہر بانو ،شاہ زنان ،جہان بانو ،شہربانو یہ ، جہاں شاہ ،حرار، سندیہ ، سلامہ ، سلافہ ،خولہ وغزالہ۔(٥٥) علامہ مجلسی لکھتے ہیں: مشہور کے نزدیک امام سجاد کی ماں شہر بانو یزد جرد بن شہر یار کی بیٹی تھی۔(٥٦)صحیفہ زہرا میں بھی امام سجاد کی ماں کا نام شہر بانو ذکر ہوا ہے۔(٥٧) یوسف بن حاتم شامی کہتا ہے:امام سجاد کی ماں یزد جرد کی بیٹی تھیں ۔ جو اپنے زمانے کی مشہور ونسب تھیں۔(٥٨)حضرت امیر  انہیں افتخار سے مریم یا فاطمہ کے لقب سے پکارتے تھے کیونکہ وہ مریم کی طرح باعفت خاتون تھیں ۔(٥٩)

شہربانو کون تھیں :

بعض مورخین نے یزد جرد کی بیٹی ،بعض نے کسریٰ کی بیٹی ،بعض نے سبحان ملک اور بعض نے ملک حرب کی بیٹی لکھا ہے ۔(٦٠)

ان کے مقام ولادت کے بارے میں بھی مورخین کے درمیان اختلاف ہے۔ مشہور نظریہ کی بنا پر وہ ایرانی تھیں، بعض نے کابل اور بعض نے سندھ لکھا ہے۔ یعقوبی لکھتا ہے: امام سجاد  کی ماں کا نام حرارتھا ،امام حسین  نے اس کا نام غزالہ رکھا کہا گیا ہے کہ اس کی ماں کابل کے اسیروں میں سے تھی۔(٦١) ایک لبنانی مورخ لکھتا ہے: یزد گرد جب مدائن سے کابل کی طرف گیا تو اس سفر میں اس کی بیٹیاں بھی اس کے ہمراہ تھیں ۔کچھ مدت کے بعد عرب سپاہیوں نے کابل پر حملہ کردیا اور قلعوں کو فتح کردیا ،یزد گرد وفات پاگیا اور اس کی بیٹیاں اسیر ہوگئیں ۔(٦٢) یہ بھی لکھتے ہیں کہ امام سجاد  کی والدہ کا نام غزالہ تھا۔لیکن صحیح قول یہ ہے کہ وہ شہربانو تھیں، جس کے باپ نے ہرات میں لشکر اسلام میں شکست کھائی اور اس کی بیٹی اسیر ہوگئی ۔(٦٣)ایک قول کی بناء پر امام سجاد کی ماں سندھی تھی ۔(٦٤)

مدینہ کی طرف :

        اب سوال یہ ہے کہ شہربانو کس بادشاہ کے زمانے میں اسیر ہوئی اور کیسے مدینہ پہنچی؟ مورخین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ وہ عمر کی خلافت میں اسیر ہوئیں، بعض نے عثمان کے زمانے میں، بعض نے مولا امیر  کے زمانے میں لکھا ہے۔ اب ہم ان تین اقوال کو بیان کرتے ہیں ۔

عمر کے زمانے میں :

        ابن جریر طبری اور قطب رواندی نقل کرتے ہیں: کہ امام محمد باقر  نے فرمایا:جب یزد وجرد بن شہریار کی بیٹی کو مدینے لایا گیا، تو مدینہ کی تمام عورتیں اس کے حسن وجمال کو دیکھنے اکٹھی ہوئیں۔ عمر نے بھی اسے دیکھنے کا ارادہ کیا ، لیکن جب اس نے عمر کو دیکھا تو کہا ہرمز کا چہرہ سیاہ ہو ۔اس کی مرادیہ ہے تھی اگرخسروپرویز کا دادارسول خداۖ کی دعوت اسلام کو قبول کرتا تو آج ان کے نواسے قیدی نہ ہوتے۔

        کہ تم اس کی اولاد پر دست درازی کرنا چاہتے ہو ۔عمر نے کہا یہ مجھے گالیاں دے رہی ہے ،عمر اسے اذیت دینا چاہتا تھا، لیکن حضرت علی  نے روک لیا اور فرمایا :تو فارسی نہیں جانتا۔ پس تمہیں کیسے معلوم کہ وہ گالیاں دے رہی ہے۔ عمر اسے بیچنا چاہتا تھا ،لیکن مولا امیر  نے فرمایا :رسول خدا ۖ کی حدیث ہے کہ ہر قوم کے بزرگ افراد کا احترام کیا جائے۔ عمر نے کہا میں نے بھی رسول خدا ۖ سے یہی سنا ہے۔ عمر کہنے لگا پس کیا کیا جائے ؟حضرت علی  نے فرمایا :اس کی کسی مسلمان سے شادی کرو اور بیت المال سے حق مہر ادا کرو۔ مولانے فرمایا: میں ان اسیروں میں سے اپنا حق آزاد کرتا ہوں۔ اس کے بعد سب نے اپنا اپنا حق مولا کو بخش دیا ،عمر نے کہا میں بھی اپنا حق بخشتا ہوں۔ لہذا حضرت علی  نے تمام قیدیوں کو راہ خدا میں آزاد کردیا۔(٦٥)

عثمان کے زمانے :

        سھل بن قاسم نو شجائی لکھتا ہے: امام رضا  نے فرمایا :کیا تمہیں معلوم ہے کہ میرے اور تیرے درمیان ایک برتری کی نسبت ہے۔ میں نے عرض کیا اے امیروہ کون سی نسبت ہے؟

 امام  نے فرمایا: عبداللہ بن عامر بن قریض نے خراسان کو فتح کیا ،یزد جرد بن شہریار کی بیٹی کو قیدی بنا کر عثمان بن عفان کے پاس بھیجا۔ عثمان نے ایک امام حسن ـاور دوسری امام حسین کو بخش دی ،یہ دونوں ان بزرگوار کی بیویاں تھیں، جو امام حسین کو ملی تھیں۔ وہ زین العابدین کی ولادت کے دوران ہی فوت ہوگئیں ۔(٦٦)

حضرت علی  کے زمانے میں :

        حریث بن جابر حنفی نے یزد جرد کی دو بیٹیاں حضرت علی  کی خدمت میں بھیجیں اور آپ نے ایک کو امام حسین  کہ جس سے امام سجاد  پیدا ہوئے اور دوسری محمد بن ابی بکر کو دی جس سے قاسم بن محمد پیدا ہوئے ۔لہذا امام سجاد اور قاسم آپس میں خالہ زاد ہیں۔(٦٧)

 

+ نوشته شده در  جمعه بیست و نهم اردیبهشت 1391ساعت 21:20  توسط ZafarHussainNaqvi  | 

اداریہ

 

          ہمارا یہ مجلہ مذہبی ،علمی ، تربیتی، اخلاقی اور فرھنگی موضوعات پر مشتمل ہے ۔آج ہماری قوم کو پہلے سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے ۔ہمارے اولین اہداف بچوں ،نوجوانوں اور جوانوں کی تربیت اور ترویج علوم آل محمد  ٪ ہیں ۔ یہ مجلہ ماہانہ نہیں ہے بلکہ سہ ماہی ہے اورمحرم الحرام کی مناسبت سے چھپ رہا ہے لہذا اس میں مظلوم کربلا کی فضیلت اور اسی طرح عزاداری کی فضیلت کے ساتھ ساتھ اخلاقی و تربیتی موضوعات بھی شامل ہیں ۔

آئمہ سے منقول ہے کہ تین چیزیں نہ بھولنا ۔١۔غدیر       ٢۔فدک ٣۔ کربلا

اس حدیث کی روشنی میں امام حسین ـ و کربلا کے بارے میں لوگوں کو صحیح حقائق سے آگاہ کرنا بہت ضروری ہے۔ آج دنیا میں اسلامی بیداری کربلا سے متاثر بیداری ہے کیونکہ آپ نے بحرین ،یمن ،مصر،تیونس وغیرہ کے مظاہروں میں یہ جملہ ضرور سنا ہوگا (ھیھات من الذلہ) یہ جملہ کربلا کی یاد دلاتا ہے حق باطل کے درمیان فرق کا نام کربلا ہے۔اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد ۔

        واقعہ کربلا کی مثال ایسی ہے جیسے جب آپ پانی کے تالاب میں پتھر پھینکتے ہیں تو ایک دائرہ بن جاتا ہے جو بعد میں تالاب کے کناروں تک پہنچ جاتا ہے ۔واقعہ کربلا عراق میں ہوالیکن آج پوری دنیا کے کونے کونے میں عزاداری منائی جاتی ہے ۔دنیا میں ہزاروں تہذیبیں آئیں اور کسی کا نام تک نہیں لیکن ایک تہذیب جو دو محرم کوآباد ہوئی اور دس محرم کو اجھڑ گئی، یہ تہذیب قیامت تک زندہ رہے گی۔

 

 

 

 

(١)

حرارت عشق حسینی

   قاَلَ رَسُوْ لُ اللہ  ۖ :اِنَّ لِقَتْلِ الْحُسَیْنِ ـحَرَارَة فِیْ قُلُوْبِ الْمُوْمِنِیْنَ لَاتَبْرَدُ اَبَداً(١)

    پیغمبر اکرم  ۖ نے فرمایا :مومنین کے دلوں میں امام حسین  کی شہادت کی ایسی حرارت ہے جو کبھی خاموش نہ ہوگی دنیا میں کئی انقلاب آئے اور آج کتابوں میں ان کا صرف نام باقی ہے جبکہ عملی طور پر آثار نہیں ملتے ۔ واقعہ کربلا ایک ایسا واقعہ ہے جسے ہزاروں سال گزر گئے ہیں لیکن آج بھی عروج پر ہے دشمن نے بڑی کوشش کی لوگ کربلا کو بھول جائیں لیکن یہ ایک معجزہ ہے کہ عشق حسین  میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اگر کوئی فضائل حسین  سنتا ہے تو واہ واہ کرنے لگتا ہے اور جب مصائب حسین  سنتا ہے تو رو پڑتا ہے . یہی عشق حسینی ہے جو رہتی دنیا تک قائم ودائم رہے گا .

(٢)

عاشورا ،روز غم

   قَالَ الرَّضٰا    ـ مَنْ کَانَ یَوْمُ عٰاشُوْرَا یَوْمَ مُصِیْبَتِہِ وَحُزْنِہِ وَبُکٰائِہِ جَعَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ یَوْمَ الْقِیٰامَةِ یَوْمَ فَرَحِہِ وَسُرُوْرِہِ (٢)

   امام رضا   ـ نے فرمایا:جو شخص عاشورا کے دن مصیبت اور حزن کی حالت میں رہے تو خداوند عالم ایسے شخص کیلئے روز قیامت خوشی وخرم قرار دیگا یعنی اس دن وہ شخص خوشحال ہوگا .

 رسول خدا  ۖ نے فرمایا کہ حسین  مجھ سے ہے اور میں حسین  سے ہوں ایک اور جگہ فرمایا : اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین  سے محبت کرے .

اب امام حسین  سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ حسین  کا غم ہمارا غم ، حسین  کی خوشی ہماری خوشی ۔ ولادت ہوتو خوشی منائیں اور عاشورا آئے تو غم واندوہ کی حالت میں رہیں . لہذا عاشورا کے دن غمگین آنکھ روز قیامت خوشحال ہوگی . (٣)

(٣)

محرم ، ماہ سوگواری

   قَالَ الرَّضٰا     ـکَانَ اَبِیْ اِذَا دَخَلَ شَھْرُ الْمُحَرَّمِ لاٰ یُرٰی ضَاحِکًا وَکَانَتِ الْکِابَہ تَغْلِبُ عَلَیْہِ حَتّٰی یَمْضِیَ مِنْہُ عَشْرَة اَیَّامٍ ،فَاِذَا کَانَ الْیَوْمُ الْعٰاشِرُ کَانَ ذٰلِکَ الْیَوْمُ یَوْمَ مُصِیْبَتِہِ وَحُزْنِہِ وَبُکٰائِہِ ... .(٤)

   امام رضا   ـ نے فرمایا:جب محرم کا مہینہ آتا تو میرے والد محترم امام موسی کاظم   ـ  کو کوئی ہنستے نہیں دیکھتا بلکہ غم کی حالت میں رہتے اور جب دس محرم کا دن آتا تو سارا دن آہ وبکا اور رونے میں گذرتا تھا .

 

 ہر ملک کے نئے سال سے پہلے دن جشن منایا جاتا ہے یورپ میں پہلی جنوری اور ایران میں پہلی فروردین کو لوگ جشن مناتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں .اسلامی مہینوں میں پہلا مہینہ محرم کا ہے اور پہلی محرم کا آغاز غم سے ہوتا ہے . امام خمینی  فرماتے ہیں : اسلام محروصفر کی وجہ سے زندہ ہے .خود اہل بیت  نے محرم میں عملی طور پر لوگوں کو بتایا کہ یہ غم کا مہینہ ہے .

(٤)

روز قیامت میں آنکھ

    قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ  ۖ :یٰا فَاطِمَةُ ! کُلُّ عَیْنٍ بٰاکِیَة یَوْمَ الْقِیٰامَةِ اِلَّا عَیْن بَکَتْ عٰلی مُصٰابِ الْحُسَیْنِ فَاِنَّھٰا ضٰاحِکَة مُسْتَبْشِرَة بِنَعِیْمِ الْجَنَّةِ.(٥)

    پیغمبر اکرم  ۖ فرماتے ہیں :اے فاطمہ ! روز قیامت غم حسین میں رونے والی آنکھ کے علاوہ ہر آنکھ روئے گی بلکہ ایسی آنکھ خوشحال ہوگی اور اسے جنت کی نعمتوں کی بشارت دی جائے گی . روایت میں ملتا ہے جو شخص خود روئے یا رولائے یا رونے جیسی شکل بنائے خداوند عالم سب کو ثواب عطا کرتا ہے . روز قیامت حشرونشر کا وقت ہوگا ۔ دوسری آنکھیں روئیں گی لیکن غم حسین  رونے والی آنکھ مسرور ہوگی .امام حسین  کے غم میں رونا ہماری شہ رگ ہے اور ملی ومذہبی تشخیص ہے ۔ ہم مرسکتے ہیں ،کٹ سکتے ہیں لیکن غم حسین  کو نہیں چھوڑ سکتے .

(٥)

سوگ حضرت امام حسین   ـ

     عَنْ الصَّادِقِ عَلَیْہِ السَّلاٰم ُ :نِیْحَ عَلَی الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیِّ سَنَة فِیْ کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَةٍ وَثَلاٰثَ سِنِیْنَ مِنَ الْیَوْمِ الَّذِیْ اُصِیْبُ فِیْہِ .(٦)

    حضرت صادق   ـ فرماتے ہیں :پورا ایک سال دن رات امام حسین  کیلئے نوحہ خوانی ہوئی اور روز شہادت سے لیے کرتین سال تک سوگواری برپا رہی .

 اس حدیث میں امام بیان فرما رہے ہیں نوحہ خوانی اور ماتم داری آج شروع نہیں ہوئی بلکہ شہادت کے فوراً عزاداری کے مراسم برپا کئے تاکہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ عزاداری ونوحہ خوانی بعد کی ایجاد ہے بلکہ اس کی بنیاد خود اہل بیت  نے رکھی ہے .ماتم حسینی حق وباطل میں فرق بتاتا ہے . ماتم حسینی در حقیقت یزید کے منہ پر تماچا ہے .

(٦)

خرچ عزاء داری

   قَالَ الصَّادِقُ   ـ :قَالَ لِیْ اَبِیْ : یٰا جَعْفَرُ ! اَوْقِفْ لِیْ مِنْ مٰالِیْ کَذَا وَکَذَا النَّوٰادِبَ تَنْدُبُنِیْ عَشْرَ سِنِیْنَ بِمِنٰی اَیَّامَ مِنٰی.(٧)

    امام صادق   ـ  فرماتے ہیں :میرے والد امام باقر   ـ نے فرمایا :اے جعفر ! اپنے مال سے اتنی مقدار مال نوحہ خوانوں کیلئے وقف کرو تاکہ لوگ حج کے دوران منی میں  دس سال تک سوگ منائیں ۔ اس حدیث سے یہ ملتا ہے کہ اگر عزاداری پر خرچ کرنا پڑے تو درایغ نہ کرو . لہذا پہلے خود امام  نے کچھ مال عزاداری اور نوحہ خوانوں کے وقف کرکے بتایا کہ تم بھی ذکر حسین  پر مال خرچ کرنے سے کنجوسی نہ کرو بلکہ عزاداری عبادت ہے اور عبادت پر خرچ کرنے سے ثواب ملتا ہے ۔ قیامت کے دن یہی مال کام آئے گا .

(٧)

رویتی نوحہ خوانی

   عَنْ اَبِیْ ھٰارُوْنَ الْمَکْفُوْفِ قَالَ :دَخَلْتُ عَلٰی اَبِیْ عَبْدِاللّٰہِ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ فَقَالَ لِیْ : اَنْشِدْنِیْ فَانْشَدْتُہُ فَقَالَ : لَا۔ کَمَا تُنْشِدُوْنَ وَکَمٰا تَرْثِیْہِ عِنْدَ قَبْرِہِ ...(٨)

   ابو ہارون مکفوف نے کہا: میں امام صادق   ـ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ  نے مجھ سے اشعار پڑھنے کی فرمائیش کی  میں نے شعر پڑھے لیکن آپ  نے فرمایا:اس طرح نہیں ! بلکہ جس طرح تم اپنے لئے اشعار پڑھتے ہو اور جس طرح تم امام حسین  کی قبر پر مرثیہ خوانی کرتے ہو ۔

 اس  حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عزاداری میں شعر بھی پڑھنا کوئی حرج نہیں بلکہ اس سے حساسات میں شدت بڑھتی ہے اس کے علاوہ خود امام صادق   ـ نے عزاداری کا انتظام کیا اور غم حسین  پر شعر پڑھنے کا حکم دیا .

(٨)

امام حسین  کیلئے اشعار پڑھنے کا ثواب

   قَالَ الصَّادِقُ   ـ :مٰا مِنْ اَحَدٍ قَالَ فِیْ الْحُسَیْنِ  شِعْراً فَبَکَی وَاَبْکٰی بِہِ اِلَّا اَوْجَبَ اللّٰہُ لَہُ الْجَنَّة وَغَفَرَ لَہُ (٩)

   امام صادق   ـ  فرماتے ہیں :جوشخص غم حسین  میں اشعار پڑھے اور اس سے روئے اور دوسروں کو بھی رولائے تو خدا وند عالم ایسے شخص پر جنت واجب کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے .

 امام حسین  کے غم میں اشعار پڑھنا یا دوسروں کو ان کے غم میں رلانا جنت کا باعث ہے اور انسان کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں یاد رہے ! اشعار پڑھنا بہت ثواب ہے لیکن آج کل کچھ جاہل اور نا اہل افراد ثواب سمجھ کر نشہ پیتے ہیں اور پھر اشعار پڑھتے اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے اہل بیت  خوش ہونگے . ہرگز ایسا نہیں بلکہ نشہ کی حالت میں عزاداری یا ماتم داری اہل بیت  کو پسند نہیں ہے . لہذا اس بری عادت سے اہل بیت کو بدنام نہ کریں اہل بیت  کے ماننے والوں میں پرہیزگاری کی نشانیاں ہوتی ہیں .

(٩)

اہل بیت کی مدح

   قَالَ الصَّادِقُ   ـ:مَنْ قَالَ فِیْنَا بَیْتَ شِعْرٍ بَنَی اللّٰہُ لَہُ بَیْتاً فِیْ الْجَنَّةِ .(١٠)

امام صادق   ـ  فرماتے ہیں :جو شخص ہم اہل بیت  کیلئے ایک شعر پڑھے ،خداوند عالم اسے جنت میں ایک گھر عطا کرے گا .

 اس حدیث میں یہ بتانا کہ غم حسین  میں اگر خلوص سے ایک شعر بھی پڑھا جائے تو جنت ملتی ہے . بعض لوگ کمیت کو دیکھتے اور کیفیت کو نہیں جانتے ۔ خدا وند عالم عمل احسن یعنی بہترین عمل چاہتا ہے اسے وہ زیادہ عمل پسند نہیں جس میں خلوص نہ ہو ۔ لہذا ایک شعر پڑھ کر یہ نہ سمجھ لینا کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں بلکہ یہ ایک شعر جنت میں لے جائے گا .

(١٠)

اہل بیت کے مداح خوان

   قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :اَلْحَمْدُ لَلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ فِیْ النَّاسِ مَنْ یُفِدُ اِلَیْنَا وَیَمْدَحُنَا وَیَرْثِیْ لَنَا .(١١)

   امام صادق   ـ  فرماتے ہیں :خدا کا شکر ہے کہ اس نے لوگوں میں سے کچھ ایسے مداح خوان بنائے جو ہم اہل بیت  کے پاس آتے ہیں اور مرثیہ خوانی کرتے ہیں .

 سب سے پہلے ہم خدا کا یہ شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں اہل بیت  کے ماننے والوں میں پیدا کیا اور خدا کی طرف سے ہمارے لئے یہ ایک بڑی نعمت ہے . لہذا اس نعمت کی قدر کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔حقیقی مداح خوان کی بڑی فضیلت ہے پہلے بیان ہوچکا ہے جو شخص روئے یا رولائے ،اس پر جنت واجب ہوجاتی ہے . حتیٰ جو شخص اہل بیت  کی مدح میں ایک شعر پڑھے وہ جنت میں جائے گا .

(١١)

ایام محرم میں اشعار پڑھنا

    قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :یٰا دِعْبَلُ ! اُحِبُّ اَنْ تَنْشِدَنِی شِعْراً فَاِنَّ ھٰذِہِ الْاَیَّامَ اَیَّامُ حُزْنِ کَانَتْ عَلَیْنَا اَھْلَ الْبَیْتِ عَلَیْھِمُ السَّلاٰمُ .(١٢)

   امام صادق   ـ نے دعبل شاعر سے فرمایا :اے دعبل ! مجھے غم حسین  کے اشعار پسند ہیں کیونکہ یہ دن ہم خاندان اہل بیت  کیلئے غم واندوہ کے دن ہیں۔ اہل بیت  کی مدح میں اشعار پڑھنے کی بڑی تاکید کی گئی ہے اور پڑھنے والے کی بڑی اہمیت ہے لیکن یاد رکھو ! عزاداری ہو یا ماتم داری شعر ہو یا نثر ، غنا کی طرز نہ پڑھنا کیونکہ غنا حرام ہے . بعض اوقات گانوں کی طرز پر پر نوحہ خوانی ہوتی ہے جو اسلام میں جائز نہیں ہے . حتیٰ قرآن کو غنا کی طرز پر پڑھنا حرام ہے . البتہ خوش لحن افراد موجود ہیں جو پڑھتے ہیں لیکن غنا نہیں لہذا یہ افراد مستثنیٰ ہیں .

(١٢)

مرثیہ خوانی اہل بیت  کی نصرت ہے .

   عَنِ الرَّضَا   ـ:یٰا دِعْبَلُ ! اِرْثِ الْحُسَیْنَ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ فَانْتَ نَاصِرُنَا وَمَادِحُنٰا مٰا دُمْتَ حَیّاً فَلاٰ تُقْصِرْ عَنْ نَصْرِنَا مٰا اسْتطَعْتَ .(١٣)

   امام رضا علیہ السلام نے فرمایا :اے دعبل ! حسین بن علی کیلئے مرثیہ پڑھو ،تم جب تک زندہ ہو ہمارے مددگار اور مداح خوان رہواور جتنا ممکن ہو سکے ہمارے ذکر سے کوتاہی نہ کرو .

 اس حدیث میں امام رضا   فرما رہے ہیں امام حسین  کی عزاداری کیلئے مرثیہ خوانی کرنا درحقیقت اہل بیت  کی نصرت ہے ۔ مداح خوان اہل بیت  کا مددگار اور ناصر ہوتا ہے . ساتھ امام  آگاہ کررہے کہ اس نصرت سے کوتاہی نہ کرنا .

(١٣)

خوشی اور غمی

    قَالَ عَلِیّ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ اِنَّ اللّٰہَ ... اِخْتَارَ لَنَا شِیْعَة یَنْصُرُوْنَنَا وَیَفْرَحُوْنَ بِفَرْحِنَا وَیَحْزَنُوْنَ لِحُزْنِنَا (١٤)

   علی علیہ السلام فرماتے ہیں :خدا وند عالم نے ہمارے لئے شیعہ لوگوں کو ہماری مدد کیلئے انتخاب کیا جو کہ ہماری خوشی میں خوشحال اور غمی میں غمگین ہوتے ہیں .

 ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ ہمیں سب سے بڑا افتخار یہ ہے کہ آل محمد ۖ کے ماننے والوں میں سے ہیں امام اس حدیث میں ہماری طرف سے ان کے ذکر کرنے کو ان کی مدد فرمایا . ہم اہل بیت  کی کیا مدد کرسکتے ہیں ؟

اس کے علاوہ شیعہ کی خوبی یہ ہے کہ وہ اہل بیت کے غم کو غم اور خوشی کو خوشی سمجھتے ہیں . جیساکہ انہوں نے فرمایا کہ غمی کا دن ہے تو یہ دن ہمارے لئے غمگین ہوگا اور جس دن خوشی ہو اسی دن ہم بھی خوش ہوتے ہیں .

 (١٤)

عبرت آمیز شہادت

   قاَلَ الْحُسَیْنُ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ اَنَا قَتِیْلُ الْعِبْرَةِ لَاَیَذْکُرُنِیْ مُوْمِن اِلَّا بَکٰی.(١٥)

   حضرت امام حسین  ـ  فرماتے ہیں :میں عبرت ناک مقتول ہوں اور ہر مومن مجھ پر میری مصیبت کیلئے روئے گا .

 آپ کی شہادت ایک عبرت ناک شہادت ہوئی ؛ کربلا کے صحرا میں اہل بیت  اور اہل وعیال سمیت بھوکے پیاسے شہید ہوئے ۔ علی اصغر کی شہادت کتنی عبرت ناک ہے . یہ وہ تنہا مجاہد تھا جس نے کربلا میں نہ جنگ کی اور نہ کوئی مدد کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا . مگر افسوس ! دشمن نے تین بعلوں والا وہ زہر آلود تیر استعمال کیا جو جانوروں کے شکار کے لئے استعمال ہوتا تھا ۔عصر عاشورا کو حسین  کی شہادت کے بعد خیام کو آگ لگائی گئی . چادر یںلوٹی گئیں ۔

(١٥)

آنسو کا ایک قطرہ

   قاَلَ الْحُسَیْنُ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :مَنْ دَمِعَتْ وَعَیْنَاہُ فِیْنَا قَطَرَة بَوَّاہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ .(١٦)

    حسین بن علی علیہ السلام نے فرمایا :جو شخص ہماری مصیبت پر ایک آنسو کا قطرہ بہائے خدا وند عالم اسے جنت نصیب فرمائے گا

 اس حدیث میں امام حسین  کے غم میں ایک قطرہ بہائے جانے والے آنسو کا ثواب جنت ہے . اس حدیث سے پہلے آپ پڑھ چکے ہیں جو صرف رونے کی شکل بنائے . اسے بھی جنت نصیب ہوگی .

اس میں کوئی شک نہیں کہ تم کو غم حسین  میں آنسو بہانے کا بہت ثواب ملتا ہے لیکن یاد رکھو ! خدا خالص غم کو پسند کرتا ہے ۔ ریا کاری دکھاوا ثواب کو ختم کردیتے ہیں . آج بھی ہمارے معاشرے میں اگر کوئی دس محرم کے دوران مرجائے تو دفن کردیتے ہیں اور فاتحہ کے مراسم دس محرم کے بعد برپاہوتے ہیں . یعنی لوگ اپنے غم پر حسین  کے غم کو مقدم جانتے ہیں ۔

 (١٦)

عزاداری کا ثواب

    قَالَ عَلِیُّ بْن الْحُسَیْنِ السَّجَّادِ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :اَیُّمٰا مُوْمِن دَمِعَتْ عَیْنٰاہُ لِقَتْلِ الْحُسَیْنِ وَمَنْ مَعَہُ حَتّیٰ یَسِیْلَ عَلٰی خَدَّیْہِ بَوَّاہُ اللّٰہُ فِیْ الْجَنَّةِ غُرَفاً.(١٧)

   امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں :ہر وہ مومن جو امام حسین  اور آپ کے شہداء کے غم میں روئے تو خداوند عالم اس کے بدلے اسے جنت میں ایک مقام عطا کرے گا .

اس دوسری حدیث میں بھی آنسو بہانے کے ثواب کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ جس شخص کا صرف ایک آنسو جاری اور وہ بھی رخسار تک آئے تو اسے جنت نصیب ہوگی .

لہذا ہمیں اس ثواب سے محروم نہیں ہونا چاہیے اورہر سال جوش وخروش سے حسینی مراسم برپا کرنے چاہیے . امام حسین  اور ان کے باوفا اصحاب کی بڑی قدر ومنزلت ہے ۔اگر کربلا نہ ہوتی تو آج اسلام کا نام نہ ہوتا .اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد . 

 (١٧)

فاطمی اولاد کی یاد

    قَالَ السَّجَّادُ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :اِنِّی لَمْ اَذْکُرْ مَصْرَعَ بَنِیْ فَاطِمَةَ اِلَّا خَنَقَتَنِیْ لِذٰلِکَ عَبْرَة .(١٨)

   امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں :مجھے جب بھی اولاد فاطمہ  کی شھادت یاد آتی ہے تو میری آنکھوں سے آنسوجاری ہوجاتے ہیں .

 اس میں تمام اہل بیت  کے غم میں آنسو بہانے کے لئے فرمایا گیا ہے . امام فرماتے ہیں فاطمی اولاد میں سے مجھے جب کسی کی شہادت یاد آتی ہے تو میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں ۔ہمارے لئے صرف کربلا کا غم نہیں بلکہ مولا علی  کو مسجد میں شہید کیا گیا اور امام حسن  کو زہر دیا گیا ، ہمارے ہر امام یا زہر سے یا تلوار سے شہیدہوئے ۔ان سب شہداء کے غم میں آنسو بہانا ثواب ہے . ضروری نہیں کہ بڑی مجالس کا انتظام کیا جائے اور لنگر حسینی بانٹ دیئے جائیں بلکہ جتنی کسی کی طاقت ہو اس کے مطابق فرائض انجام دے .

(١٨)

گھر میں عزاداری

   قَالَ الْبَاقِرُ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :ثُمَّ لِیَنْدُبِ الْحُسَیْنَ وَیَبْکِیْہِ وَیَاْمُرُ مَنْ فِیْ دَارِہِ بِالْبُکَائِ عَلَیْہِ وَیُقِیْمُ فِیْ دَارِہِ مُصِیْبَتَہُ بِاظْھَارِ الْجَزَعِ عَلَیْہِ وَیَتَلاقُوْنَ بِالْبُکَائِ بَعْضُھُمْ بَعْضاً فِیْ الْبُیُوْتِ وَلِیُعَزِّ بَعْضُھُمْ بَعْضاً بِمُصَابِ الْحُسَیْنِ عَلْیَہِ السَّلاٰمُ .(١٩)

    امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:امام باقر علیہ السلام نے ان افراد کیلئے جو عاشورا کو امام حسین  کی زیارت نہیں کرسکتے ،فرمایا :ہر شخص اپنے گھر امام حسین پر نوحہ خوانی وعزاداری کرے اور اپنے اہل خانہ کو بھی ایسا ہی دستور دے اور گھر میں عزاداری کے مراسم برپا کرے اور ایک دوسرے کو تعزیت کہے ۔

 اس حدیث میں ہمیں یہ بتایا گیا کہ جو شخص کربلا میں عاشورا کے دن جانے آنے کی قدرت نہیں رکھتا تو اسے اپنے گھر ہی عزاداری برپا کر لینی چاہیے .

امام ساتھ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اپنے دوسرے گھر والوں کو بھی اس میں شریک کرنے کی دعوت دو اور ایک دوسرے کو تعزیت کہیں .

 (١٩)

 شہداء کربلا کے لئے حضرت علی  کے آنسو

    قَالَ الْبَاقِرُ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :مَرَّ عَلِیّ بِکَرْبَلاَ فِیْ اِثْنَیْنِ مِنْ اَصْحَابِہِ قَالَ :فَلَمَّا مَرَّ بِھَا تَرَقْرَقَتْ عَیْنَاہُ لِلْبُکَائِ ثُمَّ قَالَ : ھَذَا مَنَاخُ رِکَابِھِمْ وَھَذَا مُلْقَی رِحَاِلھِمْ وَھَیْھُنَا تُھْراقُ دِمَاوُھُم ،طُوْبٰی لَکِ مِنْ تُرْبَةٍ عَلَیْکِ تُھْراقُ دِمَائُ الْاَحِبَّةِ .(٢٠)

   امام باقرعلیہ السلام فرماتے ہیں :حضرت علی  اپنے دو اصحاب کے ہمراہ کربلا سے گزرے اور جب کربلا کی سر زمین پر پہنچے تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور فرمانے لگے : اس سر زمین پر شہداء کی سواریاںرکیں گی اور اسی جگہ ان کا خون بہایا جائے گا . اے زمین ! تو کتنی خوش نصیب ہے کہ تیرے اوپر شہداء کا خون بہایا جائے گا .

١٩:۔ محرم کا واقعہ اکسٹھ ہجری کو ہوا اور حضرت علی  نے پہلے ہی اپنی زندگی میں غائب کے طور پر بتا دیا کہ کربلا نامی سرزمین میں امام حسین  اور ان کے باوفا اصحاب کو بے دردی سے شہید کیا جائے گا .

پھر آپ نے زمین کی فضیلت کی طرف اشارہ کیا کہ اور فرمایا : اے زمین تو کتنی پاک زمین ہوگی کیونکہ تجھ پر پاک شہداء کا خون بہایا جائے گا .

 (٢٠)

آنسو بہانے کا فائدہ

   قَالَ الْبَاقِرُ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :مَا مِنْ رَجُلٍ ذَکَرَنَا اَوْ دُکِرْنَا عِنْدَہُ یَخْرُجُ مِنْ عَیْنَیْہِ مَائ وَلَوْ مِثْلَ جَنَاحِ الْبَعُوْضَةِ اِلَّا بَنَی اللّٰہُ لَہُ بَیْتاً فِیْ الْجَنَّةِ وَجَعَلَ ذَلِکَ الدَّمْعَ حِجَاباً بَیْنَہُ وَبَیْنَ النَّارِ .(٢١)

   امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :جس شخص کے سامنے ہمارا ذکر کیا جائے اور اگر وہ مچھر کے پر کے برابر بھی آنسو بہائے تو خدا وند عالم اس کے بدلے جنت میں گھر عطا کرے گا اور یہ آنسو انسان اور دوزخ کی آگ کے درمیان پردہ حائل ہوگا .

 جو شخص غم حسین  میں روئے یا رلائے یا رونے کی شکل بنائے اس پر جنت واجب ہے . اس حدیث میں امام فرمارہے ہیں کہ اگر غم حسین  میں مچھر کے پر کے برابر بھی آنسو بہایا جائے تو اس کو کم نہ سمجھو بلکہ اس کی بھی بڑی قدر وقیمت ہے اور ایسے شخص کو بھی جنت نصیب ہوگی اس کے علاوہ غم حسین  میںبہنے والے آنسو دوزخ کی آگ سے ڈھال کا باعث ہونگے .

(٢١)

بیس سال گریہ

    قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :بَکَی عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ عِشْرِیْنَ سَنَة وَمَا وُضِعَ بَیْنَ یَدَیْہِ طَعَام اِلَّا بَکَی.(٢٢)

   امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :امام زین العابدین علیہ السلام کربلا کی یاد میں بیس سال روئے اور جب بھی ان کے سامنے کھانا رکھا جاتا تو رونا شروع کردیتے تھے .

٢١:۔ اس حدیث میں امام صادق   ،امام سجاد  کی سیرت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں آپ  بیس سال روئے اور ان کے سامنے کھانا اور پانی رکھا جاتا تو رونا شروع کر دیتے تھے . کیونکہ آپ کو امام حسین  اور ان کے باوفا اصحاب کی پیاس یاد آجاتی تھی .

روایت میں ملتا ہے کہ جب کوئی مومن پانی پیے تو امام حسین  کی پیاس کو ضرور یاد کرے ۔

(٢٢)

سوگواری کی روش

    قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :لَمَّا مَاتَ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ وَعَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمْ حَمَلَتْ عَیْنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ بِالدُّمُوْعِ ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ وَعَلَیْہِ وَآلِہِ :تَدْمَعُ الْعَیْنُ وَیَحْزَنُ الْقَلْبُ وَلاَنَقُوْلُ مَا یُسْخِطُ الرَّبَّ وَاِنَّا بِکَ یَا اِبْرَاھِیمُ لَمَحْزُوْنُوْنَ (٢٣)

   امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :جب رسول خدا  ۖکا بیٹا ابراہیم فوت ہوا تو آپ  ۖ کی آنکھیں آنسو سے بھر آئیں اور پھر فرمایا :

آنکھیں روئیں گی اور دل غمگین ہوگا اور خدا سے شکوہ نہیں کریں گے . اے ابراہیم ! ہم تیرے سوگ میں غمگین ہیں۔

٢٢۔: اس حدیث سے یہ سبق ملتا ہے کہ رونا فطرتی عمل ہے کیونکہ جب رسول خدا  ۖ کے بیٹے ابراہیم دنیا سے گئے تھے تو آپۖ رسول تھے لیکن بیٹے کے غم میں وہ بھی روئے ۔

اگر رونا گناہ ہوتا تو حضرت حمزہ کے میت پر رسول خدا  ۖ نے عورتوں کو اکٹھا ہو کر نوحہ کرنے کی اجازت کیوں دی ؟ خود آنحضرت ۖ نے حکم دیا تھا کہ حضرت حمزہ کیلئے نوحہ خوانی کی جائے . اگر رونا جائز نہ ہوتا تو اللہ کے نبی یعقوب اپنے بیٹے یوسف  کے بچھڑنے کے غم میں اتنے کیوں روتے کہ آنکھوں کی بینائی چلی گئی۔

(٢٣)

اشکبار آنکھ

قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :مَنْ دُکِرْنَا عِنْدَہُ فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ حَرَّمَ اللّٰہُ وَجْھَہُ عَلَی النَّارِ .(٢٤)

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :جس انسان کے سامنے ہمارا ذکر کیا جائے اور اس کی آنکھیں روئیں تو خدا وند عالم اس کے چہرے پر دوزخ کی آگ حرام کردے گا .

 غم حسین  میں رونے والی آنکھ پر دوزخ کی آگ حرام ہے . محرم کے مہینے میں تو صرف امام حسین  اور ان کے باوفا اصحاب کا نام سنتے ہی انسان کی آنکھوں سے آنسوؤں جاری ہوجاتے ہیں . روایت میں ملتا ہے کہ امام سجاد  نے فرمایا کہ دال مسور کھایا کرو کیونکہ اس کے کھانے سے انسان میں آنسو پیدا ہوتے ہیں ۔

(٢٤)

اہل بیت  کا ذکر

   قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :تَزَاوَرُوْا وَتَلاقُوْا وَتَذَاکَرُوْا وَاَحْیُوا اَمْرَنَا.(٢٥)

   امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :ایک دوسرے کی زیارت کیا کرو ،ایک دوسرے کی ملاقات کو جائو، مذاکرہ کرتے رہو اور ہماری ولایت کو زندہ رکھو .

 اس حدیث میں تین اخلاقی نکات کی طرف اشارہ ہے .

١۔ مومنوں کو ایک دوسرے کے کفر میں نہیںجانا چاہیے تاکہ صلہ رحمی کا حق ادا ہو .

٢۔ ایک دوسرے کا مصافحہ کرنا ،ایک دوسرے کو تذکر دینا .

٣۔ ولایت زندہ کرنا .اسلام میں ہر مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے ۔

لہذا دینی بھائی کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں جن میں ایک حق یہ ہے کہ اس کے گھر میں اس کی خیرو عافیت کی خبر لینی چاہیے .

تیسرے نکتے میں یہ اشارہ ہے کہ ہمارے ذکر اور ولایت کو لوگوں تک پہنچائو ۔ لوگوں کو ہمارے فضائل بتائو . اہل بیت  کاذکر عبادت ہے .

 (٢٥)

مجالس حسینی

   قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ لِلْفُضَیْلِ :تَجْلِسُوْنَ وَتُحَدِّثُوْنَ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ،قَالَ : اِنَّ تِلْکَ الْمَجَالِسَ اُحِبُّھَا فَاْحْیُوْا اَمْرَنَا فَرَحِمَ اللّٰہُ مَنْ اَحْیِیْ اَمْرَنَا (٢٦)

   صادق علیہ السلام نے فضل سے پوچھا  :

کیا تم اکھٹے بیٹھ کر ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہو ؟ اس نے کہا : جی ہاں .

آپ نے فرمایا :میں ایسی مجالس پسند کرتا ہوں، پس ہماری امامت کو زندہ رکھو ۔ خدا اس انسان پر رحم کرے جو ہمارے ذکر کو زندہ کرتا ہے . 

٢٥:۔ اس حدیث میں یہ ملتا ہے کہ انسان مجالس حسینی میں ذکر اہل بیت  کرے اور ان کے فضائل بیان کئے جائیں . دنیا کے قصے کہانیاں بیان نہ کی جائیں بلکہ حقیقی دین لوگوں تک پہنچایا جائے۔

(٢٦)

آنسوکی قدر

    قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰم :.... رَحِمَ اللّٰہُ دَمْعَتَکَ ،اَمَّا اِنَّکَ مِنَ الَّذِیْنَ یُعَدُّوَنَ مِنْ اَھْلِ الْجَزَعِ لَنَا وَالَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ لِفَرَحِنَا وَیَحْزَنُوْنَ لِحُزْنِنَا ، اَمَّا اِنَّکَ سَتَرَی عِنْدَ مَوْتِکَ حُضُوْرَ آبَائِیْ لَکَ (٢٧)

    امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : خدا تیرے آنسو کو تیرے لئے رحمت قرار دے۔ آگاہ رہو ! تو ان افراد میں سے ہے جو ہماری خوشی سے خوشحال اور ہمارے غم سے غمگین ہوتے ہیں ۔آگاہ رہو ! تو حالت احتضار میں اپنے سرہانے میرے بابا کو پائے گا۔

 امام حسین  اور دوسرے اہل بیت  کے غم میں رونے سے انسان رحمت خدا میں ہوگا اور اس کے علاوہ ایک اہم نکتہ کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ کہ قبر میں مولا تشریف لائیں گے .قبر وحشت ناک جگہ ہے ،طرح طرح کے عذاب ہوں گے تو مومن اب قبر کے خوف سے بچ جائے گا کیونکہ جب قبر میں امام جیسی ہستی موجود ہو تو پھر ڈر کس چیز کا ہوگا .

(٢٧)

غمگین دل

    قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰم:اَللَّھُمَّ ... وَارْحَمْ تِلْکَ الْاَعْیُنَ الَّتِیْ جَرَتْ دُمُوْعُھَا رَحْمَہ لَنَا وَارْحَمْ تِلْکَ الْقُلُوْبَ الَّتِیْ جَزَعَتْ وَاحْتَرَقَتْ لَنَا وَارْحَمِ الَّصَرْخَةِ الَّتِیْ کَانَتْ لَنَا .(٢٨)

   امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :اے خدا ! ہمارے غم میں آنسو بہانے والی آنکھوں پر رحم فرما، ان دلوں پر رحم فرما جو ہمارے غم میں ہوں اور ہمارے لئے آہ وبکا کرنے والوں پر رحم فرما۔ اس حدیث میں امام اپنے ماننے والوں کے لئے دعا کر رہے ہیں کہ خدایا ! غم حسین  پر رونے والے لوگوں پر رحم فرما ۔ ہمیں یہ فخر ہے کہ خود امام ہمارے حق میں دعا فرمارہے ہیں اور امام کی دعا یقیناً قبول ہوتی ہے ۔

 (٢٨)

مظلومیت شیعہ پر گریہ

   قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰم:مَنْ دَمِعَتْ عَیْنُہُ فِیْنَا دَمْعَہُ لِدَمٍ سُفِکَ لَنَا اَوْ حَقٍّ لَنَا نُقِصْنَاہُ عِرْضِ اُنْتَھکَ لَنَا اَوْ لِاَحْدٍ مِنْ شِیْعَتِنَا بَوَّاْہُ اللّٰہُ تَعَالٰی بِھَا فِیْ الْجَنَّةِ حُقُباً(٢٩)

   امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :جو آنکھ ہماری مظلومیت پر روئے یا ہمارے حق غصب ہونے پر روئے یا ہماری اور ہمارے اصحاب کی آبرو کی حرمت پر روئے تو خداوند عالم اسے ہمیشہ رہنے والی جنت میں داخل کرے گا .

٢٨:۔ امام صادق   فرمارہے ہیں کہ جو آنکھ ہمارے غم اور ہمارے حق غصب ہونے پر روئے ،اسے جنت نصیب ہوگی صرف یہ نہیں بلکہ اگر ہمارے ماننے والوں پر ظلم ہو اور ان کی آبرو ریزی ہو تو اس پر افسوس کرے اور مومن کی مظلومیت کو اکھٹاذکر کیا ہے . امام کو ہماری مظلومیت کا احساس بھی ہے .

(٢٩)

بے حد ثواب

   قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰم:لِکُلِّ شَیْیئٍ ثَوٰاب اِلَّا الدَمْعَة فِیْنَا (٣٠)

    امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :ہر چیز کا کچھ نہ کچھ ثواب ملتا ہے لیکن ہم پر بہائے گئے آنسو کا بے حساب ثواب ملے گا .

 ٢٩:۔ بعض روایات میں اعمال کا ثواب معین بیان ہوا ہے لیکن امام حسین  اور ان کے باوفا اصحاب کے غم میں آنسو بہانا بے حد ثواب ملتا ہے .

اس لئے کہ حوض کوثر کے ساقی بھی اہل بیت  ہیں جنت کے سردار بھی اہل بیت  ہیں . اصحاب کساء بھی اہل بیت  ہیں .

(٣٠)

کوثر واشک

    قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰم:مَامِنْ عَیْنٍ بَکَتْ لَنَا اِلَّا نُعِّمَتْ بَالنَّظْرِ اِلَی الْکَوْثَرِ وَسُقِیَتْ مِنْہُ .(٣١)

   امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :ہم پر رونے والی آنکھ کا اجر کوثر سے سیراب ہونا ہے .

 ہمیں یہ بھی فخر ہے کہ مولا علی  کے ہاتھوں حوض کوثر کے پانی سے سیراب ہوں گے . باپ ساقی کوثر ہیں تو بیٹے جنت کے سردار ۔ ماں جنت کی عورتوں کی سردار اور نانا تمام انبیاء کے سردار .

پس ان کے غم میں رونے والی آنکھ نہ حوض کوثر سے سیراب نہ ہو جو اتنے فضائل کے مالک ہیں .

 (٣١)

 گریہ آسمان

عَنْ الصَّادِقِ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :یَا زُرَارَةُ ! اِنَّ السَّّمَائَ بَکَتْ عَلَی الْحُسَیْنِ اَرْبَعِیْنَ صَبَاحاً(٣٢)

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :اے زرارہ ! آسمان چالیس دن تک امام حسین  کے غم میں رویا ہے ۔

 امام جعفر صادق   فرمارہے ہیں کہ امام حسین  کے غم میں نہ صرف انسان روئے بلکہ دوسری مخلوق نے بھی گریہ کیا . آسمان امام حسین  اور آپ کے باوفا اصحاب کے غم میں چالیس دن تک رویا .

جن انسانوں میں کچھ انسانیت تھی وہ ضرور اس غم میں روئے ،صرف بنو امیہ کے ظالم وجابر اور دنیا پرست کے ہاتھوں یہ واقعہ ہوا ایک طرف مومن کو غم حسین  کا ثواب ہے تو دوسری طرف دشمن اہل بیت  کیلئے دوزخ میں سخت عذاب ہے .

(٣٢)

گریہ مطلوب

    قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰم:کُلُّ الْجَزَعِ وَالْبُکَائِ مَکْرُوْہ سِوَی الْجَزَعُ وَالْبُکَائُ عَلَی الْحُسَیْنِ (٣٣)

   امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :مظلومیت امام حسین  کے علاوہ غیر کیلئے گریہ کرنا مکروہ ہے .یعنی اگر دنیا کو کوئی کھوجائے یا کوئی عزیز مرجائے تو ان کے لئے آہ وبکا اور رونا مکروہ ہے صرف امام حسین  کا غم ایسا غم ہے کہ جس پر رونے سے بہت اجر ملتا ہے .غم حسین  انبیاء کی سیرت اور آئمہ  کا شیوہ ہے ۔ غم حسین  پر خود رسول اللہ  ۖ روئے ،جناب زہرا  نے گریہ کیا ،فرشتے روئے آسمان رویا ۔

 (٣٣)

پیغمبر اکرم  ۖ کا شہید پر گریہ

   قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰم:اِنَّ النَّبِیَّ لَمَّا جَائَتْہُ وَفَاةُ جَعْفَرِ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ وَزَیْدِبْنِ حَارِثَة کَانَ اِذَا دَخَلَ بَیْتَہُ کَثُرَ بُکَائُہُ عَلَیْھِمَا جَدّاً وَیَقُوْلُ : کَانَا یُحَدِّثَانِیْ وَیُوْانِسَانِیْ فَذَھَبَا جَمِیْعاً(٣٤)

   امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :جب جعفر ابی طالب وزید بن حارث کی شہادت کی خبر رسول خدا  ۖ کو ملی تو اس کے بعد جب آپۖ  گھر میں داخل ہوئے ،گریہ کیااور فرمایا :یہ دونوں شہید مجھ سے باتیں کرتے تھے اور میرے مونس تھے۔ لیکن ہر دو دنیا سے چلے گئے .

 رونا فطرتی فعل ہے ۔ خود رسول خدا  ۖ جناب زید بن حارث اور جعفر بن ابی طالب  پر روئے اور انہیں بہترین کلمات سے یاد کیا .

آپ ۖ نے فرمایا :وہ میرے مونس تھے اور ان کے بچھڑ جانے پر غم کا اظہار فرما یا .

(٣٤)

 تسبیح کا سانس

   قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰم:نَفْسُ الْمَھْمُوْمٍ لِظُلْمِنَا تَسْبِیْح وَھَمُّہُ لَنَا عِبَادَة وَکِتْمَانُ سِرَّنَا جِھَاد فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ . ثُمَّ قَالَ اَبُوْ عَبْدِاللّٰہِ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :یَجِبُ اَنْ یُکْتَبَ ھَذَا الْحَدِیْثُ بِالذَّھَب(٣٥)

   امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :ہماری مظلمومیت پر غمگین سانس لینا تسبیح شمار ہوتا ہے اور یہ غم عبادت ہے . ہمارا راز چھپانا جہاد ہے . پھر امام صادق علیہ السلام مزید فرماتے ہیں ۔یہ حدیث سونے سے لکھنے کے قابل ہے .

 یعنی اہل بیت  کے غم میں آہ بھرنا تسبیح اور ذکر شمار ہوتا ہے ۔ آگے حدیث میں تقیہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امام فرماتے ہیں کہ اگر ظالموں کے ظلم کا ڈر ہوتو پھر ہمارا راز چھائو اور تقیہ اختیار کرو .

تقیہ کے بارے میں امام زین العابدین  فرماتے ہیں :تقیہ میرا اور میرے آباء واجداد کا دین ہے لیکن اگر دشمن اہل بیت  کی طرف سے خطرہ نہ ہوتو آپ کے ذکر کو عام کرنا جاہیے ۔

(٣٥)

سوگوارفرشتے

   قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰم:اَرْبَعَة اَلاَفِ مَلَکٍ عِنْدَ قَبْرِ الْحُسَیْنِ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ شُعْث غُبْر یَبْکُوْنَہُ اِلٰی یَومِ الْقِیَامَةِ(٣٦)

   امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : چار ہزار غبار آلود فرشتے امام حسین  کی قبر کے قریب قیامت تک آپ  پر روئیں گے .

 امام حسین  کے غم میں مومنین قیامت تک روئیں گے بلکہ ہر حق وباطل میں تمیز رکھنے والا ہمیشہ حق کی پیروی کرے گا .

غم حسین  پر صرف ہم لوگ نہیں روتے بلکہ خداوند عالم نے چار ہزار فرشتوں کو قبر حسین  پر معین کیا تاکہ وہ قیامت تک گریہ کریں .

(٣٦)

 امام حسین علیہ السلام پر گریہ

   قَالَ الرِّضَا عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :یَا ابْنَ شَبِیْبٍ ! اِنْ کُنْتَ بَاکِیاً لِشَیْئِ فَابْکِ لِلْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیِّ بْن ِاَبِیْ طَالِبٍ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَاِنَّہُ ذُبِحَ کَمَا یُذْبَحُ الْکَبْشُ (٣٧)

   امام رضا علیہ السلام نے فرمایا :اے فرزند شبیب ! اگر گریہ کرنا چاہتے ہو تو امام حسین  پر گریہ کرو کیونکہ انھیں جانور کی طرح ذبح کیا گیا تھا . یعنی مجلس امام حسین  میں شرکت کرنی چاہیے تاکہ ذکر اہل بیت  زندہ رہے . اس ذکر کو زند کرنے والوں کے دل روز قیامت زندہ ہوں گے .

مجلس ذکر ہے اور ذکر عبادت ہے اور عبادت قرب الٰہی کا باعث ہوتی ہے . آج دنیا کے کونے کونے میں مجالس حسین  برپا ہو رہی ہیں . یہ ایک آفاقی معجزہ ہے ۔ جس طرح قرآن کی حفاظت خود خدا نے کی تاکہ اس میں کوئی تحریف نہ کرسکے اسی طرح ذکر اہل بیت  بھی قیامت تک ہوتا رہے گا .

اس حدیث میں امام حسین  کی عبرت ناک شہادت کی طرف اشارہ ہے ۔ آپ کو اتنی بے دردی سے شہید کیا گیا جیسا کہ ایک جانور کو ذبح کیا جاتا ہے .

اسلام میں مستحب ہے کہ کسی جانور کو ذبح کرنے سے پہلے پانی پلائو لیکن نواسہ رسول ۖ فرات کے کنارے پیاسے شہید ہوئے ۔ غازی عباس  بھی فرات سے پانی نہ لاسکے اور سکینہ واصغر بھی پیاسے رہے .

 (٣٧)

مجالس بیاد ائمہ علیہم السلام

   قَالَ الرِّضَا عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :مَنْ جَلَسَ مَجْلِساً یُحْیِیْ فِیْہِ اَمْرُنَا لَمْ یَمُتْ قَلْبُہُ یَوْمَ تَمُوْتُ الْقُلُوْبُ(٣٨)

   امام رضا علیہ السلام نے فرمایا :جو شخص کسی مجلس میں بیٹھ کر ہمارے ذکر کو زندہ کرے تو ایسا دل قیامت میں نہیں مرے گا .

(٣٨)

امام حسین  پر رونے کا ثواب

   قَالَ الرِّضَا عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :فَعَلَی مِثْلِ الْحُسَیْنِ  فَلْیَبْکِ الْبَاکُوْنَ فَاِنَّ الْبُکَائَ عَلَیْہِ یَحُظّ الذُّنُوْبَ الْعِظَام۔(٣٩)

   امام رضا علیہ السلام نے فرمایا :گریہ کرنے والوں کو حسین  جیسی شخصیت پر گریہ کرنا چاہیے کیونکہ آپ پر رونے سے بڑے گناہ معاف ہوتے ہیں .

 اس حدیث میں پھر امام حسین  پر رونے کی فضیلت بتائی گئی ہے امام فرماتے ہیں :گریہ کرنا ہوتو صرف حسین بن علی  پر گریہ کرو کیونکہ اس سے انسان کے گناہان کبیرہ معاف ہوتے ہیں ۔ گریہ کرنا درحقیقت مظلوم کی حمایت کانام ہے ۔ رونا حسین  سے اظہار محبت کا نام ہے ۔ مومنوں کے دلوں میں عشق حسینی کی حرارت کبھی نہیں بجھے گی .

 (٣٩)

آنسو باعث مغفرت

   قَالَ الرِّضَا عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :یَابْنَ شَبِیْبٍ ! اِنْ بَکَیْتَ عَلَی الْحُسَیْنِ عَلَیْہِ السَّلَامُ حَتّیٰ تَصِیْرَ دُمُوْعُکَ عَلٰی خَدَّیْکَ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ کُلَّ ذَنْبٍ اَذْنَبْتَہُ صَغِیْراً کَانَ اَوْ کَبِیْراً قَلِیْلاً کَانَ اَوْ کَثِیْراً(٤٠)

   امام رضا علیہ السلام نے فرمایا :اے فرزند شبیب ! اگر تو امام حسین  پر اتنا گریہ کرے کہ آنسو تیرے رخسار پر جاری ہو جائیں تو اس کے بدلے خدا وند عالم تیرے گناہ معاف کردے گا چاہے وہ گناہ چھوٹے ہوں یا بڑے

٣٩:۔ یعنی رونے کی بڑی فضیلت ہے انسان کے صغیرہ وکبیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں ۔ ہمارا رونا کوئی حسین  پر احسان نہیں بلکہ اپنی عاقبت کیلئے یہ کام کرتے ہیں .

(٤٠)

اہل بیت  سے ہمدلی

   قَالَ الرِّضَا عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :اِنْ سَرَّکَ اَنْ تَکُوْنَ مَعَنَا فِیْ الدَّرَجَاتِ الْعُلی مِنَ الْجِنَانِ فَاحْزَنْ لِحُزْنِنَا وَافْرَحْ لِفَرَحِنَا(٤١)

   امام رضا علیہ السلام نے ریان بن شبیب سے فرمایا :اگر تو جنت میں ہمارے ساتھ درجہ پاکر خوشحال ہے تو ہمارے غم پر غمگین رہو اور ہماری خوشی پر خوش رہو .

اہل بیت  کا غم ہمارا غم اور ان کی خوشی ہماری خوشی ہے لہذا عملی طور پر کسی امام معصوم  کی وفات پر غم منائو اور ولادت پر خوشی کا اظہار کرو ۔ بنوامیہ نے اپنے دور میں عاشورا کے دن عید منائی تاکہ لوگ آہستہ آہستہ حسین  اور مظلومیت حسین  کو بھول جائیں لیکن اہل بیت  کے ماننے والے ہر دور میں رہے ہیں اور انہوں نے حسینیت کو زندہ رکھا . درحقیقت یہ اہل بیت  سے ایک قسم کی ہمدلی ہے .

پاورقی:

(١)۔جامع احادیث الشیعہ ،ج١٢،ص٥٥٦(٢)۔زمینہ ھای قیام امام حسین  ج ٢،ص ١٨١  (٣)۔بحارالانوار ،ج٤٤،ص ٢٨٤ (٤)۔امالی صدوق ،ص١١١(٥)۔بحارالانوار ، ج ٤٤، ص ٢٩٣ (٦)۔بحارالانوار ،ج ٧٩ ،ص ١٠٢ (٧)۔بحارالانوار ،ج ٤٦ ، ص ٢٢٠(٨)۔بحارالانوار ،ج ٤٤ ،ص ٢٨٧(٩)۔رجال شیخ طوسی  ،ص ٢٨٩ (١٠)۔ وسائل  الشیعہ ،ج١٠،ص٤٦٧ (١١)۔وسائل الشیعہ ،ج١٠،ص٤٦٩(١٢)۔جامع احادیث الشیعہ ،ج١٢، ص٥٦٧(١٣)۔جامع احادیث الشیعہ ،ج١٢، ص٥٦٧ (١٤)۔ غررالحکم ،ج١۔ص٢٣٥(١٥)۔بحارالانوار ،ج٤٤، ص ٢٧٩(١٦)۔احقاق الحق ،ج٥، ص٥٢٣ (١٧)۔ینابیع المودہ ،ص ٤٢٩(١٨)۔بحارالانوار ،ج٤٦، ص ١٠٩ (١٩)۔کامل الزیارات ، ص ١٧٥(٢٠)۔بحارالانوار ،ج ٤٤،ص ٢٥٨(٢١)۔ الغدیر ،ج٢،ص٢٠٢(٢٢)۔بحارالانوار ، ج٤٦،ص١٠٨ (٢٣)۔بحار الانوار ،ج ٢٢،ص ١٥٧ (٢٤) بحارالانوار ،٤٤ ،ص ٢٨٥  (٢٥) ۔وسائل الشیعہ ،ج ١٠، ص٣٩٢(٢٦)بحارالانوار ،ج٧١، ص ٣٥٢(٢٧)۔وسائل الشیعہ ،ج١٠، ص٣٩٧ (٢٨)۔بحارالانوار ، ج٩٨،ص٨(٢٩)۔امالی شیخ مفید  ،ص ٧٥(٣٠)۔جامع احادیث الشیعہ ،ج ١٢ ،ص ٥٤٨(٣١)۔جامع احادیث الشیعہ ،ج ١٢،ص ٥٥٤ (٣٢)۔جامع احادیث الشیعہ ،ج ١٢،ص ٥٥٢ (٣٣)۔بحارالانوار ،ج٥،ص٣١٣ (٣٤)۔من لایحضرہ الفقیہ ، ج١،ص١٧٧(٣٥)۔امالی شیخ مفید  ،ص ٣٣٨ (٣٦)۔ کامل  الزیارات ، ص ١١٩(٣٧)۔بحارالانوار ،ج ٤٤،ص ٢٨٦ (٣٨)۔ بحارالانوار ،ج ٤٤،ص ٢٧٨(٣٩)۔بحارالانوار ،ج ٤٤،ص ٢٨٤(٤٠)۔امالی صدوق، ص١١٢(٤١)۔جامع احادیث الشیعہ ،ج١٢،ص٥٤٩

 

رسول خداۖ نے فرمایا:

''یَا عَلِیُّ اَنْتَ قَسِیْمُ الْجَنَّةِ وَ النَّارِ بِمُحَبَّتِکَ یُعْرَفُ الْاَبْرَارُ مِنَ الْفُجَّارِ وَ یُمَیہّزُ بَیْنَ الْاَشْرَارِ وَ الْاَخْیَارِ وَ بَیْنَ الْمُوْمِنِیْنَ وَ الْکُفَّارِ''

 اے علیـ! تو جنت و دوزخ کا تقسیم کرنے والا ہے تیری محبت کے ذریعے نیک اور بد افراد پہچانے جائیں گے شریف اور نیک افراد اور اسی طرح مومن اور کافر تیری محبت کے ذریعے پہچانے جائیں گے۔

 صلوات قرآن کی روشنی میں

 صلوات کا لغوی معنی:

''صلوات'' صلاة کی جمع ہے جس کے معانی ہیں دعا، نماز ،استغفار ،رحمت ،مدح درود اور بلند آواز سے تعظیم۔ نماز کو صلاة اس لئے کہتے ہیں کیونکہ یہ بھی ایک قسم کی دعا اور طلب رحمت ومغفرت ہے۔

 اصطلاحی معنی :

رسول خداۖ پر درود بھیجنا اور ان کی پاک اولاد پر۔خدا اور فرشتوں کی رسول خداۖ پر صلوات

 خداوند عالم فرماتا ہے :

اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰئِکَتُہاا یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ؟ یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا

 خدا اور اس کے فرشتے محمد پر درود بھجتے ہیں۔اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور سلام کہیں اور حکم کی اطاعت کرو۔(١)

 اما م رضاـ نے فرمایا :جو شخص نماز صبح و مغرب کے بعد اس(مذکورہ) آیت کی تلاوت کرتا ہو اور اس کے بعد یہ پڑھے:

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ ذُرِیَّتِہ قَفَی اللّٰہُ لَہ مِأَةَ حَاجَةً سَبْعِیْنَ فِی الدُنْیَاوَثَلَاثِیْنَ فِی الْاٰخِرَةِ۔

جوشخص''اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ'' پڑھے خداوند عالم اسکی سو حاجات پوری کرے گا جن میں ستر حاجتیں دنیا اور تیس حاجتیں آخرت کے دن پوری ہوں گی۔ ہم اس آیت سے چند نکات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

 ١۔ دائمی صلوات:

اس آیت میں فعل مضارع استعمال ہوا ہے جو استمرار پر دلالت کرتا ہے پس خدا اور اس کے ملائکہ کی رسول خداۖپر ہمیشہ کیلئے صلوات ہے۔

٢۔ ''صلّوا'' اور ''سلّموا'' میں فرق:

 بعض مفسرین یہ کہتے ہیں صلّوا کا معنی رسول اکرمۖ پر درود بھیجنا ہے اور سلّموا کا معنی یہ ہے مسلمانوں کو رسول اکرمۖ کے سامنے ان کے حکم کی اطاعت کرنی چاہیے۔ یا دوسرا معنی سلام بھیجنا بھی ہے یعنی آنحضرتۖ کی سلامتی چاہنا۔

 ٣۔جس طرح خدا اور فرشتے آپۖ پر ہمیشہ صلوات بھیجتے ہیں ہمیں بھی ہمیشہ صلوات پڑھنی چاہیے۔(٢)

نام خدا کے بعد صلوات

 قرآن مجید میں ہے :

وَ ذَکَرَ اسْمَ رَبِّہ فَصَلّٰی

 اپنے پروردگار کو یاد کرتاہے اور پھر اس پر صلوات بھیجتا ہے۔(٣)

 امام رضاـاس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں :

 کُلَّمَا ذَکَرَ اسْمَ رَبِّہ صَلّٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہ۔

 جب اپنے پروردگار کو یاد کرتا ہے تو محمد وآل محمد٪ پر صلوات بھی بھیجتا ہے۔(٤)

 خدا اور فرشتوں کی خاص بندوں پر صلوات

 خداوند عالم فرماتا ہے:

ھُوَ الَّذِیْ یُصَلِّی عَلَیْکُمْ وَ مَلٰئِکَتُةاا لِیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ وَ کَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا۔

 وہ وہی ہے جو تم پر درود اور رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے (بھی تمہارے لئے رحمت کا تقاضا کر تے ہیں)۔ تاکہ تاریکیوں سے نور کی طرف رہنمائی کرے اوروہ مومنین پربہت ہی مہربان ہے۔(٥)

صلوات خدا :صابر اور ہادی افراد پر

 خداوندعالم فرماتا ہے :

وَ لَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ؟ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَة قَالُوْآ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ؟ اُولٰئِکَاا عَلَیْھِمْ صَلَوٰت مِّنْ رَّبِّھِمْ وَرَحْمَة٫ وَ اُولٰئِکَاا ھُمُ الْمُھْتَدُوْنَ

 اور ہم یقیناتمہیں تھوڑے سے خوف ، تھوڑی بھوک اور اموال، نفوس اور ثمرات کی کمی سے آزمائیں گے اور اے پیغمبر ! آپ ان پر صبر کرنیوالوں کو بشارت دیں جو مصیبت پڑنے کے بعد کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کیلئے ہیں اوراسی کی بارگاہ میں واپس جانے والے ہیں کہ ان کیلئے پروردگار کی طرف سے صلوات و رحمت ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔(٦)

 مصائب کی منزل میں صبرسے کام لینے والے صلوات اور رحمت کے حقدار ہوجاتے ہیں تو آل محمد٪ پر صلوات کے بارے میں بھی کوئی شک واشکال نہیں کیا جاسکتاکہ ان سے بڑھ کر کوئی صابر نہیں ہے اور سب سے پہلے یہ کلمہ حضرت علی ہی کی زبان پر آیا تھاجسے قرآن نے معیار صبر بناکر محفوظ کرلیا ہے۔

 اہم نکات :

 ١۔ خداوند عالم اور اس کے فرشتے ،کچھ خاص بندوں پر صلوات بھیجتے ہیں کیونکہ یہ خاص بندے امتحان میں سرفراز ہوتے ہیں اور ہر وقت ذکرخدا میں مشغول رہتے ہیں۔

٢۔یہ درود ان کیلئے ہے جو ہدایت یافتہ اور صراط مستقیم پر ہیں اور پہاڑ کی مانند محکم ہیں شہوت، مقام اور ثروت جیسی چیزیں انہیں متزلزل نہیں کرسکتی ہیں۔

 ٣۔ صلوات اور رحمت الٰہی ان لوگوں کیلئے ہے کہ جو کچھ ان کے پاس ہے حق تعا لی کی طرف سے سمجھتے ہیں اور جانتے ہیںکہ آخر ہم سب کی بازگشت اسی خدا کی ہی طرف ہے۔ در حقیقت ایسے افراد فنافی اللہ کی منزل پر ہوتے ہیں اس طرح ،کہ خود کو نہیں دیکھ سکتے بلکہ جو کچھ مشاہدہ کرتے ہیں قدرت وجلوہ خدا ہوتا ہے۔

 خداوند عالم جب ان سے جان ،مال اور اولاد لے لیتا ہے تو اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا بلکہ صبر سے کام لیتے ہیں اور ان کے تقویٰ میں اضافہ ہوتا ہے اور بلند مقام پر فائز ہوتے ہیں۔

 رسول خداۖ کی اپنی امت پر صلوات

 جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے خدا اور فرشتے کچھ خاص بندوں پر صلوات بھیجتے ہیں لیکن بعض اوقات خود رسول اکرمۖ لوگوں پر صلوات بھیجتے ہیں۔

 خداوند عالم فرماتا ہے:

 خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَةً تُطَھِّرُھُمْ وَ تُزَکِّیْھِمْ بِھَا وَصَلِّ عَلَیْھِمْ؟ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَن لَّھُمْ؟ وَ اللّٰہُ سَمِیْع عَلِیْم

 اے پیغمبر ! ان کے مال سے زکواة لیں کہ اس کے ذریعے یہ پاک وپاکیزہ ہوجائیںاور انہیں دعادیں کہ آپ کی دعا ان کے لئے تسکین قلب کا باعث ہوگی اور خدا سب کا سننے والاہے۔(٧)

 اہم نکات:

 رسول خداۖ لوگوں پر صلوات بھیجتے ہیں اس کی علت یہ ہے کہ:

 ١۔ وہ صلوات جس کا سورۂ توبہ میں ذکر ہوا ہے وہ سورۂ بقرہ واحزاب میں ذکر ہونے والی صلوات سے مختلف تھی سورۂ توبہ میںباواسطہ اور دوسری دو آیات میں خدا نے بغیر واسطہ کے صلوات بھیجی ہے لہٰذا سورہ میں ذکر ہونے والی صلوات بالواسطہ ہے۔

 ٢۔ اس فرق کی علت یہ ہے کہ سورۂ توبہ میں فقط دنیا کے ما ل کے بارے میں ہے لہٰذا خداوند عالم نے رسول خداۖ کو حکم دیا کہ وہ ان پر صلوات بھیجیں ،لیکن دوسری دو آیات میںامتحان خدا زیادہ سخت ہے لہٰذا خود خدا نے بغیر کسی واسطے کے صلوت بھیجی۔

 ٣۔ خمس و زکوٰة دینے کا فلسفہ : اس گروہ پر رسول خداۖ کی صلوت اس لئے ہے کہ یہ لوگ خمس وزکوٰة ادا کرتے ہیں جو کہ فقراء کی حمایت اور اسلامی ملک کی بحالی کا سبب ہے ،اس کے مقابلے میں منافقین ہیں جو لوگوں کی مدد کرنے سے روکتے ہیں تاکہ معاشرہ بحران اور مشکل کا شکار رہے۔

٤۔ خمس وزکوٰة ادا ہونے سے ملک کا اقتصاد مضبوط ہوتا ہے لیکن اس کے علاوہ خود اداکرنے والے بھی معنوی لحاظ سے پاک ہوجاتے ہیں کیونکہ واجبات کی ادائیگی کے بعد ان افراد میں روح سخاوت پیدا ہوتی ہے ، ان کے دل سے دنیا کی محبت کم ہوتی ہے اور بخل ، طمع اور حرص جیسی صفات ختم ہوتی ہیں۔

 ٥۔ جب رسول خداۖ جیسی ہستی انسان پر درود بھیجے تو اس انسان میں ایک ایسی معنوی حالت پیدا ہوتی ہے جو سب سے بڑا افتخار ہے۔

 نہج البلاغہ اور صحیفہ سجادیہ میں صلوات

 صلوات کی اہمیت اور فلسفہ

حضرت علیـ کے کلام میں

 صلوات کی اہمیت:

 صلوات کی اتنی فضیلت ہے کہ حضرت علیـ نے نہج البلاغہ میں ایک مخصوص خطبہ بیان فرمایا جو صلوات کے بارے میں ہے ،مولا فرماتے ہیں۔

 اَللّٰھُمَّ .... اِجْعَلْ شَرَائِفَ صَلَوَاتِکَ وَ نَوَامِیْ بَرَکَاتِکَ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَ رَسُوْلِکَ،اَلْخَاتِمِ لَمَا سَبَقَ۔

 خدایا ! اپنی بہترین صلوات اور برکات محمدۖ پر بھیج جو تیرا بندہ اور رسول ہے اور آخری نبی ہے۔ اس کے بعد مولا امیرـ صلوات کی علت بیان کرتے ہیں۔

 فلسفہ صلوات:

 ١…… لوگوں کی خدمت

 آپ نے فرمایا :

''وَالْفَاتِحِ لِمَا اِنْغَلَقَ''

 آنحضرتۖ لوگوں کی مشکلات کو حل کرنے والے تھے۔ آپ نے لوگوں کو ضلالت و گمراہی سے نجات دی۔

 ٢…… حق کا غلبہ

 وَ الْمُعْلِنِ الْحَقَّ بِالْحَقِّ

 دین حق کو حق کے ذریعے آشکار کیا۔

 ٣…… ظالموں سے جنگ

 گمراہ اور باطل لوگوں کے جوش وخروش کو ختم کردیا

''وَالدَّافِعِ جَیْشَاتِ الْاَبَاطِیْلِِ''

 باطل و انکار کرنے والوں کا قلع قمع کردیا

 ٤……حکم خدا کی اطاعت

کَمَا حُمِّلَ فَاضْطَلَعَ قَائِمًا بِِاَمْرِکَ

 جس طرح اپنی تمام طاقت سے نبوت کا بوجھ برداشت کیا اسی طرح تیرے لئے قیام کیا۔

 ٥…… راہ خدا میں استقامت

مُسْتَوْفِزًا فِیْ مَرْضَاتِکَ غَیْرَ نَاکِلٍ عَنْ قُدُمٍ

 راہ خدا میں خوشنودی خدا کیلئے چلے اور ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹے اور دشمنوں کے مقابلے میں ڈٹ کررہے۔

 ٦۔ سُست نہ ہوئے

وَ لَا وَاہٍ فِیْ عَزْمٍ

 آپ کا ارادہ مضبوط اور محکم ہدف تھا

وَاعِیًا لِوَحْیِکَ حَافِظًا لِعَھْدِکَ

 وحی کو قبول کرنے کی قدرت رکھتے تھے اورانہوں نے عہد رسالت کی پاسداری کی

 ٧…… احکام اسلام کو زندہ کرنا

''مَاضِیًا عَلٰی نَفَاذِ اَمْرِکَ حَتّٰی اَوْرٰی قَبَسَ الْقَابِسِ وَ اَضَآئَ الطَّرِیْقَ لِلْخَابِطِ، وَ ھُدِیَتْ بِہِ الْقُلُوْبُ بَعْدَ خَوْضَاتِ الْفِتَنِ وَ الْآثَامِ، وَ اَقَامَ بِمُوْضِحَاتِ الْاَعْلَامِ وَ نَیہّرَاتِ الْاَحْکَامِ''

 تیرے حکم کی ترویج کیلئے اتنے کوشاں تھے کہ حق کو آشکار کیا اور جاہل لوگوں کی ہدایت کی، فتنہ وفساد کے عادی دلوں کی ہدایت کی ،پرچم اسلام کو سربلند کیا اور احکام اسلام کو زندہ رکھا۔(٨)

 صلوات اور اسکی علت:

امام سجادـ کے کلام میں

 صلوات سے مشکل حل ہوتی ہے اور دعا کی قبولیت کا باعث ہے ،امام سجادـ نے صحیفہ سجادیہ میں بہت سی دعاؤں کا آغاز صلوات سے کیا۔ مثلاً دعا نمبر١٩،٢٠، ٢٣،٢٤، ٢٧،٣٠، ٣٩، ٤٠، ٤١ میں صلوات سے آغاز ہوا ہے۔

خصوصاً دوسری دعا مخصوص صلوات کیلئے ہے ،اسی دعا میں امام زین العابدینـ نے حضرت محمد مصطفیۖ پر صلوات بھیجنے کے بعد آپۖ کو ایک شریف انسان ، برگزیدہ، امام امت ، پیشوائے رحمت اور کلید برکت کے نام سے یاد کیا ہے۔

فلسفہ صلوات اور عظمت رسولۖ کے بارے میں امام زین العابدینـ بارگاہِ خدا میں فرماتے ہیں:

 ١…… شہادت کیلئے تیاری

نَصَبَ لِاَمْرِکَ نَفْسَہ

 تیرے دستورات کو انجام دینے کیلئے خود کو تیار کیا۔

وَعَرَضَ فِیْکَ لِلْمَکْرُوْہِ بَدَنَہ

 تیری راہ میں اپنے بدن کو ہر قسم کے دکھ و مصیبت کیلئے قرار دیا

 ٢…… احیاء دین کیلئے رشتہ داروں سے کٹ گئے۔

وَکَاشِفَ فِی الدُّعَائِ اِلَیْکَ حَامَّتَہ

 اپنی قوم و قبیلہ کو دعوت اسلام دی اور اسلام کی دعوت قبول نہ کرنے والوں سے الگ ہو گئے۔

''وَحَارَبَ فِیْ رِِضَاکَ اُسْرَتَہ''

 تیری رضایت کیلئے اپنی قوم و قبیلہ سے جنگ

''وَقَطَعَ فِیْ اِحْیَائِ دِیْنِکَ رَحِمَہ''

  تیرے دین کو زندہ رکھنے کی خاطر رشتہ داروں کو چھوڑا

٣…… تَوَلّٰی و تَبَرّٰی

''وَ اَقْصَی الْاَدْنَیْنَ عَلٰی جُحُوْدِھِمْ''

 کیونکہ ان کے رشتہ دار خدا کے منکر تھے، لہٰذا آپۖ نے ان سے دوری اختیار کی

''وَقَرَّبَ الْاَقْصَیْنَ عَلٰی اِسْتَجَابَتِھِمْ لَکَ''

 آپۖ نے غیروں سے محبت کی کیونکہ وہ اسلام لے آئے

''وَ وَالٰی فِیْکَ الْاَبْعَدِیْنَ''

 اور تیری خاطر دور ترین لوگوں کو دوست بنایا

''وَ عَادٰی فِیْکَ الْاَقْرَبِیْنَ''

 اور آپۖنے اپنے نزدیک ترین رشتہ داروں سے دشمنی کی کیونکہ انہوں نے اسلام قبول نہ کیا۔

 ٤…… راہ خدا میں مشقتیںبرداشت کیں

''وَ اَدْأَبَ نَفْسَہ فِیْ تَبْلِیْغِ رِسَالَتِکَ''

 آنحضرتۖ نے تیرے پیغام کو پہنچانے کی خاطر بہت مشقتیں اٹھائیں

''وَ اَتْعَبَھَا بِالدُّعَائِ اِلٰی مِلَّتِکَ''

 دعوت حق کو پہنچانے کیلئے آپۖ نے بہت سختیاں جھیلیں

 ٥…… نصیحت

''وَ شَغَلَھَا بِالنُصْحِ لِاَھْلِ دَعْوَتِکَ''

 آپۖ نے تیری دعوت کو لبیک کہنے والوں کو وعظ و نصیحت کی

 ٦…… ہجرت

''وَ ھَاجَرَ اِلٰی بِلَادِ الْغُرْبَةِ وَِ مَحَلِّ النَّأْیِ عَنْ مَؤْطِنِ رَحْلِہ……… لِاِعْزَازِِ دِیْنِکَ وَ اِسْتِنْصَارًا عَلٰی اَھْلِ الْکُفْرِ بِکَ حَتّٰی اِسْتَتَبَّ لَہ مَا حَاوَلَ فِیْ اَعْدَآئِکَ''

 ( اے اللہ) تیرے دین کی خاطر آپۖ نے اپنا وطن مکہ چھوڑا اور دور شہروں میں گئے تاکہ تیرا نام باقی رہے اور کافروں پر غلبہ پایا اور دشمن اسلام پر کامیابی کے لئے مدد کی اور کافروں پر فاتح ہوئے۔

 ٧……دشمن کے دلوں میں رعب
+ نوشته شده در  جمعه بیست و نهم اردیبهشت 1391ساعت 21:16  توسط ZafarHussainNaqvi  |